Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-03-17 - بوقت: 20:03

کسی بھی رکن کو بیکار بیٹھنے نہیں دیا جائے گا - وزیراعظم مودی

Comments : 0
’’کام کرتا رہوں گا‘ کسی کو بے کار بیٹھنے نہیں دوں گا‘‘
بی جے پی پارلیمانی اجلاس سے وزیر اعظم نریندر مودی کا خطاب
نئی دہلی
آئی اے این ایس، پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا ہے کہ وہ کام کرتے رہنا چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ دوسرے بھی ایسا ہی کریں ۔ انہوں نے بی جے پی پارلیمانی پارٹی اجلاس سے خطاب کیا جہاں اسمبل انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی پر انہیں تہنیت بھی پیش کی گئی۔ ایک بی جے پی لیڈر جس نے میٹنگ میں شرکت کی، کہا کہ مودی جی کا کہنا ہے کہ وہ کام کرتے رہیں گے ۔ انہوں نے ہم سے بھی ایسا ہی کرنے کے لئے کہا۔ انہوںنے کہا کہ وہ بے کار نہیں بیٹھیں گے اور نہ ہی کسی کو بیٹھنے دیں گے ۔ وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے میڈیا کو بتایا کہ وزیر اعظم نے بی جے پی ارکان سے اپیل کی کہ وہ نوجوانوں کو حکومت کے فلاحی کاموں کا سفیر بنائیں۔ کمار کے مطابق مودی نے کہا کہ نوجوان، اخبارات ٹی وی چیانلوں سے زیادہ موبائل فونس پر انحصار کرتے ہیں تاکہ معلومات حاصل کرسکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان نوجوانوں تک رسائی کے لئے اس ذریعہ سے استفادہ کیاجائے ۔ بی جے پی نے6اپریل( جب پارٹی کی تشکیل عمل میں آئی تھی) سے14اپریل( بی آر امبیڈکر کا یوم پیدائش) تک مختلف ملک گیر پروگراموں کا منصوبہ بنایا ہے ۔ وزیر اعظم نے پارٹی قائدین سے کہا کہ وہ اس ہفتہ کے دوران کام کریں تاکہ بھیم اپلیکیشن کے استعمال میں اضافہ کیاجاسکے ۔ واضح رہے کہ یہ ایک ڈیجیٹل ادائیگی کا اپلیکشن ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ عوام کو اس کے بارے میں بتاتے ہوئے اور اسے ڈاؤن لوڈ کرنے میں ان کی مدد کرتے ہوئے پارٹی کارکن کام کریں۔ مودی نے پارٹی قائدین سے یہ بھی خواہش کی کہ وہ امبیڈکر کے کام اور خدمات کی بھی تشہیر کریں ۔ اس اجلاس میں بی جے پی صدر امیت شاہ بھی شریک تھے جس میں2019ء کے لوک سبھا انتخابات کی بنیاد رکھی گئی۔ امیت شاہ نے کہا کہ ریاستی اسمبلی انتخابات میں پارٹی کی کامیابی ذات پات، اقربا پروری اور خوشامد کے خلاف عوام کے ووٹ کا نتیجہ ہے ۔
Won't sit idle, won't let you sit idle, PM says at BJP meet

