Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-02-10 - بوقت: 11:18

اودھ اخبار کے آئینہ میں - عکس نول کشور

Comments : 0
munshi-naval-kishore
اردو صحافت کی ترویج و ترقی میں جن مشاہیر ادب کا نام آتا ہے ان میں منشی نول کشور کا نام خاصی اہمیت کا حامل ہے ۔ منشی نول کشور ایک ایسی شخصیت تھے جو تعصب سے پاک تھی وسیع المشربی ، علم پروری اور ادب نوازی جن کا شیوہ تھی ۔ اس کے ساتھ ہی عالی ہمتی جیسی نادر خصوصیت بھی انہیں اوروں سے منفرد کرتی ہے ۔ان کی انہی خوبیوں کا عکس ان کی صحافت میں بھی نمایاں نظر آتا ہے جن کا مختصر جائزہ میرے اس مقالے میں لیا گیا ہے ۔
پنڈت نول کشور نے ویسے تو صحافت نگاری کی ابتدا کوہ نور اخبار سے وابستگی کے ساتھ کردی تھی اس کے بعد سفیر میں بھی صحافتی خدمات انجام دی تھیں یعنی صحافت سے ان کا رشتہ کافی پرانا تھا لیکن صحیح معنوں میں ان کی صحافت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ 1858 میں کوٹھی مہاراجہ مان سنگھ بہادر لکھنؤ میں ایک مطبع خانہ قائم کرتے ہیں اور جہاں سے اودھ اخبار ( اردو ) ، لکھنؤ ٹائمس ( انگریزی ) اور اودھ ریویو ( اردو ) میں جاری کرتے ہیں ۔ لیکن ان اخباروں میں امتیازی حیثیت کا حامل اودھ اخبار ہی رہا جس کا اجرا 26 نومبر 1858 میں اسی پریس سے عمل میں آیا ۔ اودھ اخبار نے بتدریج ترقی کی منازل کچھ اس طرح طے کیں کہ اسے پنڈت نول کشور نے اسے پہلے پندرہ روزہ اخبار کے طور پر پیش کیا پھر ہفتہ وار شائع کیا جو کہ ہر چہار شنبہ کو نکلتا تھا بڑھتی مقبولیت کے باعث اسے ہفتہ میں دو بار 1872 میں اور پھر 1876 میں ہر تیسرے دن نکا لا جانے لگا صحافتی دنیا میں یہ اخبار اپنے معیار کی وجہ سے امتیازی حیثیت کا حامل بنتا گیا اور پھر 1877 میں اسے روزنامہ کر دیا گیا ۔
اس اخبار کے پندرہ روزہ اور روزنامہ ہونے کے بارے میں محققین میں اختلافات پائے جاتے ہیں حسن ابرار اپنے ایک مضمون اردو صحافت کی عہد آفریں یادگار ۔۔اودھ نامہ میں مستند حوالوں کے ساتھ لکھتے ہیں کہ
اودھ اخبار ابتدا میں پندرہ روزہ رہا پھر ہفتہ روزہ رہا بعد میں ہفتہ میں دو بار شائع ہونے لگا اس کے بعد روزنامہ ہو گیا ۔1؂

