Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-05-23 - بوقت: 20:18

1960 کے بعد اردو نظم میں مشترکہ ہندوستانی تہذیب

Comments : 0

common-indian-culture
اردو زبان اپنے تشکیلی دور سے لے کر عروج تک اور عروج سے لے کر موجودہ دور تک کسی بھی سطح پر ہندوستانی ماحول ، معاشرے اور مشترک مزاج اور سماج سے بے نیاز نہیں ہوئی ہے اردو شروع سے ہی سب کے ساتھ مل کر اور سب کو ساتھ لے کر چلتی رہی ہے اس کے مزاج اور خمیر میں یہ بات شامل ہے۔ اس کے تشکیلی عناصر ہی ہندو مسلم ہندی اور ہندوستانی ہیں یہ اخوت و محبت کی زبان ہے اور اتحاد و اتفاق کی علامت بھی، وطن دوستی، وطن پرستی،مساوات ، رواداری اور قومی یکجہتی کی ضمانت بھی، اس کا ادب ، اس کی شاعری اسی کی ترجمان ہے۔ اردو زبان کی تشکیل اور ارتقا میں ہند لمانی کلچر ہے جس میں مسلمانوں کے علاوہ ہندو، سکھ، عیسائی اور دوسرے مذہب کے لوگ بھی بہت فعال رہے ہیں لیکن کیا کیا جائے کہ لسانی تشدد میں سب سے زیادہ زد میں آنے والی زبان اردو ہی ہے ۔ ’’کدم راؤ پدم راؤ‘‘ سے لے کر آج تک کتنی ہی ممتاز کتابیں، ہندوؤں، سکھوں، یہاں تک کہ انگریزوں کے قلم سے نکلی ہیں اور شاہکار کا درجہ رکھتی ہیں۔ ماضی کو فراموش کر دیجیے تو آج بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو مسلمان نہیں ہیں لیکن آج کی مروّجہ صنفوں میں نہ صرف قابلِ احترام ہیں بہت حد تک اس زمانے کے ارتقائی سفر میں اہم رول انجام دے رہے ہیں۔ داستان ہو کہ ناول، افسانہ ہو کہ انشائیہ، طنزومزاح ہو کہ سفر نامہ ، مرثیہ ہو کہ قصیدہ ، غزل ہو کہ نظم سبھی مشترکہ تہذیب کی آئینہ دار بھی ہیں اور اس زبان کو تقویت پہنچانے کا باعث بھی۔
متذَکرہ بالا میں اردو ادب کی جتنی بھی اصناف کے نام گنوائے گئے ہیں ان سب میں ہندوستان کی علمی و ادبی، سیاسی و سماجی، تہذیبی و تمدنی،معاشی و معاشرتی ، اخلاقی و اقداری، اقتصادی و ثقافتی، مذہبی و ملّی ، قومی و وطنی وغیرہ جیسے عناصر بہ کثرت پائے جاتے ہیں۔ گو کہ اردو زبان میں ہندوستانی سماج کی کامیابی اور ترقی کے راز مضمر ہے۔ اردو زبان کی مختلف اصنافِ سخن میں شاعری ایک اہم وسیلہ قرار پائی ہے جس نے مشترکہ تہذیب کی علامت کواجاگر کرنے میں اہم اور قابلِ اعتنا کردار نبھایا ہے۔ یہ بات بھی اظہر من الشمّش ہے کہ شاعری میں بھی صنفِ نظم ہی نے سب سے زیادہ ہندو مسلم میں اتحاد، بھائی چارگی،باہمی اختلاط،اخوت، ہمدردی، یگانگت،مساویانہ حقوق،میل جول اور اپناپن کے احساس کو نمایاں کرنے میں معاون کردار ادا کیا ہے۔ اردو صنف نظم میں ایسے شعراء کی کمی نہیں ہے جنھوں نے ان موضوعات کو اپنی شاعری کا اہم وسیلہ بنا کر عوام کے دلوں پر راج کیا۔ مختلف ادوار میں مختلف شعراء حضرات کی آمد نے صنف نظم کے دامن کو مالا مال کیا۔ اردو شاعری میں ہندوستانی تہذیب و تمدن کے آب و گِل کی خوشبو ابتدا سے ہی ادبی فضا کو معطر و معتبر کئے ہوئے ہیں۔ نظیر اکبر آبادی کی نظموں پر نظر ڈالئے ۔ حالی، آزاد، سرسید کی نیچرل نظم و نثر کو پرکھیے جن میں ہندوستانی گنگا جمنی تہذیب کی حقیقت کے نادر و نایاب جھلکیاں نمایاں نظر آئیں گی۔ ہندوستان میں جب وطنیت اور قومیت کا سیا سی تصّور پیدا ہوا تو شعرائے کرام کے لب و لہجے میں خود بہ خود تبدیلی پیدا ہوئی ۔ شروع شروع میں اکبر الہ آبادی، برج نرائن چکبست، ظفر علی خاں، درگا سہائے سرور، علامہ اقبال، تلوک چند محروم ، جوش ملیح آبادی، احسان دانش، ساغر نظامی اور دوسرے شعرائے کرام کے نام اس سلسلے میں لئے جا سکتے ہیں جن میں علامہ اقبال کے’’ نظریہ وطنیت‘‘ نے جس کی اساس وطنِ عزیز کی وابستگی پر تھی اپنا ’’ترانہ ہند‘‘ پیش کیا اور نونہالانِ وطن اور بلبلانِ چمن جھوم جھوم کر ۔۔۔۔۔’’سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا‘‘ گا نے لگے۔ شاعر مشرق کی یہ مقبول نظم آج بھی ہر اسکول میں ہندوستانی طلباء ترنم سے پڑھتے ہیں۔
حب الوطنی،قومی،مذہبی،تہذیبی،ملّی،تعمیری اور سماجی نظمیں وغیرہ کہنے کا یہ رواج آزادی کے بعد بھی جاری و ساری رہا۔ ۱۹۶۰ء کے بعد کے نظم نگار شاعروں کی ایک طویل فہرست پیش کی جا سکتی ہے جنھوں نے اس نوعیت کے موضوعات کو شاعری میں برت کر اپنی شہرت کا ضامن بنایا۔ ضیا ہانی، کمار پاشی، نازش پرتاپ گڑھی،نیاز حیدر،مظہر امام، مخمور سعیدی، زبیر رضوی،بلراج کومل، چندبھان خیال، عنبر بہرائچی، گوپال متل، علی جواد زیدی، اجمل اجملی، سلام مچھلی شہری، معین احسن جذبی، جگن ناتھ آزاد، پریم وار برٹنی، انور جلالپوری، ریاضت علی شائق اور مظفر حنفی ،فرحت حسین خوشدل، سید احمد سحر،وغیرہ وغیرہ وہ شعراء ہیں جنھوں نے ۱۹۶۰ء کے بعدہندوستان کی قومی یکجہتی ،حب الوطنی، مذہبی رواداری اور قومی میراث جیسے موضوعات پر نظمیں لکھ کر اردو شعر و ادب کی دنیا میں اپنی شناخت اور پہچان مظبوط کر لی۔
ضیا ہانی کے شعری مجموعہ’’آئینہ وطن‘‘ میں وہ نظمیں ملتی ہیں جن سے شاعر موصوف کی ’’وطنیت اور قومیت‘‘ کے بارے میں افکار و خیالات کی نشاندہی ہوتی ہے اس مجموعہ کلام میں موصوف نے ان معروف ہستیوں کے بارے میں نظمیں قلمبند کی ہے جو دانشور بھی ہیں اورسیاسی رہنما بھی ،جو صوفی بھی ہیں اورادیب بھی ، عالم بھی ہیں اور شاعر بھی ۔شخصیات پر لکھی گئی ان کی نظموں میں گاندھی جی،مولانا محمد علی جوہر، ڈاکٹر مختار انصاری، ٹیپو سلطان شہید، علامہ اقبال، گرونانک، چکبست لکھنوی، کیفی دہلوی،اکبر الہ آبادی ،غالب،سرشار،مہارشٹر کے صوفی، مہاراشٹرکے سنت وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ بہر کیف اپنی بساط کے مطابق موصوف نے ہر اس عظمت انسان کے بارے میں لکھا ہے ہے جس نے سیاست میں،ادب میں، تصوف میں یا فنِ شعر میں کمال دکھا یا ہے۔ ان کی دیگر نظموں کے بارے میں پروفیسر یونس اگاسکر صاحب کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے:
