Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-03-03 - بوقت: 20:29

سوچ اور اظہار خیال کی آزادی بنیادی حقوق میں شامل - صدرجمہوریہ

Comments : 0
سوچ اور اظہار خیال کی آزادی بنیادی حقوق میں شامل: صدرجمہوریہ
کوچی
پی ٹی آئی
صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے یونیورسٹی کیمپسوں میں آزاد سوچ کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبا اور اساتذہ کو دلائل پر مبنی مباحثے کرنا چاہئے ۔ لیکن بد امنی کے کلچر کو ہوا نہیں دینی چاہئے ۔ انہوںنے یہ بھی کہا کہ طلبا کو تشدد اور گڑ بڑ میں ملوث دیکھنا افسوس کی بات ہے۔ انہوں نے نئی دہلی یونیورسٹی میں آر ایس ایس سے ملحقہ اے بی وی پی اور بائیں بازو کی تائید کی حامل اے آئی اے ایس اے کے حامیوں کے درمیان جاری کشمکش کے پس منظرمیں یہ بات کہی ۔ اس کشمکش کے دوران آزادانہ سوچ اور قوم پرستی پر ایک بحث شروع ہوگئی ہے ۔ یونیورسٹی کی طالبہ گر مہر کور کے ٹویٹس کے بعد یہ بحث تیز ہوگئی ہے ۔ پرنب مکرجی نے چھٹا کے ایس راجہ مونی لکچر دیتے ہوئے یہ بات کہی ۔ ملک میں یونیورسٹیوں کے قدیم اور شاندار تہذیب کو نمایاں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کے ہمارے اہم ادارے وہ گاڑیاں ہیں جن کے ذریعہ ہندوستان کو علم پر مبنی معاشرے بنانے چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ علوم کے مراکز کو آزادسوچ اور تخلیق کے مراکز ہونا چاہئے ۔ پرنب مکرجی نے خواتین پر حملوں ، عدم رواداری اور سماج میں خامیوں کے استحصال کے خلاف خبر دار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر روادار ہندوستانی کی کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے کیونکہ یہ ملک زمانہ قدیم سے ہی آزاد سوچ، تقریر اور اظہار کا مرکز رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تقریر اور اظہار کی آزادی وہ بنیادی حقوق میں شامل ہیں جن کی ضمانت ہمارے دستور نے دی ہے ۔ جائز تنقید اور اختلاف کی گنجائش ہونی چاہئے ۔ صدر جمہوریہ نے کہا کہ ہندوستان کی معیشت اس مالی سال7.5فیصد کی زیادہ شرح سے ترقی کرے گی۔
No place for an intolerant Indian in the country: President Pranab

حکومت، یونیورسٹیز کو لیباریٹری میں تبدیل کررہی ہے ۔ شرد یادو کا انتباہ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سینئر رکن پارلیمنٹ اور جنتادل یونائیٹیڈ کے قائد شرد یادو نے نریندر مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ملک بھر کے یونیورسٹی کیمپسوں کو جذباتی مسائل جیسے قوم پرستی اور اظہار خیال کی آزادی جیسے مسائل پر بحث کرنے کے لئے انہیں لیباریٹیز میں تبدیل کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے سنگین عواقب و نتائج ظاہر ہوں گے ۔ یادو نے یہاں یو این آئی کو بتایا کہ یہ خطرناک کھیل ہے ۔ یہی ملک اور اس کے عوام قوم پرستی یا آزادی یا اظہار خیال کی آزادی کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رکھتے۔ یادو نے مملکتی وزیر داخلہ کرن رججو پر بھی تنقید کی اور انہوں نے کہا یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ کو ایک کالج اسٹوڈنٹ سے بعض ریمارکس اور تبصروں کا رد عمل دینا پڑ رہا ہے ۔ یہ بظاہر گر مہر کور کے خلاف رجیجو کے ٹوئٹس وائرل ہونے کے بعد پیدا شدہ تنازعہ کا حوالہ تھا۔ یادو نے استفسار کیا کیا ملک اتنا غیر محفوظ ہوچکا ہے کہ مرکزی حکومت کے مملکتی وزیر داخلہ کو طلبا کے تبصرہ پر رد عمل ظاہر کرنا پڑ ا ہے ۔ لیکن اٹل بہاری واجپائی حکومت میں سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ دو طلباء گروپوں کے درمیان رامجاس کالج میں جو جھڑپیں ہوئیں وہ کم ہی حیرت زدہ ہیں۔ پچھلے ڈھائی برسوں سے مودی گورنمنٹ یونیورسٹیوں میں یکے بعد دیگرے تجربے کرتی جارہی ہے۔ یہ ایک پیٹرن ہے جو انہوں نے جے این یو اور حیدرآباد میں بھی آزمایا ہے ۔ مجھے حیرت ہے کہ پچھلے ستر برسوں میں اس طرح کے واقعات یونیورسٹی کیمپس میں پیش نہیں آئے تھے ۔ چند نئے رجحانات پائے جاتے ہیں جو خطرناک ہیں۔ ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ در حقیقت جس انداز میں کرن رجیجو نے سوشل میڈیا پر اپنا بیان دیا ہے اس سے صرف یہ پتہ چلتاہے کہ وہ سب ایک پلان پر کام کررہے ہیں ۔ واجپائی حکومت کے دوران اس طرح کے واقعات پیش نہیں آئے تھے۔ ملک میں خاص طور یر یوپی انتخابات کے ضمن میں ابھرتی سیاسی صورتحال پر انہوں نے کہا انتخابی نتائج کے بارے میں کوئی قیاس آرائی نہیں کرسکتا۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں بشمول کانگریس، علاقائی پارٹیاں اور بائیں بازو ، پارٹیاں اتحاد کا مظاہرہ کریں ۔