وینکیا نائیڈو کو راجیہ سبھا میں اپوزیشن کی برہمی کا سامنا
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سینئر وزیر وینکیا نائیڈو کو راجیہ سبھا میں اس وقت اپوزیشن کی برہمی کا سامنا کرنا پڑا جب وہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت کی تنقید کو غلط بتانے کے لئے بیان دینے کھڑے ہوئے۔ اپوزیشن نے کہا تھا کہ گیہوں کی بمپر فصل ہوئی ہے اور ڈیوٹی فری برآمدات کی اجازت دی گئی ہے۔ وقفہ صفر کے دوران وزیر شہری ترقیات کی جانب سے اپوزیشن کی تنقید کو غیر منصفانہ بتائے جانے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ الفاظ کا تبادلہ عمل میں آیا۔ اپوزیشن نے کہا تھا کہ حکومت نے کسانوں کی ان کی فصل کی دیڑھ گنا لاگت کے مساوی اقل ترین قیمت ادا کرنے کے وعدہ کو پورا نہیں کیا۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے دریافت کیا کہ وقفہ صفر میں وزیر کیوں غیر ضروری مداخلت کررہے ہیں جب کہ قواعد کے مطابق وقفہ صفر کے دوران ارکان کو وقت دیاجاتا ہے کہ وہ عوامی مفاد سے متعلق مسائل اٹھائیں ۔ مزید برآند مداخلت کرنا ان کا کام نہیں ہے کیونکہ نہ تو وہ وزیر زراعت ہیں اور نہ ہی وزیر پارلیمانی امور جو متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی میں رد عمل ظاہر کردیں۔ انہوں نے نائیڈو سے کہا کہ آپ مداخلت کرنے کے عادی بن گئے ہیں۔ نائب صدر نشین پی جے کورین نے کہا کہ وزراء کا رد عمل دینے کا حق ہے لیکن کیا پالیسی مسائل پر حکومت پر تنقید اور حملہ ارکان کا حق ہے اور کیا وہ ایسا کرسکتے ہیں ۔ قاعدہ2670کے تحت ان کی تحریک التوا کو وقفہ صفر میں ذکر کرنے سے تبدیل کرنے کے بعد اس مسئلہ کو اٹھاتے ہوئے شرد یادو( جے ڈی یو) نے کہا کہ کسانوں کو زبوں حالی میں گیہوں اور دالوں کی فروخت پر مجبور کیاجارہا ہے کیونکہ کسی سال بمپرفصل ہونے پر صفر ڈیوٹی درآمد کی اجازت دی گئی ہے ۔ گیہوں کے لئے جہاں اقل ترین امدادی قیمت( ایم ایس پی) فی کنٹل1625روپے مقرر کی گئی ہے وہیں منارکٹ میں موجودہ نرخ1550روپے ہے ۔ اسی طرح ایم ایس پی جس کا سلسلہ مختلف دالوں کے لئے فی کنٹل 4527تا4850روپے ہے موجودہ نرخ فی کنٹل3400تا3500روپے ہے ۔ ان کی تمام اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان نے تائید کی ۔ سی پی ایم۔ ایم کے پتن سین نے گیہوں کی صفر ڈیوٹی بر آمدات کے احکام کومنسوخ کرنے کامطالبہ کیا۔ جب اس مسئلہ سے کانگریس، ایس پی اور بائیں بازو پارٹیوں ے ارکان جڑے رہے ، نائیڈو یہ کہنے کے لئے کھڑے ہوئے کہ اپوزیشن پارٹیاں بحث کے لئے نوٹس دے سکتی ہیں، لیک یہ بات غیر مناسب ہے کہ حکومت پر حملہ کیاجائے اور اس کے مقاصد پر استفسار کیاجائے ۔ آزاد نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ وقفہ صفر کے دوران ایسا کرنے کا حق رکھتے ہیں ۔ جب نائیڈو بات کررہے تھے تب دیگر اپوزیشن ارکان بھی استفسار کرنے میں شامل ہوگئے ۔ تاہم ان سے متاثر ہوئے بغیر نائیڈو نے کہنا جاری رکھا کہ وزراء کا ایک گروپ مسئلہ پر تبادلہ خیال کررہا ہے اور مناسب وقت پر مناسب فیصلہ کیاجائے گا۔ انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ الزامات عائد نہ کریں ۔ اس پر اپوزیشن ارکان مزید برہ ہوگئے جس پر کورئین کو مداخلت کرنی پڑی ۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ وقفہ صفر میں کوئی بھی مسئلہ اٹھا سکتے ہیں اور وزراء کا حق ہے کہ وہ رد عمل کریں۔ جب وزیر رد عمل دینے کے لئے کھڑا ہوتب ارکان کا فرض ہے کہ وہ انہیں سنیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب ارکان پارلیمنٹ کوئی مسئلہ اٹھاتے ہیں تب وزراء کے لئے یہ بات فطری ہے کہ وہ رد عمل دیں ۔ آزاد نے کہا کہ نائیڈو نہ تو متعلقہ وزیر ہیں اور نہ ہی وزیر پارلیمانی امور جو متعلقہ وزیر کی عدم موجودگی میں رد عمل ظاہر کریں ۔ یچوری نے کہا کہ ارکان کو مسائل اٹھانے اور حکومت پر تنقید کرنے کا حق ہے ۔ وزیر پارلیمانیا مور اننت کمار نے کہا کہ کوئی بھی سینئر وزیر یقینا ارکان کی تشویش پر رد عمل ظاہر کرسکتا ہے اور نائیڈو نے بھی یہی کیا ہے ۔ اس کے بعد ایوان میں سکون بحال ہوا اور شیڈول کے مطابق کارروائی شروع کی گئی۔

