Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-03-11 - بوقت: 19:50

معمولی مقدمات کا اندرون 6 ماہ فیصلہ کرنے کی ہدایت - سپریم کورٹ

Comments : 0
10/مارچ
معمولی مقدمات کا اندرون 6 ماہ فیصلہ کرنے کی ہدایت - سپریم کورٹ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے ملک بھر کے ہائیکورٹس اور سماعتی عدالتوں میں طویل عرصہ سے زیر التوا فوجداری مقدما ت کا تصفیہ ایک مقررہ مدت میں کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ تمام ہائیکورٹس کو اس سلسلہ میں کئی ایک رہنمایانہ ہدایات جاری کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ بر وقت انصاف رسانی، انسانی حقوق کا حصہ ہے ۔ تیز رفتار انصاف کی عدم فراہمی سے نطام عدل پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کا اندازہ ہے ۔ علاوہ ازیں تیز رفتار مقدمہ کے بنیادی حق سے کسی ملزم کومالیاتی وسائل کی عدم دستیابی کی درخواست پر بھی محروم نہیں کیا جاسکتا۔ جسٹس آدرش کمار گوئیل اور جسٹس یویو للت پر مشتمل بنچ نے تحت کی عدالتوں کو ہدایت جاری کرنے کی ہائیکورٹس کو ہدایت دی اور کہا کہ ضمانت کی درخواست کا عام طور پر اندرون ایک ہفتہ تصفیہ کردیاجانا چاہئے ۔ مجسٹریٹس سے یہ بھی کہا گیا کہ معمولی جرائم کے مقدمات کا جن میں زیر دریافت قیدی جیل میں محروس ہوں اندورن چھ ماہ فیصلہ کردیاجائے ۔ سیشن کی عدالتوں کو چاہئے کہ سنگین جرائم کے مقدمات کی اندرون دو سال یکسوئی کریں اگر ملزمین جیل میں ہوں۔ عدالت عظمیٰ نے یہ بھی کہا کہ نہ صرف مقرر کی گئی مدت سختی سے پابندی کی جائے بلکہ اسے عدالتی عہدیداروں کی سالانہ رازداری رپورٹس کا حصہ بنایاجائے ۔ پانچ سال سے زائد تمام مقدمات کا اختتام سال تک تصفیہ کردیاجان چاہئے۔ ججوں نے مزید کہا کہا گر کوئی زیر دریافت قیدی جرم کے ثابت ہونے پر اسے دی جانے والی سزا سے زائد مدت تحویل میں گزرتا ہے تو ایسی صورت میں انہیں لازماً شخصی مچلکہ پر رہا کردیاجائے ۔ عدالت عظمیٰ نے ہائیکورٹس کو جاری کردہ ہدایات کے ساتھ کہا کہ ضمانت کی درخواستیں ایک ماہ کے اندر اندر جس قدر جلد ممکن ہوں فیصلہ کو پہنچائی جائیں اور جن مقدمات میں ملزمین پانچ سال سے زائد عرصہ تحویل میں ہیں ان کی جلد از جلد یکسوئی کی جائے ۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکز نے آج سپریم کورٹ کوبتایا کہ وہ ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کورسس میں داخلوں کے لئے ملک بھر میں منعقد کئے جانے والا واحد امتحانNEETآئندہ تعلیمی سال سے اردو زبان میں منعقد کرنے کے لئے تیار ہے ۔ مرکزی حکومت کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل رنجیت کمار نے تاہم جسٹس کورین جوزف اور آربھا نومتی پر مشتمل بنچ کو بتایا کہ قومی اہلیتی داخلہ امتحانNEETکو جاریہ سال سے ہی اردو میں منعقد کرنا ممکن نہیں ہے ۔ بنچ نے مرکز اور دیگر بشمول میڈیکل کونسل آف انڈیا، ڈینٹل کونسل آف انڈیا اور سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن( سی بی ایس ای کو اس مسئلہ پر جواب داخل کرنے کے لئے22مارچ کی مہلت دی ہے ۔ اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئی او) کی درخواست پر اس معاملہ کی سماعت اب26مارچ کو ہوگی۔ اس وقتNEETکو دس زبانوں ہندی، انگلش، گجراتی، مراٹھی، اڑیا ، بنگالی، آسامی ، تلگو ، تامل اور کنڑ میں منعقد کیاجارہا ہے ۔ ایس آئی او نے اسے اردو میں منعقد کرنے کی خواہش کرتے ہوئے عدالت میں درخواست داخل کی تھی۔
Decide bails in 1 week, trials in petty cases in 6 months: Supreme Court

