Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-06-08 - بوقت: 22:00

عظیم اتحاد کے قیام میں حزب مخالف کامیاب نہیں ہوگا - وینکیا نائیڈو

Comments : 0
7/جون
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات ایم وینکیا نائیڈو نے سال2019ء کے انتخابات میں متحدہ طور پر مقابلہ کرنے اپوزیشن کی جانب سے یونائیٹیڈ فرنٹ تیار کرنے کی کوششوں کا مضحکہ اڑاتے ہوئے آج کہا کہ تین ، سی کرپشن (بدعنوانی) کاسٹیئیس (ذات پات) اور کمیونل( فرقہ پرستی) متحد ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعظیم اتحاد جس تیار کرنے اپوزیشن کام کررہا ہے کبھی کامیاب نہیں ہوگی اور اس سے صرف بی جے پی کا موقف مستحکم ہوگا اور بی جے پی کیرالا اور مغربی بنگال میں اصل اپوزیشن کی حیثیت حاصل کرے گی ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ان تمام متحد ہونے کی کوشش کرنے والوں اور ہمارے سے جگہ خالی کرنے سے میں نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں ۔ نائیڈو نے یہاں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مجھے امید ہے کہ کانگریس، کمیونسٹ پارٹیاں اور ٹی ایم سی ایک ساتھ آتے ہوئے تو بی جے پی اس خالی جگہ کو بھردے گی اور اگر کیرالا میں کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیان متحد ہوتی ہیں تو اس سے ہمیں فائدہ ہوگا ۔ یہ دہلی میں کو آپریشن کلکتہ میں آپریشن کارروائی اور کیرالا میں سپریشن کی طرح ہوگا ۔ نائیڈو نے کہا کہ اپ وزیشن جماعتیں نریندر مودی سے خوفزدہ ہیں ، ا سلئے انہیں تکلیف پہنچانے غلط اطلاعات پہنچانے کی مہم شرو ع کررکھی ہے ۔ تاہم یہ مہم خود الٹے ان کے گلے پڑ جائے گی۔ کرپشن اور کالے دھن کے خلاف نریندر مودی حکومت کے اقدامات سے ا پوزیشن دہل گئی ہے۔ اب یہ تین سی متحدہ ہونے کی کوشش کررہے ہیں ، ایک کرپٹ، دوسرے کاسٹئیس اور تیسرے فرقہ پرست ہے ۔ بی جے پی کے خلاف ماضی میں بھی قومی محاذ بنانے کی کوششوں پر بی جے پی کے سینئر لیڈر نے کہا کہ ایسے اتحاد ہم نے ماضی میں بھی دیکھے ہیں ، ان کے پاس کوئی اصول نہیں ہے کوئی مشترکہ پروگرام نہیں ہے ، کوئی قیادت نہیں ہے ، اس صورتحال قائم کئے جانے والا نیشنل فرنٹ یو یونائیٹیڈ فرنٹ صرف منقسم محاذ ہی بن سکتا ہے ۔تیسرا محاذ دوری رکھنے والا تیسرا محاذ ہوگا ۔ اس لئے اس صورتحال میں میں نہیں سمجھتا کہ عظیم اتحاد کامیاب ہوسکتا ہے ۔ وینکیا نائیڈو نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی ٹی وی پر سی بی آئی نے کوئی دھاوا نہیں کیا ہے اور سی بی آئی ٹی وی چینل کے کسی بھی دفتر میں داخل نہیں ہوئی ۔ انہوں نے کہا کہ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیسن کے دھاوے این ڈی ٹی وی کے بانی پرونائے رائے کی جائیداد پر5جون کو بینک فراڈ کے الزامات کے تحت کئے گئے ۔ انہوں نے ان دھاؤں پر مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں کے گروپ جیسے ایڈیٹرس گلڈ آف انڈیا ، پریس کلب آف انڈیا اور آل انڈیا نیوز پیپرس ایڈیٹرس کانفرنس کی جانب س کی گئی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہ اکہ این ڈی ٹی وی پر کوئی دھاوا نہیں کیا گیا۔ سی بی آئی این ڈی ٹی وی کے نیوز روم یا ٹی وی اسٹیڈ یو میں داخل نہیں ہوئی ۔ نائیڈو نے حکومت پر انتقامی جذبے سے کارورائی کرنے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی ٹی وی کے پروموٹروں پر نورائے اور رادھیکا رائے کو قانون کے ضابطوں پر عمل کرنا چاہئے کیوں کہ ان کے نیوز آپریشن سوالات کے گھیرے میں ہیں اور ان سوالوں کا جواب ملنا چاہئے ۔ نائیڈو نے کہا کہ چینل کے خلاف انتقام لینے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی ٹی وی کے پروموٹرس پرونائے رائے اور رادھیکا رائے کو قانون کے مطابق اپنے بقایاجات ادا کرنا چاہئے اور ان کارروائیوں کا انکشاف کرنا چاہئے جن کی تحقیقات ہورہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ چینل کی مشکلات کی عنقریب ختم ہونے کی توقع نہیں ہیں ۔ نائیڈو نے کہا کہ صحافتی گھرانوں کو اپنے آپ کو قانون سے بالا تر نہیں سمجھنا چاہئے ۔ نائیڈو نے کہا کہ دراصل یہ حقیقت ہے کہ میڈیا گھرانوں کی ملکیت ایک جال کی طرح گردش ہے جو کئی چیزوں کی ملکیت رکھتے ہیں ۔ کارپوریٹ گھرانے اور ایسے افراد میڈیا کی ملکیت رکھتے ہیں جن کے لئے میڈیا اصل تجارت نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے پہلے ہی اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے سپریم کورٹ کے2016ء کے احکامات کی تعمیل میں ایجنسی کے دائرہ کار میں جو تحقیقات آئی ہیں اس کے تحت دھاوے کئے ہیں۔ حکومت کے ذریعہ سی بی آئی کے بے جا استعمال کے متعلق کانگریس کے الزام پر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ مجھے حیرت ہے کہ کانگریس سی بی آئی کے بے جا استعمال کی بات کررہی ہے ۔ یو پی اے حکومت کے دور میں نریندر مودی سے آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی تھی جو اس وقت کے چیف منسٹر تھے ۔ بی جے پی کے ایک سابق صدر کو جھوٹے معاملہ میں پھنسایا گیا اور انہیں جیل جانا پڑا ۔ اب یہ لوگ سی بی آئی کے بے جا استعمال کی بات کررہے ہیں ۔ وینکیا نائیڈو جو وزارت شہری ترقی کا بھی قلمدان رکھتے ہیں نے کہا کہ بڑے شہروں میں خانگی گاڑیوں کے باعث زندگی گزارنا محال ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر شہر میں عوام کو گاڑیوں کے بجائے سیکل چلانے پر توجہ دینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ گاڑیاں بڑا مسئلہ بن گئی ہیں ، دہلی میں ایک کروڑ گاڑیاں ہیں ۔ ممبئی اس سے پیچھے نہیں ہے ، یہاں زندگی گزارنا مشکل ہوگیا ہے ۔ سابق وزیرا عظم منموہن سنگھ پر طنز کرتے ہوئے آج مرکزی وزیر ایم وینکیا نائیڈو نے معیشت سے متعلق اس ریمارک کا شکریہ ادا کیا جس میں سنگھ نے کہا تھا کہ ملک کی معیشت سرکاری اخراجات کے واحد انجن یعنی صرف سرکاری اخراجات پر چل رہی ہے۔ نائیڈو نے آج منموہن سنگھ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے نریندر مودی کے تحت ہندوستان کو ایک واحد، محرک ، بڑی قوت والے انجن کے تحت چلانے کا اقرار کیا ہے ۔

BJP: Grand opposition alliance will only help BJP: Venkaiah Naidu

0 comments:

Post a Comment