Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-05-21 - بوقت: 21:55

ای وی ایم سے چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں - الیکشن کمیشن

Comments : 0
20/مئی
نئی دہلی
یو این آئی
الیکشن کمیشن نے آج ایک بار پھر کہا کہ اس کے ذریعہ استعمال کی جارہی الکٹرانک ووٹنگ مشینوں(ای وی ایم) میں چھیڑ چھاڑ ممکن نہیں ہے ۔ اس نے سیاسی جماعتوں کو انہیں ہیک کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے اس کے لئے انہیں 3جون کو مدعو کیا ہے ۔ چیف الیکشن کمیشن نسیم زیدی نے ای وی ایم میں چھیڑ چھاڑ کے سلسلہ میں تنازعہ کے مد نظر آج پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ یہ مشینیں پوری طرح محفوظ، معتبر اور بھروسہ مند ہیں اور ان کا استعمال کسی کے حق میں یا خلاف میں نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری مشینوں میں چھیڑ چھاڑ نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ان کے آلات کسی کے علم میں لائے بغیر بدلے جاسکتے ہیں۔ ان مشینوں میں بناتے وقت بھی چھیڑ چھاڑ کرنا ممکن نہیں ہے اور ان کا ڈاٹا بھی کسی طرح سے تبدیل نہیں کیا جاسکتا ۔ نسیم زیدی نے سیاسی پارٹیوں کو ای وی ایم ہیک کرنے کا چیلنج دیا کہ وہ3جون سے کمیشن کے ہیڈ کوارٹر واچن سدن میں آکر ایسا کرکے دکھائیں۔ کوئی بھی پارٹی اپنے انفارمیشن ٹکنالوجی ماہرین کے ساتھ آکر ان مشینوں کا معائنہ کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تسلیم شدہ قومی یا علاقائی پارٹی26مئی تک اس میں حصہ لینے کے لئے درخواست دے سکتی ہے اور ان ہی جماعتوں کو 3جون سے اس میں شامل ہونے کی اجازت دی جائے گی ۔ ایک پارٹی اپنے تین نمائندے اس کے لئے بھیج سکتی ہے ۔ نسیم زیدی نے کہا کہ یہ گمراہ کن خبر پھیلائی جارہی ہے کہ کمیشن بیرونی ملکوں میں تیار شدہ ای وی ایم کا استعمال کررہا ہے ۔ یہ بات پوری طرح بے بنیاد ہے ۔ کمیشن تمام مشینیں سرکاری کمپنی بھارت الکٹرانکس لمٹیڈ اورالکٹرانک کارپوریشن آف انڈیا سے تیار کرواتا ہے اور ان کا سافٹ ویئیر بھی یہیں بنتا ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ پولنگ سے قبل سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی موجودگی میں ای وی ایم کی جانچ ہوتی ہے اور فرضی ووٹنگ کرائی جاتی ہے ۔ ووٹنگ مکمل ہونے پر ای وی ایم کو سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے سامنے ہی سیل کیاجاتا ہے اور انہیں سخت سیکوریٹی کے درمیان اسٹرانگ روم میں رکھاجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کے سلسلے میں انہیں شکاتیں موصول ہوئی ہیں لیکن اس سلسلہ میں کوئی ثبوت نہیں دیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ ای وی ایم کی معتبریت میں اضافہ کے لئے اگلے عام انتخابات سے وی وی پیاڈ کا استعمال شروع کردیاجائے گا۔ اس سے انتخابات میں شفافیت بڑھے گی ۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے کہا کہ بیالٹ پیپر نظام دوبارہ شروع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔
EVMs cannot be tampered with, says Election Commission