بی جے پی، کانگریس اور سماج وادی پارٹی کو جیت کا یقین
نئی دہلی
پی ٹی آئی
بی جے پی اور ایس پی، کانگریس اتحاد نے آج اعتماد ظاہر کیا کہ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں جیت ان کی ہی ہوگی جب کہ اکزٹ پولس میں کل بھگوا جماعت کو حریفوں سے آگے دکھایا گیا تھا ۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ انہیں403رکنی اتر پردیش اسمبلی میں دو تہائی اکثریت ملے گی۔ سماج وادی پارٹی نے انتخابی سروے میں نقص ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ کانگریس نے اکزٹ پولس کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ کے دن انتخابات کا نتیجہ اس کے حق میں آئے گا۔ سینئر بی جے پی قائد اوم ماتھر نے پارلیمنٹ ہاؤز کے احاطہ میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ سروے میں بی جے پی کی جیت دکھائی گئی ہے ۔ہمیں یوپی میں دو تہائی اکثریت ملنے والی ہے ۔ کل کا انتظار کیجئے ۔ سماج وادی پارٹی سربراہ اکھلیش یادو کے بی ایس پی سے مابعد انتخابات اتحاد کا اشارہ دینے کے بارے میں پوچھنے پر یوپی کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ اس سے پتہ چلتاہے کہ ایس پی، کانگریس اتحاد نے اپنی ہارمان لی ہے ۔ ماتھر، آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر کلراج مشرانے کہا کہ بی جے پی کے بر سر اقتدار آنے پر پارٹی قیادت طے کرے گی کہ ریاست کا گلا، چیف منسٹر کون ہوگا۔ ایس پی جنرل سکریٹری رام گوپال یادونے تاہم کہا کہ اکھلیش کو دوسری میعاد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اکزٹ پولس کسی کے زیر اثر ہیں۔ 9مارچ کو پیسہ بول رہا تھا۔11مارچ کو جنتابولے گی ۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ ایس پی۔ کانگریس اتحاد کو لگ بھگ240نشستیں ملیں گی۔ صدر اتر پردیش کانگریس راج ببر نے بھی اکزٹ پول نتائج کو خارج کردیا۔ بی ایس پی کی طرف اکھلیش کے ہاتھ بڑھانے کی مدافعت کرتے ہوئے راج ببر نے کہا کہ یہ ایک نوجوان قائد کی دور اندیشی ہے ، مایوسی نہیں ۔ اسی دوران سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے پول سروے کے معتبر ہونے پر سوال اٹھایا۔ اکزٹ پول نتائج پر سماج وادی پارٹی سے خارج قائد امر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی فائدہ میں رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اعلی ذاتوں نے دل کھول کر بی جے پی کا ساتھ دیا جبکہ اقلیتوں کے ووٹ بٹ گئے۔ اس بار انتہائی پسماندہ ذاتوں نے بھی بی جے پی کو ووٹ دیا ہے ۔

