Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-03-28 - بوقت: 18:37

فلاحی اسکیمات سے استفادہ کے لئے آدھار کو لازمی نہیں بنایا جا سکتا

Comments : 0
فلاحی اسکیمات سے استفادہ کے لئے آدھار کو لازمی نہیں بنایاجاسکتا
شہریوں کی رازداری کے حق میں مداخلت کی جانچ کے لئے7رکنی کمیٹی کے قیام کی ہدایت: سپریم کورٹ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے آج واضح کردیا ہے کہ سوشیل ویلفیر اسکیموں کے فوائد کے لئے حکومت اور اس کی ایجنسیوں کی جانب سے آدھار کارڈ کو لازمی نہیں بنایاجاسکتا ۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر اور جسٹس ڈی وائی چندرا چوڈ اور جسٹس ایس کے کول پر مشتمل بنچ نے تاہم کہا کہ حکومت اور اس کی ایجنسیاں غیر ویلفیئر اسکیموں جیسے بینک اکاؤنٹس کھولنے کے لیے آدھار کارڈس کی طلبی سے روک نہیں سکتیں ۔ بنچ نے مزید کہا کہ شہریوں کی رازداری کے حق میں مداخلت جیسی بنیاد پر آدھار اسکیموں کو چیلنج کرتے ہوئے پیش کردہ درخواستوں کا اتھارٹی سے فیصلہ کرنے کے لئے سات رکنی جج کے بنچ کے قیام کی ضرورت ہے تاہم اس نے کہا کہ وہ فی الوقت سات رکنی بنچ کے قیام سے بھی قاصر ہیں ۔ اس نے کہا کہ اس کا متعاقب مرحلہ پر فیصلہ کیاجائے گا۔ ایک درخواست گزار کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت عدالت عظمیٰ کی جانب سے منظور کردہ کئی آرڈر کررہی ہے ۔ عدالت نے کہا تھا کہ آدھار کا استعمال رضا کارانہ طور پر ہونا چاہئے ، لازمی نہیں۔عدالت نے11اگست 2015ء کو کہا تھا کہ آدھارکو حکومت کی ویلفیئر اسکیموں سے استفادہ کے لئے لازمی نہیں بنانا چاہئے ۔ اس نے اسکیم کے تحت ناموں کے اندراج کے لئے اکھٹا کردہ شخصی بائیومیٹرک ڈیٹا کی ساجھے داری سے ارباب مجازکو روکا تھا، تاہم15اکتوبر2015ء کو اس نے اپنی سابق تحدید کو برخواست کردیا اور ویلفیئر اسکیموں کے لئے آدھار کارڈس کے رضا کارانہ استعمال کی اجازت دی۔ان ویلفیئر اسکیموں میں ایم جی این آر ای جی اے ، تمام پنشن اسکیموں اور پراویڈنٹ فنڈ کے علاوہ این ڈی اے حکومت کے علمبردار پروگرامس جیسے پردھان منتری جن دھن یوجنا شامل ہیں ۔ اس وقت کے چیف جسٹس ایچ ایل دتو کی قیادت میں پانچ رکنی ججس کی بنچ نے مرکز کے لئے اپنے عبوری احکام میں ایک کیوبٹ بھی رکھی اور کہا کہ ہم یہ واضح بھی کرتے ہیں کہ آدھار کارڈ اسکیم خالصتاً رضاکارانہ ہے اور لازمی نہیں ہے ۔ اسکا اطلاق اس وقت تک رہے گا جب تک اس عدالت کی جانب سے معاملہ کا قطعی فیصلہ نہ ہوجائے۔ بنچ نے چار دیگر اسکیموں کو ایل پی جی اور پی ڈی ایس میں شامل کرتے ہوئے جہاں آدھار کارڈ کا استعمال ہوتا ہے کہا کہ یونین آف انڈیا کو اس عدالت کی جانب سے23ستمبر 2013ء سے پاس کیے گئے تمام دیگر احکام کی تعمیل کرنی ہوگی ۔ بنچ نے مزید کہا کہ درخواستوں کی قطعی یکسوئی کے لئے ایک بڑی بنچ قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ اس میں یہ سوال بھی شامل ہیکہ آیا رازداری کا حق، بنیادی حق ہے ۔ آدھار کارڈ اسکیم کو چیلنج کرنے والے ایک درخواست گزار کی نمائندگی کرتے ہوئے دیون نے ادعا کیا کہ یو ائی آئی ڈی اے آئی جو پروگرام چلاتی ہے اسے نہ تو کسی قانون کی تائید حاصل ہے اور نہ ہی کسی اعلامیہ کی تائید ہے ۔ یہ خانگی ایجنسیوں کے ذریعہ بائیو میٹرک تفسیلات حاصل کررہی ہے۔ درخواست گزاروں کے وکلاء کا یہ استدلال رہا کہ اسکیم توسیعی ہے ، اور یہ مکمل محفوظ بھی نہیں ہے ۔ اسے دیگر پروگراموں کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ 14اکتوبر2015ء کو عدالت عظمیٰ نے مرکز کی درخواست کانوٹ لیا کہ آدھار کارڈس کی پی ڈی ایس اور ایل پی جی اسکیموں سے ہٹ کر ویلیفئیر پروگراموں کے لئے رضا کارانہ طور پر استعمال کی اجازت دی جائے ۔ اس نے دریافت کیا کہ کیا یہ تیقن دیاجاسکتاہے کہ آدھار کی ضرورت کے لئے کوئی بھی محرومی کے موقف میں نہ رہے ۔