’’ایک محبِ وطن سے ان کی نظمیں ان کے جذبات و احساسات کا پرکشش آئینہ ہیں۔ جس میں تہذیبی روایات’’قدیم و جدید‘‘ نشانات کے نادر و نایاب نمونے نظر آتے ہیں۔ ساحلِ مہاراشٹر، تاج محل، میرا وطن ہے، تعمیرِ وطن،ڈل،کملا نہرو پارک، وغیرہ ملاحظہ فرمائیے اور حظ اُٹھائیے‘‘۔
کمار پاشی نے اپنی نظموں ’’ایودھیا میں آرہا ہوں‘‘ ، ’’کرشن‘‘،’’ گمشدہ لفظ‘‘، ’’پشاچ نگری‘‘،’’ولاس یاترا‘‘وغیرہ میں جہاں اپنے وطن کی مٹی سے پیار اور لگاؤکا اظہار کیاہے وہی اپنی قوم کی دبتی اور کھوئی ہوئی قدروں کے افسوس کا رنگ بھی جھلکتا ہے ۔دیو دیوتاؤں کے تئیں عقیدت ،احترام اور ان کی عظمت کا بیان کمار پاشی کی نظم ’’کرشن‘‘ میں واضح طور پر نظر آتا ہے۔ان کی نظموں میں ہندوستانی تصور و تہذیب کی بھر پو عکاسی کی گئی ہے ان نظموں کا گہرا تعلق ہندوستان کی مٹی کی بو باس، فضا، اساطیر اور دیو،مالاؤں سے ہے ان کا رنگ و آہنگ ہندوستان سے ہی مستعار ہے ان نظموں میں مفاہمت کا جو انداز ہے ، جو فکر ہے وہ گنگا جمنی تہذیب ہی کے تحت پیدا ہو سکتے ہیں۔
نازش پرتاپ گڑھی نے بھی ایسی بہت سی نظمیں کہیں ہیں جو مشترکہ ہندوستانی تہذیب کی نمائندگی کرتی ہے ان کی نظموں میں ’’اے نغمہ گرو‘‘، ’’اے ہم سخنو‘‘، جشنِ جمہور‘‘، ’’اے زبان‘‘ ، ’’اے میرے وطن‘‘، ’’اپنی دھرتی اپنا دیش‘‘، ’’موسمِ گل کے سفیر‘‘ ،’’باپو کی آواز‘‘،’’دیش کے نوجوانوں‘‘، ’’جاگ اے میرے وطن‘‘وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔نازش کی نظم ’’زبان سے نفرت کیوں‘‘ سے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
جہاں بھی چھاؤں گھنی ہو قیام کرتے چلو
ادب جہاں بھی ملے، احترام کرتے چلو
زبان تسلسل تاریخِ زندگانی ہے
زبان منازلِ تہذیب کی کہانی ہے
زبان مچلتی ہے مٹی پہ چہچیوں کی طرح
زبان نکلتی ہے چلمن سے زمزموں کی طرح
زبان قوم کی عزت بھی ہے، غرور بھی ہے
زبان عوام کی محنت بھی ہے، شعور بھی ہے
چونکہ ہندوستان نہ صرف رقبہ کے لحاظ سے ایک بہت بڑا اور وسیع و عریض ملک ہے بلکہ آبادی کے لحاظ سے بھی ہندوستان دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ یہاں جتنے مذاہب، طبقوں اور قوموں کے لوگ رہتے ہیں ، مشکل سے ہی دنیا کے کسی ملک میں مذاہب اور قوموں کی اتنی تعداد پائی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں ایک کثیر تعداد میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے نازش صاحب کی مذکورہ بالا نظم ایک قوم کی تہذیبی وراثت کی علمبردار نظم کہی جا سکتی ہیں جس میں زبان کی خصوصیات کو مؤثر طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ غرض ناز شؔ کی نظمیں وطن دوستی،امن و امن، تہذیب کی رکھوالی، امن کی پاکبازی کا جیتا جاگتا ثبوت پیش کرتے ہیں۔
نئی نظم کے معماروں میں نیاز حیدر بھی ایک اہم نام ہے۔ ان کے شعری مجموعہ’’ شعلہ آوارگی‘‘ میں ’’گنگو کا ترانہ‘‘، تہذیب کے معمار‘‘، اور ’’سمے بڑا گمبھیر‘‘ جیسی نظموں میں ان کی عوام دوستی کا پہلو روشن نظر آتا ہے۔ نیاز حیدر نے ایسی نظمیں بھی لکھی ہیں جن کا آہنگ اور علامتی اسلوب عوامی زندگی اور ہندوستانی تہذیب کے نئے رخ کو پیش کرتا ہے۔ نیاز حیدر بقول قمر رئیس کے
