Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-03-16 - بوقت: 20:00

بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح

Comments : 0
بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح
نئی دہلی
پی ٹی آئی، یو این آئی
لوک سبھا میں آج وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا کہ امریکہ میں ہندوستانیوں پر ہوئے حملہ کے واقعات پر حکومت ہند نے امریکی انتظامیہ سے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت بیرون ممالک مقیم ہندوستانیوں کی صیانت کو والین ترجیح دیتی ہے ۔ طویل علالت کے بعد وزیر خارجہ سشما سوراج کی لوک سبھا میں آمد پر آج ارکان نے میزیں تھپتھپاتے ہوئے استقبال کیا۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج لوک سبھا میں امریکہ میں پیش آنے والے واقعات پر ایک بیان دیتے ہوئے کہاکہ ہندوستانیوں پر حالیہ دنوں ہوئے حملوں پر حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن کے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ امریکہ میں ہندوستانیوں پر ہوئے حملوں پر حکومت ہند چپ سادھ لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ممالک میں پریشان حال ہندوستانی شہریوں کی مدد کے لئے حکومت کبھی بھی خاموش نہیں رہی گی ۔ سشما سوراج نے کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں ہند نزاد لوگوں پر حملوں کے تین واقعات سامنے آئے ہیں۔22فروری کو کنساس کے مضافات اولیتھ میں ہندوستانی انجینئر سرینواس کچی بھوتلا کو قتل کردیا گیا ۔ اس واقعہ میں ایک اور ہندوستانی آلوک مداسانی اور انہیں بچانے کی کوشش میں ایک اور امریکی شہری ایان گریلاٹ زخمی ہوئے ہیں۔ دوسرا واقعہ میں2مارچ کو ہرنش پٹیل کو لنکا سٹر جنوبی کیرولینا میں گولی ماری گئی۔ تاہم شیرف اور خاندان والوں کے مطابق یہ ڈاکہ زنی کا واقعہ تھا جس نے سنگین صورت اختیار کرلی لیکن یہ بھی جانچ کی جارہی ہے کہ کہیں یہ نسل تعصب کا واقعہ تو نہیں ہے ۔ تیسرا واقعہ چار مارچ کا ہے جب واشنگٹن اسٹیٹ کے سیٹل میں امریکی شہری دیب رائے کو گولی ماری گئی ۔ تاہم مجرم ابھی پکڑا نہیں جاسکا ہے لیکن رائے محفوظ اور خطرے سے باہر ہیں۔ اس واقعہ کی ایف بی آئی تحقیقات کررہی ہے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ تینوں معاملوں مین حکومت نے اپنے سفارتخانہ اور قونصل خانوں کے زریعے متاثرہ لوگوں اور ان کے اہل خانہ کو ہر ممکن مدد دینے کے لئے ان سے فوری طور پر رابطہ کیا ۔ خارجہ سکریٹری نے بھی حال میں امریکہ کے دورے کے دوران اعلیٰ سطح پر اس مسئلہ پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اور ہندوستانی نزاد افراد کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ ، کنساس کے گورنر سام براؤن بیک امریکی ہوم لینڈ سیکوریٹی کے وزیر جان کیلی نے منافرت کی وجہ سے ہونے والے تشدد کی سخت مذمت کی ہے اور انہوںنے وعدہ کیاہے کہ امریکی حکومت ان حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گی جن کے شہری تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ سشما سوراج نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ امریکی معاشرے کے تمام طبقوں نے ان واقعات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ یہ بات ہمیں یہ یقین دہانی کراتی ہے کہ مختلف واقعات کے باوجو د امریکی سماج دونوں ممالک کے لوگوں کے باہمی رابطے کو اہمیت دیتا ہے۔ وزیر خارجہ نے لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند امریکہ میں ہندوستانیوں پر حملہ پر ہنوز چوکسی اختیار کئے ہوئے ہے اور بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کے مفادات کی حفاظت کے لئے ہر ممکنہ اقدامات کرے گی لیکن سشما سوراج نے ہندوستانیوں کو سفر امریکہ سے احتراز کا مشورہ دینے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اس ایوان اور ارکان کو دوبارہ تیقن دینا چاہتی ہوں کہ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی حفاظت و صیانت حکومت ہند کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے۔ ہم ہونے والے ان تمام تبدیلیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں جو ہندوستانیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وزیر خارجہ سشماسوراج نے9مارچ کو لوک سبھا وقفہ صفر کے دوران بشمول کانگریس کے ملیکار جن کھرگے دیگر ارکان کے اس الزام پر کہ امریکہ میں ہندوستانیوں پر ہورہے حملوں پر حکومت ہند بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی نے خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ اس کا جواب دیتے ہوئے سشما سوراج نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے کام کرنے کا طریقہ نہیں ہے ، انہوں نے استفسار کیا کہ کوئی ایک ایسا واقعہ بھی نہیں ہے جس میں کسی ہندوستانی پر بیرونی ممالک میں حملہ ہوا ہو یا کوئی بڑا مسئلہ کھڑا ہوا ہو تو مودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے خاموشی اختیار کی ہے۔سشما سوراج نے کہا کہ جب کوئی ایک واقعہ بھی ہندوستانیوں کے خلاف ہوا ہے جب وزیر اعظم نریندرمودی انتخابی مہم میں شریک تھے لیکن انہوں نے ہر روز مجھ سے استفسار کرتے رہے کہ وزارت خارجہ کیاکررہی ہے ۔ اس طرح کے ایک سوال ارکان نے اٹھایا تھاکہ آیا امریکہ میں مقیم ہندوستانیوں کے لئے یا امریکہ کا سفر کرنے والے ہندوستانیوں کے لئے سفر میں احتیاط برتنے کی ہدایت دی جائے، اس پر میں کہنا چاہتی ہوں کہ ہندوستانیوں پر حملے کے بعد امریکہ کی سیاسی قیادت اور قانون نافذ کرنے والے حکام نے اس واقعہ پر کھلے اور واضح پیامات روانہ کئے ۔ اس کے علاوہ امریکہ بھر میں بڑے پیمانہ پر ہمدردی اور تائید حاصل ہوئی جس سے ہندوستان کے تئیں امریکی عوام کے جذبات کا پتہ چلتا ہے ۔
Modi says welfare of Indians abroad top priority for govt.

