Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-03-06 - بوقت: 19:38

ملک میں قرض نادہندوں کے نام شائع کرنے کی وکالت - پی اے سی

Comments : 0
5/مارچ
ملک میں قرض نادہندوں کے نام شائع کرنے کی وکالت: پی اے سی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ملک کے عوامی شعبہ کی بینکوں میں غیر فعال اثاثہ( این پی اے) میں اضافہ ہوکر6.لاکھ کروڑ سے متجاوز ہونے پر اہم پارلیمنٹری پیانل نے بینکوں کو قرضوں واپس نہ کرنے والے کارپوریٹ گھرانوں کے ناموں کا افشاء کرنے کی تائید کی ہے۔ صدر نشین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی وی کے تھامس نے امید ظاہر کی کہ قرض ادا نہ کرنے والے بڑے صنعتی گھرانوں کے ناموں کا افشاء کرنے مالیاتی ادارے ان گھرانوں سے اپنی رقم واپس حاصل کرسکتے ہیں ۔ عوامی شعبہ کی6.8لاکھ کروڑ غیر فعال اثاثوں میں سے70فیصد سے زائد بڑے کارپوریٹ گھرانوں قرض نا دہندے ہیں۔ تھامس نے مزید کہا کہ بمشکل ایک فیصد قرض نا دہندوں کا تعلق کسانوں سے ہے ۔ کسانوں اور چھوٹے بیوپاریوں کے معاملہ میں بینکس سخت کارروائی کرتے ہیں اور ان کے مکانات کو قرض کی ادائیگی میں قرق کرلیتے ہیں۔ یہاں تک کہ بینک اخبارات میں ان چھوٹے قرض نا دہندوں کے ناموں کو ان کی تصاویر کے ساتھ شائع کرتے ہیں۔ لیکن جہاں کارپوریٹ گھرانوں کا تعلق ہے ، بینک ان کے ناموں کو تک ظاہر نہیں کرتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان بڑے قرض نا دہندگان کے ناموں کو شائع کیاجائے ، جنہوں نے بینکوں سے قرض حاصل کیا ہے اور ان کے ناموں کو بجٹ سشن کے اختتام سے قبل لوک سبھا میں پیش کیاجائے۔ پانچ ہفتہ طویل پارلیمنٹ کے بجٹ سشن کے دوسرے دور کا 9مارچ سے آغاز عمل میں آرہا ہے ۔ پی اے سی نے خود سے کارروائی کرتے ہوئے عوامی بینکوں کے قرض نا دہندگان سے متعلق اطلاعات تنقیح کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان مسئلہ کو اٹھانے اور اس کے حل کی ضرورت ہے ۔ وی کے تھامس نے کہا کہ ہم نے بشمول انڈین اوورسیز بینک، انڈین بینک اور الہ آباد بینک چند عوامی شعبہ کی بینکوں کے صدور نشین اور منیجنگ ڈائرکٹرس سے ملاقات کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ تھامس نے کہا کہ بینک نے پی اے سی سے کہا ہے کہ بڑے کارپوریٹ گھرانوں نے انفراسٹرکچر سے متعلق مختلف شعبوں جیسے شہری ہوا بازی، برقی اور سڑکوں کی تعمیر جیسے کاموں کے لئے قرض حاصل کئے ہیں۔ بینکوں کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ ان بڑے کارپوریٹ گھرانوں کو قرضوں کی فراہمی سے قبل کس طرح کی ضمانت حاصل کی گئی تھی اور قرض کی واپسی کے لئے کیا منصوبہ تیار کئے گئے تھے ۔ قرض نا دہندگان کی تعداد میں اضافہ ہمارے لئے تشویش کا باعث ہے ۔ ہم این پی اے سے متعلق اپنی تفصیلی رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کریں گے ۔ توقع ہے کہ یہ رپورٹ بجٹ سشن کے اختتام سے قبل پارلیمنٹ میں پیش کریں گے ۔ گزشتہ ماہ راجیہ سبھا میں حکومت کے ایک جواب کے مطابق30ستمبر2016ء تک مختلف شیڈول کمر شیل بینکس کی جانب سے غیر فعال اثاثہ جات( این پی اے)6,65,864کروڑ روپے ہیں۔ وزارت فینانس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں97,356کروڑ روپے کے غیر فعال اثاثہ جات ملک کی سب سے بڑی قرض دہندہ بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے ہیں، اس کے بعد بینک آف پنجاب کا نمبر آتا ہے جس کے غیر فعال اثاثۃ جات54,640کروڑ ہیں، بینک آف انڈیا کے44,040کروڑ بینک آف بڑودہ کے35,467کروڑ، کنارا بینک31,466کروڑ روپے ، یونین بینک آف انڈیا27,891کروڑ روپے، آئی ڈی بی آئی بینک لمٹیڈ25,718الہ آباد بینک18852کروڑ روپے اور نٹیل بینک آف کامرس18,383کروڑ روپے ہیں ۔
NPAs at Rs 6.8 lakh crore: PAC for naming and shaming defaulters