’’ ہندوستانی سنگیت اور لوک ساہتیہ کی ان روایات سے گہری واقفیت رکھتے تھے جن کا تعلق عوام کے رہن سہن، ان کی سوچ اور تہذیب سے تھا۔’’تانڈو‘‘ ،’’ نٹ راج‘‘،’’مانجھی‘‘ اور ’’ وندنا‘‘ جیسی نظمیں نظیر اکبر آبادی کی روایت کی توسیع کہی جائیں گی‘‘۔
نیاز حیدر کے یہاں وطن پرستی کا تصور بھی ہے اور وہ ہندوستانی کے حسین مظاہر کو عوام کی تخلیقی محنت اور اتحاد و اخوت کا ثمرہ سمجھتے ہیں۔ان کی نظموں میں ایسی تصویر کا ایک نکھرا ہوا رنگ و روپ نظر آتا ہے جن سے ہندوستان کے قدرتی مناظر اور رسیلی رتوں سے توازن اور وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔لیکن جب ان کی نگاہ تخیل، تہذیب کے رنگ و روپ کو متحرک پیکروں میں دیکھتی ہے تو ان کا وجود جھوم اٹھتا ہے اور ان کی تخلیقی فکر میں روانی پیدا ہوتی ہے۔ نظم ’’امن کی راہ پر‘‘ سے چند اشعار ملاحظہ ہے:
اُٹھاؤ بھیڑا کہ ایشاء میں کبھی غلامی نہیں رہے گی
پنپ سکے گا نہ کوئی فتنہ نظر میں خامی نہیں رہے گی
یہ ٹوٹی گاڑھی نہیں چلے گی یہ بد انتظامی نہیں رہے گی
ہم اُس کو باقی نہ رہنے دیں گے جو عوامی نہیں رہے گی
مخمور سعیدی بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں لیکن ان کے معتدد مجموعۂ کلام میں ایسی نظمیں ملتی ہیں جس میں انھوں نے مناظرِ حسن و فطرت، سیاسی و سماجی ہیجان، معاشی زبوں حالی، انسانیت کی ناقدری، اقدار کی شکست و ریخت، اور سماجی ابتری جیسے موضوعات کو اپنی نظموں کا خاصا بنایا ہے۔یہی نہیں ہندوستان شناسی، اور اس کی اقداری اور تہذیبی روایات کی پاسداری بھی انھوں نے خوب کی ہے۔ ان کی نظم ’’اے ارضِ وطن‘‘ اس کا عمدہ نمونہ ہے چند اشعار ملاحظہ فرمائیے:
صحرا بھی ترے گلشن گلشن سایے بھی ترے روشن روشن
اے ارضِ وطن اے ارضِ وطن اے ارضِ وطن اے ارضِ وطن
مندر کے کلس کیا ہیں ترے خوابوں کی سنہری تعبیریں
مسجد کے مناروں میں تیری بیداری جاں کی تنویریں
اک تیری کتاب عظمت کی محفل سو تفسیریں
چشتی کی دعا،نانک کی نوا، غالبؔ کی غزل، میرا ؔ کے بھجن
اے ارضِ وطن اے ارضِ وطن اے ارضِ وطن اے ارضِ وطن
متذکرہ بالا نظم ’’اے ارضِ وطن‘‘ پندرہ بندوں پر مشتمل ہے جس کی بیانی اور ذودِ گوئی میں انھوں نے اپنے قلم کو جاں بخشی ہے ۔ ہندوستان اور مشترکہ تہذیبی وراثت کا بانکپن بند کے لفظ لفظ سے ٹپکتا ہے۔ تہذیبی لفظوں سے پروئی گئی یہ نظم مشترکہ تہذیب کی علامت ہے۔ مخمورسعیدی کے اس موضوع سے مطابقت رکھنے والی دیگر نظموں میں ’’ہندوستان‘‘، ’’وہ شہر بھی اسی جگہ ہے‘‘، ترکمان گیٹ دہلی‘‘، ’’سلام عقیدت‘‘،’’شکون‘‘ ،’’موسم بہار کی ایک نظم‘‘وغیرہ بھی قابلِ ذکر ہیں۔
