Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-02-18 - بوقت: 22:59

نوٹ بندی کے بعد حالات بحال - وزیر خزانہ جیٹلی

Comments : 0
17/فروری
نوٹ بندی کے بعد حالات بحال: ارون جیٹلی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا ہے کہ پرانے پانچ سو اورہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کے86فیصد نوٹوں کو واپس لئے جانے کے لاثانی فیصلہ کے اندرون چند ہفتے معمول کے حالات بحال ہوگئے اور مارکٹ میں اس وقت نوٹوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ریزروبینک آف انڈیا کے کرنسی نوٹ پرنٹنگ پ ریسس، سیکوریٹی پرنٹنغ پریسس اور منٹنگ کارپوریشن آف انڈیا لمٹیڈ( ایس پی ایم سی آئی ایل) نے نئے بینک نوٹسجاری کرنے کے لئے بلا وقفہ کام کیا ہے۔ یہاں ایس پی ایم سی آئی ایل کی گیارہ ویں یوم تاسیس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے دوران تبصرے اور نامعقول ریمارکس کرنا تھا۔ لیکن سخت ترین کام اس پر عمل آوری تھا ۔ یہ حالانکہ دنیا میں نوٹ بندی کی سب سے بڑی مہم تھی جس کا مقصد کرپشن کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور کالے دھن اور جعلی کرنسی کے خلاف کارروائی کرنا تھا۔ یہ بتاتے ہوئے کہ عوام نے اکثر تبصرہ کیا ہے کہ اس سے معمول کے حالات کی بحالی کے لئے ایک سال یا کم از کم سات ماہ درکار ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام اندرون چند ہفتے کیا گیا ہے اور چند ہفتوں میں معمول کے حالات بحال ہوگئے ہیں اور مارکٹ میں حتی کہ ایک دن کے لئے نوٹوں کی کوئی قلت نہیں ہے ، یہ مقصد ملک میں کسی بھی جگہ ایک واحد ناخوشگوار واقعہ کے بغیر حاصل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اس لئے ممکن تھا کیونکہ آر بی آئی کے پرنٹنگ پریسس اور ایس پی ایم سی ائی ایل کی جانب سے مثالی کام انجام دئیے گئے ہیں۔ جنہوں نے قطار میں جانے والوں کو سربراہ کئے ہیں۔ طویل عرصہ سے ان اداروں نے چوبیس گھنٹے بلا کسی وقفہ کے یہ کام انجام دیا ہے تاکہ موثر طور پر یہ کام مکمل کیاجاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی ایم سی آئی ایل کے ملازمین اس موقع پر جمع ہوئے اور معاشی امور کے مشیر شکتی کانتا داس نے کہاکہ ایس پی ایم سی آئی ایل نے کرنسی نوٹس پرنٹ کرتے ہوئے یہ کام مکمل کیا ہے اورانہوں نے سکے ڈھالے اور غیر عدالتی پیپرس اور اسٹامپس بھی چھاپے ہیں ۔ گزشتہ ایک سال کے دوران خاص طورپر نوٹ بندی کی میعاد کے دوران ایس پی ایم سی آئی ایل کے ہر ایک ملازم نے نئے کرنسی نوٹ چھاپتے ہوئے درکار تعداد کی تکمیل کے موقع پر آگے آئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی ایم سی آئی ایل ابتداء میں دو شفٹوں میں چلایاجاتا تھا اور ہرایک طویل میعاد کے لئے ہوتاتھا لیکن ہم نئے نوٹس جاری کرنے کی کارورائی کررہے تھے۔نومبر اور دسمبر کے مہینوں کے دوران ایس پی ایم سی آئی ایل 24x7، ایک دن میں تین شفتوں میں کام کرنے کا اہل رہاتھا اور نوٹوں کا مجموعی حجم جوان دنوں کے دوران چھاپے گئے تھے اس کے لئے ملازمین کو زیادہ وقت کام کرنے پر مجبور کیا جس سے نوٹ بندی کی کارروائی میں حکومت کو مدد ملی۔
Demonetisation: Normalcy in currency operations restored, Jaitley

سسی کلا کا پارٹی سے اخراج
چینائی
پی ٹی آئی
اوپنیر سیلوم کیمپ نے آج ایک جیسے کو تیسا اقدام میں اے آئی اے ڈی ایم کے جنرل سکریٹری وی کے سسی کلا اور ان کے دو رشتہ داروں کو اصولوں اور نظریات کی خلاف ورزی پر پارٹی سے خارج کردیا۔ پی مدھو سدانن نے جنہیں سسی کلا نے قبل ازیں پریسیڈیم صدر نشین کے عہدہ سے ہٹا دیاتھا ، اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں(سسی کلا) نے آنجہانی جیہ للیتا کے کئے گئے اس وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے کہ وہ سیاست میں قدم نہیں رکھیں گی اور ان کا یہ قطعی ارادہ نہیں ہے کہ وہ پارٹی یا حکومت کا حصہ بنیں ۔ مدھو سدانن نے کیڈر سے کہا کہ وہ سسی کلا سے کوئی ربط و ضبط نہ رکھیں۔ واضح رہے کہ سسی کلا کے وفاداری کے پلانی سوامی کو کل چیف منسٹر کے عہدہ کے لئے حلف دلا اگیا اور وہ کل ٹاملناڈو اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔ مدھو سدانن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ وی کے سسی کلا کو پارٹی کے اصولوں اور نظریات کی خلاف ورزی اور اماں سے کئے گئے وعدے سے انحراف کے علاوہ فوجداری کیسس کا سامنا ہونے پر پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے ہٹایاجارہا ہے ۔ انہوں نے پارٹی کا نام بدنام کیا۔ مدھو سدانن جنہوں نے گزشتہ ہفتہ پنیر سیلوم کیمپ میں شمولیت اختیارکی تھی، سسی کلا نے ان کے بجائے کے اے سین گوٹاپن کو پارٹی پریسیڈیم کا صدرنشین مقرر کیاہے ، تاہم اس اقدام کو پنیر سیلوم کیمپ نے مسترد کردیا ہے ۔ انہیں پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے بھی ہٹا دیا گیا تھا ، لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ ششی کلا کو ایسا کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ سسی کلا نے جو66کروڑ روپے کے غیر متناسب اثاثہ کیس میں بنگلورو کی ایک جیل میں سزائے قید کاٹ رہی ہیں، سابق چیف منسٹر اوپنیر سیلوم کو بھی ان کے خلاف بغاوت کرنے پر پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے ہٹا دیا تھا۔

0 comments:

Post a Comment