یوپی میں صرف غیر قانونی مسالخ کے خلاف کارروائی
حکومت گوشت فروخت کرنے اولوں سے بات چیت کے لئے تیار : وزیر صحت
لکھنو
پی ٹی آئی
ریاست میں مسالخ کے خلاف اپنی کارروائی پر الجھن دور کرتے ہوئے حکومت اتر پردیش نے آج کہا کہ وہ صرف غیر قانونی مذبح خانوں کے خلاف اقدامات کررہی ہے ۔ وزیر صحت سدھارتھ ناتھ سنگھ نے لکھنو میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ ہم صرف غیر قانونی مسالخ کے خلاف کارروائی کررہے ہیں۔ لائسنس یافتہ مذبح خانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ قواعد و ضوابط پر عمل کریں ۔ انہوںنے کہا کہ لائسنس یافتہ مسالخ کو لائسنسمیں درج قواعد وضوابط پرعمل کرنا ہے ۔ انہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سنگھ نے واضح کیا کہ مرغی، مچھلی اورانڈے بیچنے والی کسیبھی دکان کے خلاف کارروائی کا کوئی حکم نہیں دیا گیا ہے ۔انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ وزیر صحت نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ نہ تو زیادہ جوش میں کام کریں اور نہ ہی اپنی حدود سے تجاوز کریں۔مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لائسنس میں بیان کردہ قواعد میں ایک قاعدہ یہ ہے مسلخ کے احاطہ میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہوں۔ اگر اس پر عمل آوری نہیں ہوئی تو مذبح خانہ کو بند کرنے کا حکم دینے کے بجائے مالک کو نوٹس جاری کی جاسکتی ہے ۔ اس سے کہا جاسکتا ہے کہ وہ مقررہ وقت میں اس کی اصلاح کرلے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل گرین ٹریبونل نے غیر قانونی مسالخ کو بند کردینے پر زور دیا تھا ۔این جی ٹی نے2015ء میں کہا تھا کہ غیر قانونی مسالخ ماحولیات کے لئے باعث پریشانی ہیںں ، اس نے انہیں بند کردینے پر زور دیا تھا تاہم پچھلی حکومت نے ان غیر قانونی مسالخ کو بند کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ غور طلب ہے کہ ریاست بھر میں گوشت فروخت کرنے والوں نے آج سے غیر معینہ مدت کی ہڑتال کردی ہے۔ وہ غیر قانونی اورمشین ے چلنے والے مذبح خانوں کے خلاف کارروائی سے ناراض ہیں ۔ سدھارتھ ناتھ سنگھ نے کہا کہ مختلف سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس کے ذریعہ پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے ۔ یہ پروپیگنڈہ بالخصوص وہ لوگ کررہے ہیں جو ہماری آئیڈیا لوجی سے اتفاق نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہاکہ اس پروپیگنڈہ کا شکار مت بنئے ۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا ریاستی حکومت گوشت فروخت کرنے والوں سے بات چیت کے لئے تیار ہے،وزیر صحت نے کہا کہ گوشت فروخت کرنے والوں کا کوئی بھی وفد تا حال ہم سے رجوع نہیں ہوا ہے ۔ وہ ملنا چاہیں تو ان کا خیر مقدم ہے۔ وہ اپنی بات رکھ سکتے ہیں ۔ ہم ان سے کھلے ذہن سے ملنا چاہیں گے لیکن غیر قانونی سر گرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اینٹی رومیو اسکواڈس کے تعلق سے سنگھ نے کہا کہ حکومت یہ برداشت نہیں کرے گی کہ کوئی از خود لوگوں پر نظر رکھنا شروع کردے ۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ بڑی مشکل میں پڑے گا ۔ ان سے پوچھا گیا تھا کہ ایسی خبریں ہیں کہ نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو ہراساں کیاجارہا ہے ۔

0 comments:

Post a Comment