Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-05-27 - بوقت: 17:28

نریندر مودی موثر رابطہ کار - معیشت کو نئی سمت - صدر جمہوریہ

Comments : 0
26/مئی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی انتہائی موثر رابطہ کاروں میں ایک ہیں اور انہوں نے ہندوستانی معیشت کو ایک نئی سمت دی ہے ۔ صدر پرنب مکرجی نے آج یہ بات کہی۔ این ڈی اے حکومت کے تیسرے سال کے موقع پر ایک کتاب کی اجرائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی نے ہمہ رخی پہل کو شروع کیا اور ان کے کچھ فیصلے منفرد نوعیت کے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہم عصری کے دور میں وزیر اعظم نریندر مودی انتہائی موثر موثر رابطہ کار ہیں اور شاید ان کا تقابل دیگر وزرائے اعظم جیسے پنڈ ت جواہر لال نہرو اور اندرا گاندھی سے کیا جاسکتا ہے ۔ جنہوں نے اپنے اصولوں اور نظریات کے بارے میں واقف کروایا تھا جس سے حکومت کے پارلیمانی نمونہ کو بطور خاص سیکولر دستور قبول کیا گیا۔ مکرجی نے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا اچھے رابطہ کار کی صلاحیت کے بغیر کوئی بھی توقع نہیں کرسکتا کہ وہ لاکھوں عوام کی قیادت کرے گا۔ حکومت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ہندوستان میں مختلف سمتوں میں ترقی کے اقدامات شروع کئے گئے ہیں ۔ یہ پہل اس لئے ممکن ہوسکی کہ یہاں معیشت کی بنیاد کافی مضبوط ہے جو مالیاتی بحران پر قابو ہوسکتی ہے اور اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی مالیاتی مسائل بشمول یوروزون بحران پر قابو پاسکتا ہے ۔ ہندستانی معیشت بڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ وزیر اعظم نے نئی سمت اسے عطا کی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مختلف پہل جو شروع کیے گئے ہیں ان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ہندوستان آگے بڑھ رہا ہے۔ صدر، کتابوں کی پہلی دو کاپیاں قبول کرنے کے بعد اظہار خیال کررہے تھے، جن میں ایک مودی کے ریڈیو نشریات من کی بات پر مشتمل ہے ، کتابیں من کی بات سماجی انقلاب ریڈیو کے ذریعہ ہے اور کروڑہا لوگ اس کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ اور نریندر مودی حکومت کا تجزیہ کررہے ہیں۔ ان کی اجرائی لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن نے راشٹرپتی بھون میں منعقدہ ایک تقریب میں عمل میں لائی۔ وزیر اعظم کی من کی بات سے کروڑوں افراد کی زندگیوں پر اثر پڑا ہے ۔ نائب صدر حامد انصاری اور وزیر دفاع اور فینانس ارون جیٹلی لوک سبھا اسپیکر اور دیگر ممتاز شخصیات اس پروگرا م میں موجود تھیں۔
Prime Minister Narendra Modi, one of the most effective communicators, President Pranab

راہول گاندھی کو تشدد سے متاثر سہارنپور کے دورہ کی اجازت نہیں
لکھنو
پی ٹی آئی
سہارنپور ضلع حکام نے کانگریس نائب صدرراہول گاندھی کو تشدد سے متاثرہ ضلع کاد ورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔ راہول کل شبیر پور گاؤں کا دورہ کرنے والے تھے ، جہاں5مئی کو دلتوں کے مکانات کو نذر آتش کردیا گیا تھا ۔ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کو سہارنپورکا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ یہ بات سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سہارنپور ببلو کمار نے دی۔ کمار، ایس ایس پی سبھاش چند دوبے کے متبادل کے طور پر آئے ہیںِ جنہیں24مئی کو معطل کردیا گیا تھا۔ بی ایس پی سربراہ مایاوتی نے حال ہی میں گاؤں کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے یوگی کی زیرقیادت حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ریاست میں نظم و نسق کی بحالی میں ناکام ہوگئی ہے ۔ سہارنپور میں بڑے پیمانے پر طبقاتی بنیاد پر اس ماہ کے دوران جھڑپیں ہوئیں۔ پہلی مرتبہ تشدد چالیس دن قبل سہارنپور میں پھوٹ پڑا تھا جب امبیڈکر جینتی کے سلسلہ میں ایک جلوس پانچ مئی کو نکالا گیا تھا۔ اس موقع پر ایک شخص ہلاک اور دیگر پندرہ زخمی ہوگئے تھے ، کیوں کہ دونوں گروپس کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں۔ تقریبا ایک درجن پولیس گاڑیوں کو جلایا گیا اور بارہ پولیس ملازمین بھی9مئی کو زخمی ہوگئے تھے ۔ 23مئی کو شخص ہلاک اور دیگر دو زخمی ہوگئے جس کے بعد حکومت نے ایس ایس پی اور ضلع مجسٹریٹس کو معطل کردیا اور ڈیویژنل کمشنر اور ڈیوٹی انسپکٹر جنرل پولیس کا تبادلہ کردیا ۔ مرکز نے چار سو انسداد تشدد پولیس کے جوانوں کو سہارنپور روانہ کیا تاکہ ریاست میں امن بحال کرنے میں مدد دی جاسکے ۔ یو این آئی کے بموجب کانگریس ذرائع نے بتایا کہ راہول گاندھی نے اپنے دورہ کو ملتوی کرنے کا فیصلہ نہیں کیا، حالانکہ یوپی حکومت نے انہیں سہارنپور کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی ہے ۔ ہم نے سہارنپور کے مقامی حکام کو کانگریس لیڈر کے مجوزہ دورہ کے بارے میں بتایا تھا اور توقع ہے کہ اس کی اجازت دی جائے گی لیکن سہارنپور ضلع حکام نے اس کی سرکاری طور پر کوئی اطلاع نہیں دی ۔ اس دوران کسی بھی سیاست داں کو متاثرہ علاقہ کا دورہ کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، جب کہ اس علاقہ کا دورہ بی ایس پی سربراہ مایاوتی بھی کرچکی ہیں۔

