Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-02-04 - بوقت: 15:25

نوٹ بندی سے متعلق بل لوک سبھا میں پیش

Comments : 0
نوٹ بندی سے متعلق بل لوک سبھا میں پیش
نئی دہلی
پی ٹی آئی، یو این آئی
حکومت نے آج پرانے پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کو قبضہ میں رکھنے منتقلی اور وصول کرنے سے متعلق لوک سبھامیں ایک بل متعارف کروایا ہے جس میں اس کو ایک فوجداری جرام قرار دیاگیا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر اقل ترین جرمانی دس ہزار روپے مقرر کیا گیا ہے ۔ مصرحہ بینک نوٹس ذمہ داری بل جو گزشتہ نومبر میں نوٹب ندی پر آر بی آئی اور حکومت کی ذمہ داری کا خاتمہ کرے گا ، وزیر فینانس ارون جیٹلی کی جانب سے ترنمول کانگریس ارکان کی سخت مخالفت کے دوران متعارف کروایا گیا جس کو اس نے غیر قانونی اور ملک دشمن قرار دیا ہے۔ یہ بل ساتھ ہی پارلیمنٹ میں منظور ہوگا وہ گزشتہ30دسمبر کو معلنہ ایک آرڈیننس کی جگہ لے گا جس کے لئے دس ہزار روپے کا جرمانہ مقرر کیا گیا ہے ۔ بل میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کا نوٹ بندی کا فیصلہ آڑ بی آئی سنٹرل بورڈ کی سفارش پر کیا گیا ہے تاکہ غیر محسوب روپے اور جعلی کرنسی نوٹوں کا مالیاتی نظام سے خاتمہ کیاجائے ۔ نوٹ بندی کے توسط سے کالے دھن اور جعلی کرنسی سے نمٹنے کے لئے ایسے اعلیٰ قدر کے مشتبہ نقد ڈپازٹس کی توثیق کے لئے سرکاری ایجنسیوں نے زائد از1100تلاشیاں لیں اور ایسے ڈپازٹس کی توثیق کے لئے5100نوٹسیں جاری کیں اور جو زائد 610کروڑ روپے مالیتی قیمتی اشیاء کی ضبطی کا باعث بنا جس میں سے513کروڑ نقدرقم تھی ۔ مابعد نوٹ بندی9نومبر2016تا 10جنوری2017کے دوران زائد از1100تلاشیاں لی گئیں اور سروے منعقد کئے گئے اور اعلیٰ قدر کے مشتبہ نقد ڈپازٹس کی توثیق کے لئے محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے زائد5100نوٹسیں جاری کی گئی ہیں۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ بات کہی۔ وہ8نومبر کو معلنہ نقد پرانے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں پر پابندی کے تحت حکومت نے کس حد تک اس کا مقصد حاصل کیاہے اس پر ایک سوال کا جواب دے رہے تھے اور تا حال نقد رقم کی ضبطی نئے کرنسی نوٹوں کی شکل میں110کروڑ روپے رہی ہے ۔10جنوری2017تک ان جدید تحقیقات میں غیر منکشف آمدنی کا پتہ لگایا گیاہے جو زائد از5400کرو ڑ روپے ہے ۔ ایک علیحدہ جواب میں مملکتی وزیر برائے فینانس سنتوش گنگوار نے کہا کہ دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں جیسے انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ اور سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن مناسب اقدام کے لئے انکم ٹیکس محکمہ کی جانب سے متعلقہ اطلاع کی ساجھے داری کی گئی ہے ۔ اس دوران یو این آئی کے بموجب ترنمول کانگریس کے رکن سواگت رائے نے بل متعارف کرانے پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کو ایک ایسا مسودہ قانون متعارف کرنے کا حق نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی ایک تباہ کن فیصلہ تھا اور حکومت کا غیر قانونی فیصلہ تھا۔ وزیر فینانس اپنے پیروں پر کھڑاہونے کے لئے وقف کھوچکے ہیں۔ بل متعارف کرانے پر اعتراضات کرنے کے لئے منہ کھولنے کے ان کے حق پر سوال کررہا تھا ۔ یہ بل لوک سبھا کے قاعدہ72کے مطابق ایک رکن کو یہ اجازت نہیں دیتا ہے کہ بل متعارف کرانے پر کوئی سوال کرے ۔ بنیادی طورپر یہ ایک اچھا بل نہیں ہے ۔ اپنی طرف سے مسٹر رائے نے بہ حیثیت سابق مرکزی وزیر مسٹر جیٹلی کا جواب دیا اور کہا کہ میں صرف وزیر کے بولنے کے حق پرسوال کررہا ہوں ۔ دونوں جانب سے الفاظ کے تبادلہ کے دوران ایک بر سر اقتدار رکن کو یہ کہتے ہوئے سنا گیاکہ میڈیم یہ ترنمول کانگریس سے وابستہ ارکان ہیں جو چٹ فنڈ کمپنیوں کی مدد کررہے ہیں۔ اور ایک سے زیادہ معاملات پر اپوزیشن کی طرف شوروغل اور ترنمول کانگریس کے ارکان کے سخت اعتراض نے اس قدر بھاری ہنگامہ کیا کہ ایوان کی کارورائی پہلے ایک بجے تک کے لئے اور پھر پیر تک کے لئے ملتوی کردی گئی ۔ ارون جیٹلی نے وقفہ صفر کے دوران جیسے ہی مخصوص بینک نوٹ( واجبات کے خاتمہ کا)بل2017ء پیش کرنے کی سمترامہاجن سے اجازت مانگی ، ترننمول رکن سوگت رائے نے بل کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے8نومبر کو عائدکردہ نوٹوں پر پابندی کا اعلان پوری طرح آئینی دفعات کے خلاف ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں ہندوستانی ریزروبینک کے قوانین کو حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بڑی کرنسی کو قانونی ٹنڈر کا درجہ دینے کا حق صرف ریزروبینک کو ہے۔ اسلئے ایسی کسی بھی کرنسی کے چلن کو بند کرنے کا اعلان صرف ریزروبینک ہی کرسکتا ہے ۔ایسا کوئی اعلان وزیر اعظم نہیں کرسکتے ۔ وزیر اعظم نے کچھ کیا ہے وہ غیر قانونی ہے ۔ ایسے میں اس حوالے سے لایا گیا آرڈیننس اور اس کی جگہ پر لایاجانے والا بل بھی صحیح سمت میں نہیں اس لئے ان کی پارٹی اس کی مخالفت کرتی ہے ۔
Demonetisation bill introduced in Lok Sabha amid TMC opposition

