Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-02-13 - بوقت: 22:40

ملک کو برباد کرنے والوں کو رائے دہندے عبرتناک سزا دیں ۔ مودی

Comments : 0
12/فروری
ملک کو برباد کرنے والوں کو رائے دہندے عبرتناک سزا دیں ۔ مودی
شری نگر، پتور گڑھ
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر ومدی نے آج کہا ہے کہ وہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ملک کو لوٹنے والے دولت واپس نہیں کریں گے ۔ انہوںنے اتر کھنڈکے ووٹرس سے کہا کہ وہ ان کے مستقبل کو تباہ و برباد کرنے والوں کو انتخابات میں عبرتناک سزا دیں۔ انہوں نے سرجیکل اسٹرائیکس پر سوال کرتے ہوئے چالیس سال تک ایک رینک ایک پنشن کو روکتے ہوئے اور کرپشن میں ملوث ہوتے ہوئے مسلح افواج کی توہین کے لئے کانگریس پر شدید تنقید کی ۔ مودی نے 15فروری کے انتخابات سے قبل پتور گڑھ اپنی آخری انتخابی ریالی سے خطاب میں کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جن لوگوں نے 70سال تک ملک کو لوٹا ہے ان کا خاتمہ ہوجائے ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ جن لوگوں نے ملک کو لوٹا ہے وہ سب واپس کریں گے اور اس وقت تک مین چین سے نہیں بیٹھوں گا اور نہ ہی یہ کام پورا ہونے تک ان لٹیروں کو چین سے بیٹھنے دوں گا اب وقت آگیا ہے کہ ہر کوئی اپنا حساب کتاب دیں۔ انہوں نے عوام سے کہاکہ وہ داغدار کانگریس حکومت کو بے دخل کردیں جس نے ریاست کو لوٹ بھومی بنادیا اور کوئی ویژن نہ رکھنے کی وجہ سے اسے تباہ وبرباد کردیا۔ انہوں نے اتر کھنڈ کی تشکیل کی مخالفت کرنے پر بھی کانگریس پر تنقید کی اورکہا کہ اس نے اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرلیا ہے جس نے ریاست کی تشکیل کے لئے جدو جہد کرنے والوں کو زیادتیاں کیں۔ قبل ازیں شری نگر میں وزیر اعظم نریندر مودی نے آج عوام سے کہا کہ وہ حکمراں جماعت کے بجائے بی جے پی کے لئے ووٹ دیتے ہوئے ریاست میں ترقی کو آئندہ پانچ برسوں تک نئی بلندیوں تک پہنچانے کا ایک موقع فراہم کریں ۔ ایک انتخابی ریالی میں مودی نے عوام سے سوال کیا کہ آیا کبھی آپ نے سونچا ہے کہ واجپائی نے اترا کھنڈ کی چھتیس گڑھ اور جھار کھنڈ کے ساتھ تشکیل کی تھی ۔ جب کہ اترا کھنڈ میں ترقی کے وافر وسائل موجود ہیں ۔ ماوسٹ مسئلہ کے باوجود چھتیس گڑھ کی بی جے پی حکومت نے خود سے ترقی کرتے ہوئے سب سے زیادہ ترقی پذیر ریاست بن گئی ۔اسی طرح پسماندہ علاقہ ہونے کے باوجود جھار کھنڈ کی بی جے پی حکومت نے سرمایہ کاروں کو راغب کیا۔ مودی نے کہا کہ سوال کیا کہ کیون اترا کھنڈ ترقی کے معاملہ میں ان دونوں ریاستوں سے پچھڑا ہوا ہے ۔ مودی نے دعویٰ کیا کہ ریاست کی کانگریس حکومت کے پاس اتر کھنڈ کو ترقی کی راہ پر لانے کا کوئی ویژن ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس مرتبہ بی جے پی کو ووٹ دیتے ہوئے ریاست کی قسمت بدل ڈالیں۔ مودی نے سیاحت اور جڑی بوٹیوں کی دولت سے مالا مال اتر کھنڈ کے عوام سے کہا کہ کہ ساری دنی سرمایہ کاروں کو آپ کی دہلیز تک لانے کے لئے ان کے پاس وسیع منصوبہ ہیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس پہاڑی ریاست میں روزگار کے مواقعوں کی کمی کے باعث دیہاتوں سے بڑے پیمانہ پر نقل مقامی کو روکنے میں چیف منسٹر ہریش راوت ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیوں ایک ایسی ریاست جس کے پاس ساری دنیا کی سیاحوں کو راغب کرنے کی صلاحیت ہے ، جس کے پاس جڑی بوٹیوں کی دولت ہے اور یوگا میں اس کی ایک منفرد روایت رہی ہے ، اس ریاست کے نوجوان روزگار کی تلاش میں نقل مقامی کرنے پر مجبور ہیں ۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ مرکزی حکومت یوگا کو ساری دنیا میں اور ہر ایک فرد کے ہاں مقبول بنانے کی سعی کررہی ہے ، اور دنیا کے کونے کونے سے لوگ ہر دوار اور رشی کیش کو آنا چاہتے ہیں ، اس طرح نوجوانوں کے لئے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں ، اور دیہی علاقوں کی طرز زندگی میں تبدیلی آسکتی ہے ۔ مودی نے آج کانگریس اور ہریش راوت پر شدید حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) کی حکومت بننے پر بد عنوانی اور لوٹ کھسوٹ میں ملوث افراد پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ مودی نے ریاست میں انتخابی مہم کے دوران جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے اترا کھنڈ مظاہرین پر گولی چلانے والی سماجو ادی پارٹی سے اتحاد کر کے یہاں کے عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کیا ہے ۔