لیکن ڈاکٹر اکبر حیدری اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ کبھی پندرہ روزہ رہا ہی نہیں چونکہ وہ یہ بات 1826 سے 1857 تک کی فائلیں دیکھنے کے بعد کہتے ہیں اس لیے ان کی بات ذیادہ درست معلوم ہوتی ہے ۔2؂
اس اختلاف کے ضمن میں مشہور فرانسیسی مستشرق گارساں دتاسی کا خطبہ کا یہ اقتباس بھی کافی اہم ہے جو کہ صفحہ نمبر 514 پر ہے وہ لکھتا ہے ۔
یہ اخبار پچھلے سات سال سے نہایت کامیابی کے ساتھ نکل رہا ہے چنانچہ اس کی ہر اشاعت پچھلی ہر اشاعتوں سے بہتر نظر آتی ہے ۔اس کی تقطیع اور صفحات کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے یہ اخبار ہفتہ وار ہے اور ہر چار شنبہ کے روز شائع ہوتا ہے شروع شروع میں اس میں صرف چار صفحے ہوا کرتے تھے اور وہ بھی چھوٹی چھوٹی تقطیع پر ۔پھر چھ ہوئے اور پھر سولہ اور اب اڑتالیس صفحات پر مشتمل ہوتا ہے پہلے کے مقابلے میں اس کی تقطیع بڑی ہو گئی ہے ۔میرے خیال میں اس سے ذیادہ ضخیم اخبار ہندوستان بھر میں اور کوئی نہیں ہے ۔ 3؂
گارساں دتاسی کے اس خطبے سے اس خیال کو تو تقویت ملتی ہے کہ یہ ہفتہ وار اخبار تھا مگر اخبارات کے صفحات کے بارے میں پھر سوال کھڑا ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اخبار 12 اور 16 صفحات میں ہی شائع ہوتا رہا ہے ممکن ہے کوئی خاص نمبر گارساں دتاسی کی نظر سے گذرا ہو اور انہوں نے اسی کے حوالے سے یہ بات لکھ دی ہو ۔
اودھ اخبار بڑی تقطیع پر 11ْ، 14 کے سائز پر سہ کالمی ہوتا تھا اس کے پہلے صفحہ کی جاذب نظر ی کا خاص خیال رکھا جاتا تھا آغاز میں اس پر اشتہار ہوا کرتا تھا لیکن کچھ وقت کے بعد اس کی یہ ترتیب بدل دی گئی جنوری 1870 میں اس میں مینیجر شیو پرساد کی تحریر جو کہ اخبار کی افادیت کے بارے میں ہوتی تھی صفحہ اول پر چھپتی تھی ساتھ ہی ایک شعر بھی درج ہوا کرتا تھا جو کہ یہ تھا
الٰہی جلوہ برق تجلی دہ زبانم را
قبول خاطر موسٰی کلاماں کن بیانم را
لیکن شعر کے اوپر لفظ اشتہار بھی لکھا ہوا 28 اپریل 1870 کے ایک عکسی تصویرمیں ملتا ہے جو کہ نیا دور کے نول کشور نمبر میں صفحہ نمبر 20 پر ہے جسے راقمہ نے دیکھا ہے ۔
منشی نول کشور نے اخبار کو ایک میعاری اخبار بنا کر پیش کیا تھا جس کے اصول انہوں نے خود متعین کیے تھے مضامین کی ترتیب کس طرح سے ہوگی ، کس خبر کو کس طرح سیٹ کیا جائے گا اس پر وہ خاص نظر رکھتے تھے یہی وجہ رہی کہ کم عرصے میں ہی اخبار کی مقبولیت کا عالم یہ ہوا کہ اس کی تعداد اشاعت 12 ہزار کو پہنچ گئی اور یہ نہ صرف ملک میں مقبول ہوا بلکہ بیرون ملک میں بھی اس کی رسائی ہوئی گارساں دتاسی کو یہ اخبار مسٹر ایڈورڈ ہنری پامر بھیجا کرتے تھے ۔
اودھ اخبار میں اردو اخباروں سے ہی خبریں نہیں لی جاتی تھیں بلکہ گزٹ آف انڈیا ، انڈین ڈیلی نیوز ، فرینڈ آف انڈیا اور پائینیر جیسے انگریزی اخباروں ک خبریں اور اہم مضامین ترجمہ کروا کر شائع کیے جاتے تھے ۔ پنڈت نول کشور نے بڑے بڑے شہروں میں اپنے نامہ نگار متعین کیے ہوئے تھے جس کی وجہ سے ملک کی اہم ترین خبریں شائع کرنے میں اس اخبار کو اولیت حاصل ہوئی ساتھ ہی بیرون ممالک کی خبریں بھی اس میں بر وقت شائع ہوتی تھیں ۔
