Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-02-09 - بوقت: 16:16

نوٹ بندی کے 3 ماہ بعد بھی عوام کو مشکلات - ممتا بنرجی

Comments : 0
نوٹ بندی کے 3 ماہ بعد بھی عوام کو مشکلات - ممتا بنرجی
کولکتہ
یو این آئی، پی ٹی آئی
ملک میں پانچ سواور ہزار روپے کے پرانے نوٹوں پر پابندی کو تین مہینہ مکمل ہونے پر چیف منسٹر ممتا بنرجی نے نریندر مودی کی زیر قیادت مرکزی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوٹ منسوخی نے ہندوستان کی اقتصادی آزادی کو چند افراد کے ہاتھوں میں رہن رکھ دیا ہے ۔ ممتا بنرجی نے کہا کہ نوٹ منسوخی کے اثرات سے اب بھی عام آدمی پریشان ہیں، چھوٹے کاروباری کی حالت خستہ ہوچکی ہے، صرف چند دولت مند وں کو فائدہ پہنچا ہیا ور اس کے لئے ابھی بھی کوشش کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر ممتا بنرجی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھاہے کہ تین مہینے مکمل ہوگئے ہیں ، مگر عوام کی پریشانیاں اب بھی کم نہیں ہوئی ہیں۔ ملک نے اقتصادی آزادی کھودی ہے ۔ جب اقتصادی آزادی ختم ہوجاتی ہے تو انسان ذاتی آزادی بھی کھودیتا ہے ۔ صرف چند دولت مند افراد آسودہ حال ہیں۔ اور عام آدمی ، متوسط طبقہ ، یومیہ مزدوری کرنیو الے اور غریب طبقہ ابھی بھی پریشان ہیں ،چیف منسٹر ممتا بنرجی نے کہا کہ ہندوستان کو معاشی بحران کا سامنا ہے۔ اور ہماری معیشت مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سست روی کا شکار ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر نے پوچھا کہ آخر اب تک کتنا وقت چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ موجودہ مودی حکومت کی پالیسی ویژن، مشن اور صحیح راہ سے عاری ہے ۔ دوسری جانب آج لوک سبھا کے احاطے میں گاندھی کے مجسمہ کے قریب ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ نوٹ بندی کے تین مہینہ مکمل ہونے پر احتجاج کررہے ہیں ۔ اپوزیشن طاقتوں کو سیاہ رنگ لگانے کی کوشش کے لئے نریندر مودی حکومت کے اقدامات کا مذاق اڑاتے ہوئے مغربی بنگال کی چیف منسٹر ممتا بنرجی نے بی جے پی کو خبر دار کیا کہ وہ ٹی ایم سی کے تمام قائدین کو گرفتارکرلے اور کہا کہ ان کی پارٹی مرکزی حکومت کے اس اقدام سے پریشان نہیں ہوگی۔ ٹی ایم سی کے سربراہ نے کہا کہ بی جے پی اتر پردیش، گوا اورپنجاب کے اسمبلی انتخاب میں ہزیمت سے دوچار ہوگی کیونکہ عوام نے نوٹ بندی کے فیصلہ کو قبول نہیں کیا ہے ۔ ریاستی اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر کے دوران خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے کہاکہ صرف آپ( بی جے پی) کے لوگ سفید ہیں جبکہ دیگر تمام سیاہ رنگ کے حامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے کبھی بھی ملک کی عوام اس طرح کی حکومت دیکھی ہے۔ بی جے پی قائدین کی جانب سے حالیہ عرصہ میں کئے گئے ریمارکس پر کہ یوپی کے انتخابات کے بعد ٹی ایم سی کے قائدین جیل میں ہوں گے، بنرجی نے زعفرانی پارٹی کو چیلنج کیا کہ وہ ٹی ایم سی کے تمام قائدین کو گرفتار کرلے ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں میں نے اخباری اطلاعات کامطالعہ کیا جس میں کہا گیا کہ آنے والے دنوں میں ہماری پارٹی کے تمام قائدین کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ ہم اس طرح کی دھمکیوں سے خائف نہیں ہیں۔ اگر آپ تمام قائدین کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں ہے ۔ صورتحال یہ ہے کہ آپ ایک بچہ کویہ دھمکی دے رہے ہیں کہ خاموش ہوجاؤ ورنہ گبر سنگھ آجائے گا۔