منوہر پاریکر نے گوا اسمبلی میں فلور ٹسٹ جیت لیا
پنجی
پی ٹی آئی، آئی اے این ایس
منوہر پاریکر حکومت نے آج گوا اسمبلی میں40کے منجملہ22ارکان کی تائید سے فلور ٹسٹ میں کامیابی حاصل کرلی جس کے ساتھ ہی ریاست میں سیاسی غیر یقینی کی کیفیت ختم ہوگئی جو انتخابات کے بعد معلق اسمبلی وجود میں آنے سے پیدا ہوئی تھی۔ کانگریس کو جو17ارکان اسمبلی کے ساتھ ایوان میں سب سے بڑی جماعت ہے ، اس وقت دھکا لگا جب وہ حکومت کے خلاف صرف سولہ ووٹ جٹا پائی کیونکہ اس کے رکن اسمبلی وشوا جیت رانے اس اہم فلور ٹسٹ سے غیر حاضر رہے ۔ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد بے حد خوش نظر آرہے پاریکر نے کہا کہ کانگریس کو کبھی اکثریت حاصل نہیں تھی ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے تشکیل حکومت کے مسئلہ پر بھی جے پی کی کوششوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا کیونکہ ڈگ وجئے سنگھ سے یہ مطالبہ کیا جارہا تھا کہ وہ اے آئی سی سی جنرل سکریٹری کے عہدہ اور ریاست کے انچارج کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیں۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے ہندوستان کے عوام پر یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمیں ایوان میں23ارکان کی تائید حاصل ہے جس کے نتیجہ میں ڈگ وجئے سنگھ کا یہ دعویٰ کالعدم ہوگیا ہے کہ ہمارے پاس درکار اعداد و شمار نہیں ہیں ۔ چیف منسٹر نے دعویٰ کیاکہ شروع سے ہی کانگریس کے پاس درکار اعداد و شمار نہیں تھے اور انہوں نے صرف اس کی تشہیر کی تھی ۔ شاید اس لئے دگ وجئے سنگھ سے یہ مطالبہ کیا جارہا تھا کہ وہ پارٹی کے جنرل سکریٹری اور ریاستی انچارج کے عہدہ سے مستعفیٰ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا صرف اس وقت ہوتا ہے جب آپ کام کرنے کے لئے نہیں بلکہ صرف لطف اندوز ہونے کے لئے گوا آئیں ۔ منوہر پاریکرکے ہمراہ گوا فارورڈ پارٹی کے لیڈر وجئے سر دیسائی اور مہاراشٹرا وادی گومنتک پارٹی کے رکن اسمبلی سدین دھوالیکر بھی تھے جن کی تائید کے سبب بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا۔ واضح رہے کہ حالیہ انتخابات میں بی جے پی کی نشستیں21سے گھٹ کر13ہوگئی تھین۔61سالہ چیف منسٹر نے بی جے پی کے بارہ ارکان اسمبلی، جی ایف پی کے تین، ایم جی پی کے تین، تین آزاد اور این سی پی کے ایک رکن کی تائید سے اپنی اکثریت ثابت کردی ۔ قبل ازیں ایک بی جے پی رکن اسمبلی کو عبوری اسپیکر مقرر کیا گیا تھا ۔سپریم کورٹ کے احکام کے تحت فلور ٹسٹ کے لئے یہ خصوصی اسمبلی اجلاس منعقد کیا گیا تھا۔ اپوزیشن ارکان میں کانگریس کے سولہ ارکان بھی شامل تھے جب کہ اس کے نو منتخب رکن اسمبلی وشوا جیت رانے ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔ عبوری اسپیکر سدھارتھ کنکولکر کے احکام پر واضح تقسیم کے ذریعہ فلور ٹسٹ کامیاب کیا گیا۔ پاریکر جنہوں نے جاریہ ہفتہ کے اوائل میں وزیر دفاع کے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا تھا، گورنر مردولا سنہا نے انہیں14مارچ کو دیگر نو ارکان اسمبلی کے ساتھ چیف منسٹر کے عہدہ کا حلف دلایا تھا۔ پاریکر نے کانگریس کی جانب سے بی جے پی کے خلاف سودے بازی کے الزامات بھی مسترد کردیے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں بے بنیاد الزامات عائد کئے جارہے ہیں ۔رنگین چشمے پہنے ہوئے لوگ یہ الزامات عائد کررہے ہیں ۔ ہم نے دیکھا کہ ہر شخص(رکن اسمبلی) رضا کارانہ طور پر آگے آرہا تھا اور ووٹ دے رہا تھا۔ کسی کو بھی ہوٹل یا کسی الگ تھلگ مقام پر نہیں رکھا گیا جیسا کہ اپوزیشن کے ساتھ معاملہ تھا۔ مرکزی وزیر نتن گڈ کری جنہوںے اتحاد تشکیل دینے میں کلیدی رول ادا کیا ۔ کہا کہ گوا میں تشکیل حکومت ایک مناسب معاملہ ہے اور اس میں کوئی غلطی نہیں کی گئی۔
پنجی
آئی اے این ایس
کانگریس قائد بسوا جیت رانے آج کانگریس اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ۔ قبل ازیں ایوان میں فلور ٹسٹ کے دوران وہ غیر حاضر رہے تھے ۔ رانے نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ اسپیکر کے دفتر کو روانہ کردیا ہے اور اسے قبول کرلیا گیا ہے ۔ رانے کہا میرے پارٹی کارکنوں اور حلقہ کے عوام نے مجھ سے خواہش کی تھی کہ میں کانگریس سے مستعفیٰ ہوجاؤں جس کا یہ مطلب تھا کہ میں رکن اسمبلی کی حیثیت سے بھی مستعفی ہوجاؤں ۔ گزشتہ چند روز سے رانے کانگریس قیادت بشمول ریاستی صدر لوئی زنہو فلیریو اور کانگریس جنرل سکریٹری ڈگ وجئے سنگھ پر یہ الزام عائد کرتے رہے تھے کہ انہوں نے4فروری کے انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرنے کے باوجود کانگریس کے اقتدار پر آنے کی کوششوں کو سبو تاج کیا ہے ۔ رانے کہ کہا کہ اگر نائب صدر راہول گاندھی مداخلت نہ کریں اور ایسے غیر کار کرد افراد کے خلاف کارروائی نہ کریں تو ملک بھر میں مجھ جیسے کانگریسی پارٹی سے مستعفی ہوجائیں گے ۔ واضح رہے کہ رانے کے والد پرتاپ سنگھ را نے بھی کانگریس قائد اور سابق چیف منسٹر رہ چکے ہیں۔