آربی آئی کی جانب سے جملہ12لاکھ کرنسی نوٹس مارکٹ میں لائے گئے
نئی دہلی
پی ٹی آئی، یو این آئی
وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج بتایا کہ ریزروبینک آف انڈیا نے نوٹ بندی کا عمل شروع ہونے کے بعد سے جملہ بارہ لاکھ نئے کرنسینوٹ مارکٹ میں بھیجے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ آر بی آئی کی اطلاع کے مطابق 24فروری تک جملہ گیارہ لاکھ64ہزار100نئے کرنسی نوٹ مارکٹ میں گشت کررہے تھے۔ لوک سبھا میں وقفہ صفر کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پانچ سو اور ہزار کے کتنے نوٹ جمع ہوئے ہیں، اس کا حقیقی اعداد و شمار انتہائی مشکل ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہر ایک کرنسی نوٹ کی جانچ کرنا ہے کہ یہ حقیقی ہے یا نقلی اس کے بعد ان نوٹوں کو الگ کیاجاسکتا ہے ۔ یہ بہت بڑا عمل ہے ۔ اب اس کے بارے میں بتانا مشکل ہے ۔ آر بی آئی جب اس عمل کو مکمل کرلے گا تب ایوان کو اس کی اطلاع دی جائے گی ۔ جیٹلی نے بتایا کہ کرنسی نوٹ کی طباعت کی لاگت ہر سال بدلتی رہتی ہے۔ پانچ سو کا نوٹ چھاپنیکے لئے2.87روپے سے3.09روپے تک لاگت آتی ہے، جب کہ ہزار روپے کے لئے بھی یہی لات آتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال دسمبرتک نقد راست ٹیکسس کی وصولی1,40,824روپے تھی، جب کہ دسمبر2015ئتک یہ وصولی1,35,660روپے تھی۔ اس دوران یو این آئی کے بموجب انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے مالی دھاندلیاں کرکے بیرون ملک فرار ہونے والے لوگوں کی8,040کروڑ کی جائیداد قرق کرلی ہے ۔ یہ بات آج لوک سبھا میں بتائی گئی ۔ وقفہ سوالات کے دوران وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ پچھلے ڈھائی سال کے دوران حکومت نے کالے دھن اور معاشی جرائم کرنے والوں کے خلاف کئی سلسلہ وار اقدام کئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایف ای ایم اے اور کالے دھن کو سفیدبنانے کو روکنے کے (پی ایم ایل اے) کے موجودہ قوانین کے تحت ای ڈی نے کنگ فشر کے مالک کے خلاف بھی قرقی کے احکام جاری کئے ہیں۔ وہ اپوزیشن ارکان کو جواب دے رہے تھے جنہوں نے اس بارے میں کئی سوال پوچھے تھے ۔ جب ترنمول کانگریس کے سواگت رائے اور دیگر ارکان نے کچھ نام لئے تو نائب اسپیکر ایم تھمبی دورائے نے کسی کا نام لینے سے انکار کردیا ۔ اس پر دو رائے نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو میں کہوں گا آئی پی ایل کا آدمی کنگ فشر کا آدمی کے خلاف اس بات کے لئے کیا اقدام کئے جارہے ہیں کہ آئندہ اور اس طرح کے مجرم غیر ممالک نہ بھاگیں۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ نریندر مودی حکومت نے پچھلے ڈھائی سال کے دوران کالے دھن کو روکنے کے لئے پچھلی کسی بھی حکومت سے زیادہ اقدام کئے ہیں ۔ اسی وجہ سے پچھلے دو سال میں عالمی مندی سے قطع نظر ٹیکس کی آمدنی بھی بہت زیادہ بڑھی ہے ۔ سنتا سے بی جے پی کے رکن گنیش سنگھ کے ایک سوال کے جواب میں وزیر فینانس نے کہا کہ نوٹ بندی کا ایک خاص مقصد یہ بھی تھا کہ معیشت کو آہستہ آہستہ کیش لیس بنایاجائے ۔ اس لئے آئندہ نوٹوں کی چھپائی کی ضرورت کم پڑے گی۔ سی پی آئی ایم کے فلور لیڈر پی کرونا کرن باربار یہ جاننا چاہ رہے تھے کہ نوٹبندی کے بعد کتنا کالا دھن واپس آیا ہے مگر جواب نہیں ملا۔ ارکان کو جواب دیتے ہوئے ارون جیٹلی نے محض اتنا کہا کہ نوٹ بندی کا ایک مقصد بڑے نوٹوں کو بینکوں میں واپسلانا تھا تاکہ پتہ لگے کہ بغیر حساب کتاب کے کتنا کالا دھن نہیں ہے ۔ وزیر فینانس نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے اپنے انگلینڈ کے حالیہ دورہ کے دوران اس ملک میں رہ رہے معاشی مجرموں کی حوالگی یا ملک بدری کامعاملہ بھی اٹھایاتھا۔ انہوںنے کہا میں نے لندن میں اپنے ہممنصب کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا تھا۔ متعلقہ ایجنسیاں حوالگی یا ملک بدری کے ذریعہ ان قصور واروں کو واپس لانے کی کوشش کررہی ہے ۔ترنمول کانگریس کے انوپم ہزارہ کے اس ضمنی سوال کے جواب میں کہ حکومت کے پاس پانچ سو اورہزار کے کتنے پرانے نوٹ واپس آئے ہیں اور کتنے نئے نوٹ چھاپے گئے ہیں۔ ارون جیٹلی نے کہا ریزرو بینک ہر کرنسی نوٹ کی جانچ کررہاہے۔ اسکام مین بہت وقت لگے گا۔

پلوامہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف کشمیرمیں ہڑتال
سری نگر
پی ٹی آئی، یو این آئی
وادی کشمیر میں آج علیحدگی پسند قیادت کی جانب سے دی گئی ہڑتال کی اپیل کی وجہ سے معمولات زندفی مفلوج رہے۔ علیحدگی پسند قائدین سید علی گیلانی، میر واعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یسین ملک نے ہڑتال کی اپیل جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں کل دو شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف دی تھی۔ ضلع پلوامہ کے پدگام پورہ میں کل ایک انکاؤنٹر کے مقام پر مقامی افراد اور سیکوریٹی فورسس کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں لشکر طیبہ کے دو عسکریت پسند اور ایک سولہ سالہ کمسن طالب علم سمیت دو عام شہری ہلاک ہوگئے تھے ۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا اگرچہ وادی کے کسی بھی حصہ میں پابندیاں نافذ نہیں کی گئی ہیں تاہم امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے سیکوریٹی فورسس کے اضافی دستے تعینات کئے گئے ۔ سری نگر کے پائین شہر کے نوہٹہ علاقہ میں پابندیوںکے باعث تاریخی جام مسجد میں نماز جمعہ ادا نہ کی جاسکی ۔ مقامی افراد نے بتایا کہ آج صبح سیکوریٹی فورسس کے جوان تاریخی جامع مسجد کے باہر تعینات کردئیے گئے اور صبح سے ہی کسی بھی شخص کو مسجد کے احاطہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد کی طرف جانے والی سڑکوں کو خار دار تار سے بند کردیا گیا تھا۔ مسجد کے موذن کو بھی اذان دینے کے لئے مسجد کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دیگ ئی ۔ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں سوپور سے ملنے والی اطلاع کے مطابق نماز جمعہ کے بعد احتجاجیوں کو منشتر کرنے کے لئے سیکوریٹی فورسس نے آنسو گیس کے شل برسائے ۔ سوپور کی جامع مسجد کے باہر نماز کے فوری بعد سینکڑوں کی تعداد میں احتجاجی جمع ہوگئے تھے انہوں نے پلوامہ میں سیکوریٹی فورسس کی فائرنگ میں کمسن لڑکے کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے جب اصل چوراہا کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جہاں تجارتی ادارے اور دکانات بند تھیں تو سیکوریٹی فورسس نے انہیں روک دیا۔ ہڑتال کی اپیل پر وادی بھر مین دکانیں اور تجاری مراکز بند رہے جب کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت معطل رہی۔ تاہم کچھ ایک سڑکوں پر اکا دکا نجی و چھوٹی مسافر گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔سرکاری دفاتر ، بینکوں اور مالیاتی اداروں میں معمول کا کام کاج متاثر رہا جب کہ بیشتر تعلیمی ادارے بند رہے ۔ گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنس بشمول جے کے ایل ایف کے گڑھ مانے جانے والے میسور علاقہ میں تجارتی اور دیگر سر گرمیاں متاثر رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمد و رفت جزوی طور پر متاثر رہی ۔ تاریخی لال چوک ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، ریذیڈنسی روڈ ، مولانا آزاد روڈ، بٹمالو، اقبال پارک، ڈل گیٹ، ریگل چوک اور بڈشاہ چوک میں تقریبا تمام دکانیںبند رہیں ۔ ایسی ہی صورتحال بالائی شہر کے علاقوں میں بھی نظر آئی ۔ دوسری جانب جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میںجہاں کل تصادم کے دوران بیگم باغ کا کہ پورہ کا رہنے والا سولہ سالہ طالب علم عامر نذیروانی سینہ میں گولی لگنے سے اور تہاب پلوامہ کا رہنے والا ایک تئیس سالہ نوجوان جلال الدین دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہوگئے ، میں آج دوسرے دن بھی صورتحال کشیدہ رہی۔ دریں اثناء وسطی کشمیر کے بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیا چلنے والی ریل سروس آج مسلسل دوسرے دن بھی معطل رہی ۔ یہ ریل سروس کل جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں عسکریت پسندوں اور سیکوریٹی فورسس کے درمیان ہوئے مسلح تصادم کے پیش نظر احتیاطی اقدامات کے طورپر معطل کیگ ئی تھی۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وسطی کشمیر کے بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل سرویس کو بھی معطل کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بڈگام سے بانہال براستہ سری نگر ، پلوامہ، اننت ناگ اور قاضی گنڈ چلنے والی ریل سروس آج دوسرے دن بھی سیکوریٹی وجوہات کی بنا پر معطل رکھی گئی۔ اسی دوران علیحدگی پسند قائد سخت حریت کانفرنس کے صدر نشین سید علی شاہ گیلانی، اعتدال پسند حریت کے صدر نشین مولوی عمر فاروق اور کئی دیگر قائدین کو ان کے مکانوں میں نظر بند رکھا گیا تھا۔

0 comments:

Post a Comment