راجیہ سبھا میں منموہن سنگھ پر مودی کا طنز
نئی دہلی
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اپنے پیشرو منموہن سنگھ پر نوٹ بندی کو لوٹ قرار دینے پر تنقید کی اور کہا کہ کالے دھن کے خلاف لڑائی کسی سیاسی جماعت کے خلاف یا کوئی سیاسی لڑائی نہیں ہے ۔ انہوںنے راجیہ سبھا میں کانگریس پر شدید تنقید کرتے ہوئے منموہن سنگھ کو نشانہ بنایا جنہوں نے نوٹ بندی کو منظم لوٹ قرار دیاتھا۔ مودی نے کہا کہ رین کوٹ پہن کرباتھ روم میں نہانا صرف سابق وزیرا عظم کو آتا ہے کیونکہ کئی اسکامس کے باوجود ان پر کوئی دھبہ نہیں ہے اس پر کانگریس ارکان نے برہمی سے رد عمل ظاہر کیا اور صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر پر بحث پر وزیراعظم کے جواب کے درمیان واک آؤٹ کیا ۔بعد میں اس تحریک کو ایوان نے تمام651ترامیم کو نظر انداز کرتے ہوئے منظوری دے دی ۔ بائیں بازو ترنمول کانگری اور جنتادل ارکان نے بعد میں واک آؤٹ کیااور کشایت کی کہ وہ مودی کے بیان سے ناخوش ہیں ۔ ان جماعتں نے کہا کہ وہ سوالات کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں اجازت نہیں دی گئی۔ مودی نے اپنی ایک گھنٹہ سے زیادہ دیر کی تقریر کے دوران کانگریس اور دوسری اپوزیشن جماعتوں کو نوٹ بندی کے فیصلے کی مخالفت کے لئے نشانہ بنایا اور کیش لیس معیشت پر زور دیا ۔ انہوں نے ملک میں مناسب انفراسٹرکچر کے فقدان کے لئے کانگریس کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ نوٹ بندی کی مخالفت کرتے ہوئے وہ صرف اپنا70سال کارپورٹ کارادد دپیش کررہی ہے ۔منموہن سنگھ کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ملک میں معاشیات کے شعبہ سے تعلق رکھنے والا شاید ہی کوئی شخص ہوگاجو آزادی کے70سال کے بعد بیشتر وقت ملک کے مالیاتی امورمیں چھایا رہا۔ انہوںنے کہا کہ70سال میں سے تیس پینتیس سال وہ مالیاتی فیصلوں سے راست طور پر رابستہ رہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران کئی اسکامس ہوئے ۔ ہم سیاستدانوں کو ڈاکٹر صاحب سے کئی باتیں سیکھنی چاہئے ۔ اتنا کچھ ہوا لیکن ان پر ایک بھی دھبہ نہیں ہے ۔ ڈاکٹر صاحب واحد شخص ہیں جو رین کوٹ کے ساتھ باتھ روم میں نہانے کا فن جانتے ہیں۔ کانگریس کے ارکان کے شوروغل اور واک آؤٹ کے درمیان برہم مودی نے کہا کہ اگر آپ شائستگی کی حدوں کو پار کریں گے تو آپ کو جواب بھی سننا پڑے گا ۔ ہمارے پاس اسی طرح کا جواب دینے کا بھی دم ہے ۔ ہم دستور کی حدوں اور شائستگی کے حدوں کے اندر رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کانگریسکسی بھی فورم میں شکست کو قبول کرنا نہیں چاہتی ایسا کب تک چلے گا ؟ انہوں نے کہا کہ جو شخص اعلیٰ عہدوں پر رہا وہ ایوان میں لوٹ جیسے الفاظ استعمال کرتا ہے ۔ منموہن سنگھ نے گزشتہس رمایہ سشن کے دوران راجیہ سبھا میں خطاب کرتے ہوئے نوٹ بندی پر وزیراعظمکو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ور کہا تھ اکہ اس پر عمل آوری انتظامی ناکامی ہے اوریہ معاملہ قانونی اور منظم لوٹ کاہے ۔ اس تبصرہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مودی نے ایک کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے منموہن سنگھ پر طنز کیا۔ مودی نے کہا کہ منموہن سنگھ جی نے یہاں ایک تقریر کی ۔ حال ہی میں ایک کتاب کی رسم اجرا انجام دی گئی جس میں منموہن جی نے پیش لفظ لکھا ۔ شروع میں میں سمجھ رہا تھاکہ وہ ایک ممتاز ماہر معاشیات ہیں اور اس کتاب میں ان کا رول ہوگا لیکن میں نے محسوس کیا کہ یہ کتاب کسی اور نے لکھی اور انہوں نے صرف پیش لفظ لکھا ہے ۔ اس تقریرمیں بھی میرا یہی احساس تھا۔ اس پر کانگریس اراکان نے شدید احتجاج کیا۔ نوٹ بندی پر آر بی آئی اور گورنراریجیت پٹیل پر تنقید کے بارے میں مودی نے کہا کہ مجھ پر حکومت پر تنقید کی جاسکتی ہے لیکن آر بی آئی اور آر بی آئی گورنر کو گھسیٹنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمین آر بی آئی کے وقار کا تحفظ کرنا چاہئے ۔ مودی نے دعویٰ کیا کہ نوٹ بندی کے بعد700ماؤ نوازوں نے خود سپردگی اختیار کی ہے۔
کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی نے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ پر رین کوٹ پہن کر نہانے سے معلق مودی کے بیان پر تنقید کی اور کہا کہ یہ ایک افسوسناک اور شرمناک بات ہے ۔ راہول گاندھی نے ٹوئٹر پر کہا کہ جب وزیر اعظم خود اپنے پیشرو اور سینئر کا اس طرح سے مذاق اڑاتا ہے اس سے پارلیمنٹاور قوم کا وقار متاثر ہوتاہے ۔ انہوں نے اپنے عہدہ کی اہمیت کو گھٹا دیا ہے ۔ اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی پر جوابی وار کرتے ہوئے سینئر کانگریس لیڈراور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے کہا کہ انہوں نے راجیہ سبھا میں منموہن سنگھ کے خلاف جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ کسی وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتے ۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ وہ اس کے لئے ایوان میں معافی مانگے۔

یوپی میں مسلم ووٹ کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ۔بھگوا امید واروں کی انتہائی کم ووٹوں سے کامیابی ممکن
لکھنو
پی ٹی آئی
بھگوا جماعت کو جب بھی متعدد مسلم حریفوں کا سامنا ہوتاہے تو وہ بے حد خوش ہوتی ہے ، کیوں کہ فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹوں کی تقسیم سے یوپی میں اس کے امید واروں کی کامیابی کے امکانات میں اضافہ ہوجاتاہے۔ ماضی کے ریکارڈ کومد نظر رکھا جائے تو انتخاباتکے دوران اقلیتی ووٹوں کی تقسیم اور پھوٹ سے سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو ہوا ہے ۔ بی ایس پی نے99مسلم امید واروں کو ٹکٹ دیا ہے ، جب کہ سماج وادی پارٹی، کانگریس اس برادری کے حقیقی ہمدرد ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں ، تاکہ ان کے ووٹ حاصل کرسکیں۔ اس کے علاوہ اے آئی ایم آئی ایم نے بھی چند نشستوں پر اپنے امید وار کھڑے کئے ہیں۔2012ء کے اسمبلی انتخابات میں کم از کم26نشستوں پرمسلم امید وار وں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں آپسی لرائی کے سبب ووٹ تقسیم ہوئے تھے ۔ ان نشستوں میں کئی نشستیں ایسی بھی تھیں جہاں بہت کم ووٹوں سے کامیابی ملی تھی ۔ سہارنپور کے ناکڑ حلقہ میں کانگریس کے عمران مسعود اور سماج وادی پارٹی کے فیروز آفتاب کے درمیان مسلم ووٹوں کی تقسیم کے سبب بی جے پی کے دھرم سنگھ سینی کو کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ فیروز کو زائدا زتیس ہزار ووٹ حاصل ہوئے تھے، جب کہ عمران کو سینی کے مقابل تقریبا چار ہزار ووٹون سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ بی جے پی کے سریش رانا نے جو مظفر نگر فسادات میں مبینہ رول کے لئے بدنام ہیں ، تھانہ بھون حلقہ سے صرف256ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی، جب کہ آر ایل ڈی امید وار اشرف علی خان اور بی ایس پی کے عبدالوارث نے بالترتیب53ہزار اور پچاس ہزار ووٹ حاصل کئے تھے ۔ بی جے پی کے سابق ریاستی صدر لکشمی کانت واجپائی کو بھی مسلم امید واروں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے میرٹھ سے کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ سہارنپور سٹی، بی جے پی، گنگوہ کانگریس، کیرانہ بی جے پی ،بجنور بی جے پی ، نور پورہ بی جے پی، اسمولی ایس پی، میرٹھ سہاؤتھ، بی جے پی،آگرہ ساؤتھ بی جے پی اور فیروزآباد بی جے پی ، حلقوں میں بھی یہی صورتحال تھی ۔ اس مرتبہ بھی مسلم ووٹوں کی تقسیم سے یوپی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو کامیابی حاصل ہوسکتی ہے ۔ سوار حلقہ میں کانگریس کے موجودہ رکن اسمبلی نواب کاظم علی، جنہوںنے حال ہی میں بی ایس پی میںشمولیت اختیار کی ہے اور سماجو ادی پارٹی قائد اعظم خان کے لڑکے عبداللہ اعظمکے درمیان بھی دلچسپ مقابلہ ہے۔ یہ دونوں اپنی سیاسی رقابت کے لئے مشہور ہیں اور کامیابی کو یقینی بنانے کاکوئی موقع گنوانا نہیں چاہتے ۔ بی جے پی نے اس حلقہ سے لکشمی سینی کو ٹکٹ دیا ہے۔ میرٹھ ساؤتھ میں بی ایس پی امید وار حاجی یعقوب قریشی اور سماج وادی پارٹی کانگریس اتحاد کے امید وار آزاد سیفی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ کا امکان ہے ۔ یہ دونوں اپنی کامیابی کو یقینی بنانے اقلیتوں کو رجھانے کی ہر ممکن کوشش کررہے ہیں۔ بی جے پی امید وار سومیندر تومر کی بھی اس نشست پر نظر ہے اور وہ اپنی کامیابی کو یقینی بنانے مسلم ووٹوں کی تقسیم پر انحصار کررہے ہیں۔ علی گڑھ سٹی کی نشست پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بی جے پی امید وار سنجیو راجہ کی کامیابی کلیدی ووٹوں کی تقسیم ہے ۔ جوہندو وادی لیڈر کی شبیہ رکھتے ہیں۔ بی ایس پی نے اس حلقہ سے عارف عباسی کو ، جب کہ سماج وادی پارٹی نے موجودہ رکن اسمبلی ظفر عالم کو ووٹ دیا ہے ۔ ایک اور حلقہ آگرہ ساؤتھ سے تین مسلم امید وار میدان میں ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو بی ایس پی کے ٹکٹ پر ،نظیر احمد کانگریس کے ٹکٹ پر اور نظیر اے آئی ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر مقابلہ کررہے ہیں ۔ بی جے پی یوگیندرا اپادھیائے کو ٹکٹ دیا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنی کامیابی کا یقین ہے ، کیونکہ اقلیتی ووٹ ہر حال میں تقسیم ہوکر رہیں گے۔ فیروز آباد میں بی جے پی نے موجودہ رکن اسمبلی نیش اسیجا کو میدان میں اتارا ہے ، جو بی ایس پی کے خالد ناصر ، سماج وادی پارٹی کے عظیم بھائی اور اے آئی ایم آئی کے احتشام سے مقابلہ کریں گے ، تاکہ اپنی نشست بچا سکیں ۔ غازی آباد کے لونی حلقہ میں بھی یہی صورتحال ہے، جہاں بی ایس پی کے موجودہ رکن اسمبلی ذاکر علی کو سماج وادی پارٹی کے راشد ملک، آر ایل ڈیکے مدن بھیا سے مقابلہ درپیش ہے ۔ بی جے پی نے نندکشور گرجر کو اپنا امید وار بنایا ہے ۔ بدایوں، کانپور، کنٹونمنٹ، خلیل آباد، لکھنو(ویسٹ) حلقوں میں بھی یہی صورتحال ہے، جہاں مسلم امید وارایک دوسرے کو چیلنج کررہے ہیں، جس سے حریف جماعتوں کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے ۔

0 comments:

Post a Comment