سابر متی ٹرین دھماکہ معاملہ - 16 سال بعد گلزار وانی باعزت بری
نئی دہلی
ایجنسیاں
گزشتہ سولہ سالوں سے زائد عرصہ سے سابر متی ٹرین بم دھماکہ معاملہ میں جیل میں مقید علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے طالب علم گزار وانی اور محمد مبین کو آج بالآخر بارہ بنکی کی خصوصی عدالت نے ثبوتوں کی عدم موجودگی کے سبب دہشت گردی کے الزامات سے بری کردیا۔ گلزار وانی پر مزید دس مقدمات اور قائم کئے گئے تھے جس مین عدالت نے انہیں پہلے ہی بری کردیا تھا اور آج گیارہویں مقدمہ کا فیصلہ سناتے ہوئے بارہ بنکی کی خصوصی عدالت نے گلزار وانی کو باعزت بری کردیا ہے ۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر ارشد مدنی قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے اخبار نویسوں کو دی جنہوں نے ملزم کو نچلی عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک قانونی امداد فراہم کی تھی ۔ اتر پردیش میں بارہ بنکی کی ڈدسٹرکٹ کورٹ کے اپر ضلع جج محمود اظہر خاں کی عدالت نے دونوں ملزمان گلزار احمد وانی اور مبین کو نہ صرف باعزت بری کردیا بلکہ اتنی طویل مدت تک جیل میں قید رکھنے کے لئے حکومت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے انہیں اوسط یومیہ اجرت کے حساب سے ہرجانہ ادا کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔ فاضل عدالت نے تفتیش افسر کے ذریعہ غلط تفتیش کرنے اور فرضی چارج شیٹ داخل کرنے کے لئے تلخ تبصرہ کیا اور پولیس افسران کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس ملازمین کی بے حسی اور ناقص کارکردگی سے ملزمان کو مالی اور ذہنی نقصان ہوا ۔ چونکہ پولیس ملزمان ریاستی حکومت کے ملازم ہیں ایسی حالت میں ریاستی حکومت ہرجانہ ادا کرنے کی پابند ہے ۔ واضح رہے کہ14اگست2000ء کو روضہ گاؤں( فیض آباد) علاقے میں سابر متی ٹرین میں بم دھماکہ ہوا تھا ۔ فیض آباد جی آر پی کا دائرہ بارہ بنکی میں ہونے کی وجہ سے مقدمہ بارہ بنکی میں ہی درج کیا گیا تھا۔ اس معاملہ میں گلزار احمد وانی اور محمد مبین محمد معروف اور محمد عقیل کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ ان سب کو سیمی کارکن بتایا گیا تھا ۔ سانحہ کے وقت وانی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور مبین بی یو ایم ایس کی تعلیم حاصل کررہا تھا ۔اس مقدمیں کل 82گواہوں کے بیان درج کئے گئے ۔ عدالت نے آج وانی اور مبین کو ثبوتوں کی عدم موجودگی میں رہا کرنے کا فیصلہ سنایا ۔ اس دوران کیس کے ایک اور ملزم عقیل کی موت ہوچکی ہے جب کہ معروف پہلے ہی بری ہوچکا ہے ۔ صدر جمیۃ علماء ہند مولانا سید ارشد مدنی نے گلزار وانی کے لوور کورٹ سے16سال بعد با عزت بری ہونے کے فیصلہ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ کام جو حکومتوں کا تھا اسے عدالتیں کررہی ہیں۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ فیصلہ فرقہ پرست اور متعصب ایجنسیوں کے منہ پر طمانچہ ہے اور قانون و انصاف کی جیت ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر سوال بھی اٹھایا کہ عدالت کے فیصلے کے مطابق جب یہ مجرم نہیں ہین تو پھر اصل گنہگار کہاں ہیں؟ مولانا مدنی نے کہا کہ ملک کی سلامتی کے لئے اصل گنہگار کے خلاف کارروائی ضروری ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ایک طرف تو این آئی اے اور دیگر تفتیشی ایجنسیاں موجودہ حکومت کے دباؤ میں بھگوا دہشت گردی میں ملوث کرنل پروہت، پرگیا ٹھاکر اور سوامی اسیمانند جیسے ملزمان کو کلین چٹ دینے کی کوشش میں مصروف ہیں ، وہیں دوسری جانب عدالتیں بے گناہ افراد کو باعزت بری کرکے فرقہ پرست طاقتوں اور ان کے دباؤ مین کام کرنے والی ایجنسیوں کو باور کرارہی ہیں کہ وہ جھوٹے مقدمات میں پھنسا کر بے قصور لوگوں کی زندگیاں برباد کرنے سے باز آئیں۔ انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ جب تک خاطی انتظامیہ اور متعصب پولیس افسران کو ان کے کرتوتوں کی سزا نہیں ملتی تب تک انصاف مکمل نہیں ہوسکتا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ اکثر میڈیا خاص طور سے الیکٹرانک میڈیا دہشت گردی کے الزامات میں گرفتار کئے گئے مسلم نوجوانوں کی گرفتاری کو انتہائی اہم اور بڑی خبر بنا کر صبح سے شام تک اسی کا ڈھنڈورا پیٹتا رہتا ہے اور جج بن کر یہ فیصلہ دیتا ہے کہ یہ دہشت گرد ہیں۔ لیکن جب یہی نوجوان عدالت سے باعزت بری کئے جاتے ہیں تو اکثر میڈیا کو سانپ سونگھ جاتا ہیا ور اس کی رہائی کی خبر کو نظر انداز کردیاجاتا ہے ۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا حصہ کس طرح سے فسطائی طاقتوں کی سوچ اور نظریے کے زیر اثر ہے۔ اس کا مقصد بھی صرف مسلمانوں کی امیج کو خرا کرنا ہی رہ گیا ہے۔ واضح رہے کہ14ستمبر2000ء کو ریلوے اسٹیشن پر کھڑی ٹرین سابرمتی ایکسپریس میں بم دھماکہ ہوا تھا جس کی وجہ سے سینکڑوں مسافروں کو شدید چوٹیں آئیں تھیں جس کے بعد پولیس نے نامعلوم لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی اور تحقیقات شروع کی تھی ۔ دوران تفتیش پولیس نے چار ملزمین کو گرفتار کیا تھا جس مین گلزار وانی بھی شامل تھا ۔ وانی ایک ہونہار طالب علم تھا لیکن آج اس کا مستقبل تاریک دکھائی دے رہا ہے ۔ عدالتوں کو اس بات کا بھی نوٹس لے کر ہرجانہ دلانے کا بندوبست کرنا چاہئے ۔

