Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-04-14 - بوقت: 20:22

واٹس اپ مکالمہ - زبان میں علاقائیت کے اثرات

Comments : 0
Whatsapp group Asaleeb
واٹس گروپ " اسالیب " کے ابتدائی دنوں میں کروایا گیا مکالمہ ۔۔۔۔۔۔۔

عنوان:"زبان میں علاقائیت کے اثرات"
صدارت :ارشد معراج صاحب
ماڈریٹرز :رانا عامر لیاقت، زہرا قرار
ادارت: آسیہ تنویر
راناعامر لیاقت :::
آج کے مکالمے کے ماڈریٹرز کی ذمہ داری زہرا قرار اورمیں، رانا عامر لیاقت نبھائیں گے
آج کی نشست کے صدر جناب ارشد معراج ہیں جو نظم کے میدان میں نہایت توانا لب و لہجے کے شاعر ہیں,
اسالیب کی جانب سے انکے نہایت شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہمارے لئے وقت نکالا
ہمارا آج کا موضو ع ہے
"زبان میں علاقائیت کے اثرات"
موجودہ زمانے میں شعر و ادب کے لحاظ سے یہ ایک اہم موضوع ہے احباب سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے مشاہدات و تجربات سے نوازیں۔موضوع پہ گفتگو کا باقاعدہ آغاز صاحب ِ صدر کی اجازت سے کریں گے
ارشد معراج:
یہاں علاقائ سے مراد صوبائ زبانیں ہیں جو کہ پہلے سے ایک اصطلاح کے طور پر موجود ہے
مقامی بولیاں ہوتی ہیں
بہت اچھا موضوع ہے
زبان و ادب پر علاقے کے اثرات پر ایک شعر مرحوم دانیال طریر کا اللہ اس کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے
ایک کباڑی گلیوں گلیوں واج لگائے ۔۔۔۔۔۔ !!
راکھ خریدو ، آگ کے بھاؤ ، خواب کا کیا ھے
ارشد معراج:
اگر مناسب ہو تو میں کچھ ابتدائ بات شروع کروں پھر اس پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں
آج کے موضوع کے دو حصے ہیں ایک اردو زبان کا ارتقا اور اس پر علاقائ زبانوں کے اثرات اور دوسرا حصہ اردو شعر و ادب پر علاقائ اصناف ادب اور زبان کے اثرات
ابرار احمد:
تو مقامی زبانیں ہی ہوئی نا ورنہ تو confusion ہے۔
صوبائی نہیں کہ زبانیں بدل جاتی ہے چند میل کے بعد
ارشد معراج:
ڈاکٹر صاحب چند میل پر بولی بدلتی ہے
یونس تحسین:
تو یہ تو بولیاں ہی ہوئیں نا
زبان سے کیا مراد لیں گے
اردو میں فارسی سندھی پنجابی کے الفاظ ...
ارشد معراج:
زبان وہ ہوتی ہے جس کا اپنا ادب ہو
یونس تحسین:
بولی کا لہجہ بدلتا ہے بولی نہیں
ارشد معراج:
بولی کا ادب نہ بھی ہو تو وہ بولی رہتی ہے
شاہد نواز:
خطے کا رنگ ،اس کی تہزیب اور ثقافت یہ زبان پر اثر انداز هوتے هیں..یہی وجہ هے پاکستان کے مختلف خطوں میں رهنے والے لوگوں کا اردو بولنے کا لہجہ ایک دوسرے سے مختلف نظر آتا هے
ابرار احمد:
علاقائی کہ لیں لیکن پنجابی ،سرائیکی ،پوٹھوہاری جنگلی بولی کو الگ رکھیں گے؟
محّمد حفیظ اللہ بادل:
احباب سے گزارش ہے کہ دیگر کو چھوڑ دیں اور صرف درپیش پر گفتگو کریں
یونس تحسین:
معزرت سے ایک عرض کرتا ہوں
کہ بولیاں نہیں ان کے لہجے بدلتے ہیں
جیسے ایک پنجابی ہے مگر لالہ موسیٰ کا لہجہ اور ہے گوجرانوالہ کا اور حافظ آباد کا اور منڈی بہاوالدین کا اور جلالپور بھٹیاں کا اور
مگر اصل زبان کے الفاظ وہی ہیں
ارشد معراج:
بڑی سطح پر تو پنجابی کی شاخیں ہیں اور گیریرسن نے انہیں پنجابی کی بولیاں قرار دیا ہے
نصراللہ حارث:
صوبائی کہنا موزوں نہیں ہوگا کیونکہ پنجاب میں ہی کئی زبانیں بولی جاتی ہیں. پنجابی, سرائیکی, رانگڑی, پوٹھوہاری وغیرہ
ابرار احمد:
صوبائی کہنا موزوں نہیں ہوگا کیونکہ پنجاب میں ہی کئی زبانیں بولی جاتی ہیں. پنجابی, سرائیکی, رانگڑی, پوٹھوہاری وغیرہ
نصر اللہ حارث:
چند میل کے فاصلے سے لہجے بدل جاتے ہیں زبان کم و بیش وہی رہتی ہے
ابرار احمد:
یہی تو میں کہہ رہاہوں
یونس تحسین:
صوبہ بھر میں ایک ہی زبان کے کئی لہجے موجود ہیں
ابرار احمد:
سرائیکی؟ ہندکو؟
یونس تحسین:
یہی میں کہہ رہا ہوں
ارشد معراج:
میرا خیال ہے اگر ان زبانوں کو بھی مکمل زبان تصور کر لیں تو بھی بات کو شعروادب تک لانا ہے
عقیل ملک:
اردو میں دوسری زبان کے استعمال سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ علاقائیت کے اثرات ہیں بنیادی طور علاقائیت کے اثرات سے مراد وہ چھوٹے چھوٹے علاقائی تہذیبوں کے اثرات ہیں جو ایک بڑی زبان قبول کرتی ہے یا رد کر دیتی ہے. یہ بنیادی موضوع ہے
یونس تحسین:
ہاں اگر ہم اردو زبان میں دوسری زبانوں کے الفاظ کے استعمال پر بات کریں تو یہ وسیع اور واضح موضوع ہے
مثال سے واضح کیا جائے
شاید کچھ اشعار سے بات واضح ہوجائے
ارشد معراج:
ابھی بات زبان پر کر لی جاۓ اور شعر وآدب پر بعد میں آئیں تو بہتر ہے
عقیل ملک:
اردو تو الفاظ سموتی آئی ہے کیوں سموتی ہے یہ لسانیات کی بحث
ارشد معراج
اردو زبان کی عمر بہت طویل نہیں ہے جیسے فارسی عربی یا دیگر زبانوں کی ہے
زبانیں الفاظ کا ذخیرہ بڑھاتی رہتی ہیں یہی ان کے زندہ زبان ہونے کی علامت ہوتی ہے ترقی یافتہ زبانیں بھی دیگر زبانوں کے لفظ لے لیتی ہیں
نصراللہ حارث:
ادب ایک عالمی زبان ہے. اس پر علاقائی زبانیں کسی حد تک اثر انداز ہوتی ہیں لیکن مقامی ثقافت اور حالات بڑی اہمیت کے حامل ہیں
ارشد معراج:
اردو زبان میں اس قدر لچک موجود ہے کہ دیگر زبانوں اور بولیوں کے لفظ ابھی بھی اس میں سما سکتے ہیں اور سما رہے ہیں اور اس کا واضع اظہار شعر و ادب میں ہوتا ہے
یونس تحسین:
میری ناقص رائے کے مطابق جو زبانیں دوسری زبانوں کے الفاظ کو زیادہ قبول کرتی ہیں وہ ناپید ہوجاتی ہیں ....