چندر بھان خیال اردو کے ایک حساس شاعر تصور کیے جاتے ہیں۔ان کی نظم’’ ہاں! وے مسلمان‘‘ اس عہد کی تہذیبی کشمکش کی آئینہ دار ہے۔ دراصل یہ نظم ہندی شاعر دیوی پرشاد مشر کی نظم’’ مسلمان‘‘ کے شائع ہونے کے بعد ردِ عمل کے طور پر منظرِ عام پر آئی تھی۔ چندر بھان خیال جو کہ ہندوستان کے مشترکہ کلچر کے پروردہ، سکیولر ذہن کے مالک، قدروں کے رمز شناس ہیں انھوں نے اپنی مذکورہ نظم میں حب الوطنی کے خود ساختہ ٹھیکیداروں کو منہ توڑ جواب دیا ہے نظم کا ایک حصّہ ملاحظہ فرمائیے:
’’مسلمان نہ ہوتے تو/قبیلوں،ورنوں،طبقوں، اور جاتیوں کے جنگل میں/ تنفر کی آگ لگی ہوتی/ جنگل جل چکا ہوتا/ پھر آرکشن کی دھوپ میں کسے سینکتے/ آرکشن کا ورودھ کون کرتا / جمہوریت کی مینا کہاں چہچہاتی/ سمتا، سنتولن، سماج سدھار شبد کوش ہیں/ دھر رہتے ۔۔۔وہ مسلمان ہیں/ وہ رتھ یا گھوڑے پر سوار آنتک نہیں، وے رام سے نہیں ڈرتے / لیکن ڈرتے ہیں تو رام نام کے سوداگروں سے/ وے مارکس سے نہیں ڈرتے/ لیکن ڈرتے ہیں مارکس کے نافہم پرستاروں سے/ وے کسی سے نہیں ڈرتے/ لیکن ڈرتے ہیں/ حکمِ الٰہی میں ملاوٹ کرنے والوں سے‘‘۔
ہندوستانی تہذیب و ثقافت کا ایک اہم نکتہ سکیولرزم اور رواداری ہے ہمارے عہد کے شاعر نے اسے بڑی خوبصورتی اور برجستگی سے پیش کیا ہے۔
عنبر بہرائچی کے یہاں موجودہ عہد میں گاؤں کی مٹی سے حد درجہ لگاؤ ہے بقول فضیل جعفری’’ عنبر ہمارے پہلے جدید دیہی شاعر (Rural Poet) ہیں اور یہی ان کا قلعہ ہے۔ دیہی شاعری کے جیسے اعلیٰ نمونے ان کے یہاں ملتے ہیں کہیں اور دکھائی نہیں دیتے‘‘۔ اس کی عمدہ مثال عنبر بہرائچی کی نظم ’’ تنہائی ہوئی ہے پسینے میں لیکن‘‘ ہے۔
ریاضت علی شائق بھی عصر حاضر کے اہم شاعروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ان کا مجموعۂ کلام ’’نذرِ وطن‘‘ انہیں وطنی اور قومی شاعر ثابت کرنے کے کے لیے کافی ہے۔ جس کی ہر ایک نظم وطنیت کے جذبات سے سرشار ہے۔ ان میں ہندوستان کے نو بہ نو فطری مناظر سے، ہندوستانی تہذیب کی بوقلمونی سے، رنگا رنگ عوامی تہواروں سے، ہندوستان کے عظیم فرزندوں سے، اور اس کی تعمیر و ترقی کے مظاہر سے گہری وابستگی جھلکتی ہے۔ اس سلسلے میں ’’صدائے فرض‘‘، ’’جشنِ زرین‘‘، ’’ہولی‘‘، اور’’دیوالی‘‘جیسی نظمیں خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں۔ ان نظموں میں سیدھی سادھی زبان شاعر کے سچے اور پر خلوص جذبات کا اظہار ہوا ہے۔ اس لیے یہ قاری کو اپیل کرتی ہیں ۔وطن کے برگذیدہ اور عظیم شخصیتوں میں ’’ سبھاش چند بوس‘‘،’’ گرونانک‘‘ ،اور ’’تلسی داس‘‘ جیسی نظمیں گہری تاثیر اور شاعرانہ حسن کی آئینہ دار ہیں۔ چند اشعار پیشِ نظر ہیں:
ہم اس کے پاسباں ہیں یہ پاسباں ہمارا
ہندوستان کے ہم ہیں ہندوستان ہمارا
(یہ گلستان ہمارا، از شائق)
یہ حسین جگمگاتے نگر، گاؤں ہیں جس کے رشکِ قمر
آج شائقؔ کے ہیں دیش پر، یہ فدا جان و تن زندہ باد
(سرزمینِ وطن زندہ باد،از شائق)