صدر جمہوریہ سے اسکالرس ، مصنفین اور فنکاروں کی ملاقات
نئی دہلی
پی آئی بی
راشٹر پتی بھون کے ان ریزیڈینس پروگرام کا حصہ رہنے والے10جدت طرز اسکالرس، دو مصنفین اور دو فنکاروں نے چہار شنبہ کو راشٹر پتی بھون میں صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پرنب مکرجی نے کہا کہ ان ریزیڈینس فنکارو، مصنفین اور جدت طراز اسکالرز ہمارے لئے خاص ہیں کیونکہ وہ جدت طراز انہ حساس اور تصوراتی ذہن رکھتے ہیں جو وقت ، جگہ اور ماحول کے حدود و قیود سے ماورا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی تخلیقات کے اثرات ابدی ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ ان کے دور صدارت کے دوران ان ریزیڈینس پروگرام نے اس میں شامل ہونے والے افراد کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ایک موقع فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان ریزیڈینس پروگرام کے تصوراتی اور حساس ذہن کے حامل شرکاء ہندوستان کی روح کو متحد رکھنے کا کام انفرادی طور پر کرتے رہے ہیں۔ لہذا وہ ہمارے لئے خاص ہیں ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان ریزیڈینس پروگرام کے یہ شرکاء جب اپنے آبائی جگہوں پر جائیں گے تو وہ اپنے ملک ہندوستنا کو جس طریقہ سے دیکھتے ہیں اور ملک کی بہتری اور خوشحالی میں جس طریقہ سے وہ تعاون دے سکتے ہیں ، اس میں ایک نئی جہت کا اضافہ کریں گے ۔ صدر جمہوریہ کی سکریٹری محترمہ اومیتاپول نے کہا کہ اپنے عہدے کی ذمہ داری سنبھالتے وقت صدر جمہوریہ کاوین تھا کہ ہندوستان میں جدت طرازی کو ایک تحریک کی شکل اختیار کرلینی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی مسرت آمیز کہ ان کا یہ تصور حقیقت کی شکل لے رہا ہے ۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جدت طرازی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور مستقبل میں یہ مزید رفتار حاصل کرے گا۔ نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن کے نائب صدر جناب انل گپتا نے کہا کہ جناب پرنب مکرجی کے دور صدارت میں جدت طرازی کی ایک روایت قائم ہوئی ہے اور یہ پیغام ہر طرف گیا ہے کہ تخلیقی صلاحیتوں کی اپنی اہمیت ہے ۔ ان ریزیڈینس پروگرام کے شرکاء نے بھی اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

0 comments:

Post a Comment