اتر پردیش میں دوسرے مرحلہ کی انتخابی مہم کا آج اختتام
لکھنو
پی ٹی آئی
اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلہ کے لئے گیارہ اضلاع پر مشتمل67نشستوں پر انتخابی مہم پیر کو ختم ہوجائے گی اور15فروری کو رائے دہی منعقد ہوگی ۔ جن اضلاع میں پیر کو انتخابی مہم اختتام کو پہنچے گی ان میں سہارن پورہ، بجنور ، مرادآباد ، سنبھل، رام پور امروہہ، پیلی بھیت، کھیر، شاہ جہاں پور اور بدایون شامل ہیں ۔ ان67نشستوں پر سال 2012ء میں ہوئے انتخابات میں حکمراں سماج وادی پارٹی نے 34نشستیں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس کے بعد بی ایس پی کو18نشستیں ملی تھیں جب کہ بی جے پی کو دس اور کانگریس کو تین نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ ان علاقوں میں وزیر اعظم نریندر مودی اور امیت شاہ نے زعفرانی پارٹی کے لئے مہم چلائی ۔ سماج وادی پارٹی ، کانگریس اتحادنے چیف منسٹر اکھلیش یادو اور نائب صدر کانگریس راہول گاندھی کی قیادت میں انتخابی مہم چلائی ۔ اس کے علاوہ دونوں جماعتوں کے دیگر قائدین نے بھی انتخابی مہم میں حصہ لیا ۔ بی ایس پی کی صدر مایاوتی نے تنہا ایک کے بعد دیگر ریالیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی پارٹی کے حق میں رائے ہموار کی۔ جب کہ پارٹی کے سینئر قائد ایس سی شرما نے کئی مقامات پر بھی مہم کی قیادت کی ۔ بی جے پی کے دونوں قائدین مودی اور امیت شاہ نے اپنی تقاریر میں کانگریس اور سماجو ادی پارٹی کواپنی تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ مغربی اتر پردیش کے زرعی علاقہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے مودی نے موافق غریب اور موافق کسان کارڈ استعمال کرتے ہوئے چھوٹے اور حاشیہ پر کردئے گئے کسانوں کے قرضوں کو معاف کرنے اور نیشگر کسانوں کے بقایاجات کو اقتدار ملنے کے چودہ دن کے اندر ادائیگی کا وعدہ کیا۔ صدر بی ایس پی مایاوتی نے اپنی ریالیوں میں سماج وادی پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اکھلیش حکومت نے غنڈہ عناصر کو چھوٹ دیتے ہوئے خوف و دہشت کا ماحول پیداکیا۔ مایاوتی اعلیٰ ذات کے غریبوں کو بھی تحفظات کا فائدہ پہنچائیں گی ۔ دوسرے مرحلہ کے ان انتخابات کے لئے720امید وار میدان میں ہیں ۔جب کہ حلقہ اسمبلی برہان پور میں سب سے بائیس امید وار میدان میں ہیں جب کہ حلقہ اسمبلی دھنورا میں سب سے کم چار امید وار مقابلہ کررہے ہیں ۔ اس دوسرے مرحلہ میں جن معروف قائدین کی قسمت کا فیصلہ کیاجائے گا ان میں سماج وادی پارٹی کے متنازعہ وزیر و قائد اعظم خان اور ان کے فرزند عبداللہ اعظم خان بالترتیب حلقہ اسمبلی رام پور اور سیئر سے مقابلہ کررہے ہیں۔ اس طرح کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ظفر علی نقوی کے فرزند سیف علی نقوی، سابق مرکزی وزیر جتن پرساد شاہ جہاں پور کے تلہار سے، بی جے پی مقننہ پارٹی کے قائد سریش کمار کھنہ شہر شاۃ جہاں پور سے اور ریاستی وزیر محبوب علی امروہہ سے مقابلہ کررہے ہیں۔ ان قائدین کی قسمت کا فیصلہ علاقہ کے2.28رائے دہندے کریں گے ۔ دوسرے مرحلہ کے انتخاب کے لئے14,771پولنگ سنٹرس اور23,693پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ ریاست میں مزید پانچ مرحلوں کے انتخابات19،23اور27فروری 4اور8مارچ کو ہوں گے ۔

0 comments:

Post a Comment