جے شنکر کی امریکی مائک ماسٹر سے بات چیت۔ ہند۔ امریکہ دوستی کو فروغ
واشنگٹن
پی ٹی آئی
معتمد خارنہ ایس جئے شنکر نے یہاں دو سرکردہ امریکی عہدیداروں سے ملاقات کی جن میں قومی سلامتی مشیر لیفٹننٹ جنرل ایچ آر میک ماسٹر بھی شامل ہیں اور ہند، امریکہ اسٹراٹیجک تعلقات کو بالخصوص تجارت، دفاع اور سیکوریٹی کے شعبہ میں فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔ جئے شنکر اور میک ماسٹر کے درمیا ن یہ ملاقات اہمیت کی حامل ہے کیونکہ سرکردہ فوجی جنرل کو امریکی صد ر ڈونالڈ ٹرمپ نے دس دن قبل قومی سلامتی مشیر مقرر کیا ہے۔ وائٹ ہاؤز میں منعقدہ اجلاس کے دوران باور کیا جاتا ہے کہ دونوں عہدیداروں نے سیکوریٹی ، انسداد دہشت گردی اور دفاعی شراکت داری سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا ہے ۔ جئے شنکر نے ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان سے بھی ملاقات کی اور مختلف مسائل بشمول دونوں ممالک کے مابین اقتصادی و دفاعی تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ ریان نے اس ملاقات کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہند۔ امریکہ تلعقات کی جڑیں جمہوریت اور آزادی کے مشترکہ اقدار میں پیوست ہیں۔ جئے شنکر کے ساتھ ملاقات کے بعد اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آج ہمیں ایک عظیم موقع ملا کہ ہم باہمی اقتصادی و دفاعی تعاون کے طریقوں کو فروغ دینے اس اہم شراکت داری میں اضافہ کریں۔ جئے شنکر کے ساتھ ملاقات میں پال ریان نے ہندوستانی انجینئر سرینواس کچی بوتلا کی موت پر امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے اظہار تعزیت کیا۔ ریان نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کو چاہئے کہ وہ متحد ہوجائیں اور میں مستقبل میں معتمد خارجہ جئے شنکر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا متمنی ہوں ۔ یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ بحریہ کے ایک سبکدوش سپاہی ایڈم پیورنٹن نے ایک ہندوستانی انجینئر سرینواس کچی بوتلا کو ہلاک اور ایک اور ہندوستانی آلوک مداسانی کو زخمی کردیا تھا ۔ اس نے ان دونوں پر گولی چلانے سے پہلے چلا کر کہا تھاکہ تم دہشت گرد ہو، میرے ملک سے نکل جاؤ۔ جئے شنکر منگل کے روز چار روزہ دورہ امریکہ پر پہنچے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کے سر کردہ عہدیداروں، قانون سازوں اورتھنک ٹینک کے ارکان سے تبادلہ خیال کرسکیں۔ ٹرمپ کے عہدہ صدارت پر فائز ہونے کے بعد سے یہ ان کا تیسرا دورہ امریکہ ہے ۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ فون پر اپنی بات چیت میں ہند، امریکہ تعلقات کو مستحکم بنانے کا عہد کیا تھا۔، ایجنسیز کے بموجب سکریٹری خارجہ جئے شنکر نے جو امریکہ کے دورہ پر ہے ٹرمپ نظم و نسق کے نئے مشیر برائے قومی سلامتی امور ایچ آر مائک ماسٹر سے واشنگٹن میں ملاقات کی اور ان سے مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پر صدر ٹرمپ اور وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات کے بارے میں بھی مشاورت کی گئی۔ دونوں قائدین کے درمیا ن یہ پہلی ملاقات ہوگی جو ہوسکتا ہے کہ مئی کے دوران کی جائے گی۔

0 comments:

Post a Comment