Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-03-10 - بوقت: 19:48

ایکزٹ پول نتائج - بی جے پی کو 4 ریاستوں میں اکثریت سے کامیابی متوقع

Comments : 0
9/مارچ
ایکزٹ پول نتائج - بی جے پی کو 4 ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں اکثریت سے کامیابی متوقع
نئی دہلی
آئی اے این ایس
ایسا لگتا ہے کہ نوٹ بندی کے اقدام کے باعث عوام کی مودی سے ناراضگی کا کوئی کاص فرق انتخابات پر نہیں پڑا اور مودی کی لہر اب بھی جاری ہے کیونکہ پانچ کے منجملہ چار ریاستوں میں بی جے پی کی واضح اکثریت کو مختلف ٹی وی چینلوں سے اپنے ایکزیٹ پول میں پیش قیاسی کی ۔ اس سروے سے یہ پتہ چلا کہ اتر پردیش،ا تر کھنڈ، گوا ، منی پور میں بی جے پی کی لہر چل رہی ہے جب کہ کانگریس کے بارے میں یہ توقع کی جارہی ہے کہ اس کی پنجاب میں واپسی ہوئی ہے ۔ ٹوڈے چانکیہ جس نے2014ء لوک سبھا انتخابات میں بہتر پیش قیاسی کی تھی نے اب کی بار اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو285، سماج وادی پارٹی ، کانگریس اتحاد88اور مایاوتی بہوجن سماج پارٹی کو صرف27نشستوں پر کامیاب ہونے کی پیش قیاسی کی۔ انڈیا ٹوڈے ایکزیٹ پول کے مطابق بی جے پی کو185نشستوں پر کامیاب دکھایا گیا جو کہ پہلے کے ایکزٹ پول سے سو نشستیں کم ہیں، جب کہ اس نے سماج وادی پارٹی ، کانگریس اتحاد کو120اور بی ایس پی کو90نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی ۔ انڈیا ٹی وی کے مطابق زعفرانی جماعت کو اتر پردیش میں155سے167نشستوں پر کامیابی ہوسکتی ہے جب کہ ایس پی، کانگریس اتحاد کو135سے147تک پر اور بی ایس پی کو81سے93نشستوں پر کامیابی ہوسکتی ہے ۔ ٹائمس ناؤ، وی ایم آر پول کے مطابق بی جے پی کو210,190نشستوں پر یوپی میں کامیابی ہوسکتی ہے جب کہ انڈیا نیوز، ایم آر سی نے185اور اے بی پی ، لوک نیتی سی ایس ڈی ایس نے164سے176نشستوں کی پیش قیاسی کی ۔ اگر بی جے پی اتر پردیش میں کامیاب ہوتی ہے ، تب ایسے ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست میں پندرہ سال کے بعد دوبارہ قیادت کا موقع ملے گا۔ این ڈی ٹی وی پول کے مطابق ایک اوسط اور محتاط تجزیہ پیش کیا گیا جس میںبی جے پی کو176نشستیں، ایس پی ، کانگریس اتحاد کو136جب کہ بی ایس پی کو77نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی گئی۔ اتر کھنڈ، منی پور اور گوا میں بھی بی جے پی کے لئے ایکزٹ پول کے نتائج مثبت رہے جس میں بتایا گیا کہ مرکزی حکومت ان تینوں ہی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیاب ہوگی۔ انڈیا ٹو ڈے نے شمال مشرقی ریاست منی پور میں60نشستوں میں31پر بی جے پی کی کامیابی متوقع ہے۔ اس کے مقابلے میں کانگریس کو سترہ تا تئیس نشستوں پر کامیابی ہوسکتی ہے ۔ این ڈی ٹی وی نے حکمراں کانگریس اور بی جے پی کے درمیان قریب ترین نشستیں حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی ہے ۔ کانگریس اس ریاست میں جملہ پندرہ سے حکومت کررہی ہے ۔ بی جے پی گوا میں آزاد امید وار وں کی مدد سے کامیابی مل سکتی ہے ، انڈیا ٹو ڈے نے بی جے پی کو اٹھارہ تا بائیس نشستوں پر کامیابی کی پیش قیاسی کی جب کہ کانگریس نو تا تیرہ نشستوں پر کامیاب ہوگی جب کہ عاپ کو زیرو تا دو نشستیں مل سکیں گی ۔
نئی دہلی
آئی اے این ایس