ارشد معراج:
نصراللہ بھائ عالمی ادب کی کوئ زبان ہوتی ہے عالمی زبان تو انگریزی ہے
یونس تحسین:
یہی وجہ ہے کہ آپ دیکھیں گے کہ اردو کے اصل الفاظ ہماری شاعری سے اٹھتے جا رہے ہیں اور وہ لغت کا حصہ ہیں ہم ان کی جگہ آسان الفاظ کے استعمال پر گزارا کرتے ہیں اور اس کے لئے انگلش سرِ فہرست ہے
ارشد معراج:
میری ناقص رائے کے مطابق جو زبانیں دوسری زبانوں کے الفاظ کو زیادہ قبول کرتی ہیں وہ ناپید ہوجاتی ہیں ....( زبان کی سائنس یہی ہے لچک دار ہونا اور یہی زندگی ہے زبان کی ورنہ دنیا میں مردہ زبانوں کی طویل فہرست ہے )
یونس تحسین:
کبھی کسی انگریز نے اردو کا لفظ استعمال کیا
اردو میں لچک موجود ہے مگر کیا یہ لچک اس زبان کے لئے خطرہ نہیں
محّمد حفیظ اللہ بادل
مقامی لہجے یا زبانوں نے اردو زبان کو متاثر بھی کیا جس کی وجہ سے آدھے سے زیادہ عوام اردو کو مقامی لہجے مین بولتی ہے
ارشد معراج:
ویسٹ لینڈ میں بہت سے دیگر زبانوں کے لفظ بھی ہیں
یونس تحسین:
ہم یہ بھی تو دیکھیں گے کہ جو لفظ اردو میں آ رہا ہے وہ اس زبان کے کس قدر قریب ہے ....
اور بادل بھائی لہجے زبان کو تو نہیں بدلتے ...
نصراللہ حارث:
ارشد معراج صاحب ادب کبھی بھی زبان کا محتاج نہیں رہا. انگریزی بھلے عالمی زبان ہو یہ ایک الگ بحث ہے
ارشد معراج:
عالمی ادب کی بات آپ نے کی ہے نصراللہ صاحب
عقیل ملک:
معاشی طور پر مستحکم خطے کی زبان اپنے اثرات دوسری زبان پر مرتب کرتیں ہیں. اور اسی خطے کے الفاظ سہل ہونے شروع ہو جاتے ہیں کیوں ٹریڈ کی مجبوری ہے اس کا فایدہ اٹھاتے ہوئے غیرمستحکم معیشت رکھنے والے خطے کو اپنے ادب کی قربانی کی صورت میں دینا پڑتے ہیں
یونس تحسین:
الفاظ تو وہی رہتے ہیں ہاں اگر اس علاقے کا اثر الفاظ کی شکل میں اس میں در آئے تو آور بات ہے
ارشد معراج:
زبان کی ادائیگی کو لہجے بدلتے ہیں جیسے ہم انگریزی یو کے سٹائل میں نہیں بولتے۔
نصراللہ حارث:
میں نے ادب کو عالمی زبان کہا ہے اور یہ حقیقت ہے. آپ دنیا کی کسی زبان کا ادب اٹھا کے دیکھ لیں کم و بیش ایک جیسے ایکسپریشن اور ایک سے احساسات ہیں. باقی یہ موضوع سے ہٹتی ہوئی بحث ہے.
یونس تحسین:
مگر ہم شاید لہجے پہ بات بھی نہیں کر رہے ہم تو اردو میں دوسری علاقائی زبانوں کے اثرات دیکھ رہے ہیں
اگر صاحبِ صدر مثال میں کچھ اشعار دیں تو بات اور واضح ہو جائے گی
رانا عامر لیاقت؛
زبان و ادب پر علاقائیت کے اثرات
اگر ہم موضوع پر بات کریں گے تو ہی کسی نقطے تک پہنچ سکیں گے
عقیل ملک:
مثلا آپ کا ٹریڈ اردو میں ہے سو پنجابی گھروں میں اردو سمجھی بولی اور پڑھی جاتی ہے اب چونکہ پنجابی ایک بڑا ادب کا.ذخیرہ رکھتی ہے اس لیے پنجابی کلچر کے اردو پر اثرات مرتب ہوتے ہیں..
رانا عامر لیاقت؛
احباب اگر اشعار کی مثالیں پیش کریں تو بات سمجھنے میں آسانی رہے گی
عقیل ملک:
یہ اثرات الفاظ کی.کھپت کے لحاظ سے نہیں بلکہ کہ کلچر کے برتنے کے حوالے سے ہیں
معیدمرزا:
اردو زبان میں عربی، فارسی اور ہندی الفاظ پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا کہ یہ اس کا حصہ ہیں تو انگریزی الفاظ کے استعمال پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے خاص طور پر شاعری میں .. انگریزی کے کچھ الفاظ ایسے ہیں جن کا اردو میں نعم البدل نہیں یا یوں کہہ لیں کہ اردو میں اتنا کام ہی نہیں کیا گیا.
زبان پر علاقائی اثرات ہونا افراد کے ذاتی تجربات کا نتیجہ بھی ہے
عقیل ملک:
یہیں سے زبان کا اختاط یا تو فائدہ مند ہوتا ہے یا زبان کے اختتام کا موجب بنتا ہے.
رانا عامر لیاقت؛
جی احباب اپنی رائے دیجے اچھا نقطہ اٹھایا ہے
عقیل ملک:
اختتام یوں کہ جب افقی تہذیب پر عمودی تہذیب وار کرتی ہے تو اس کی ہلا کے رکھ دیتی ہے کیوں کہ دونوں کی فورس کی سمت مختلف ہوتی ہے
اردو فارسی عربی ایک ہی سمت میں چلتی ہیں ٹکراو نہیں ہوتا انگریزی کی سمت مختلف ہے سو تصادم ہوگا
رانا عامر لیاقت:
عقیل بھائی ذرا وضاحت فرمائیں
فیضان ہاشمی:
یہ کونسے سائنس کے لا اپلائی کر رہے ہیں عقیل بھائی انسان کی ایک ہی تہذیب ہے انسان کا ایک ہی ادب ہے میں نصراللہ کی بات سے اتفا ق کرتا ہوں
نصراللہ حارث:
عوامی زبان بننے سے پہلے اردو پر دربار ی اور مذہبی اثرات غالب تھے, پھر سنسکرت اور پنجابی نے اپنا حصہ ڈالا تو فارسی اور عربی کے الفاظ متروک ہونے لگے, انگریزی آئی تو بہت سی ایسی چیزیں بھی ساتھ لائی جن کے لیے اردو میں لفظ ہی نہیں تھے یا تھے بھی تو انہیں بدل دیا گیا. پھر جہاں اردو بولی گئی وہاں کا رنگ شامل ہوتا گیا. میرے حساب سے اردو تکمیل کے طویل دور سے گزر کر اب ایک مکمل زبان بننے کے قریب ہے. اب اگر کوئی پنجابی, سنسکرت یا انگریزی کا لفظ روزمرہ کی زبان میں ہے تو ادب میں اس کا آنا ناگزیر ہے. کوئی ایسا لفظ جس کا بہترین متبادل اردو کے پاس ہے اسے بدلنے کی کوشش کرنا زیادتی ہے.
