Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-05-17 - بوقت: 00:08

ہندوستان فلسطینی کاز کی تائید کا پابند عہد

Comments : 0
16/مئی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ہندوستان نے آج کہا ہے کہ وہ فلسطین کا مفید ترقیاتی شریک کار بننے کا عہد رکھتا ہے ۔ اور فلسطینی مقصد کی غیر متزلزل تائید کا پابند عہد ہے ۔ فلسطینی کاز کو ہندوستان کی تائید جاری رکھنے کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بااختیار آزاد اور متحدہ فلسطین کے حقیقت میں تبدیل ہونے کی امید ظاہر کی جو اسرائیل کے ساتھ پر امن طور پر موجود ہو ۔ مودی جو ائندہ ماہ اسرائیل کا دورہ کرنے والے ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم ہوں گے کہا کہ انہوں نے صدر محمود عباس سے آج ہوئی بات چیت کے دوران اس مسئلہ پر ملک کے اٹل موقف سے ایک بار پھر واقف کروایا ۔ وزیر اعظم اور دورہ کنندہ فلسطینی صدر نے مشرق وسطی میں جاری امن کوششوں اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں ہی قائدین نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مشرق وسطی میں موجود چیالنجس اور سیاسی مذاکرات کو پر امن طریقہ سے حل کرنا چاہئے ۔ایک سرکاری بیان کے مطابق مودی نے کہا کہ ہندوستان ایک جامع حل کی تلاش کے سلسلہ میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کی جلد از جلد بحالی کے لئے پر امید ہے ۔ باہمی سطح پر ہندوستان فلسطین کا مفید ترقیاتی شریک کار بننے کا عہد رکھتا ہے ۔ دونوں ممالک نے مودی اور عباس کے درمیان ہوئی بات چیت کے بعد پانچ معاہدوں پر دستخط کئے ، محمود عباس ملک کے چار روزہ دورہ پر ہیں ہندوستان نے رملہ میں ٹیکنو پارک پراجکٹ کے قیام میں مدد کا وعدہ کیا ہے ۔ جو فلسطین میں آئی ٹی مرکز کے طور پر کام کرے گا ۔ مودی نے آئمدہ ماہ منعقد ہونے والے عالمی یوم یوگا کے دوران فلسطینی عوام کی بڑی تعداد میں شرکت کا گرمجوشانہ خیر مقدم کیا۔ قبل ازیں دورہ کنندہ صدر کا راشٹرپتی بھون میں گارڈ آف آنر سے استقبال کیا گیا۔مودی اور عباس کی بات چیت میں باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز رکھے گی۔ یہ ملاقات نئی دہلی کے حیدرآباد ہاوز میں ہوئی ۔ قبل ازیں وزیر خارجی امور سشما سوراج نے محمود عباس سے ملاقات کی اور فلسطینی مملکت کے قیام کو ہندوستان کی تائید کا اعادہ کیا۔