اتر پردیش کے وزیراعلیٰ اکھلیش یادونے آج یو ٹرن لیتے ہوئے کہا کہ سماجو ادی پارٹی اپنی سب سے بڑی مخالف مایاوتی سے اتر پردیش میں اتحاد کے لئے اگر ضرورت پڑے تب تیارہے ، جبکہ ایکزٹ پول کے مطابق اتر پردیش کے جملہ403نشستوں میں بی جے پی کو211نشستوں پر کامیابی متوقع ہے ، جوکہ حکومت بنانے کے لئے درکار202سے زائد ہے ۔ جمعرات کو ساڑھے آٹھ بجے شام چھ ایکزیٹ پول کے نتائج نے یہ واضح کردیاکہ بی جے پی کو211نشستیں ملیں گی جب کہ سماج وادی پارٹی ، کانگریس کو122اور بی ایس پی کو61نشستوں پر کامیابی متوقع ہے ۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اگر انتخابات کے نتائج کسی کو بھی واضح اکثریت دینے سے قاصر رہے تب وہ معلق اسمبلی کے مقابلے میں مایاوتی کی سماج وادی پارٹی کو بطور اتحادی چنیں گے تاکہ ریاست میں صدر راج کے قیام سے بچا جاسکے ۔ میں نے ہمیشہ بی ایس پی کو عزت سے دیکھا ۔ ایسے میں یہ بالکل قدرتی بات ہے کہ ہم ان)مایاوتی) سے مدد لیں گے ۔ یہ بات یہاں کہنا مشکل ہے، میں پر اعتماد ہوں کہ کانگریس، ایس پی اتحاد کامیاب ہوگا تاہم دیکھئے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ صدر راج نافذ ہو، بی جے پی ریموٹ کنٹرول کی طرح اتر پردیش کو استعمال کرے گی۔

تبدیل شدہ انتخابی صورتحال سے نمٹنے نئے قانون کی ضرورت
چیف الیکشن نسیم زیدی کابیان
نئی دہلی
پی ٹی آئی
چیف الیکشن کمیشن نسیم زیدی نے آج کہا کہ ملک میں انتخابات کے دوران تیز رفتار تبدیل ہوتی ہوئی سیاسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے نئے قانون سازی کی ضرورت ہے ۔ چیف الیکشن کمشنر نے پانچ ریاستوں بشمول اہم ترین ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کے اختتام کے ایک دن بعد آج بات کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کی اطلاع میں یہ بات آئی ہے کہ ان انتخابات کے دوران کئی افراد نے ضابطہ اخلاق کیا نتہائی حدوں کو پہنچ گئے تھے ۔اس لئے نئے قوانین کی ضرورت ہے ۔ پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے زیدی نے کہا کہ انتخابی انتظامیہ، سماجی یا سیاسی صورتحال اور تیز رفتار تبدیلی اور اس طرح کی صورتحال کا مستقبل میں سامنا ہوگا اس سے نمٹنے کے لئے چند قوانین کی ضرورت ہوگی جو پسندیدہ بھی ہیں۔ لیکن اسی وقت انہوں نے اس تجویز کو بھی مسترد کردیا کہ انتخابی بے قاعدگیوں سے نمٹنے کے لئے کمیشن اختیارات دئیے جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت آپ کمیشن سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ انتخابی خلاف ورزیوں کے مسئلہ سے نمٹنے کے کمیشن کے پاس اختیارات کی کمی ہے۔ الیکشن کمیشن ایک فریم ورک سے لیس ہے اور سختی سے قواعد و ضوابط کو لاگو کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا ، لیکن یہ صورتحال ایک انتخابات سے دوسرے انتخابات کے دوران تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال پر منحصر ہے جس کے لئے نئے قانونی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کی نگران کرنے والے واچ ڈاگ بھی فریم ورک میں کام کرتے ہیں جو عدالتوں کی ہدایات اور فیصلوں پر مبنی ہوتے ہیں ۔ یہ رہنمایانہ خطوط کے قانون بن گیا ہے ۔ حالیہ انتخابات کے دوران سیاست دانوں کی جانب سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں اور اکزٹ پول سے متعلق خلاف ورزی سے متعلق سوال پر چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے کہا کہ ملک کے تمام ذمہ دار عوامل، سیاست داں، میڈیا، امید واروں ، حکومتی افراد سے کمیشن کو توقع ہے کہ وہ قانون کو تسلیم کریں گے یا کم و بیش تسلیم کرتے ہی ہیں۔ زیدی نے گزشتہ دنوں ہی ختم ہوئے پانچ اسمبلی انتخابات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کئی افراد انتخابی ضابطہ عمل سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے قریب تک پہنچ گئے تھے ۔ چند افراد نے تنقیدکی کہ ضابطہ اخلاق کوموثر طریقہ سے لاگو نہیں کیا گیا ۔ چند نے کہا کہ ضابطہ اخلاق کو مزید موثر ہونا چاہئے تاکہ بہتر سے بہتر کاروائی کی جاسکے عوام بہت زیادہ امیدیں رکھتے ہیں اسی لئے جب قانونی دفعات نافذ کئے جاتے ہیں تو عوام کی مرضی پر پورے نہیں اترتے۔