ملک کی تیز رفتار’تیجس ایکسپریس‘ ٹرین کا آغاز
مذکورہ ٹرین ممبئی۔ گوا روٹ پر چلائی جائے گی
ممبئی
یو این آئی
ملک کی سب سے تیز رفتار تیجس ایکسپریس آج یہاں ممبئی چھتر پتی مہاراج شیواجی ٹرمنس پہنچ گئی اور مذکورہ ٹرین22مئی سے کوکن ریل روٹ پر ممبئی اور کرمالی کے درمیان چلائی جائے گی، جو کہ جدید سہولیات سے آراستہ ہے اور ٹرین ہفتے میں پانچ روز چلے گی۔ ریلوے ذرائع کے مطابق مانسون کے دوران یہ ٹرین ہفتے میں تین روز اور اس کے بعد ہفتے میں پانچ دن چلائی جائے گی ۔ مانسون کے دوران ٹرین پیر، بدھ، اور سنیچر کو صبح پانچ بجے روانہ ہوگی اور دوپہر تین بج کر چالیس منٹ پر کرمالی پہنچے گی۔ بدھ، جمعرات اور اتوار کو کرمالی سے صبح ساڑھے سات بجے روانہ ہوکر ممبئی سی ایس ٹی شام سات بجے پہنچے گی ۔ مانسون کے بعد ٹرین صبح پانچ بجے روانہ ہوکر ڈیڑھ بجے دوپہر میں پہنچے گی ۔ اور پیر اور جمعرات کو چھوڑ کر پانچ دن چلائی جائے گی۔ اسی طرح دوپہر میں ڈھائی بجے روانہ ہوکر رات گیارہ بجے ممبئی پہنچے گی اور پیر اور جمعرات نہیں چلائی جائے گی۔ ٹرین دادر اور تھانے، پ نویل، رتنا گری اور کڑال پر ٹہرے گی۔ ذرائع کے مطابق تیجاس ٹرین دو سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلائی جاسکتی ہے ۔ لیکن فی الحال پٹریوں کی حالت کے تحت ایک سو تیس کلو میٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلائی جائے گی۔ ٹرین کے دروازے خود کار ہیں اور انکا کنٹرول گارڈ کے ہاتھوں میں ہوگا ۔ وائی فائی سہولت کے ساتھ ٹرین میں ہر نشست کے عقب میں ایل سی ڈی ٹی وی اور گھنٹی بجانے پر ایئر ہوسٹس کی طرح ٹرین ہوسٹس خدمت کو پہنچ جائیں گی اور نگراں بھی موجود رہیں گے۔ ٹرین میں بائیو ٹوائیلٹ ہیں۔
Tejas Express, India's fastest train, to rollout on Mumbai-Goa route

0 comments:

Post a Comment