چدمبرم کے فرزند اور دیگر کے گھروں پر سی بی آئی کے دھاوے
نئی دہلی، چینائی
پی ٹی آئی
سی بی آئی نے سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم کے فرزند کارتی چدمبرم کے گھروں اور دفاتر پر آج دھاوے کئے۔ ٹیکس تحقیقات سے بچنے کے لئے اندرانی اور پیٹر مکرجی کی ملکیت والی میڈیا کمپنی سے مبینہ طور پر رقم وصول کرنے کے معاملہ میں چار شہروں میں کارتی کے گھروں اور دفاتر کی تلاشی لی گئی ۔ سی بی آئی کے عہدیداروں نے چینائی، ممبئی، دہلی اور گروگرام میں چدمبرم خاندان کی جائیدادوں پر آج صبح دھاوا کیا اور جب کہ مجرمانہ سازش، دھوکہ دہی غیر قانونی طور پر رشوت قبول کرنے، عوامی خدمت گزاروں پر دباؤ ڈالنے اور مجرمانہ طرز عمل کے الزامات کے تحت ایجنسی نے کل شام ایف آئی آر درج کی تھی ۔ الزام ہے کہ کارتی نے غیر ملکی سرمایہ کاری فروغ بورڈ کے شرائط کی خلاف ورزی کے ایک معاملہ میں آئی این ایکس میڈیا کے خلاف ٹیکس تحقیقات کا رخ موڑنے کے لئے اثرورسوخ استعمال کرنے میڈیا کمپنی سے رقم وصول کی تھی۔ کارتی کے خلاف سی بی آئی کی اس کارروائی پر شدید رد عمل دیتے ہوئے سابق وزیر فینانس چدمبرم نے کہا کہ سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں کو حکومت ان کے بیٹے کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کررہی ہے ۔ سینئر کانگریس لیڈر نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری فروغ بورڈ نے سینکڑوں معاملات کی منظوری دی تھی لیکن حکومت سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعہ ان کے فرزند اور ان کے دوستوں کو نشانہ بنارہی ہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ ان کی آواز اور قلم کو خاموش کردے۔ جیسا کہ حکومت اپوزیشن جماعتوں، صحافیوں ، کالم نگاروں، این جی اوز اور سیول سوسائٹی تنظیموں کے معاملہ میں کررہی ہے ۔ چدمبرم نے کہا کہ لیکن وہ بولنے اورلکھنے سے نہیں رکیں گے ۔ چدمبرم نے کہا کہ ان کے خلاف اور بورڈ کے سکریٹریز کے خلاف کوئی الزام نہیں ہے۔ سی بی آئی کے مطابق آئی این ایکس میڈیا نے اپنے ریکارڈ میں واضح طور پر کہا ہے کہ اس نے اڈوانٹیج اسٹراٹیجک کنسلٹنگ پرائیویٹ لمٹیڈ نامی کمپنی کو دس لاکھ روپے دئیے تاکہ بورڈ کے اعلامیوں میں لگائے گئے الزامات کو دور کیاجائے۔ یہ کمپنی بالواسطہ طور پر کارتی کی ملکیت ہے۔ ایف آئی آر میں آئی این ایکس گروپ کے حق میں دیگر کمپنیوں کے نام پر جو راست یا بالواسطہ طور پر کارتی سے جڑی ہوئی ہیں3.5کروڑ روپے کی رسائد جاری کئے گئے۔ ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ سی بی آئی کی جانب سے لگائے گئے الزامات ذرائع کی فراہم کردہ معلومات ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایف آئی آر میں کارتی کا نام لیتے ہوئے دعوی کیا گیا کہ انہوں نے وزارت فینانس پر دباؤ ڈالنے کے لئے اپنا اثرورسوخ استعمال کیا لیکن وزارت یا بورڈ کے عہدیداروں کے نام نہیں بتائے اور نہ ہی ملزمین کی فہرست میں انہیں شامل کیا۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
محکمہ انکم ٹیکس نے آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اور دیگر سے مربوط تقریبا ً1000کروڑ روپے مالیتی بے نامی جائیدادوں کے الزام پر دہلی اور متصل علاقوں میں کم از کم بائیس مقامات پر دھاوے کئے اور تلاشیاں لیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ محکمہ نے دیگر مقامات پر آج صبح چند مشہور رہائش گاہوں اور دفاتر پر دھاوے کئے ۔ یہ تلاشیاں آر جے ڈی کے رکن پارلیمنٹ پی سی گپتا کے فرزند اور چید دیگر صنعت کاروں کے مکانات میں بھی لی گئیں ۔ ذرائع کے مطابق تقریبا ایک درجن مقامات اور دیگر دس سرکاری عمارتوں میں تلاشیاں لی گئیں ۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ لالو پرساد اور ان کے خاندان سے متعلق اراضی معاملت کے سلسلہ میں بزنسمین اور دیگر افراد کی رہائش گاہ پر تلاشیاں لی جارہی ہیں۔ دھاؤں میں محکمہ انکم ٹیکس پولیس کے تقریبا سو ارکان کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ بی جے پی نے گزشتہ ہفتہ لالو پرساد یادو ، ان کی رکن پارلیمنٹ دختر میسا بھارتی اور ان کے دو فرزندان جو بہار حکومت کے وزراء ہیں کے خلاف ہزار کروڑ روپے کی اراضی معاملتوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا اور مرکزی حکومت سے دہلی میں ایسی ہی ایک معاملت کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ارون جیٹلی نے کہا ہے کہ اعلیٰ مقام پر فائز افراد فرضی کمپنیوں کے ذریعہ جائیدادیں خرید رہے ہیں ۔ یہ کوئی چھوٹا معاملہ نہیں ہے ۔ ایک اور مرکزی وزیر روی شنکر پرساد نے کہا کہ یہ معاملتیں اس وقت کی ہیں جب کہ لالو پرساد وزیر ریلوے تھے ۔ انہوں نے چیف منسٹر بہار لالو پرساد یادو کو ان کے خلاف کارروائی کا چیلنج کیا ۔ یاد رہے کہ لالو پرساد کی آر جے ڈی بہار میں نتیش کمار زیر قیادت اتحادی حکومت کی حلیف ہے اور لالو کے فرزند تیجا شوئی یادو اور تیج پرتاب یادو حکومت میں وزیر ہیں۔

CBI raids P Chidambaram's homes

0 comments:

Post a Comment