حمّاد نیازی:
میں کچھ شعری حوالہ درج کرنا چاہوں گا۔میرے خیال میں موضوع جو اصل رکھا گیا تھااس سے بات ذبان ،لسیانیاتی حوالہ سےdiscuss کرنا شروع ہوگئے ہیں۔میں کچھ شعری نمونے آپ لے سامنے رکھتا ہوں۔میرے خیال میں ہم ان پر بات کرلیں کہ کس طرح ایک ثقافتی مظہر آپ کی شاعری میں داخل ہوتا ہےاور اس کا یہ داخل ہونا کیا ایک تخلیقی عمل سےگذر کر داخل ہوتا ہے یا اس کو صرف زبان کے چٹخارے کے طور پراستعمال کیا جاتاہے۔ میں مثال کے طور پر دو نظمیں سناتا ہوں۔
ٹوٹ گئی چھاوں ،دودھیا منڈیر ہے
میدانوں ،مکانوں میں سویر ہے
چھاج پھٹکتی ہوئی کلائی سنگیت ہے
بانس کی کھپچیوں پہ بیلوں کے جھکاو میں
آسمانی پلّووں پہ دھوپ ہے
کھیتیوں سے کھیلتی کھجور کی چٹائیاں
بھید بھرے پتّھروں پہ گونجتی کھڑاوں
ٹوٹ گئ چھاوں
ایک اور نظم سنئے گا۔۔۔۔۔۔
سندڑی تیرا دل ، شاہ لطیف کا باغ
شاہ لطیف کا باغ ، جیسےغیب کی بات
جیسے غیب کی بات ، مٹّی میں مستور
مٹّی میں مستور ، پانی کا ایک پھول
پانی کا ایک پھول ، شہزادہ کے پاس
شہزادہ کے پاس ، ایک عجیب طلسم
ایک عجیب طلسم ، شہزادہ کا جسم
شہزادہ کا جسم ، سب سے پہلا اسم
ثروت حسین
اسی طرح آپ بہت سارے دوسرے شاعروں کے یہاں بھی مثلا" ابرار احمد صاحب کی ایک بہت سی مشہور نظم جوکہ میری پسندیدہ نظموں میں سے ہے "قصباتی لڑکوں کا گیت" اس میں مقامی و علاقائی استعاروں اور علامات کا استعمال دیکھیں کہ ایک تخلیقی جو فنکار ہے وہ اپنی تہذیب سے اپنی مقامی جو استعارے ہیں،مقامی تشبیہات ،مقامی علامات سےاستفادہ کرتا ہے اور استفادہ کرنے کی نوعیت کیا ہے اس پر تھوڑی سی بات کرلیں۔
عقیل ملک:
ایک ہی تہذیب ہے ؟ انسان کی حیرت ہے
حمّاد نیازی:
قصباتی لڑکوں کا گیت
ہم تیری صبحوں کی اوس میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ
دنوں کی اس بستی کو دیکھتے ہیں
ہم تیرے خوش الحان پرندے ،ہر جانب
تیری منڈیریں کھوجتے ہیں
ہم نکلے تھے تیرے ماتھے کے لیے
بوسہ ڈھونڈنے
ہم آئیں گے ،بوجھل قدموں کے ساتھ
تیرے تاریک حجروں میں پھرنے کے لیے
تیرے سینے پر
اپنی اکتاہٹوں کے پھول بچھانے
سر پھری ہوا کے ساتھ
تیرے خالی چوباروں میں پھرنے کے لیے
تیرے صحنوں سے اٹھتے دھویں کو اپنی آنکھوں میں بھرنے
تیرے اجلے بچوں کی میلی آستینوں سے ،اپنے آنسو پونچھنے
تیری کائی زدہ دیواروں سے لپٹ جانے کو
ہم آئیں گے
نیند اور بچپن کی خوشبو میں سوئی
تیری راتوں کی چھت پر ،اجلی چارپایاں بچھانے
موتیے کے پھولوں سے پرے، اپنی چیختی تنہایاں اٹھانے
ہم لوٹیں گے تیری جانب
اور دیکھیں گے تیری بوڑھی اینٹوں کو
عمروں کے رتجگے سے دکھتی آنکھوں کے ساتھ
اونچے نیچے مکانوں میں گھیرے ،گزشتہ کے گڑھے میں
ایک بار پھر گرنے کے لیے
لمبی تان کر سونے کے لیے
ہم آ یں گے
تیرے مضافات میں مٹی ہونے کے لیے
ابرار احمد
معید مرزا:
زبان بھی اپنے بولنے والوں کی طرح اپنے سماجی محرکات و عوامل کی پابند ہوتی ہے . زبان مختلف سماجی، علاقائی اور سماجی ضرورتوں اور محرکات کے باعث وجود میں آتی ہے . زبان سے زبان جنم نہیں لیتی ہاں اس پر علاقائی و ثقافتی اثرات ہوتے ہیں . ایک بڑی زبان ، ترقی یافتہ زبان دوسری زبانوں سے استفادہ کرتی ہے اور اس کی ترقی کے لیے بھی یہ ضروری ہے کہ وہ دوسری زبانوں سے روابط قائم رکھے .