ای احمد کی موت اور ترنمو ل کانگریس ارکان کی گرفتاری پر ہنگامہ
نئی دہلی
یو این آئی
سی بی آئی کے مبینہ بے جا استعمال پر آل انڈیا ترنمول کانگریس کے احتجاج اور کیرالا کے انڈین یونین مسلم لیگ رکن پارلیمنٹ ای احمد کے انتقال سے متعلق تنازعہ پر کانگریس اور بائیں بازو کے ہنگامہ کے باعث لوک سبھا مین کام کاج لگ بھگ پورے دن درہم برہم رہا ۔ بجٹ اجلاس کے تیسرے دن ایوان کی کارروائی وقفہ صفر اور وقفہ سوالات کے دوران دو مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد ایک بجے جیسے ہی شروع ہوئی، دن بھر کے لئے ملتوی کردینی پڑی ۔ پہلی مرتبہ اجلاس کے التوا کے بعد جب کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اسپیکر سمترا مہاجن نے اعلان کیا کہ وہ ان مسائل پر مختلف ارکان کی دی گئی نوٹسیں مسترد کررہی ہیں ۔ اس پر ارکان مزید احتجاج کرنے لگے۔ اسپیکر نے وزیر کلچر مہیش شرما سے کہاکہو ہ صدر جمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر پر بحث شروع کریں تاہم اے آئی ٹی سی،کانگریس اور بایاں بازو ارکان بشمول سینئر قائدین پروفیسر سوگت رائے ، کے کروناکرن، کے سی وینو گوپال اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے کہ انہیں یہ مسائل اٹھانے دئیے جائیں۔ اس پر ایوان میں ہنگامہ برپا ہوگیا اور سمترا مہاجن نے اجلاس کی کاروائی ایک بجے تک ملتوی کرنے میں دیر نہیں لگائی ۔ ایک بجے جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو سرکاری بنچس میرٹھ میں ایک نوجوان کی ہلاکت کے مسئلہ رپ شور برپا کرنے لگیں جب کہ پروفیسر رائے اپنی پارٹی کے ارکان کے خلاف سی بی آئی کے مبینہ بے جا استعمال کا مسئلہ اٹھانا چاہتے تھے ۔ اسپیکر نے انہیں پھر روک دیا اور اجلاس پیر تک ملتوی کردیا۔ دیگر اپوزیشن جماعتوں نے چند دوسرے مسائل اٹھائے ۔ پی ٹی آئی کے بموجب لوک سبھا کی کارروائی آج درہم برہم ہوئی۔ اپوزیشن نے سینئر رکن ای احمد مرحوم کے ارکان خاندا ن سے غلط برتاؤ پر ہنگامہ برپا کیا جب کہ ٹی ایم سی ارکان الزام عائدکررہے تھے کہ سی بی آئی کا بیجا استعمال کیاجارہا ہے ۔ اجلاس پہلی مرتبہ وقفہ سوالات کے دوران پچاس منٹ کے لئے ملتوی ہوا ۔ ترنمول کانگریس ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے تھے ۔ وہ اپنے پارٹی ساتھیوں کی گرفتاری پر احتجاج کررہے تھے ۔ تلگو دیشم کے بعض ارکان کو بیانرس تھامے دیکھا گیا ۔ وہ آندھرا پردیش کے لئے خصوصی موقف کا مطالبہ کررہے تھے ۔ اسپیکر سمترامہاجن نے اجلاس ملتوی کرنے سے قبل کہا کہ میں آپ لوگوں کو وقفہ صفر میں مسائل اٹھانے دوں گی۔ دوپہر میں جب ایوان کی کارروائی بحال ہوئی تو اپوزیشن نے پھر اجلاس ملتوی کرنے پر مجبور کردیا۔ مختلف سیاسی جماعتوں بالخصوص کیرالا کے ارکان ایوان کے وسط میں اکٹھا ہوگئے تھے ۔ وہ سابق مرکزی صدروانڈین یونین مسلم لیگ ای احمد کی موت کا مسئلہ اٹھا رہے تھے ۔ ایک بجے اجلاس کی کارروائی جب تیسری مرتبہ شروع ہوئی تو صورتحال ایسی ہی تھی۔ ٹی ایم سی ارکان نے ان کے پارٹی ساتھیوں کو سی بی آئی کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا مسئلہ اٹھایا ۔ ٹی ایم سی کے ڈپٹی لیڈر سوگت رائے نے کہا کہ مرکز سنٹرل بیورو آف انوسٹیگیشن کا بے جا استعمال کرتے ہوئے ہمارے ارکان پارلیمنت کو نشانہ بنارہا ہے ۔ سی بی آئی پنجرے میں بند طوطا ہے ۔ مرکز، سیاسی مقاصد کے لئے اسے استعمال کررہا ہے ۔ ہنگامہ اور نعرے بازی جاری رہنے پر اسپیکر نے اجلاس پیر تک کے لئے ملتوی کردیا ۔ آئی اے اینا یس کے بموجب لوک سبھا میں جمعہ کے دن سرکاری بنچس و اپوزیشن کے پرزور و پرشور احتجاج کے باعث اسپیکر کو اجلاس کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی کردینی پڑی ۔ ایوان کی کارروائی شروع ہونے سے قبل ترنمول ارکان نے اپنے ساتھیوں کی گرفتاری کے خلاف پارلیمنٹ کامپلکس میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے قریب احتجاج کیا۔ مغربی بنگال کی بر سر اقتدار جماعت ترننمول کا، مودی حکومت سے کئی مسائل بشمول نوٹ بندی پر ٹکراؤ جاری ہے ۔