ان کی دوسری نظموں میں ایکتا، عید کی شوبھا، باپو، امن ہند کی بیٹی اردو، چراغِ اردو، گنگا جمنی تہذیب، جوشؔ و کبیرؔ ، ندائے اتحاد، تہذیب کا گہوارہ، وغیرہ بھی ان کی وطن پرستی کی سچی جانشین ہے۔
زبیر رضوی بنیادی طور پر نظم کے ہی شاعر ہیں اور ان کا شمار جدید نظم نگاروں کے بانیوں میں کیا جاتا ہے۔ اگر چہ ناقدین نے ابھی تک ان کی نظموں میں مشترکہ ہندوستانی تہذیبی عناصر کی نشاندہی نہیں کی ہے تاہم ان کی چند ایک نظموں میں اس کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ان کی نظموں میں وطن کی سوندھی سوندھی خوشبو بھی ہے اور یہاں کی گلیوں، میلوں، ٹھیلوں، بازاروں،بستیوں اورموسموں کا ذکر بھی ہیں۔زبیر امن مخالفوں سے خفا بھی ہے اورانہیں شہر کی گم شدہ رونق کا ماتم بھی ہے۔انھوں نے بدلتے موسموں کا ذکر بھی چھیڑا ہے اور ہندوستانی روایات ،کلچر اور تہذیبی ثقافت کے گیت بھی گائے ہیں۔انہیں رشتوں کا احساس بھی ہے اور اس کے فاصلے کی چبھن بھی ہے۔ انھوں نے بچوں کی پسند کا لحاظ بھی رکھا ہے اور وطن کا گیت بھی گایا ہے۔
یہ ہے میرا ہندوستان
میرے سپنوں کا جہاں
اس سے پیار ہے مجھ کو
(یہ ہے میرا ہندوستان،از زبیر رضوی)
ان کی نظمیں جو مشترکہ تہذیبی علامت کی پاسدا ر اور امین ہے ،میں ’’زمین تقسیم ہوچکی ہے‘‘، مٹی کی خوشبو‘‘، ’’امن سے دشمنی‘‘، ’’گم ہوتا شہر‘‘، ’’کبیر رنگ‘‘ اور ’’صادقہ‘‘وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔
انور جلالپوری بھی اردو شعروادب کے گیسو سنوارنے میں پیش پیش ہے انھوں نے بھگوت گیتا کا منظوم اردو ترجمہ کر کے نہ صرف اردو جاننے والوں بلکہ غیر ہندی والوں پر بھی احسان کیا ہے ۔بھگوت گیتا کا منظوم ترجمہ کر کے انھوں نے اتحاد و اتفاق اوربھائی چارگی کی ایک عظیم مثال قائم کی ہے۔ بھگوت گیتا کے ابھی تک ۸۲ تراجم ہوچکے ہیں جن میں ۱۵ منظوم تراجم ہے ۔ انور جلالپوری نے اپنے منظوم ترجمے کے لیے بحرِ متقارب کا انتخاب کیا ہے۔ جو ثقیل، دقیق اور بھاری بھر کم الفاظ کی متحمل نہیں ہے۔ اس ترجمے کے لیے موصوف اردو اور ہندی سے تعلق رکھنے والے ادباء سے خراجِ تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔ چند شلوک ملاحظہ فرمائیے:
اُدھر کرشن و ارجن بھی بیتاب ہیں
یہ دونوں ہی خورشید و مہتاب ہیں
وہ رتھ جس کے گھوڑوں کی شان ہے
سفیدی ہی گھوڑوں کی پہچان ہے
متذکرہ بالامیں پیش کیے گئے شلوک سے آپ موصوف کے ترجمے میں برتی گئی زبان کی سلاست،فصاحت، بلاغت، شستگی، برجستگی،پاکیزگی اور روانی سے آپ ضرور محظوظ ہوں گے۔
سید احمد سحر بھی بطور ایک وطنی شاعر کے اپنی منفرد پہچان بنا چکے ہیں ان کے مجموعۂ کلام ’’گدازِ سحر‘‘ میں ایسی متعدد نظمیں ملتی ہیں جن میں ہندوستانیت کی بوباس صاف نظر آتی ہے ۔ان کی نظموں میں ’’ یوم آزادی جشنِ سیمیں‘‘، جشنِ جمہوریت،’’بھارت تو ہے بڑا مہان‘‘،’’عید قرباں‘‘ وغیرہ نمایاں ہے۔ انھوں نے ۱۹۹۵ء میں کشمیر کے عظیم الشان مقام پر پیش آئے سانحہ کو ’’ چرارشریف‘‘ کے عنوان سے نظم قلمبند کی ہے۔ پروفیسر تنویر احمد علوی لکھتے ہیں:
’’ہم سحرؔ صاحب کو پڑھتے ہیں تو ان کے نسخۂ حُبِ وطن میں کہیں ہمیں اقبال ؔ کا اپنا قومی شعور جھلکتا نظر آتا ہے کہیں جوشؔ کی پرجوش شاعری کی جھلک اُس میں ملتی ہیں اور کہیں حفیظؔ کی نغمگی ،اورسچ تو یہ ہے کہ یہ اُن کے اپنے دل کی دھڑکن ہے جس میں قوم کے لئے گائے گئے نغموں کا عکس بھی دیکھنے کو ملتا ہے اور ان کی اپنی منفرد آواز بھی الگ سنائی دیتی ہے اور ہم اُسے ایک ایسی زندگی کی صدائے نغمہ طراز کہہ سکتے ہیں جو خاموشی سے بلکہ خود فراموشی کے ساتھ خدمتِ شعرو ادب میں گزرگئی‘‘۔
مظفر حنفی نمائندہ شاعروں میں سرفہرست نظر آتے ہیں۔ ان کا شعری سرمایہ کافی وسیع ہے ۔ہندوستانی تہذیب کی روح ان کی شاعری میں بھی سموئی ہوئی ہے۔ ان کی جن نظموں میں مشترکہ تہذیب کا عکس نظر آتا ہے ان میں ’’میرے ہندوستان‘‘ اور ’’خاکِ ہند کو سلام‘‘خاص ہیں۔معین احسن جذبی کی نظم ’’نیا سورج‘‘ مظہر امام کی نظم’’ اشتراک‘‘اور’’اشعار‘‘، اجمل اجملی کی نظم’’ کرشنا ولی‘‘ اور ’’پھول زخمی ہے‘‘سلام مچھلی شہری کی نظم’’ یہ دھرتی خوبصورت ہے‘‘اور ’’میں اس طرح یہ مسئلے دیکھتا ہوذں‘‘برج موہن کی نظم’’ مندر بھی لے لو‘‘حرمت الاکرام کی نظم’’ ہمالہ کی جانب چلو‘‘ اور’’سُرور گلشن آرائی‘‘بھی بے حد خوبصورت اور دلآویز نظمیں ہیں۔ مظہر امام کی نظم ’’اشتراک‘‘ کا ایک بند پیشِ خدمت ہے:
خیر اچھا ہوا ،تم بھی میرے قبیلے میں آہی گئے
اس قبیلے میں کوئی کسی کا نہیں
ایک تم کے سوا
چہرا اترا ہوا
بال بکھر ہوئے
نیند اُچٹی ہوئی
خیر، اچھا ہوا، تم بھی میرے قبیلے میں آہی گئے
آؤ ہم لوگ جینے کی کوشش کریں
مذکورہ بالا مظہر امام کی ایک بہت ہی دلنشین نظم ہے جس میں آپسی میل جول اور ہم آہنگی کے نقطہ نظر کو اجاگر کیا گیا ہے اور مل جل کر رہنے کی دعوت دی گئی ہے۔
ہندوستان کی تہذیبی، سماجی اور ثقافتی میراث کے ورثۂ خاص سمجھے جانے والے تاج محل سے مختلف ممالک اور مذاہب سے وابستہ لوگوں کی عقیدت رہی ہیں جہاں ہر فرقے، طبقے اور مذہب کے لوگ بلا تفریق و تمیز کے ، ذات پات، نسلی بھید بھاؤ کے ایک جگہ جمع ہو کر بھائی چارگی اور انسانی یکجہتی کی ایک عظیم مثال قائم کرتے ہیں۔ گویا تاج محل ان کے لیے ایک باعثِ محرک بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاج محل کو بیشتر شعرا ء نے اپنی شاعری میں ایک اہم جگہ دی۔جن شعراء حضرات نے ۱۹۶۰ء کے بعد تاج محل کو موضوع بنا کر اپنے شاعری کو جاویدانی بخشی ان میں ، جگن ناتھ آزاد، حرمت الاکرام، سلام مچھلی شہری، مخمور سعیدی، پریم پال اشک، ضیاء ہانی، کلیم بدایونی، عارف بیابانی، شجاع خاور، محمد عسکری،فرحت حسین خوشدل وغیرہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ پریم وار برٹنی کی نظم ’’تاج محل میں آجانا‘‘ کا ایک بند ملاحظہ ہو:
جب رات کا آنچل لہرائے
اور سارا عالم سوجائے
تم مجھ سے ملنے شمع جلا کر تاج محل میں آجانا