کشمیر میں12گھنٹے طویل انکاؤنٹر،2انتہا پسند اور ایک کانسٹبل ہلاک
سری نگر
پی ٹی آئی
جنوبی کشمیر کے ترال میں بندوقوں کی زبردست لڑائی میں جو تقریبا بارہ گھنٹے جاری رہی، دو عسکریت پسند اور ایک پولیس ملازم ہلاک ہوگئے ۔ ایک عسکریت پسند حزب المجاہدین کا کمانڈر تھا جس کی شناخت عاقب بھٹ عرف عاقب مولوی کی حیثیت سے ہوئی ہے جو علاقہ میں گزشتہ تین برس سے سرگرم تھا۔ دوسرا عسکریت پسند سیف اللہ عرف اسامہ پاکستانی دہشت گرد تھا، جو جیش محمد کے لئے کام کررہاتھا۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی ، اری کا ایک پولیس کانسٹبل منظور احمد نائک بھی مارا گیا جس نے دلیرانہ مقابلہ کیا تھا۔ انکاؤنٹر کل شام سات بجے شروع ہوا اور آج صبح ساڑھے چھ بجے تک جاری رہا۔ عہدیداروں نے یہ با بتائی ۔ عاقب مولوی نے سیکوریٹی فورسیس کی جانب سے گھیرے جانے کے بعد آج صبح کی اولین ساعتوں مین اپنے باپ کو فون کیا اور ان سے وداعی کلمات کہے۔ وہ مقامی شہری تھا اور اس کا آبائی مکان ترال میں واقع ہے ۔ سیکوریٹی فورسیس کا جانکاری ملی تھی دو عسکریت پسند ایک بڑھئی کے مکان میں چھپے ہوئے تھے ۔ پولیس ، فوج اور سی آڑ پی ایف نے مکان کو گھیر لیا ۔ عسکریت پسندوں سے پہلی مڈ بھیڑ کل شام لگ بھگ سات بجے ہوئی۔ اس کے بعد سے فائرنگ کا تبادلہ مسلسل جاری رہا۔ ترال ٹاؤن برہان وانی کے باعث مشہور ہوا تھا۔ ترال میں کشیدگی جاری ہے کیونکہ لوگ سڑکوں پر اکٹھا ہونے لگے تھے وہ عسکریت پسندوں کو بچانے یا انہیں بچ نکلنے کا راستہ فراہم کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ سیکوریٹی فورسس پر سنگباری کی گئی لیکن پولیس او رسی آر پی ایف نے ہجوم کومار بھگاکر صورتحال پر قابو پالیا۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ ان جھڑپوں کے دوران بعض شر پسندوں نے ایک سی آر پی ایف جوان سے اس کی انساس رائفل چھین لی۔ فوجی میجر آررشی کو گولی لگی ۔ فوجی میجر کو آرمی بیس ہاسپٹل لے جایا گیا جہاں اس کی حالت خطرہ سے باہر بتائی جاتی ہے ۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس جموں و کشمیر ایس پی وید نے بتایاکہ منظور بہادر سپاہی تھا وہ جموں و کشمیر پولیس کے اسپییشل آپریشن گروپ سے وابستہ تھا۔ اس نے دلیرانہ مقابلہ کیا۔ آپریشن نہایت پروفیشنل طریقہ سے کیاگیا جس میں انسانی جانوں کا کم سے کم نقصان ہوا۔ دونوں عسکریت پسندوں کا صفایا کردیا گیا جن میں ایک غیر ملکی تھا۔ جموں و کشمیر کے 33سالہ پولیس کانسٹبل جو عنقریب باپ بننے والا تھا عسکریت پسندوں کو ترال کے مکان سے نکال باہر کرنے کی دوسری کوشش میں اپنی جان گنوائی۔ کانسٹبل منظور احمد نائک دو مرتبہ عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرنے آگے بڑھ گیا تھا ۔ اسالٹ رائفلوں سے گولیوں کی تابڑ توڑ فائرنگ کی پروانہ کرتے ہوئے وہ رینگتا ہوا آگے بڑھتا چلا گیا اس نے مکان کے اطراف سڑک کیت عمیر کے لئے استعمال کی جانے والی دھماکو اشیاء نصب کردیں۔ پیچھے ہٹتے وقت وہ اے کے 47رائفلوں سے چلنے والی گولیوں کی زد میں آگیا۔ اس نے جو دھماکو اشیاء نصب کی تھیں اس سے مکان کا صرف نصف حصہ منہدم ہوا۔ بعد ازاں فائرنگ کا زبردست تبادلہ جاری رہا۔ منظور احمد نائک کو چار سالہ بیٹا آرزو ہے ۔ اس کی بیوی حاملہ ہے اور دو بھائی بے روزگار ہیں۔ وہ اری کے سلام آباد کا رہنے والا تھا ۔ وہ اپنے خاندان کی کفالت کا واحد سہارا تھا۔ اس نے قبل ازیں اپنے سینئر عہدیداروں سے کہا تھا کہ وہ رخصت پر جانے والا ہے کیونکہ اس کی بیوی حاملہ ہے ۔ آئی اے این ایس کے بموجب جموں و کشمیر میں سیکوریٹی فورسس کے ساتھ پندرہ گھنٹوں کی بندوقوں کی لڑائی میں ایک پاکستان کے بشمول دو عسکریت پسندمارے گئے ۔ ایک پولیس ملازم بھی ہلاک ہوا۔ پولیس نے اتوار کو یہ بات بتائی ۔ وادی کشمیر کے ترال ٹاؤن میں ہفتہ کی شام شروع ہونے والی لڑائی میں دیگر چھ سیکوریٹی ملازمین بشمول ایک فوجی میجر زخمی ہوئے ۔ ڈائرکٹر جنرل پولیس ایس پی وید نے میڈیا کو بتایا کہ ایک چھاپ مار کی شناخت ایک پاکستانی کے طور پر ہوئی ہے جب کہ دوسرا عاقب مولوی ، حزب المجاہدین کا مقامی کمانڈر تھا ۔ عسکریت پسندوں نے جس مکان کو محفوظ بن کر کے طور پر استعمال کیا اسے سیکوریٹی فورسس نے دھماکو آلہ کے ذریعہ منہدم کردیا۔ پولیس نے یہ بات بتائی ۔ بندوقوں کی لڑائی کے بعد، دیہاتیوں کی سیکوریٹی فورسس سے جھڑپیں ہوئیں۔