شیا سّید (زہرا قرار ):
تخلیقی فنکار اپنی تہذیب سے استفادہ حاصل کرتاہے۔
زبان پر علاقائی اور ثقافتی اثرات ہوتے ہیں معید مرزا
شہزاد نیّر:
جنابِ صدر میں نے اب تک دوستوں کی گفتگو پڑھی اور سنی ہے میرے پاس دو تین نکات ہیں میں آپ کی اجازت سے عرض کئے دیتا ہوں، پہلے تو یونس نے ایک سوال کیا ہےکہ" کیا انگریزی والا بھی کوئی اردو کے الفاظ بولتا ہے" تو اردو کے بے شمار الفاظ انگریزی نہ صرف داخل اور شامل ہوچکے ہیں بلکہ ڈکشنری میں بھی ہیں،مثلا" یہ ٹھگ کا لفظ ہے ،یا دیوان کا لفظ ہے، رائیتہ کا لفظ ہے، یہ تو میں نے خود دیکھے ہیں آکسفورڈ ڈکشنری میں تو یہاں سے یہ نکتہ واضح ہوتاہی کہ ذندہ زبانیں ایک دوسرے سے الفاظ لیتی دیتی رہتیں ہیں اور یہ اپنی اصل میں تو ایک دو طرفہ خود رو عمل ہےautomatically ہوتا رہتا ہے۔
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کوئی طاقتور زبان اپنی تہذیبی برتری کی وجہہ سےیاتعلیمی زبان ہونے کے ناطہ یا معاشی زبان ہونےکے ناطہ کسی دوسری مغلوب زبان پر حملہ کر دیتی ہے۔اور بے محابہ اور بے دریغ اس کے الفاظ اس زبان میں دخول کر جاتے ہیں تو پھر مفتوح زبان کو اپنی شناخت کا مسئلہ درپیش ہوتاہے۔یہی صورتحال اردو کی صورت میں ہمارے سامنے آرہی ہے۔اسی سے ملتی جلتی دوسری صورتحال علاقائی زبانوں کو بھی درپیش ہے کہ اس میں اردو کے الفاظ داخل ہورہے ہیں۔مجھے کہنے دیجئے کہ جیسا خطرہ اردو کو انگریزی سے ہےویسا ہی دوسری قومی زبانوں کو اردو سےبھی ہےکیونکہ۔وہ بھی خالص نہیں رہ رہی ہیں۔پنجابی،پشتو، سندھی ، بلوچی ان میں اردو کے الفاظ اتنےذیادہ آگئے ہیں اور انگریزی کے بھی،،،کہ اب ان کا بھی اپنا خالص پن ختم ہوتا جارہا ہے لیکن جہاں تک میرا خیال ہے کہ صاحبِ صدر نے کوئی اور سوال اٹھایا ہے کہ ہم علاقائی زبانوں سے اردو ادب میں کس حد تک استفادہ کر سکتے ہیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر میں تھوڑی دیر تک عرض کرتا ہوں۔
ارشد معراج::
ایک بات میں عرض کرنا چاہ رہا ہوں اردو کے حوالہ سے کہ اردو میں پرتگالی زبان کے لفظ بھی ہیں "بالٹی" "تولیہ" ۔۔۔۔ اور ترکش لفظ بھی ہیں۔ اب یہ عمودی اور افقی زبانوں پر بحث چلی ہے تو آپ یہ ذرا غور کیجئے کہ یہ عمودی ہے یا افقی ہیں یا یہ غالب زبان ہے یا مغلوب زبان ہے؟
شہزاد نے اچھی اور بنیادی بات کی ہے
اردو ادب نے دیگر قومی زبانوں سے کس قدر استفادہ کیا ہے ؟ اور کس قدر کیا جا سکتا ہے ؟
شہزاد نیّر:
میں مختصرآ اردو ادب پر جو علاقائی زبانوں ارو ثقافتوں کے اثرات مرتّب ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں ان پر اپنا مدّعا بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔اولآ تو یہ کہ اردو زبان کو جب بڑے بڑے شاعر پنجاب سے ملے تو لا محالہ طور پر پنجاب کی ثقافت کے اثرات اس کے ادب پر مرتّب ہوئے اگرچہ میرے ذاتی خیال میں اتنے نہیں ہوسکے جتنے ہونے چاہئے تھے۔اقبال نے بھی اپنی شاعری میں ذیادہ تر رخ عربی ، فارسی روایات کی طرف رکھا۔ فکری روایت ، متصوّفانہ روایت ، مذہبی روایت ۔۔۔۔ اس کی طرف زیادہ توجہہ رہی اور مقامی اور علاقائی ثقافتوں کی طرف کم توجہہ رہی ۔ چند ایک اشعار ہیں جو ۔۔۔۔۔۔۔ اچھا،،،،، البتہ جس طرح ثروت حسین کی نظم جو حمّاد نے سنائی ہے۔۔۔ "چانور" کا لفظ ان کی ایک نظم میں آتاہے ۔۔۔۔ "ادّھیاو" کا لفظ آتاہے ۔۔۔۔ ایک نام علی اکبر عبّاس اور علی اصغر عبّاس بھی ہیں ۔۔۔۔ جنہوں نے پنجاب کی ثقافت کو اردو شاعری میں بڑی خوبی سے اجاگر کیا ہے۔۔۔۔ ظاہر ہے چند اور نام بھی ہونگے، تو میراخیال ہےکہ اگر مقامی زبان سے اور مقامی ثقافتی مظاہر سے ہم اردو کا مالا مال کریں تو یہ اردو کی خدمت ہوگی َ مجھے دوشی کی ایک نظم یاد آتی ہے جو فنون میں شائع ہوئی تھی اور اس میں "مچ" کا لفظ تھا جو آگ کا آلاو ہوتاہے اوربھی اس نظم میں پنجابی کہ اور ہندی کے کچھ الفاظ تھے جیسے" رسوئی "۔۔۔۔۔۔ تو۔۔۔۔ شائد اردو کو۔۔۔۔۔ جیسے مختلف سمتوں میں سفر ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ بعض لوگ مصفیٰ زبان اگر عربی فارسی استعمال کرنا چاہتے ہیں تو شائد یہ بھی ایک اس کے حسن کی ایک صورت ہے لیکن۔۔۔۔ اس میں نکھار اور نیا پن ایسے انداز میں بھی آسکتا ہے۔ حضرتِ ضمیر جعفری نے بھی اردو شاعری میں مقامی زبانوں کے الفاظ کو ،خاص طور پر پنجابی پوٹھوہاری کو راہ دی ہے ۔۔۔۔ جگہہ دی ہے۔۔۔۔۔ میرے نزدیک یہ عمل مستحسن بھی ہےجنابِ صدر۔۔۔۔۔۔۔ اور اس سے اردو کے ثروت مند ہونے ،، اردو شعر و ادب کے ثروت مند ہونے کے امکانات ہیں۔
ارشد معراج::
شہزاد نیّر کی گفتگو سے میں بالکل متّفق ہوں ، اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ قومی یا علاقائی زبانیں جتنی بھی ہیں ان کو زیادہ سے زیادہ اردو کے اندر رائج ہونا چاہئے بہ نسبت اس کے، شہزاد نیّر نے بھی کہا مقفیٰ مصفیٰ زبان بھی بہت سارے دوستوں کو پسند ہے،قدیم ماضی میں بھی ہمیں بہت پسند رہی ہے۔newness پیداکرنے کیلئے بھی ، یا معنی کے ابلاغ کیلئے بھی ،، یا اسکو اپنی زمین سے جوڑنے کیلئے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔son of the soil بن نے کیلئے بھی۔
راول حسین:
تیرا ہر دن سکھی کٹے شالا
مجھ پہ طاری شبوں کا غم مت کر
راول حسین
حمّاد نیازی:
