Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-05-04 - بوقت: 22:46

گئو رکھشا تشدد کیس - مرکز اور 5 ریاستوں کو جواب دینے عدالت عالیہ کا حکم

Comments : 0
3/مئی
نئی دہلی
یو این آئی
سپریم کورٹ نے گؤ رکشا کے نام پر وحشیانہ تشدد کرنے کے معاملے میں متعلقہ ریاستوں کے پولیس افسران سے جواب طلب کرنے اور انہیں ذمہ دار ٹھہرانے سے متعلق درخواست پر آج معاملے کی سماعت چھ ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔ جسٹس دیپک مشرا کی صدارت والی بنچ نے کانگریسی لیڈر تحسین پونہ والا اور دو دیگر درخواست دہندگان کی درخواست پر سماعت آئندہ ماہ تک موخر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں وہ فی الحال کوئی حکم جاری نہیں کرے گا ۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ اس معاملے میں مدعا علیہ بنائی گئی چھ میں سے پانچ ریاستی حکومتوں نے اب تک اپنا جواب داخل نہیں کیا ہے ۔ ایسی صورت میں وہ خود کوئی قیاس لگانا نہیں چاہتی ہے ۔ درخواست گزاروں کی جانب سے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے دلیل دی کہ گؤ رکشک گروپوں کی غیر قانونی سر گرمیوں کے لئے راست طور پر پولیس افسران کو ذمہ دار ٹھہرایاجانا چاہئے ۔ جسٹس مشرا نے کہا کہ ہم فی الحال کوئی حکم جاری نہیں کرنا چاہتے ۔ ریاستوں سے حلف نامہ تو آنے دیجئے ۔ بنچ نے معاملے کی سماعت چھ ہفتے کے لئے ملتوی کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور پانچ ریاستوں گجرات، مہاراشٹر، اتر پردیش، راجستھان اور جھار کھنڈ کو چھ ہفتے کے اندر اپنا جواب داخل کرنے کا حکم دیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے گؤ رکشکوں کے تشدد کے معاملے میں عرضی گزاروں کی درخواست پر چھ ریاستوں کو نوٹس جاری کیا تھا، جس کی تعمیل کرت ہوئے اب تک صرف کانگریس کی زیر قیادت ریاست کرناٹک حکومت کی جانب سے جواب داخل کیا گیا ہے ، جس میں اس نے کہا ہے کہ وہ گؤ رکشا کے نام پر کسی طرح کی غٰیر قانونی سر گرمیوں خی حمایت نہیں کرتی ہے ، جب کہ بی جے پی کی زیر اقتدار ریاستوں اتر پردیش، گجرات، مہاراشٹر اور جھار کھنڈ کی حکومتوں نے اب تک عدالت عظمیٰ کے نوٹس کا جواب نہیں دیا ہے ۔ معاملے کی سماعت اب جولائی میں ہوگی۔ عرضی گزاروں کی دلیل ہے کہ زیادہ تر گؤ رکشک مجرمانہ سر گرمیوں میں ملوث ہیں اور گؤ رکشا کے نام پر وحشیانہ تشدد کرتے ہیں، اس لئے ان کو قانون کے دائرے میں لانے کے لئے ریاستوں کو پابند بنایاجائے ۔ اس دوران اڈیشہ کی ایک تنظیم وشو گؤ رکشا واہنی نے بھی اس معاملے میں عرضی دائر کی ہے، جس کی سماعت درخواست عدالت نے قبول کرلی ہے ۔
Cow vigilantism: SC asks 5 states to file counter affidavit in 6 weeks

کرشنا وادی حملہ - پاکستانی ہائی کمشنر سے ہندوستان کا سخت احتجاج
نئی دہلی
یو این آئی
پاکستانی فوج کی طرف سے جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر دو ہندوستانی جوانوں کی لاشوں کو مسخ کرنے پر ملک میں غم و غصہ کی لہر کے درمیان خارجہ سکریٹری ڈاکٹر ایس جے شنکر نے آج پڑوسی ملک کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے اس مکروہ کارروائی کے لئے مجرم پاکستانی فوجیوں اور ایریا کمانڈروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ خارجہ سکریٹری نے ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے اس وحشیانہ کارورائی پر ہندوستان کا احتجاج درج کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے ٹوئٹ کرکے بتایا کہ خارجہ سکریٹری نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا ، انہیں ہندوستان کے احتجاج اور اعتراض سے آگاہ کیا اور اس کارروئی کے لئے ذمہ دار پاک فوج اور ایریا کمانڈروں کے خلاف کارورائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ شہید نوجوانوں کے خون کے نمونے لئے گئے ہیں، جن کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ جائے واردات سے روزہ نالہ تک اسی خون کے نشانات ملے ہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قتل کرنے والے نالہ پار کر کے پاکستان کے قبضے والے علاقے میں لوٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹری خارجہ نے عبدالباسط سے مطالبہ کیا کہ پاکستان اس وحشیانہ کارروائی کے ذمہ دار فوجیوں اور کمانڈروں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے ۔ فوج کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے پیر کو صبح آٹھ بج کر چالیس منٹ پر کنٹرول لائن سے متصل کرشنا وادی سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کر کے فارورڈ چوکیوں پر اکٹ اور مورٹار سے حملہ کیا اور اسی دوران ہندوستانی سرحد میں تقریبا ڈھائی سو میٹر اندر پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم نے گشت کرنے والے ہندستانی جوانوں پر گھات لگا کر حملہ کیا، جس میں فوج کے نائب صوبیددار مرجیت سنگھ اور بارڈر سیکورٹی فورس کے ہیڈ کانسٹبل پریم ساگر شہید ہوگئے اور جوان رجندر سنگھ زخمی ہوگیا۔ دونوں شہید جوانون کی لاشیں مسخ شدہ حالت میں پائی گئی تھیں، حملے کے وقت فوج اور بی ایس ایف کا دس جوانوں والا ایک مشترکہ دستہ گشت لگاتے ہوئے گھنے جنگل والے علاقے سے ایک چوکی سے دوسری چوکی کی جانب جارہا تھا۔

0 comments:

Post a Comment