Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-04-06 - بوقت: 19:39

انتہا پسندی اور سرحد پار دہشت گردی - آسیان ممالک کا عنقریب دہلی اجلاس

Comments : 0
انتہا پسندی اور سرحد پار دہشت گردی - آسیان ممالک کا عنقریب دہلی اجلاس
لوک سبھا میں وزیر خارجہ سشما سوراج کا بیان
نئی دہلی
پی ٹی آئی، یو این آئی
لوک سبھا میں وزیر خارجہ سشما سوراج نے بتایا کہ ہندوستان کے پچاس انتہا پسند نوجوان دوسرے طرف جاچکے ہیں لیکن ہندوستانی تہذیب و ثقافت اس بات کی تیقن دیتی ہے کہ ان کی سر گرمیاں خطرہ کے تناسب میں نہیں آتی ۔ سشما سوراج نے کہا کہ انتہا پسند بننے کا مسئلہ جموں و کشمیر کی حد تک محدود نہیں ہے لیکن ساری دنیا کے ساتھ ساتھ دیگر ریاستوں میں بھی یہ مسئلہ موجود ہے ۔ لوک سبھا میں ایک ضمنی سوال کا جواب دیتے ہوئے سشما سوراج نے کہا کہ پچاس ہندوستانی انتہا پسند نوجوان اس طرف گئے ہیں تاہم انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کس طرف گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکز نے پہلے ہی ریاستوں کے ساتھ مل کر انسداد انتہاپسندی پروگرام شروع کررکھا ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ نوجوانوں کو کوئیگ مراہ نہ کرسکے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان کی ثقافت کے باعث انتہا پسند نوجوانوں نے بہت کم نقصان پہنچایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر ازم، والدین کی نگرانی کرنے والی نظر اور یہ اعتقاد کہ تشدد اچھی چیز نہیں ہوتی ، نے ملک کی بہت مدد کی ہے ۔ سوراج نے ایوان سے کہا کہ ہندوستان، انسداد انتہا پسندی پر آسیان ممالک کی کانفرنس منعقد کرے گا لیکن اس کی تاریخ ہنوز طے شدنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے علاوہ سرحد پار دہشت گردی بھی اس کانفرنس کا ایک اور موضوع رہے گا۔ سشما سوراج نے کہا کہ حکومت کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے رکن اسد الدین اویسی کی تجاویز پر مثبت غور کرے گی۔ اسد الدین اویسی نے تجویز پیش کی ہے کہ ایشین ممالک کے علماء کو بھی اس کانفرنس میں مدعو کیا جائے تب ہی ان کے متعلقہ ممالک میں انتہا پسندی کو ختم کیاجاسکتا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں وزیر خارجہ نے کہا کہ جنوبی چین کے سمندر کے مسئلہ اس مجوزہ کانفرنس کا حصہ نہیں ہوگا ۔ یو این آئی کے بموجب لوک سبھا میں وقفہ سوالات کے دوران کانگریس کے سی وینو گوپال کی جانب سے نائیجیریائی شہری کے قتل کے معاملہ کو اٹھائے جانے پر جواب دیتے وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ اتر پردیش کے نوئیڈا میں ایک نائیجیریائی شہری کے قتل کے معاملے میں ہندوستانی سیاسی قیادت کی خاموشی سے متعلق افریقی سفارتی مشن کے ذین کے بیان کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف افریقی ہی نہیں بلکہ تمام غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کے لئے پابند عہد ہے ۔ وزیر خارجہ کہا کہ افریقی مشن کے ڈین ایلن وولڈ ماریم کا بیان افسوسناک ہے کہ ہندوستانی سیاسی قیادت اس معاملہ پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اس لئے وہ اس معاملے کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں لے جائیں گے ۔ سشما سوراج نے کہا کہ وزیر مملکت جنرل وی کے سنگھ نے آج افریقی مشن کے ڈین کو طلب کر کے ان کے بیان پر حکومت ہند کے اعتراضات سے آگاہ کیا ہے ۔ انہوں نے ایوان کو یقین دلایا کہ غیر ملکی شہری خواہ نائیجیریا کا ہو یا کسی دوسرے افریقی ملک کا یا پھر کسی تیسرے ملک کا شہری ہو وہ تمام شہری ہندوستان میں محفوظ رہیںِ اس کے لئے حکومت پابند عہد ہے ۔ سشما سوراج نے بتایا کہ وی کے سنگھ نے افریقی مشن کے ڈین سے کہا کہ اگر مرکزی حکوم تاور اتر پردیش حکومت کی یقین دہانی کے بعد بھی انہیں لگتا ہے کہ حکومت ہند کی طرف سے اٹھائے گئے قدم ناکافی ہیں اور کیس کو حل نہیں ہوا تو تو انہیں وزیر اعظم سے بات رکرنی چاہئے تھی ۔ سشما سوراج نے کہا کہ اس معاملہ کو اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن میں اٹھائے جانے کے بارے میں وی کے سنگھ نے مسٹر وولڈ ماریم کو صاف بتادیا ہے کہ ہ مارے ملک میں ہی انسانی حقوق کمیشن انتہائی فعال ہے ، جہاں خود مختار ادارے ، آزاد عدلیہ اور آزاد پریس موجود ہے ، ایسے میں کہیں باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ افریقی مشن کے ڈین نے ا پنے بیان میں کہا تھا کہ وہ افریقی شہری پر حملے کے معاملہ کو اقوام متحدہ انسانی حقوق کمیشن میں اٹھائیں گے ۔ وزیر خارجہ نے ایوان کو بتایا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کی جارہی ہے اور اب تک چھ افراد کو گرفتار کیا گی اہے۔ انہوں نے کہا کہ جانچ مکمل ہونے تک اس معاملہ کو نسلی حملہ قرار دینا مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نسلی حملے منصوبہ بند ہوتے ہیں جب کہ یہ بھیڑ میں موجود جرائم پیشہ عناصڑ کی طرف سے کیا گیا حملہ تھا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ نائیجیریائی شہری کے قتل کے بارے میں جیسے ہی انہوں نے اگلے دن اخبارات مین پڑھا ، انہوں نے خود سے چیف منسٹر اتر پردیش سے بات کی تھی اور دونوں نے الگ الگ ٹوئٹ کے ذریعے معاملے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی بھی کرائی تھی ۔ لوک سبھا کو آج وزیر خارجہ سشما سوراج نے مطلع کیا کہ دنیا کے مختلف متنازعہ علاقوں میں تعینات ہندوستانی سفارت کاروں کو زائد سیکوریٹی فراہم کی جارہی ہے ۔ یہ زائد سیکوریٹی انہیں دی گئی ذمہ داریوں اور مقامی صورتحال کی بنیاد پر دی جارہی ہے جو خطرہ کی سطح کے لحاظ سے تبدیل ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ملک کے حکومتوں کی منظوری سے حکومت ہند اپنے مشنوں پر زائد سیکوریٹی انتظامات کررہی ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ زائد سیکوریٹی میں ہندوستانی سفارت کاروں یا مقامی طور پر حاصل کردہ سیکوریٹی گارڈ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اعلی سطحی سیکوریٹی میں انفراسٹرکچر کی بھی حفاظت شامل ہے ۔
نئی دہلی
یو این آئی
حکومت نے آج کہا کہ بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ( داعش) کی ہندوستان میں کوئی بنیاد نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا کے ذریعے کچھ نوجوانوں کے داعش سے متاثر ہونے کے معاملے سامنے آئے ہیں جن کی جانچ چل رہی ہے ۔ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج ایک ضمنی سوال کے جواب میں بتایا کہ اس قسم کی کوئی معلومات یا ثبوت نہیں ہے کہ داعش نے ملک میں اپنی بنیاد بنالیا ہے۔ اگرچہ مرکزی اور ریاستی سیکوریٹی ایجنسیوں کے ذہن مین کچھ ایسے لوگ آئے ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعے داعش کے نظریات سے متاثر ہوئے ہیں ۔ ایسے نوجوانوں کی کل تعداد80ہے جن میں سے بائیس کیرالا سے ہیں۔ ان میں سولہ کے خلاف تحقیقات چل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نوجوان در اصل بنیاد پرستی سے متاثر ہیں اور حکومت ایسے پروگرام چلار ہی ہے جس سے نوجوانوں میں بنیاد پرستی کے اثرات کو کم یاجاسکے ۔ اس کے لئے کچھ مذہبی گروپوں نے بھی داعش کے اثرات مین نہیں آنے کی اپیل کی ہے۔ ہندوستانی سماج کا ڈھانچہ اور خاندانی فریم ورک بھی داعش کے اثرات کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ داعش کے خطرے کا اندازہ لگانے اور اس سے نمٹنے کے لئے ایک قومی حکمت عملی تیار کرنے کے مقصد سے مرکزی اور ریاستی ایجنسیوں کی میٹنگ منعقد کی جارہی ہے ۔

ای وی ایم مشینوں میں چھیڑ چھاڑ۔ راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج
الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے بجائے بیلٹ پیپر سے ہی انتخابات کرانے کا مطالبہ ۔ کارروائی کچھ دیر کے لئے ملتوی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
اپوزیشن جماعتوں نے آج حکمراں بی جے پی کے حق میں ای وی مشینوں میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے راجیہ سبھا کی کارروائی میں کچھ دیر کے لئے خلل ڈالا ، جب کہ حکومت نے لوک سبھا کو بتایا کہ وہ اس ضمن میں اور متعلقہ مسائل کے بارے میں معلومات اکٹھا کررہی ہے ۔ کانگریس، ایس پی اور بی ایس پی کے ارکان حکومت کو دھوکہ باز قرار دیتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے جس کے نتیجہ میں نائب صدر نشین پی جے کورین کو کچھ دیر کے لئے ایوان کی کارروائی ملتوی کرنی پڑی ۔ حکومت نے پر زور طریقہ پر الزام کی تردید کی اور کہا کہ اگر کسی کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ الیکشن کمیشن سے رجوع ہوسکتے ہیں، کیونکہ پارلیمنٹ کو کوئی مسئلہ ہے تو وہ الیکشن کمیشن سے رجوع ہوسکتے ہیں ، کیونکہ پارلیمنٹ احتجاج کا فورم نہیں۔ لوک سبھا میں مملکتی وزیر قانون پی پی چودھری نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں چھیڑ چھاڑ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی اور حالیہ انتخابات میں امید واروں کی جانب سے مصارف کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہیں اور انہیں ایوان میں پیش کیاجائے گا۔ایوا بالا میں کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے ارکان نے قاعدہ نمبر267کے تحت از کم چار نوٹسیں دیتے ہوئے کارروائی معطل کرنے اور اس مسئلہ پر بحث کرنے کا مطالبہ کیا، جس کی سرکاری بنچوں کے ارکان نے پر زور مخالفت کی ۔ بی ایس پی کی مایاوتی نے حکمراں جماعت کو بے ایمان قرار دیا، جس پر ایوان میں ہنگامہ برپا ہوگیا ۔ مرکزی مملکتی وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ بی ایس پی سربراہ نے ملک کے عوم اور جمہوریت کی توہین کی ہے ۔ اپوزیشن ارکان نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ طعنہ عوام کو نہیں بی جے پی کو دیا گیا ہے ، تاہم سرکاری بنچوں کے ارکان کے احتجاج نے کرین کو یہ کہنے پر مجبور کردیا کہ وہ ان ریمارکس کو ریکارڈ سے خارج کردیں گے ۔ نقوی اور قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد کے بیچ تلخ کلامی دیکھی گئی ۔ نقوی نے کہا کہ2004اور2009ء کے عام انتخابات اور بہار، پنجاب اور دہلی کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو شکست ہوئی ۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں استعمال کرتے ہوئے انتخابات کرائے گئے تھے اور اس وقت کانگریس کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ آازاد نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں حکومتوں نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کی تھی اور اب ایسا کیاجارہا ہے ۔ ایوان بالا کی آج صبح کارروائی کے آغاز کے ساتھ ہی کانگریس کے ڈگ وجئے سنگھ نے کہاکہ چند دن قبل مدھیہ پردیش میں ضمنی انتخابات کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی جانچ پڑتال کی گئی ، جس کے دوران چھیڑ چھاڑ کا معاملہ سامنے آیا۔ کسی بھی امید وار کو ڈالا جانے والا ووٹ بی جے پی کے کھاتے میں جاتا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آنے والے ضمنی انتخابات اور دوسرے انتخابات میں صرف بیالٹ پیپر کا استعمال کیاجائے ۔ وزیر برائے فروغ انسانی وسائل پرکاش جاؤدیکر نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے یہ واضح کردیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں ہوئی ہے ۔ اگر اپوزیشن کو کوئی مسئلہ در پیش ہے تو انہیں پارلیمنٹ کا وقت ضائع کرنے کے بجائے الیکشن کمیشن سے رجوع ہونا چاہئے ۔ سماج وادی پارٹی کے رام گوپال یادو نے الزام عائد کیا الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں دانستہ طور طور پر پروگرامنگ کی جارہی ہیا ور بی جے پی کے حق میں ووٹ جارہے ہیں ۔ مایاوتی نے کہا کہ اتر پردیش کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بڑے پیمانہ پر گھوٹالہ ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کے خلاف عدالت سے رجوع ہوئی ہے۔ انہوں نے اسے جمہوریت کا قتل قرار دیا اور مستقبل میں ہونے والے انتخابات میں بیالٹ پیپر کے استعمال کا مطالبہ کیا۔ ان کے پارٹی رفیق ستیش مشرا نے کہا کہ یہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی حکومت ہے اور جو وزراء احتجاج کررہے ہیں وہ ای وی ایم وزراء ہیں ۔ سرکاری بنچوں نے ان ریمارکس پر احتجاج کرتے ہوئے انہیں عوم اور جمہوریت کی توہین قرار دیا۔

واٹس اپ پرائیویسی پالیسی معاملہ دستور بنچ سے رجوع
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم واٹس ایپ کی نئی پرائیویسی کو چیلنج دینے والی پٹیشن آج آئینی بنچ کو سپرد کردی ۔چیف جسٹس جے ایس کیہر اور جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ کی بنچ نے کہا کہ پرائیویسی پالیسی سے منسلک مسئلہ کے تعلق سے پانچ رکنی آئینی بنچ سماعت کرے گی۔بنچ نے سماعت کے لئے18اپریل کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں کو آئینی بنچ کے سامنے حاضر ہوکر سماعت کے لئے نکات طے کرنے کی ہدایات بھی دی ۔ اس سے قبل عدالت نے پرائیویسی پالیسی کے سلسلے میں واٹس ایپ اور فیس بک کو نوٹس جاری کیے تھے ۔ دراصل کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیس بک اور واٹس ایپ پر ڈیٹا محفوظ نہیں ہے اور یہ ملک کے آئین کے آرٹیکل21کی خلاف ورزی ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ واٹس ایپ کی رازداری کے خلاف کرن میہ سنگھ سری ناور شریا سیٹھی نے دہلی ہائی کورٹ میں مفا د عامہ کی عرضی دائر کی تھی ، جس میں فیس بک اور واٹس ایپ کو اپنی پالیسی میں تبدیلی کرنے کے لئے ہدایات دینے کا مطالبہ کیا تھا ۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی نافذ ہونے سے صارفین کی پرائیویسی کے خلاف ورزی ہوتی ہے لیکن ہائی کورٹ نے درخواست مسترد کردی تھی، جسکے بعد یہ معاملہ عدالت عظمیٰ پہنچا تھا ۔دراصل ستمبر2016میں واٹس ایپ کی نئی پالیسی آئی تھی جس کے تحت واٹس ایپ صارفین کے ڈیٹا کا استعمال فیس بک پر اپنے تجارتی فائدے کے لئے کرسکتا ہے ۔

0 comments:

Post a Comment