شہزاد بھائی نے بہت اچھی باتیں کی۔۔۔ ان ہی کی باتوں کو مزید بڑھاتے ہوئے ۔۔۔دو تین سوالات میرے ذہن میں آتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ۔۔۔۔ کیا مقامی استعارے مقامی زبان کے الفاظ اور صرف ان کو استعمال کردینے سےادب میں اضافہ ہوگا یا ادب کی جو مختلف معانیاتی جہات ہیں ان میں اضافہ ہوگا۔۔۔۔۔ تو میرے خیال میں صرف استعمال کردینے سےنہیں ہوگا بلکہ یہ چیز ضروری ہے کہ اسکو اپنایا ، یا دہرایا جانے کے بجائے اس کے اندر کوئی نہ کوئی ایسا تخلیقی eliment شامل کیا جائے کہ وہ اس کی معانیاتی جہات میں اضافہ کرے۔۔۔۔ نہ صڑف اس لفظ کی معانیاتی جہات میں اضافہ کرے بلکہ وہ تخلیق جس میں آپ اس کو لا رہے ہیں ۔۔ جس کے اندر آپ اس کو داخل کروارہے ہیں چاہے وہ ادب کی کوئی بھی صنف ہے ۔تو اس کے اندر اس نے کیا اضافہ دلایا ہے ۔ اس میں اس نے اس کے معانیاتی جہات میں کتنا اضافہ کیا ہے۔کیونکہ تخلیق صرف اپنانے اور دہرانے کا نام تو ہوتی نہیں ہے ۔ جب تک آپ اس کے اندر کوئی نہ کوئی ایسا eliment شامل نہ کریں جو اس کو ایک نئےپہلو کے ساتھ پیش کرسکیں ۔۔
حمّاد نیازی:
جیسے میں نے وہ دو نظم شیئر کی ۔۔۔ثروت کی اور ابرار صاحب کی نظم "قصباتی لڑکوں کا گیت" ان نظموں کے اندر آپ کو "منڈیر" "سویر" "چھاجھ " "کھپچی"" چٹائی" "گھڑاؤں" "منڈیر کا دودھیا پن" "کلائی کا سنگیت پروری" "پلّوؤں پر دھوپ" چٹائیوں کا کھیتیوں سے کھیلنا "۔۔۔۔۔۔یہ سارے الفاظ ایسے ہیں جو ثقافتی اظہار تو کررہے ہیں لیکن وہ ثقافتی اظہار کے ساتھ ۔۔۔۔جو مجھے یاد آرہا ۔۔۔۔شائد مرحوم دانیال ترین نے ایک جگہہ لکھا تھ کہا"اجنبیانہ"۔۔۔۔۔اجنبیانہ کا عمل جو ہے ان لفظوں کے استعمال میں بڑا واضح نظر آرہا ہے اب یہ صرف چھاجھ نہیں ہے۔۔۔۔ اب وہ منڈیر صرف منڈیر نہیں ہے بلکہ وہ تخلیق کے اندر داخل ہوکر اس کی بہت ساری O Dimensions پیداکررہی ہیں ۔
ارشد معراج::
حمّاد کی باتیں میں نے بڑے غور سے سنی ہیں، اچھی باتیں ہیں ،دیکھئے کوئی بھی نظم ہے یا غزل ہے یا ادب کا کوئی فن پارہ ہے اس کا ایک پس منظر بھی ہوتا یے۔تو صرف لفظوں کے استعمال سےاس تہذیب کا یا اس علاقہ کا بیان نہیں ہورہاہوتا یہ اس پس منظر کے اندر جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس فن پارہ کا لوکل کیاہے وہ لوکل ایک طرح سےاس فن پارہ کواور اس زبان کو تہذیبی یا ثقافتی سطح پر متاثر کررہی ہوتی ہےاور اس زبان کےادب کو وہ بڑھارہی ہوتی ہے ۔جہاں تک یہ بات اردو کے اور علاقوں کے قلمکاروں کی ہے مثلآ بلوچستان میں لکھی جارہی ہے ، سندھ میں لکھی جارہی ہے خیبر پختون خان میں لکھی جارہی ہے تمام لوگ اپنی اپنی سطح پر اپنی لوکل سے جڑ کر جب وہ بات کررہے ہوتے ہیں وہ نہ صرف لفظیات کی سطح پر، استعاروں اور تشبیہات کی سطح پر بلکہ ان کے جو معملاتِ زندگی ہیں ان کی سطح پر بھی اس کا اظہار کررہے ہوتے ہیں ۔اس سے اردو کا دامن وسیع تر ہورہاہوتاہے۔جیسے میں اوّل بات کروں تو اردو غزل کے باوا آدم ولی دکنی، وہ دکن میں بیٹھ کر شاعری کررہے تھے وہ دکنی تہڈیب کو بھی پیش کررہے تھے گو کہ اس میں پنجابی کے لفظیات تھیں اور ہندی کے بھی بےپناہ تھیں۔وہاں کی ملیالم ،اور تلنگی زبان کی تھیں جہاں تک ہم دیکھتے ہیں وہ لوکل کو جہاں ہم دیکھتے ہیں پتہ لگ جاتا ہے کی شمالی ہندوستان سےہےَ
شہزاد نیّر:
احمد حمّاد اس میں کیا شک ہے کہ منظر کو یا مظہر کو بیان کردینا اعلی سطح کی یا اونچے درجہ کی تخلیقیت نہیں ہے نا ہی ادبیّت ہے ہمارے سامنے دونوں طرح کی مثالیں موجود ہیں جیسے ثروت صاحب کی آپ نے مثالیں دیں۔دوسری صورت ۔۔۔۔۔۔معذرت کیساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلآ۔۔۔۔ ظفر اقبال صاحب نے ایک دفعہ تمام زبانوں ، مقامی ،علاقائی زبانوں کے الفاظ غزل میں داخل کرنے کی کوشش کی تھی۔پچھلے دنوں صابر ظفر صاحب کی کتاب موصول ہوئی۔اس میں بھی ایک ایسی ہی ایک کوشش ہے۔ان دونوں کوششوں کی اپنی جگہہ ایک اہمیت موجود ہے کہ اردو میں مقامی زبانوں کے الفاظ کو داخلہ دیا جائے۔یااستعمال کیا جائے۔ ہاں،،، تخلیقی سطح پر یہ بات ہوسکتی ہے۔۔۔ عمدہ تخلیقیی سطح اور لوگوں کی ہے۔جیسے آپ نے ثروت کی مثال دی۔تو altimate aim " مقصودِ منتہی " تو یہی ہے کہ ہم ایک اچھی تخلیقیت کے ساتھ اردو میں علاقائی زبانوں کے الفاظ کو لائیں اور ساتھ ہی علاقائی ثاقفتوں کو بھی تخلیقیت کے ساتھ ان کی نمائیندگی کریں ۔البتہ اگر کوئی شخص سلیقہ سے کسی مقامی ذبان کا لفظ مصرع میں پروتا ہے تو اس کا حسن اپنی جگہہ موجود ہے کیونکہ شاعری کا وضیفہ محض ترسیلِ خیال ہی نہیں ۔۔۔۔ بلکہ خدمتِ زبان بھی ہے
حمّاد نیازی:
ایک اور عام بات جو بہت ضروری ہے آپ کسی بھی مقامی استعارے مقامی تشبیہات یا علامتیں ان کو استعمال جب کریں تو ان کا استعمال لازمی طور پر پوری کی پوری تہذیبی تناظر کیساتھ ہونا چاہئے۔مطلب یہ کہ جب آپ ایک specific eliment کا استعمال کررہے ہوں جبکہ اس کی ایک تہذیبی شناخت بھی موجود ہے تو آپ اس تہذیبی شانخت کو یکسر الٹا کردیتے ہیں یہ تخلیق بجائے اس کے معنیاتی جہاد میں اضافہ کرنے کہ اس کو مجروح کر دے گی۔ہمارے کچھ نئے تخلیق کار اپنی انفراد حاصل کرنے کیلئے یا کسی سے متاثر ہوکر بھی ، بعض اوقات صرف لفظوں کو اپنی شاعری میں استعمال کر نے کی کوشش کرتے ہوئے اس کے پورے تہذیبی جوہر سے واقف نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔ یہ ایسے الیمنٹ ہے جس کو ہمارے نئے لکھنے والوں کو مدّ مظر رکھنا چاہئے۔ ۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں کسی بھی زبان کا کوئی بھی لفظ تخلیقی دائرہ میں لایا جا سکتاہے ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ اس لفظ کے تہذیبی جوہر سے واقف ہونا اس لفظ کو اپنا تہذیبی جوہر اور شناخت اس مقام پر واضح کرپانابہت ضروری ہے۔
ارشد معراج::
حماد بنیادی مسلۂ علاقائ تہذیب کو پس منظر کے طور ہر استعمال کرنا ہے
ابرار احمد::
ذرا مجید امجد ، ظفر اقبال ، سلیم شہزاد ، شیر افضل جعفری ،رام ریاض ،اور ایسے شاعروں کو ذہن میں لائیں ۔
منشأ یاد ، اسد محّمد خان ،
ارشد معراج::
مثلاً انوار فطرت نے بہت سی نظموں میں " لئ نالہ " کو استعمال کیا ہے جو راول پنڈی کا ثقافتی استعارہ ہے
شہزاد نیّر:
احمد ندیم قاسمی نے اپنے افسانوں کے علاوہ شاعری میں بھی علاقائی ثقافت کو شعریت اور تخلیقیت کے ساتھ پیش کیا ہے ۔مجھے کنواں ، منڈیر ، پنہاری، کنگن وغیرہ کے الفاظ یاد آرہے ہیں
خاص طور پر ان کے قطعات اور نظمی
افسانے اور ناولٹ میں اس حوالے سے طاہرہ اقبال کا بھی خاصا کام ہے
ارشد معراج::
جی ڈاکٹر صاحب میں ظفر اقبال صاحب کو اس معاملہ میں سب سے زیادہ قابل تحسین سمجھتا ہوں اور اردو ناول میں مستنصر اور افسانے میں عاصم بٹ کو
قاسمی صاحب کا کنڈاسہ
عقیل ملک:::
کیا الفاظ کے بغیر علاقائیت کا تصّور نہیں
جیسا کہ پس منظر کا اشارہ ارشد معراج صاحب نے کیا
ابرار احمد::
علاقائیت کے تصّور کا ، زبان محض ایک پہلو ہے عقیل ملک صاحب
حمّاد نیازی:
ابرار صاحب آپ بالکل درست نام لے رہے ہیں ۔۔۔۔۔ ایسے بے شمار نام ہیں ۔۔۔۔ آپ کلاسک سے ہی شروع کرتے ہوئے نظیر اکبر آبادی کو لیجئے ۔۔۔۔ ان کی شاعری میں جتنے مقامی استعارے علاقائی استعارے علامات ، تشبیہات استعمال کی گئی ہیں اتنی شائد ہی کسی اور شاعر کے یہاں مل پائے۔ یہ تو ایک ایسا aspect ہے جس میں علاقائی حوالہ سےاثر قبول نہ کرنا بھی ایک غیر فطری ہوجاتاہے۔ اب میں وہی بات دوبارہ عرض کروں گا کہ مقامی استعارے ، تشبیہات ، علامات کا استعمال کیا تہذیبی جوہر کو مدّنظر رکھ کر اور ساتھ ہی ساتھ تہذیبی پس منظر کو بھی مدّنظر رکھ کر کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ اور ان کے استعمال کے بعد جو تخلیق ابھر کر آرہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ اس کی معنیاتی جہات میں اضافہ کر پارہی ہے؟؟؟۔۔۔۔۔ کیا وہ اپنے اظہار کو مستحکم کر پارہی ہے؟ اس بات کو جان پانا اصل ہے۔
شہزاد نیّر:
ڈاکٹر صاحب آپ نے بالکل متعلق نام لیے ہیں ۔۔۔ اسی حوالے سے غلام حسین ساجد کا بھی کچھ شعری کام ہے
ابرار احمد::
ہر ایک قابلِ ذکر شعر زبان کی وسعت کیلئے کچھ کیا ہے
ابرار احمد::
Languages live on local n foreign languages in access n their expansion is possible just this wayَ
An author in order to create the ambiance of his own locale uses local language or its essence whether its a punjabi or other locale
ارشد معراج::
بحث صرف اردو پر پنجابی کے اثرات پر ہی ہورہی ہے
شہزاد نیّر:
میری اس بات کو اختتامی کلمات ہی سمجھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ جناب ِ صدر نےآپ نے بالکل صحیح کہی کہ اردو پر پنجابی کا ہی ذکر ہو رہا ہے ۔ ثروت حسین کی نظم میں ، میں نے "چانور " کا لفظ استعمال کیا ہے جو کہ سندھی میں چاول کیلئے استعمال ہوتاہے اور آغا گل کوئٹہ کے ایک ناول نگار ، افسانہ نگار ہیں اپنی اردو میں خاصے الفاظ بلوچی کے براہوی کے اور پشتو کے استعمال کئے ہیں ان کی اکثر کتابوں میں فرہنگ بھی دی گئی ہے۔ کیونکہ یہ تین زبانیں بوجوہ اردو سے کچھ فاصلہ پر ہیں ۔۔۔۔۔۔ براہوی تو خاصے فاصلہ پر ہے اور پنجابی کی اردو سے نسبت قریب ہے ۔۔۔۔۔ پنجابی کا لفظ اگر اردو میں آتا ہے تو وہ کھپ جاتا ہےاگر وہ چاہ و رس کے ساتھ آئے تو۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ بلوچی ، براہوی ، پشتو ، کشمیری یا سندھی زبان کے الفاظ آئیں تب ان کی کچھ وضاحت دینی پڑے گی۔البتہ ان کو اردو زبان میں آنے چاہئے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ اردو ہمارے مقامی رس و رچاؤ سے لطف اندوز ہو اور اردو میں رنگ آئے ۔اس کی اپنی زمین کی ثقافت کے ساتھ جڑے تو نہ صرف ہمیں الفاظ بلکہ ثقافتی مظاہر کو بھی لانا ہوگا۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں یہ کاوش بہتر ہو کہ ہم اردو میں ساری مقامی ثقافتوں کو کسی نہ کسی انداذ سے لانا چاہئے۔
ارشد معراج::
آج کا موضوع بہت اہم تھا۔۔۔۔ اس موضوع کو بے شمار پہلوؤں سے دیکھا جا سکتا ہے ۔۔۔۔۔ میرے خیال میں جتنی بھی علاقائی اور مقامی زبانیں ہوتی ہیں کسی بھی main streem کی زبان پر بہت گہرااثر ہوتا رہتا ہے اور یہ آتا اور چلا جاتا ہےیہ زبان کی زندہ رہنے کی ایک علامت ہے۔۔۔۔۔۔اس طرح زبان کا بہترین اظہار اس کے ادب میں ہوتاہے اور ادب ہی اس کے اثرات قبول کررہا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ جہاں تک اردو زبان کا تعلق ہے اس میں زیادہ تر اردو لکھنے والے افراد پنجابی سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ سندھ میں بھی اردو پر سندھی کے اثرات ہیں ۔۔۔بلوچستان میں بھی میں نے ایک افسانہ "ڈالی "پڑھا جو وہاں کی تہذیبی ثقافت کی عکّاسی کر رہا تھا ۔۔۔۔اس "ڈالی "پر جو افسانہ بنا گیا وہ اسقدر شابدار تھا اس کے ذریعہ مجھے بلوچ ثقافت کو جان نے کا موقع ملا۔۔۔۔۔ اسی طرح سے صرف لفظوں ، استعارہ ، تشبیہات کی سطح پر نہیں بلکہ اپنی معنویت کیساتھ زبانیں دوسروں پر اثر انداز ہو رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی ۔۔۔۔۔۔ اردو کا دامن اس سےوسیع ہورہا ہے ،اس کارِخیر کو ہمیں جاری رکھنا چاہئے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ localised ہونا چاہئے۔مقامی اور علاقائی زبانوں میں جو خوبصورت expressions ہیں اسکو ذیادہ سے زیادہ پڑھاوا دینا چاہئے۔
شہزاد نیّر:
جناب صدر ، آپ نے درست فرمایا ، صحافت میں علاقائی زبانوں کا نفوذ ادب کی نسبت زیادہ ہے
یونس تحسین:
زبانوں سے استفادہ تو ہونا بھی چاہئیے مگر کیا ان الفاظ کو اصل زبان کا نعمل البدل بنا دینا سود مند ہے
ابرار احمد ::
کیوں نہیں ۔۔۔۔ اصل زبان میں ایک مفہوم کے لئے کئی لفظ برتے جاتے ہیں تو ایک اور سہی۔۔
ہماری زبان جب اسے اپنا لیتی ہے تبھی rich ہوتی ہے۔
یونس تحسین:
جب بھی کسی ملک کی اصل زبان میں دوسری زبان کے الفاظ شامل ہونا شروع کوجائیں تو سمجھیں نئی زبان کی بنیاد رکھی گئی اس سے پرانی زبان کے لغت کا تنزل شروع ہوگیا اور نئی زبان کا ارتقا شروع ہوگیا
احمد حمّاد :؛
بالکل.