آدھار کے اعداد و شمار سخت حفاظت میں: یو آئی ڈی اے
نئی دہلی
پی ٹی آئی
بائیو میٹرک اعداد و شمار کے غلط استعمال کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے حکومت نے آج کہا کہ آدھارپر مبنی صداقت نامہ مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ مزید برآں کہ آدھار کارڈ سے منسلک سبسیڈی کی منتقلی کے باعث گذشتہ ڈھائی برسوں میں سرکاری خزانہ کو49ہزار کروڑ روپے کی بچت ہوئی ۔ یونک آئیڈنٹی فکیشن اتھارٹی آف انڈیا( یو آئی ڈی اے آئی) کے مطابق آدھار کارڈ میں دی گئی اطلاعات اور شناخت کا سرقہ یا مالیاتی نقصانات سے متعلق ابھی تک کوئی معاملہ سامنے نہیں آیا۔ جب کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران زائد از 400کروڑ آدھار سے متعلق مالیاتی منتقلی کے معاملات کئے گئے ۔ یو آئی ڈی اے آئی کے مطابق مختلف رپورٹس پر توجہ کے ساتھ غور کرتے ہوئے اس بات کو اہمیت دی گئی ہے کہ یو آئی ڈی اے آئی کے انفرادی اعداد و شمار کو افشاء نہ ہوپائے۔ اس طرح آدھار پر مبنی اطلاعات اور اعداد و شمار مکمل طور پر محفوظ اور صیانت میں ہیں۔ آدھار پر مبنی اطلاعات اور اعداد و شمار دیگر متوازی نظام کے مقابل میں بے حد محفوظ اور صیانت میں ہیں۔آدھار سسٹم میں اطلاعات و اعداد و شمار سے متعلق معلومات کا حصل یا بائیو میٹرک و شناخت کے سرقہ کو ابتداء سے ہی روکنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اخبارات میں بائیو میٹرک اطلاعات کے غلط استعمال سے متعلق اطلاع کا حوالہ دیتے ہوئے یو آئی ڈی اے نے کہا کہ یہ بینک کے بزنس کرسپانڈنٹ کی حیثیت سے کام کرنے والے ایک ملازم کی جانب سے کیا گیا علیحدہ معاملہ ہے جس میں اس نے اپنے خود کے بائیو میٹرک اعداد و شمار کا غلط استعمال کیا ہے جس کا یو آئی ڈی اے آئی کی داخلی سیکوریٹی نظام نے پتہ لگایا اور فوری طور پر آدھار قانون کے تحت کارروائی کی گئی ۔ یو آئی ڈی اے آئی نے کہا کہ آدھار قانون کے تحت سخت قواعدو ضوابط لاگو ہیں جس میں اس کمپنی پر اعداد و شمار کی اطلاعکسی وک دینے پر روک لگا دی گئی ہے اور جو آدھار کارڈ کی اطلاعات محفوظ رکھتی ہے۔

0 comments:

Post a Comment