Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-05-16 - بوقت: 00:06

ہندوستان آفات سماوی سے شدید متاثرہ علاقوں میں شامل - وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ

Comments : 0
15/مئی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے ہندوستان کو آفات سماوی سے دنیا میں سب سے زیادہ علاقوں میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی پچاس فیصد آبادی آفات سماوی سے متاثرہ علاقوں میں بستی ہے۔ اس لئے متعلقہ تمام ایجنسیوں کو ان سے ہونے والے خطرات کو کم کرنے کے لئے ہمیشہ تیار رہنا چاہئے ۔ ہندوستان دنیا کے آفات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے ۔ ملک کی نصف آبادی ایسے علاقوں میں قیام پذیر رہتی ہے جہاں زلزلے، سیلاب، سمندری طوفان ، خشک سالی اور سونامی آتی رہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آفات سے ہونے والے جان و مال کے نقصان کو موثر طریقے سے کم کرنے کے لئے ہندوستان نے کافی تیاری کی ہے اور اس کا اثر بھی نظر آرہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں آفات سے نمٹنے کے لئے کی گئی تیاریوں کے نتائج سے بالکل واضح ہے کہ اگر ہو پوری تیاری توآفات نہیں ہیں بھاری لہذا سب کو مل کر آفات کے خطرے کو کم کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیاری کرنی ہوگی۔ مرکزی وزیر داخلہ نے نئی دہلی میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ نیشنل پلیٹ فارم کے دو روزہ اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے سے متعلق قومی تنظیم کو حکومت نے تمام اقسام کے خطرات سے نمٹنے کی غرض سے قائم کیا ہے جس کا پہلا اجلاس2013ء میں ہوا تھا ۔ اس نیشنل پلیٹ فارم کی تشکیل کا خصوصی مقصد سبھی دعویداروں سے اپنے تجربات کی شراکت کرتے ہوئے ایک حکمت عملی مرتب کرنا تھا۔اس کے ساتھ ہی وقتاً فوقتاً کئے گئے اقدامات کا جائزہ لینا اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ ربط اور ارتباط قائم کرنا تھا ۔ آج کے اس خصوصی اجلاس کا مقصد بھی تباہ کاریوں کے حالات میں انتظامات و انصرام اور پائیدار ترقی کی سمت میں اپنے آپ کو اہل بنانے پر اظہار خیال اور موثر طریقے سے کام کرنے کے لئے آئندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے یاد دہانی کروائی کہ پیرس میں2015ء میں عالمی سطح پر پائیدار ترقی کا نشانہ تباہ کاری کے خطرات میں کمی کے لئے سینڈائی فرم ورک اور سی او پی21تبدیلی ماحولیات پر تین اہم سمجھوتے ہوئے تھے۔ ہندوستان ان تینوں معاہدوں کے دستخط کنندگان میں شامل ہے ۔ آفات سماوی سے مقابلہ کے نظریے سے یہ تینوں معاہدے ایک دوسرے سے مربوط ہیں ۔ چونکہ اب آفات سماوی کے بعد ہونے والے رد عمل پر ہی نہیں بلکہ آفات کے خطرے کو کم کرنے پر زیادہ زور دیاجارہا ہے ۔ اگر خطرات کو کم کرنا ہے تو انسانی سر گرمیوں سے تبدیلی ماحولیات کو متاثر نہیں ہونا چاہئے ۔ اسی طرح ترقی اور پیشرفت اپنی جگہ انتہائی اہمیت کی حامل ہے ۔ عام آدمی کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ترقی سے ماحولیات پر مضر اثرات مرتب نہیں ہونے چاہئیں۔ یہ تینوں بین الاقوامی معاہدے ایک ہی سلسلے کی کڑیوں کی حیثیت رکھتے ہیں اور کسی ایک مقصد کے حصول کے لئے دونوں متعلقہ مقاصد کا حصول بھی لازمی ہے ۔ قدرتی آفات کے خطرے کو کم کرنا اب ہمارے لئے ایک اہم ضرورت بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ1999ء میں اوڈیشہ میں آئے طوفان کی زد میں آکر تقریبا دس ہزار افراد فوت ہوئے تھے اور کروڑہا روپے کی املاک تلف ہوئی تھیں ۔ اس کے بعد2001ء میں گجرات کے زلزلے اور2004میں آنے والے سونامی نے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ۔ ان حالات سے سبق لیتے ہوئے تباہ کاریوںکے حالات کے انتظام وانصرام کے ہندوستان کے نظریے مین اہم تبدیلیاں ہوئی ہیں، ملک میں ادارہ جاتی منصوبہ بند طریقے سے آفات کے اثرات کو کم کرنے کے لئے مختلف کوششیں کی گئی ہیں، جن میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ2005ڈزاسٹر مینجمنٹ پالیسی2009ء این ڈی آ ر ایف، این ڈی ایم اے اور این آئی جی ایم کا قیام اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ اسی سلسلے میں سال2013میں پہلے نیشنل پلیٹ فارم نیشنل پلیٹ فارم فارڈز اسٹر رسک ری ڈکشن (این پی ڈی آر آڑ) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اقوام متحدہ کی جانب سے اہتمام کئے جانے والے مختلف اجلاس میں ہندوستان نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ سال2015ء میں جب جاپان میں سینڈائی فریم ورک پر مباحثہ کے دوران ہندوستان نے اس بات پر زور دیا تھا کہ تباہ کاری کے خطرات کو کم کرنے میں حکومت کے ساتھ ساتھ دیگر تنظیموں کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے جتنی اہمیت حکومت کی ہے ، اجلاس میںمختلف ریاستوں کے وزراء، ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکام، اعلی انتظامی حکام اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندے نے حصہ لیا۔ اجلاس کا بنیادی مقصد ملک کو ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور پائیدار ترقی کے شعبہ میں قابل ذکر کردار ادا کرنے کا اہل بنانے نیز مستقبل کی موثر حکمت عملی طے کرنا ہے ۔

Over 50 pc population lives in disaster-prone areas: Rajnath Singh

0 comments:

Post a Comment