گوپی چند نارنگ کا ایک لیکچر اس ضمن میں بہت اہم ہے. دوہزار پانچ میں لاہور میں دیا
ابرار احمد ::
نہیں ۔۔۔۔ پرانی لغت کی وسعت
کچھ لفظ متروک بھی ہوتے رہتے ہیں ۔۔۔۔ فاروقی کی پوری کتاب ہے اس پر
یونس تحسین:
نئی زبان کا دوسرا سبب اصل زبان کے الفاظ کا ثقیل ہونا اور مخارج میں دقت کا ہونا ہے ...
اظہر فراغ:::؛
میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ جتنی آپ کی مقامی زبانیں ہوتی ہیں ان کا بھر پور فائدہ ہوتا ہے ان کے رویہ در آتے ہیں اس زبان میں جو اجتماعی طور پر بولی جاتی ہے اور اس کا بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔آپ اس کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اردو کے جو اہم شاعر تھے بنیادی طور پر ان کی مادری زبان اردو ہی نہیں تھی
احمد حمّاد::؛
ڈاکٹر صاحب، خالد احمد (انگریزی کالمز والے) بھی اس ضمن میں دلچسپ کالمز لکھتے رہے. الفاظ کی Etymology ، ہانسن جاہسن لغت وغیرہ
اظہر فراغ::
اس حوالہ سے میرا اپنا معین ہے کہ سمجھتاہوں کہ زیادہ اثرات جو نئی زبان تشکیل پائیگی ، اردو کی جو نئی شکل ہوگی اور اس کےجو قدوخال بنیں گے اس میں زیادہ contributionondi ہندی اور ہماری مقامی زبانیں ہیں ان کی آمیزیش سے ایک نیا لہجہ اور نئی چیزیں بنیں گی ۔ یہ میرا ذاتی خیال ہے ممکن ہے اس میں کسی کو اختلاف ہو۔۔۔
یونس تحسین:
تیسری وجہ انجانی اور نئی چیزوں کے نام ہوتے ہیں جو زبانوں میں شامل ہوجاتے ہیں
ایک سبب ہمارے تدریسی نظام میں دوسری زبانوں کا شامل ہونا بھی ہے
جس سے دوسری زبانوں کے محاورے اور ضرب المثل وغیرہ ہماری زبان کا حصہ بن جاتے ہیں
میری رائے کے مطابق اردو زبان میں الفاظ کا اضافہ کے لئے ابجد کے قبیلے کو دیکھا جائے
اور انگریزی اس معاملے میں کمزور ترین ہے کہ اردو میں شامل ہو کوئی دھکے زوری کرتا رہے وہ چاشنی کبھی نہیں آ سکتی جو عربی اور فارسی کے سبب اردو میں موجود ہے
بھاشا سے ریختہ اور پھر اردو کا سفر انہی زبانوں کے سبب ہے ... ہاں ایجادات کے مخصوص نام قبول کرنا مجبوری ہے کیونکہ ہم ایجادات میں کمزور ہیں ورنہ لوٹے کی انگریزی انگریزوں کو بھی
ابرار احمد ::
اظہر فراغ ، مسئلہ یہ ہے آج اردو جس جگہہ پر کھڑی ہے اس کو پنجابی ، سندھی ، سائیکی اور دیگر مختلف زبانوں کے شاعروں نے جہاں سے وہ تعلق رکھتے ہوں ۔۔۔ اور پھر ایسے شاعر جو عالمی ادب کو پڑھا ہوا ہے ان میں سے کسی شاعر نے ایک ادھ جگہہ پر کوئی ایسا لفظ ڈھونڈ لیا جو اسکو لگا کہ اس کو اردو میں استعمال کیا جا سکتاہے تو اس نے بھی یہ کوشش کی ۔۔۔۔۔۔ اردو جو اہلِ زبان کی اردو ہے جیسے جو انڈیا کی اردو زبان ہے ۔۔۔۔اس نو کے کراچی میں ہمارے بزرگ اور دوست جو شاعری کرتے ہیں خاص طرر پر ان کا کلچر کی زبان ان کی غزل میں استعمال ہوتی دیکھائی دیتی ہے ۔۔۔جو اردو کا مرّوج محاورہ ہے اس کو جب جب ہم پنجابیوں نے استعمال کیاہے اس پر اعتراض ہواہے ۔۔۔۔۔ ہمارے اردو اہل ذبان اس معاملہ میں کچھ حسّاس ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ جبکہ ان کو ہونا نہیں چاہئے۔۔۔۔۔۔ زبان کو کوئی بھی اپنے پروں کے نیچے ڈھانپ کر نہیں رکھ سکتا۔
ظفر اقبال کے "اکیلے آدمی کے تجربات" کو زبان کے حوالہ دیکھیں تو اندازہ ہوگا کہ ان کا contribution نئی نسل کو (معاصرین کو تو نہیں ) کتنا متاثر کیا ہے ۔۔۔۔۔ یا اردو غزل کو کتنا بدل کے رکھ دیا ہے ۔۔
یونس تحسین:
آج کے موضوع کے ضمن میں اگر فرہنگ آصفیہ کا دیباچہ پڑھ لیا جائے تو بہت سی باتوں کے جواب مل جائیں گے جو یہاں بحث میں وقت کی قلت اور ہاتھوں کی تھکاوٹ کی وجہ سے زیرِ بحث نہیں لائے جا سکے
اظہر فراغ::
ڈاکٹر صاحب ۔۔۔ آپ نے درست کہا" زبانوں کو پروں کے نیچے دباکر رکھا نہیں جاسکتا ۔۔۔۔ اور ہمارے اہل زبان بہت stif ہیں ۔۔۔ بہت ساری چیزوں کو قبول نہیں کر پارہے ہیں ۔۔۔ اس سے زبان کو نقصان ہوا ہے اس سے زبان کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے ۔۔۔ میں سمجھتا ہوں ہمیں تھوڑے کھلے دل کے ساتھ ہمارے آس پاس کے ماحول کو چیزوں کو دیکھنا چاہئے کہ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے زبانیں update ہوتی رہتی ہیں ۔۔۔ جو زبانیں update نہیں ہوتی ہیں ان کو پریشانی لاحق ہوتی رہتی ہیں ،،، جو زبانیں update ہوتی یہں برابر پھلتی پھولتی رہتی ہیں ۔۔۔۔ یہ کچھ لوگ نہیں سمجھ پاتےکہ آئیندہ ہماری بولی جانے والی زبان کامزاج کیا ہوگا ۔۔۔ ہمارے تخلیق کار بھی اس کو سمجھ نہیں پارہے ہیں ۔۔۔ بہت ساری تبدیلیاں آنے والی ہیں ۔۔۔ جب اس موضوع کا انتخاب ہونے جارہا تھا۔۔۔۔ میں چاہ ریا تھا اس موضوع کو کسی اور نظریہ سے دیکھنے کی کوشش کریں جیسے کہ " اردو زبان ۲۰۳۰ میں کیسی ہو گی ؟" پھر مجھے لگا شائد گفتگو اس انداز سے نہ ہو۔۔۔۔۔ میں اس بات کا قائل ہوں کہ زبانوں کو update ہوتے رہنا چاہئے۔۔