امریکہ میں ہندوستانیوں پر حملے، اپوزیشن کا اظہار تشویش
نئی دہلی
پی ٹی آئی
لوک سبھا ارکان نے آج امریکہ میں ہندوستانیوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور اپوزیشن جماعتوں نے اس مسئلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ حکومت نے کہا کہ اس مسئلہ کا سنجیدگی سے جائزہ لیاجارہا ہے۔ اپوزیشن ارکان نے حکومت سے کہا کہ وہ پارلیمنٹ میں یہ بتائے کہ وہ اس مسئلہ سے کس طرح نمٹنے کا منصوبہ رکھتی ہے ، اس پر وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ ان واقعات کا سنگین نوٹ لیاگیا ہے اور بعد ازاں یہ تیقن دیا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کئے جائیں گے کہ بیرونی ممالک میں مقیم ہندوستانی اپنے آپ کو محفوظ محسوسکریں۔ سنگھ نے یہ بات بھی کہی کہ حکومت آئندہ ہفتہ پارلیمنٹ مین بیان دے گی۔ حالیہ ہفتوں میں امریکہ میں نفرت پر مبنی جرائم کے2مشتبہ کیسس میں کم از کم دو ہندوستانی ہلاک ہوئے ہیں۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے یہ مسئلہ اٹھانے کئی اپوزیشن ارکان کی جانب سے دی گئی تحریکات التوا کو نا منظور کردیا۔ بعد ازاں انہوں نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا۔ کانگریس قائد ملکار جن کھرگے نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ یہ مسئلہ اٹھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نسل پرستانہ حملوں کے حالیہ واقعات انتہائی پریشان کن ہیں ۔ مودی اور ان کی حکومت ناکام ہوچکی ہے کیونکہ انہوںنے نہ تو ان واقعات کی مذمت کی ہے اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ اعلیٰ سطح پر یہ مسئلہ اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آخر مودی حکومت کیوں خاموش ہے۔ وزیر اعظم ہر مسئلہ پر ٹویٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے اتنے سنگین معاملہ میں کیوں خاموشی اختیار کررکھی ہے ۔ کھرگے نے وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ مودی بیرونی قائدین کو گلے لگاتے اور صدر چین جنپنگ کے ساتھ جھولے پر بیٹھے نظر آتے ہیں ، لیکن انہوں نے اتنا اہم مسئلہ نہیں اٹھایا۔ سوگتا رائے (ترنمول کانگریس) نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت امریکہ میں ہندوستانیوں کے مفادات کے تحفظ کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے ۔ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہمارے پرجوش اور تہذیب یافتہ وزیر اعظم اس مسئلہ پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت میں اتنی ہمت ہونی چاہئے کہ وہ امریکی غنڈوں کے آگے ڈٹ جائے ۔ کھرگے اور رائے دونوں نے کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کے صدر امریکہ کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد سے نفرت پر مبنی جرائم میں اضافہ دیکھاجارہا ہے ۔ بی جے ڈی رکن بی مہتاب نے کہا کہ حکومت کو امریکہ میں مقیم ہندوستانی نژاد افراد کے لئے اڈوائزری جاری کرنی چاہئے اور انہیں اس ملک کے غیر محفوظ مقامات کے بارے میں ویساہی انتباہ دینا چاہئے جیسا کہ امریکہ، ہندوستان کا دورہ کرنے والے اپنے شہریوں کو دیتا ہے۔ مختصر مباحث کا جواب دیتے ہوئے جس کے دوران کئی ارکان نے اس مسئلہ پر تشویش کا اظہار کیا، وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ حکومت اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے اور تمام اقدامات کئے جائیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنایاجاسکے کہ بیرونی ممالک میں ہندوستانی اپنے آپ کو محفوظ محسوس کریں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ سشما سوراج علیل تھیں۔ قبل ازیں وقفہ سوالات کے دوران وزیر داخلہ نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت آئندہ ہفتہ پارلیمنٹ میں بیان دے گی ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جو کچھ ہورہا ہے حکومت اس پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ وزیر پارلیمانی اموراننت کمار نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت کو امریکہ میں رونما ہونے والے واقعات پر تشویش ہے ۔

طیاروں کا اغواء مسئلہ
ایر پورٹس پر ہر کسی کے داخلہ پر پابندی ضروری ہوگی: اشوک گجپتی راجو
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سی آئی ایس ایف کے اصرار کو نشانہ بناتے ہوئے سیکوریٹی کے لئے ہینڈ بیاگیج کی اسٹامپنگ کی جائے۔ وزیر ہوا بازی اشوک گجپتی راجو نے کہا ہے کہ طیاروں کے اغواء کو روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایر پورٹ میں ہر کسی کے داخلہ پر پابندی عائد کی جائے ۔ سیکوریٹی اقدامات غیر خلل اندازاور بامعنی رکھنے کے لئے اس اقدام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ بہترین سیکوریٹی یہ ہوگی کہ ایر پورٹس پر ہر کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے اس سے کبھی بھی اغوا نہ ہونے کا تیقن ملے گا لیکن وہاں کوئی شہری ہوا بازی کی سر گرمی بھی نہیں ہونی چاہئے ۔ راجیو نے کہا کہ سی آئی ایس ایف ایک پولیس فورس ہے اور یہ بی سی اے ایس( بیورو آف سیول ایوئیشن سیکوریٹی)ہے جو ہر ایک کے ہوا بازی سیکوریٹی معیار کومقرر کرتی ہے کہ ہر ایک کو اس کی بالآخر تعمیل کرنی ہوگی۔ کل ایک پروگرام کے بعد منتخبہ میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے راجو نے کہا کہ ایک غیر عملی سیکوریٹی چیز ایک اور مسئلہ ہوسکتی ہے ۔ تاہم انہوں نے اس بات کا فوری اضافہ کیا کہ سی آئی ایس ایف جو بڑی طیرانگاہوں پر سیکوریٹی کے لئے ذمہ دارہے وہ اپنے تجربہ کے بارے میں بتائے گی لیکن یہ افسوس کی بات ہونے کے مقابلہ میں محفوظ ہونے کے لئے بہتر ہوگا۔ بی سی اے ایس جو وزارت شہری ہوا بازی کے تحت آتاہے اس نے23فروری کو ایک سرکلر جاری کیا تھا کہ ملک میں سات بڑی ایر پورٹس پر ہینڈ بیاگیج ٹیناگس پر سیکوریٹی اسٹامپ لگانے کے عمل کو فوری روکاجائے ۔ تاہم سی آئی ایس ایف کی جانب سے اٹھائی گئی سیکوریٹی تشویش کے بعد اس فیصلہ کوملتوی کردیا گیا۔ مسئلہ پر وزارت کی جانب سے پہلے سرکاری تبصرہ میں راجو نے کہا کہ جہاں ہوا بازی کے سیکوریٹی اسٹانڈرڈ کی بات ہو ہر ایک کی بی سی اے ایس کی تعمیل کرنی ہوگی ۔ ایک بات یہ ہے کہ سیکوریٹی چیزوں کو بی سی اے ایس مقررکرتا ہیا ور ہر ایک ان پر عمل کرتا ہے۔ بی سی اے ایس معیارمقرر کرتا ہے ۔ کچھ لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ اس کی ضرورت ہیا ور کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی ضرورت نہیں ہے لیکن بالآخر ہر ایک کو بی ایس اے ایس کی تعمیل کرنی ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی اور تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا لیکن سیکوریٹی کو غیر خلل انداز اوربا معنی ہونا چاہئے ۔ بصورت دیگر کمر شیل سر گرمیاں نہیں ہوں گی ۔ ہیڈ بیاگیج کی اسٹامپنگ سے متعلق بی سی اے ایس کے آرڈر کو ملتوی کرنے کا فیصلہ2مارچ کو شہری ہوا بازی اور داخلہ وزارتوں کے درمیان منعقدہ اعلیٰ اجلاس میں کیا گیا ۔ اس بات کو نوٹ کرتے ہوئے کہا کہ شہری ہوا بازی ایک مختلف طریقہ پر کام کرتی ہے راجو نے ایک وقت کے نکتہ پر سیکوریٹی کے لئے کیا چیز متعلق ہوتی ہے اور دوسرے موقع پر کیا چیز غیر متعلق ہوتی ہے اس پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا میں سیکوریٹی افراد ی قوت اور ٹکنالوجی کے درمیان امتزاج کو پیش کرتی ہے ۔ چند وقتوں پر جو چیز بطور خطرہ تصور نہیں کی جاتی تھی بعض اوقات چند پوائنٹس پر یہ خطرہ بن جاتی ہے ۔ انہوں نے مزاحیہ اندازمیں کہا کہ بہترین قسم کی سیکوریٹی یہ ہوگی کہ کسی کو بھی ایر پورٹس میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے ۔ کوئی اغوا نہیں ہوگا لیکن شہری ہوابازی کی کوئی سر گرمی بھی نہیں ہوگی۔

حکومت کو سیف اللہ کے والد پر فخر: راج ناتھ سنگھ
ٹرین دھماکہ کیس میں6گرفتاریاں ۔ لوک سبھا میں وزیر داخلہ کا بیان
نئی دہلی
آئی اے این ایس
مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج کہا کہ حکومت اور لوک سبھا کو مشتبہ مہلوک دہشت گرد کے والد سرتاج سے ہمدردی ہے ، جنہوں نے اپنے غدار بیٹے کی نعش قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بھوپال ، اجین پاسنجر ٹرین میں دھماکہ اور بعد ازاں لکھنو میں انسداد دہشت گردی کارروائی پر لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ انسداد دہشت گردی کارروائیوں کی وجہ سے قومی سلامتی کو امکانی خطرہ کو کامیابی سے ٹالنے میں مدد ملی ہے اور مزید تحقیقات قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کے حوالہ کی جائیں گی ۔ لکھنو میں انکاؤنٹر کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں تقریبا بارہ گھنٹے طویل بندوقوں کی لڑائی کے بعد پولیس نے سیف اللہ کو مار گرایا تھا، وزیر داخلہ نے اس نوجوان کے والد کے بارے میں تبصرہ کیا جنہوں نے چہار شنبہ کو کہا تھا کہ وہ اپنے غدار بیٹے کی نعش لینا نہیں چاہتے ۔ وزیر داخلہ نے لوک سبھا کو مطلع کیا کہ ٹرین دھماکہ کے سلسلہ میں تا حال6گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں ۔ راج ناتھ سنگھ نے ایوان میں کہا کہ جب اتر پردیش پولیس نے نعش حواہ کرنے اس کے والد سے ملاقات کی تو سرتاج نے کہا کہ جو اپنے ملک کا نہیں ہوسکتا وہ ان کا بھی کوئی نہیں ۔ وزیر داخلہ نے بتایا، سرتاج نے مزید کہا کہ میں نے اپنے خاندنا کے لئے زندگی بھر محنت کی لیکن اس لڑکے نے میرا سر شرم سے جھکا دیا۔ مجھے سیف اللہ کے والد سے ہمدردی ہے اور مجھے یقین ہے کہ سارا ایوان ان سے ہمدردی کرے گا۔ انہیں(سرتاج کو) اپنا ایک بیٹا کھونا پڑا ہے ۔ حکومت کو ایسے لوگوں پر فخر ہے۔ سارے ایوان کو ایسے لوگوں پر فخر ہے ۔ سرکاری اور اپوزیشن بنچوں کے ارکان نے میزیں تھپتھپاکر ان کے بیان کی ستائش کی ۔ علیحدہ اطلاع کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے لوک سبھا میں اپنے بیان میں مشتبہ دہشت گردوں کو کسی بھی دہشت گرد گروپ سے جوڑنے سے گریز کیا۔ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ٹرین دھماکہ مشتبہ دہشت گرد ٹولی کی حرکت تھی ۔ یہاں یہ تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ مدھیہ پردیش پولیس نے فوری گرفتار مشتبہ دہشت گردوں کو آئی ایس آئی ایس یعنی داعش سے جوڑ دیا تھا۔

0 comments:

Post a Comment