آسام میں ملک کے طویل ترین پل کا افتتاح
سعدیہ، آسام
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج آسام میں برہمپترا ندی پر تعمیر شدہ ملک کے سب سے طویل پل کا آج افتتاح کیا ۔ مودی نے پل کے دھولا کنارے پر ربن کاٹ کر پل کا رسمی افتتاح کرنے کے بعد کہا کہ یہ نئے معاشی انقلاب کی بنیاد بنے گا اور ہندوستان کی ایک معاشی سوپر پاور بننے کی کوششوں میں مدد کرے گا ۔ مودی نے افتتاح کے بعد سیکوریٹی گارڈس کے بغیر پل پر تقریبا دو منٹ تک چہل قدمی کی اور پل کے نیچے سے بہنے والی برہمپترا ندی کے خوبصورت نظارہ کا لطف اٹھایا۔ ارونا چل پردیش کی سرحد سے ملحق علاقہ میں برہمپترا ندی پر تعمیر9.15کلو میٹر طویل یہ پل ایشیا کا دوسرا سب سے لمبا پل ہے ۔ اس پل کا نام مشہور موسیقار بھوپین ہزاریکا کے نام سے منسوب کرنے کا وزیر اعظم نے اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اس پل کا نام عظیم گلو کار بھوپین ہزاریکا کے نام رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ موسیقی کے ذریعہ برہمپترا کی شہرت دنیا بھر میں پہنچائی تھی ۔ یہ پل آسام اور ارونا چل پردیش کو جوڑے گا اور اس سے دونوں ریاستوں کے درمیان فاصلہ میں کمی آئے گی اور روزانہ د لاکھ روپے کے ایندھن کی بچت ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت شمال مشرق خطہ کو کئی بلندیوں پر لے جانے کے لئے کام کررہی ہے اور آسام کو جنوب مشرقی ایشیا میں تجارت کے مرکز کے طور پر فروغ دینا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لک ایسٹ پالیسی کے تحٹ حکومت جنوب مشرقی ایشیا میں تجارت کے شعبہ میں آسام کو اہم مرکز بنانا چاہتی ہے ۔ اور اس کے لیے کوئی کمی باقی نہیں رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرق علاقہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے اور یہاں سیاحت کو فروغ دینے کے بھرپور مواقع دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پل سے آسام اور ارونا چل پردیش کی دوری کافی کم ہوجائے گی ،تجارت کو فروغ ملے گا ۔ جس سے خوشحالی آئے گی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس پل کا تصور اٹل بہاری واجپائی کے دور حکومت کے دوران کیا گیا تھا لیکن اس پر کام کافی دیر سے شروع ہوا۔ بھوپین ہزاریکا سعدیہ کے رہنے والے تھے ۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے ساتھ سڑک، ٹرانسپورٹ و قومی شاہراہ کے مرکزی وزیر نتن گڈ کری ، آسام کے گورنر بنوری لال پروہت اور چیف منسٹر سروانند سونو وال بھی موجود تھے ۔ ان تمام لوگوں نے گاڑی میں سوار ہوکر پل پر سفر کرنے کا لطف بھی اٹھایا۔ یہ پل آسام کے مشرقی علاقہ ارونا چل پردیش کے سرحدی علاقوں کے لوگوں کو ملک کے دیگر حصوں سے جوڑے گا جو ابھی تک کشیوں کے ذریعہ کہیں بھی آنے جانے کے لئے مجبور تھے ۔
India's longest bridge opened in Assam, PM Modi Names India's Longest Bridge After Assam Singer Bhupen Hazarika

0 comments:

Post a Comment