پنجاب اور گوا میں آج رائے دہی
چنڈی گڑھ
پی ٹی آئی
پنجاب کی117رکنی اسمبلی کے لئے کل رائے دہی عمل میں آئے گی اور سہ رخی مقابلہ ہوگا جہاں شرومنی اکالی دل، بی جے پی اتحادکو جو دس سالہ دور حکومت کے بعدمخالف حکومت لہر سے لڑرہا ہے ، کانگریس اور نووارد عام آدمی پارٹی سے کانٹے کا مقابلہ در پیش ہے۔ ان انتخابات میں جومودی حکومت کی جانب سے نوٹ بندی کے بعد پہلی اسمبلی انتخابات ہیں،198کروڑ افراد رائے دہی کے اہل ہیں،1145امید واروں کے مقدر کا فیصلہ کریں گے ۔ امید واروں میں81خواتین اور ایک مخنث بھی شامل ہے۔ ریاست میں انتخابی مہم کے اختتام سے بمشکل دو دن قبل کار دھماکہ کے مدنظر سخت سیکوریٹی انتظامات کے لئے نیم فوجی فورسس کی زئد از200کمپنیوں کو تعینات کیا گیاہے ۔ علیحدہ اطلاع کے مطابق گوا میں انتخابی مہم کے اختتام کے بعدکل اسمبلی انتخابات کے انعقاد کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں، جہاں حکمراں بی جے پی ، اپوزیشن کانگریس اورنووارد عام آدمی پارٹی کے علاوہ ایم جی پی، جی ایس ایم اور شیو سینا پر مشتمل تین جماعتوں کے اتحاد کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔ گوا میں زائد از11لاکھ رائے دہندے حق رائے دہی سے استفادہ کے اہل ہیں تاکہ چالیس نشستی ریاستی اسمبلی کے لئے ارکان کو منتخب کرسکیں۔ ریاست کے1642پولنگ بوتھس پر صبح سات بجے سے ووٹنگ کا آغاز عمل میں آئے گا ، جو شام پانچ بجے تک جاری رہے گی۔ اس الیکشن میں پانچ سابق چیف منسٹر س اورموجودہ چیف منسٹر لکشمی کانت پارسیکر کے مقدر کا فیصلہ ہوگا، جب کہ مجموعی طور پر250امید وار میدان میں ہیں۔ جنوبی گوا سے131اور شمالی گوا سے119امید وار میدان میں ہیں۔ ووٹوں کی گنتی11مارچ کو ہوگی۔ یہ قیاس آرائیاں بھی کی جارہی ہیں کہ بی جے پی کے برسر اقتدار آنے کی صورت میں وزیر دفاع منوہر پاریکر کو آئندہ چیف منسٹر کی حیثیت سے ریاست کو واپس بھیجاجاسکتا ہے ۔

0 comments:

Post a Comment