Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-06-15 - بوقت: 23:14

سشما سوراج این ڈی اے کی متوقع صدارتی امیدوار

Comments : 0
14/جون
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ملک کے اگلے صدر جمہوریہ کی حیثیت سے پرنب مکرجی کی جگہ لینے کے لئے این ڈی اے امید وار کے طور پر وزیر خارجہ سشما سوراج کا نام ابھر رہا ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کے اعلیٰ ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ سشما سوراج بی جے پی اعلی قیادت کی جانب سے صراحت کردہ ہر پیمانے پر پورا اتر رہیں ہیں اور انہیں سنگھ کی بھی توثیق حاصل ہے ۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جمعہ کو حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان صدارتی امید وار پر اتفاق رائے کے لئے ہونے والی بات چیت میں ان کا نام سامنے آسکتا ہے ۔ سینئر بی جے پی قائدین راجناتھ سنگھ ، ارون جیٹلی اور وینکی انائیڈو اس سلسلے میں جمعہ کو صدر کانگریس سونیا گاندھی اور سی پی آئی ایم کے سرکردہ لیڈر سیتا رام یچوری سے ملاقات کرنے والے ہیں ۔ اس سلسلے میں بات چیت سے تعلق رکھنے والے قریبی ذرائع نے جوبی جے پی کے ایک اہم لیڈر ہیں بتایا کہ یہ فیصلہ کیا گیا کہ محض اتفاق رائے کے لئے کسی غیر سیاسی امید وار کو نہیں ٹھہرایاجائے گا ۔ بی جے پی لیڈر نے کہا کہ ہمیں حاصل اعداد کے پیش نظر سنگھ پریوار سے باہر کی کسی شخصیت سے رجوع ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بی جے پی سے ہی کسی امید وار کو پیش کیاجائے گا جس کی جڑیں سنگھ میں بھی پیوست ہو اور جو ایک سر گرم سیاستداں بھی ہو۔ پیسنٹھ سالہ سشما سوراج ایک پسندیدہ امید وار کے طور پر ابھر رہی ہیں اور ایسی توقع بھی ہے کہ انہیں علاقائی جماعتوں کے بھی ووٹ حاصل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ممتا بنرجی اور نوین پنٹائنگ جیسے قائدین کو سشما سوراج کی مخالفت کرنے میں مشکل ہوگی تاہم انہوں نے کہا کہ آنے والے چند دنوں میں قطعی نام کو منظر عام پر لایاجائے گا۔ سشما سوراج نے اس رپورٹ پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔ سشما سوراج کئی مرتبہ رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی رہیں۔ وہ جنتا پارٹی کے دنوں سے عوامی زندگی میں ہیں ۔ انہیں تمام پارٹیوں میں احترام کی نظر سے دیکھاجاتا ہے ۔ لوک سبھا اسپیکر سشما سوراج اور جھار کھنڈ کی گورنر دروپدی ورمو کے نام بھی گشت کررہے ہیں لیکن ایسا معلو م ہوتا ہے کہ دوڑ اب سشما سوراج اور سمترا مہاجن تک محدود رہ گئی ہیں ۔بی جے پی ذرائع نے بتایا کہ این ڈی اے امید وار24جون سے قبل نامزدگی داخل کردیں گی جب وزیر اعظم نریندر مودی امریکہ کے اپنے دورے پر روانہ ہ ونے والے ہیں تاہم کانگریس کو سشما سوراج کی امید واری پر پس و پیش ہوسکتا ہے۔ سشما سوراج نے اندرا گاندھی اور سونیا گاندھی دونوں سے انتخابی مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے دونوں کے خلاف سخت تقاریر بھی کی ہیں۔ اس دوران سی پی آئی اور سی پی آئی ایم کے ذرائع نے بتایا کہ بائیں بازو جماعتیں صدر جمہوریہ کے عہدہ کے لئے مغربی بنگال کے سابق گورنر گوپال کرشنا گاندھی کی امید واری کی تجوی زپیش کرنے پر غور کررہے ہیں۔

نئی دہلی
یو این آئی
صدارتی انتخابات کے لئے آج الیکشن کمیشن نے اعلامیہ جاری کر دیا اور اس کے ساتھ ہی انتخابات کا عمل باضابطہ طور پر شروع ہوگیا ۔ صدر کے انتخاب کے لئے الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر الیکشن افسر اور لوک سبھا کے سکریٹری جنرل انوپ مشرا کی جانب سے امید واروں کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لئے عوامی نوٹس بھی جاری کردی گئی ۔ موجودہ صدر کی مدت24جولائی کو ختم ہورہی ہے اور یہ صدر کے لئے پندرہویں انتخابات ہوں گے ۔ صدارتی انتخاب17جولائی کو ہوگا ۔ امید وار یا ان کے مجاز نمائندے پارلیمنٹ ہاؤز میں لوک سب ھا سکریٹریٹ میں کمرہ نمبر18میں کاغذات نامزدگی اسسٹنٹ الیکشن افسر رویندر گیریمیلا اور رونے کمار موہن ڈائرکٹریٹ لوک سبھا سکریٹریٹ کو28جون تک عام تعطیل کے سوا کسی بھی دن صبح گیارہ سے شام تین بجے کے درمیان داخل کرسکتے ہیں۔نام زندگی کاغذات کی جانچ29جون کو ہوگی۔ ہر کاغذات نامزدگی کے ساتھ امید وار کو ووٹر لسٹ میں درج اپنے نام کے مستند نقل بھی پیش کرنی ہوگی اور پندرہ ہزار روپے ضمانت کی رقم جمع کرنی ہوگی ۔ اگر یہ رقم پہلے ہی ریزروبینک آف انڈیا یا سرکاری فنڈ میں جمع کردی گئی ہو تو کاغذات نامزدگی داخل کرتے وقت اس کا ایک سرٹیفکیٹ بھی الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرنا ہوگا ۔ کاغذات نامزدگی کمرہ نمبر اٹھارہ سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ کوئی امید وار اگر اپنا نام واپس لینا چاہتے ہے تو اسے خود یا اس کے لئے تجویز پیش کرنے والے کو تحریری طور پر اس کی اطلاع یکم جولائی شام تین بجے سے قبل دینی ہوگی ۔ پولنگ17جولائی کو صبح دس بجے سے شام پانچ بجے کے درمیان ہوگی ۔ اس دوران نامزدگیاں داخل کرنے کے پہلے دن چھ افراد نے17جولائی کے صدارتی چناؤ کے لئے کاغذات نامزدگی داخل کئے ۔ آج داخل کردہ تمام نامزدگیاں مستردی کردی جائیں گی کیوں کہ ان میں سے کسی کے پاس بھی100انتخاب کنندوں کی تائید حاصل نہیں ہے ۔

Sushma Swaraj has emerged as the lead contender to be NDA's nominee for the next President of India

0 comments:

Post a Comment