بھنسالی کی فلم’پدماوتی‘ کے سیٹ کو آگ لگا دی گئی
کولہا پور
یو این آئی
ہندی فلموں کے معروف پروڈیوسر و ڈائرکٹر سنجے لیلا بھنسالی کی فلم’’لیچنڈ آف پدماوتی‘ کے فلمی سیٹ کو آج چندنامعلوم نوجوانوں نے آگ لگا دی ۔ یہ واقعہ آج صبح مہاراشٹرا کے ضلع کولہا پور میں واقع تاریخی قلعہ پنہالا کے قریب مسائی پتھر( سطح مرتفع) پر قائم کردہ فلم سیٹ پر پیش آیا ۔ پنہالہ پولیس کے بموجب چند نامعلوم نوجوانوں جس مقام پر فلم کی شوٹنگ کی جاتی ہے وہاں داخل ہوکر آگ لگا دی ۔ اس واقعہ میں فلم سیٹ، خیمہ، کپڑے، ڈریسس اور فلم کی شوٹنگ کا دیگر سامان خاکستر ہوگیا ۔ اس واقعہ میں کئی اشیاء بشمول فلم میں اداکاروں کے استعمال کے کپڑے، ڈریسس اور دیگر سازو سامان مکمل طورپر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا۔ ان نوجوانوں نے فلم سیٹ کو آگ لگانے کے لئے پٹرول بموں کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ پتھراؤ کرتے ہوئے وہاں ٹھہری ہوئی کاروں، ٹرک اور دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ۔ کارروائی کے بعد ان نوجوانوں نے اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہاں سے کامیابی کے ساتھ فرار ہوگئے ۔ اس واقعہ میں وہاں ڈیوٹی انجام دینے والا ایک سیکوریٹی گارڈ زخمی ہوگیا۔ تاہم پولیس نے ہنوز کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ماہ جنوری کے دوران جئے گڑھ قلعہ میں اسی فلم کی شوٹنگ کے دوران شری راجپت کرنائی سینا نے احتجاج کرتے ہوئے فلم سیٹ پر توڑ پھوڑ کی تھی ۔ اس فلم میں دپیکا پڈکون، رنویر سنگھ اور شاہد کپور اہم کردار ادا کررہے ہیں ۔

0 comments:

Post a Comment