عوام کو ان کے اخبار سے ملک اور بیرون ملک کی خبروں کے علاوہ رفاہ عامہ کی خبریں بھی برابر ملتی رہتی تھیں ۔ ساتھ ہی اس میں سرکاری قوانین ، احکامات ، عدالتی کار وائیاں ، ریلوے ٹائم ٹیبل وغیرہ کی اطلاعات بھی ہوتی تھیں جنہیں کبھی تو ترجمہ کروا کر اور کبھی ضرورت کے مطابق دیو ناگری رسم خط میں ہی شائع کر دیا جاتا تھا۔
منشی نول کشور نے اس اخبار کے لیے اس وقت کے علماء اور فضلا کو یکجا کیا ہوا تھا مختلف ادوار میں مختلف نامور اہل قلم کی وابستگی نے اس کے میعار کو ہمیشہ قائم رکھا ان حضرات میں منشی امیر اللہ تسلیم ، قدر بلگرامی ، (شاگرد غالب) پنڈت رتن ناتھ سر شار نسیم دہلوی ، شرر لکھنوی ،مرزا حیرت دہلوی ، شیو پر شاد ، نوبت رائے نظر ، دوارکا پرشاد افق، مرزا یاس یگانہ چنگیزی ، پیارے لال شاکر ، منشی پریم چند ، شوکت تھانوی ،امین سلونوی وغیرہ جیسے ادیبوں نے اپنی خدمات انجام دیں ۔جن کی کی صلاحیتوں نے اودھ اخبار کی بقا میں اہم ترین کردار ادا کیا ۔
یہ اخبار ادبی خدمات کے لیے بھی یاد کیے جانے کا مستحق ہے کیونکہ نہ صرف یہ مطبع سے شائع ہونے والی کتابوں کا سب سے بڑا مشتہر تھا بلکہ علمی اور ادبی خبروں کا منبع بھی تھا یہی وجہ رہی کہ یہ عوامی اور ادبی حلقوں میں یکساں طور پر مقبول ہوتا رہا ۔غالب کے خطوط سرسید کے مضامین اس کی زینت بنتے رہے ،پنڈت رتن ناتھ سرشار کا ناول فسانہ آزاد اسی اخبار میں جب قسط و ار شائع ہو اتو ناول اور اخبار دونوں کی شہرت بام عروج پر پہنچ گئی۔
پنڈت نول کشور ایک انسان دوست شخصیت کے مالک تھے اور ان کی اس خوبی کا مظاہرہ اخبار میں کچھ اس طرح نظر آتا تھا کہ جب بھی شہر میں کوئی نمایاں حیثیت کی حامل ادبی ،سماجی سیاسی یا علمی شخصیت کی تشریف آوری ہوتی وہ اسے اپنے مطبع پر ضرور دعوت دیتے ۔ان کا تعارف اور دیگر تفصیلات اخبار میں شائع بھی کرتے ۔ اسی طرح علمی ادبی اداروں کی جانب سے منعقد ادبی محفلوں ، مجلسوں اور ثقافتی سر گرمیوں کی خبریں بھی برابر شائع کی جاتیں۔
نول کشور اردو زبان کے زبر دست حامی تھے اور اسکی بقا کے لیے ہمہ وقت کو شاں بھی رہتے تھے وہ کہتے تھے اردو زبان ہندؤں اور مسلمانوں کے باہمی اختلاط سے وجود میں آئی ہے اور اس میں دوسری زبانوں کے الفاظ با آسانی ضم ہو جاتے ہیں اس لیے یہ عدالتوں میں بھی مقبول ہے ۔ وہ اپنے اخبار میں اپنے خیالات کا بر ملا اظہار بھی کرتے رہتے تھے ۔وہ اردو کے مخالفین کے مضامین اخبار میْں شائع کرتے اور پھر بھر پور استد لال کے ساتھ ان کے موقف کی تردید کر تے یہ ایک عالمانہ رویہ تھا اردو کی حمایت کا ۔
اودھ اخبار کو نول کشور نے ہندو مسلم اتحاد کا ایک مثالی نمونہ بنا دیا تھا مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں قوموں کے تہواروں کے موقع پر خاص نمبر بڑی تزئین کے ساتھ نکالا جاتا تھا ۔اس اخبار میں سماجی اصلاح ادب اور فنون کی ترقی و ترویج کے معاملات پر خصوصی توجہ دی جا تی تھی ۔ اس اخبار کی خاص پالیسی تھی کہ ملک کی عوام کے لیے ہر مفید بات لکھی جائے۔ فرقہ واریت کی مخالفت اور اتحاد کی حمایت پر زور طریقے سے کی جائے ۔
ڈاکٹر عبد السلام خورشید اپنی کتاب صحافت ہند و پاک میں لکھتے ہیں :۔
اودھ اخبار ایک خالص غیر فرقہ وارانہ اخبار تھا بظاہر ٹیپ
ٹاپ سے اور مضامین دیکھ کر کچھ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے مسلمانوں کا اخبار تھا
۔۔۔اس کا کوئی خاص سیاسی مسلک نہ تھا ہمیشہ دامن بچا کر چلتا تھا۔ 4؂