ہندو ؤں اور مسلمانوں کا یہ مشترکہ تہذیب اور میل جول اس زمانے کی معاشرتی زندگی کے دوسرے شعبوں میں بھی نظر آتا ہے۔ ہولی، دیوالی، سلونو،دسہرہ، شوراتری، وغیرہ ہندوؤں کے تہوار ہیں اور اسی طرح، شب برات، شب قدر، عید، عید قرباں، نوروز، محرم وغیرہ مسلمانوں کے تہوارہیں۔ جنھیں شاعروں نے شاعری کے سانچے میں ڈھال کر زندۂجاوید بنا دیا۔مندروں، مسجدوں، خانقاہوں، گرجوں، تیرتھ استھانوں ، مقبروں اور قدرتی مناظر والی جگہوں کو بھی نئے شعرا ء نے اپنی شاعری کا موضوعِ خاص بنایا ہے۔غرض مشترکہ ہندوستانی تہذیبی عناصر کی روایت جس کی ابتدا شعرائے متقد مین نے ڈالی تھی۔ اُس روایت کو برقرار رکھنے اور آگے بڑھانے
میں نئے شعرا حضرات نے بھی ایک اہم اور قابل فخر ثبوت پیش کیا ہے۔

۱۔اردو شاعری میں تاج محل شجاع خاور اردو پبلیکیشنز ، نئی دہلی ۱۹۶۸ء
۲۔ آئینۂ وطن ضیا ہانی نقش کوکن پبلی کیشنز ٹرسٹ، بمبئی ۱۹۷۷ء
۳۔ اِک موسم میرے دل کے اندر ،اِک موسم میرے دل کے باہر(شعری مجموعہ) کمار پاشی سطور پرکاشن، نئی دہلی ۱۹۷۹ء
۴۔ آزادی کے بعد دہلی میں اردو نظم ڈاکٹر عتیق اللہ اردو اکاڈمی، دہلی ۱۹۹۰ء
۵۔شعلۂ آوارگی نیاز حیدر ،مرتب قمر رئیس ناشر مرتضائی بیگم ۱۹۹۲ء
۶۔اردو غزل اور ہندوستانی ذہن و تہذیب گوپی چند نارنگ این۔ سی۔ پی۔ یو۔ ایل، نئی دہلی ۲۰۰۲ء
۷۔نذرِ وطن ریاضت علی شائق ناشررضیہ بیگم،اردو مرکز،دہلی ۲۰۰۳ء
۸۔ راستا اور میں(مجموعہ کلام) مخمور سعیدی ناشر مصنف خود ۲۰۰۳ء
۹۔اردو شاعری میں اسلامی تلمیحات عطاء الرحمن صدیقی عالمی رابطہ ادب اسلامی، لکھؤ ۲۰۰۴ء
۱۰۔ آزادی کے بعد اردو نظم(ایک انتخاب) شمیم حنفی، مظہر مہدی این۔سی۔پی۔یو۔ایل، نئی دہلی ۲۰۰۵ء
۱۱۔گدازِ سحرؔ سید احمد سحرؔ ناشر خودمصنف ۲۰۰۵ء
۱۲۔ ہندوستان شناسی(انتخاب) پروفیسر محمد حسن ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی۲۰۰۶ء
۱۳۔کچھ اور چاہئے وسعت اخترالواسع البلاغ پبلیکیشنز،نئی دہلی جون ۲۰۰۹ء
۱۴۔ہندوستانی اساطیراور فکرو فلسفہ کا اثر ہندوستانی زبان و ادب پر پروفیسر قمر رئیس اردو اکاڈمی ، نئی دہلی ۲۰۰۹ء
۱۵۔تنقیدی جہات ڈاکٹر شہزاد انجم ناشر خود مصنف ۲۰۱۱ء
۱۶۔اردو کہانی میں وطنیت اور اتحاد ڈاکٹر عبدالرشید خان ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی ۲۰۱۱ء
۱۷۔اردو شاعری میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت ڈاکٹر ندیم احمد شعبۂ اردو جامعیہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی ۲۰۱۲ء
۱۸۔اردو شاعری میں گیتا(نغمۂ علم و عمل)انورؔ جلالپوری ناشرخود مصنف جولائی ۲۰۱۳ء

رسائل و جرائد
رسائل و جرائد میں ماہنامہ’’شاعر‘‘ کا قومی یکجہتی نمبر ۱۹۷۴،
***
غلام نبی کمار
ریسرچ اسکالر، شعبۂ اردو، دہلی یونی ورسٹی، نئی دہلی
ghulamn93[@]gmail.com
موبائل : 07053562468
غلام نبی کمار

Common Indian Culture in Urdu Nazm after 1960. -Article: Ghulam Nabi Kumar

0 comments:

Post a Comment