یونس تحسین:
فراغ بھائی
زبان میں الفاظ کو شامل کیا جائے مگر اس کا قبیلہ ماخذ بھی تو دیکھنا ہوگا
ہم آج کل انگریزی کے زیر اثر ہیں اگر کل عالمی زبان کوئی اور ہوجاتی ہے تو ہم مجبوراً اس کے زیر اثر ہونگے
ندیم بھابھہ:
دیگر زبانوں کے لفظ اردو میں شامل کئے جائیں یا نئے لفظ بنائیں جائیں ۔۔۔جیسے انڈیا میں ٹی وی کو دوردرشن ، ریڈیو کو آکاش وانی ۔۔۔۔ اور ہم نے ہوبہو اس کو قبول کرلیا ۔۔۔۔ اصل بات تو یہ ہے کہ اردو کے نئے لفظ بنائیں جائیں ۔۔۔۔ ان کے ماخذ دریافت کئے جائیں ۔۔۔نا کہ ہم دیگر زبانوں کے الفاظ اس میں استعمال کرتے جایئں ۔۔ جب انڈین ہندی بولتے ہیں وہ اردو ہی ہے ۔۔۔ ہندی میں سنسکرت شامل ہے جبکہ جو اردو ہے اس میں فارسی زیادہ شامل ہے، بس نئے لفظ بنائیں کیسے جا سکتے ہیں ، جب تک ہم نئے لفظ نہیں بنائیں گے زبان کی اپنی الگ شناخت باقی نہیں رہ پائیگی ۔۔۔یہ سبھی جانتے ہیں اردو ایک لشکری زبان ہے ۔۔۔۔ اگر اس میں لفظ شامل کئے جارہے ہیں تو صرف انگریزی کے ہی کیوں ۔۔۔۔۔ دیگر زبانوں کے کیوں نہیں۔۔۔۔
اظہر فراغ::
زبانوں کو کبھی حاکم اور محکوم کے حوالہ سے نہ دیکھیں ۔۔۔زبانوں کو آپ بالکل اپنے انداز کے ساتھ کبھی deal نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ زبانیں کبی اس انداز میں نہیں چلتی ،زبانیں ہمیشہ دو سطحوں میں چلتی ہیں ۔۔۔۔ ایک زبان وہ ہوتی ہے جو لغت میں پڑی ہوئی ہوتی ہیں جو کلسک کہلاتی ہیں ۔۔۔ ایک وہ زبان ہوتی ہے جو ہمیشہ سفر میں ہوتی ہے، جو ہم سب میں موجود ہوتی ہے ۔آپ موجود زبان کے ساتھ انحراف نہیں کرسکتے ۔۔۔۔یہ نہ صرف ہماری زبان کی مجبوری ہے بلکہ مقامی زبانوں کو اردو سے ہے، اس طرح کا خطرہ باقی مقامی زبانوں کو بھی ہے۔۔۔۔ یہ تو ایک سلسلہ ہے جو چلتا رہیگا ۔۔۔۔ اس میں ہم کوئی شعوری کوشش کرکے کچھ تبدیل نہیں کرسکتے۔اصل معاملہ یہ ہے۔۔۔۔ چلیں میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ دوسری زبانوں کو اردو میں در آنا درست قدم نہیں ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ہم خود اسکو کنٹرول نہیں کرسکتے۔
اظہر فراغ::
پھر اس میں عجیب سی بات یہ ہے کہ جو لفظ آپکی سوسائٹی میں موجود نہیں ان کو لا محالہ دوسری زبانوں سے ہی لینی پڑتی ہیں ۔۔۔ یہ آپ لوگوں کی مجبوری ہوتی ہے ۔۔۔۔ ہم لوگ لاکھ کوشش کریں کہ "آلہ فروغِ آتش " کہیں لیکن وہ ماچس ہی رائج ہوگی ۔۔۔۔ آپ زبانوں کو dictate نہیں کرسکتے ۔۔۔۔ زبانوں کو اپنی مرضی سے چلنا ہوتا ہے، ایک تخلیق کار ،ایک شاعر اپنی سطح پر لفظوں کے برتاؤ کو کسوتی پر دیکھے کہ وہ احسن ہے یا نہیں ۔۔۔۔ اس سے زیادہ ایک شاعر اور ادیب کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔ بس ایک تخلیق کار اپنی responsibility پر یہ دیکھ لے لہ اس لفظ کا جو تاثر بن رہا ہے اچھا ہے یا نہیں ۔۔اس سطح سے پڑھ کر کوئی تخلیق کار کچھ نہیں کر سکتا ہے۔ ایسا کوئی میکانیزم نہیں ہے جو ساری مت کو سارے سسٹم کو ہی تبدیل کردے ۔۔۔۔ ایسا میں نہیں سمجھتا ہے کہ ممکن ہے۔
ندیم بھابھہ:
اظہر، شعوری کوشش تو کہیں نہ کہیں ہے ، چاہے وہ ایک پرسنٹ ہے یا دو پرسنٹ ہے۔۔۔ بہرِحال شعوری کوشش ہے ۔۔ اسی لئے ہم کہہ رہے ہیں کہ ظفر اقبال صاحب نے تجربے کئے۔عطا اللہ قاسمی صاحب نے ایک بات کہی تھی "اردوِ معلّی" اور اردوِمحلّہ"۔۔۔۔ انہوں نے کہا زبان وہی رائج ہوگی جو محلّہ میں بولی جائیگی ۔۔۔۔ کہیں نہ کہیں اس کی شعوری کوشش بھی ہے ۔۔۔میری رائے میں اس کو فطرت پر چھوڑ نہیں سکتے۔
ابرار احمد ::
ہم انگریزی کے زیرِ اثر اسی لئے ہیں کہ ہم انگریز کی کالونی میں رہے ہیں جن ملکوں میں فرانس کا قبضہ رہا ہے ان ملکوں میں انگریزی کا ایک لفظ بھی نہیں جانتے ۔ لیکن آپ یہ کیوں بھولتے ہیں آپ کی سائنس اور تمام سنجیدہ ذریعہ تعلیم انگریزی میں ہوتی ہے ۔۔ پھر آپ انگریزی سے جو لفظ لئے ہیں اب وہ اردو کا حصّہ ہیں اب اس میں اعتراض کیسا؟۔۔۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ پنجابی کے جو الفاظ اردو میں آئے ہیں اس سے اردو کا فائدہ ہی ہوا ہے۔ یہ سوچنا چاہئے کہ اردو کی وسعت کیسے ممکن ہے ۔ یہ تعصّب رکھنا کہ اس میں یہ یہ بیرونی زنانیں نہیں آنا چاہئے اس فکر بندی کی ضرورت نہیں ہے۔
*********************************

The effects of regionalism in Language, a dialogue at a WhatsApp group.

0 comments:

Post a Comment