منشی نول کشور اپنے اخبار کے عملے کا بھی خاص خیال رکھتے تھے ان کے غم اور خوشی میں برابر شریک ہوتے ۔کسی کے بیمار ہو جانے پر خود عیادت کے لیے جاتے اس کا علاج و معالجہ کرواتے اس کی ضرورتوں کا خیال رکھتے ۔ امین سلونوی ان کی ان صفات کا ذکر کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون منشی نول کشور کی خدمات میں لکھتے ہیں کہ :۔
منشی نول کشور اپنے ادارے میں کام کرنے والوں سے بڑا شاہانہ سلوک کرتے تھے ۔مثلاً سنا ہے کہ رتن ناتھ سرشار کے لیے یہ انتظام تھا کہ وہ چاندنی راتوں میں دریائے گومتی کے کنارے بیٹھ کر اپنی تخلیقات سپرد قلم کریں ۔ وہاں جس چیز کی خواہش انہیں ہوتی وہ مہیا کی جاتی ۔5؂

قصہ مختصر اودھ اخبار کے ذریعے منشی نول کشور نے اپنی حیات کے آخری لمحوں تک اردو صحافت کی خدمات انجام دیں اور ان کا یہ اخبار بھی اپنی شاندار روایت کے ساتھ 92 سال تک پوری آب و تاب کے ساتھ جاری رہا با لا خر وارثان مطبع کے باہمی نزاع کی بنا پر 50۔49 19 میں اردو صحافت کا ایک اہم باب بند ہو گیا ۔
حواشی
1 : نیا دور ۔۔نول کشور نمبر نومبر دسمبر 1980 : ص ۔40
2 : ڈاکٹر اکبر حیدری :منشی نول کشور اور اودھ اخبار ،نیا دور نول کشور نمبر نومبر دسمبر 1980 جلد ، 35 ، شمارہ 8،9 ۔ ص : 23
3 : خطبہ گارساں دتاسی دسمبر 1866 ص: 514
4 : ڈاکٹر عبد السلام خورشید : صحافت ہند و پاک : ص ۔181
5 : امین سلونوی : منشی نول کشور کی خدمات ،نیا دور نول کشور نمبر نومبر دسمبر 1980 جلد 35 ، شمارہ ، 8،9 ۔ ص :161

***
ishratnahid[@]gmail.com
Dr. Ishrat Naheed
Asst. Professor, Maulana Azad National Urdu University.
C-9, H-Park, Mahanagar Extn., Behind Neera Hospital, Lucknow – 220 006
Mob. : 9598987727
ڈاکٹر عشرت ناہید

Munshi Newal Kishore and Avadh newspaper. Article: Dr. Ishrat Naheed

0 comments:

Post a Comment