Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-06-05 - بوقت: 00:49

ذبیحہ مویشی اعلامیہ سے متعلق تجاویز پر غور کرنے کے لیے مرکزی حکومت تیار

Comments : 0
4/جون
مرکز، ذبیحہ مویشی اعلامیہ سے متعلق تجاویز پر غور کرنے تیار
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ذبیحہ کے لئے مویشیوں کی خریدو فروخت پر متنازعہ اعلامیہ کے خلاف ملک کے مختلف حصوں میں شدید تنقیدوں اور اعتراضات کے بعد حکومت نے آج کہا کہ وہ اس سلسلہ میں مختلف گروپوں کی جانب سے تجاویز قبول کرنے کے لئے تیار ہے اور وہ اسے وقار کے مسئلہ کے طور پر نہیں دیکھ رہی ہے ۔ وزیر ماحولیات ہرش وردھن نے کہا کہ اعلامیہ کا مقصد کسی مخصوص گروپ کو نقصان پہنچانا ، ان کی غذائی عادات پر اثر انداز ہونا یا مسالخ کے کاروبار کو متاثر کرنا نہیں ہے ۔ اس سلسلہ میں جو بھی تجاویز موصول ہوں گی ان پر غور کیاجائے گا۔ یہ حکومت کے لئے انا کا مسئلہ نہیں ہے ۔ وزیر موصوف نے عالمی یوم ماحولیات کی ایک تقریب کے موقع پر صحافیوں کی جانب سے پوچھے گئے سوا ل پر کہ آیا متنازعہ اعلامیہ پر موصولہ نمائندگیوں کا جائزہ لیاجارہا ہے اور کیا حکومت مسئلہ پر متبادل نظریات پر غور کرنے تیار ہے، کہا کہ حکومت اس کے لئے تیار ہے ۔ بیف کھانے اور مویشیوں کی تجارت پر جاری تنازعہ نے ملک گیر احتجاج کی شکل اختیار کرلی ہے جب کہ ٹاملناڈو، کیرالا اور کرناٹک کے بشمول کئی ریاستوں میں اس کے خلاف مظاہرے منظم کئے گئے۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے مویشیوں کی خریدوفروخت پر امتناع کو غیر جمہوری اور غیر دستوری قرار دیا اور کہا کہ ان کی حکومت اسے قبول نہیں کرے گی۔ مدراس ہائی کورٹ نے30مئی کو4ہفتوں کے لئے اعلامیہ کی عمل آوری پر روک لگا دی ۔ ہرش وردھن نے کہا کہ قانون انسداد مظالم مویشیاں کے تحت قواعد کا مقصد غذائی عادات پر اثر انداز ہونا یا مسالخ کا روبار کو متاثر کرنا نہیں ہے ۔ یاد رہے کہ وزارت ماحولیات کی جانب سے اسی قانون کے تحت جاری کردہ متنازعہ اعلامیہ میں مویشی بازار سے ذبیحہ کے لئے مویشیوں کی خریدوفروخت پر امتناع عائد کردیا گیا ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اس سلسلہ میں کئی نمائندگیاں موصول ہوئی ہیں اور جس میں کہا گیا کہ اس فیصلہ سے گوشت اور چمڑے کی تجارت اور بر آمد پر ضرب لگے گی۔ اعلامیہ میں مویشی کی صراحت کرتے ہوئے بیل بچھڑا، گائے، بھینس وغیرہ کی نشاندہی کی گئی ۔

Open to review of cattle slaughter rules: Centre

0 comments:

Post a Comment