Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-02-08 - بوقت: 16:14

کانگریس کا ورک کلچر ملک کے تمام مسائل کی جڑ - وزیر اعظم

Comments : 0
کانگریس کا ورک کلچر، ملک کے تمام مسائل کی جڑ - وزیر اعظم
نوٹ بندی کا فیصلہ عجلت میں نہیں کیا گیا ۔ لوک سبھا میں وزیر اعظم کی تقریر
نئی دہلی
یو این آئی
کانگریس پر مضبوط پکڑ کے لئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج نہرو، گاندھی خاندان کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کانگریس کی پچھلی حکومتوں کے انداز کارکردگی پر بھی تنقیدکی اور کہا کہ یہی اندازِ کار کرکدگی ملک کودر پیش مسائل کی اصل وجہ ہے ۔ وزیر اعظم نے نوٹ بندی اور سرجیکل حملوں پر تنقید کے لئے کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں پر جوابی وار کرتے ہوئے کہا کہ ان جماعتوں کا ملک کے عوام سے رابطہ پوری طرح منقطع ہوگیا ہے ۔ صدرجمہوریہ کے خطبہ پر تحریک تشکر پر بحث کے جواب میں وزیر اعظم نے لوک سبھا میں زائد از ایک گھنٹہ پینتالیس منٹ طویل تقریر کی ۔ ان کی تقریر کے دوران اپوزیشن اور سرکاری بنچس میں گرما گرم بحث ہوتی رہی ۔ طنزو مزاح کے کچھ پل بھی نکل آئے ۔ مودی نے مہا بھارت چرو کا فلسفہ اور دیگر ہندوستانی حوالوں سے اپوزیشن پر طنز کیا۔ مودی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ آج میں آپ کی عدالت میں کھڑا ہوں۔ انہوں نے کانگریس قائدایم ملکارجن کھرگے کے ان دعوؤں کی نفی کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی جن اسکیموں کا کریڈت لے رہے ہیں وہ پچھلے کانگری دورِ حکومت کی ہیں۔ مودی نے کہا کہ سیاسی عزم و حوصلہ اور نیک نیتی نہ ہونے کے باعث کانگریس اقتدار میں کئے گئے کئی اچھے فیصلوں کو روبہ عمل نہیں لایاجاسکا، جب کہ میری حکومت نے انہیں لاگو کرنے میں دیر نہیں لگائی ۔ یہ ورک کلچر کا فرق ہے ۔ کھرگے کے اس دعویٰ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہ کانگریس کی بدولت ہی ملک میں جمہوریت محفوظ رہی،وزیر اعظم نے کہا کہ کانگریس نے پوری جمہوریت ایک سیاسی سلطنت کے لئے وقف کردی جنہوں نے1970ء میں جمہوریت کی نفی کرنے کی کوشش کی انہیں جن شکتی( عوامی طاقت) سمجھ میں نہیں آئے گی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ لوگ سوچتے ہیں کہ ایک خاندان نے ملک کو آزادی دلائی۔ واہ کیا شعر ہے ۔ مودی نے طنزیہ کہا کہ یقینا آپ کی پارٹی کا بڑا کرم ہے کہ آپ نے ہمارے لئے جمہوریت کا تحفظ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جن شکتی کی بدولت ہی ایک غریب ماں کا بیٹا آج ملک کا وزیر اعظم بن سکا ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں نوٹ بندی کا پرزور دفاع کیا اور اپوزیشن کے اس پروپیگنڈہ کو خارج کردیا کہ نوٹ بندی کا فیصلہ عجلت میں کیا گیا ۔ مودی نے کہا کہ آپ کو مودی کا مطالعہ کرنا ہوگا ۔ یہ مت سوچنا کہ ایسا قدم عجلت میں اٹھایا جاسکتا ہے ۔ سوچ سمجھ کر وقت کا انتخاب کیا گیا کیونکہ معیشت مضبوط ہے ۔ انہوںنے کہا کہ دیوالی کے دوران تجارت کے عروج کے بعد ایک ایسا وقت آتا ہے کہ جب تجارتی سر گرمیاں ماند پڑجاتی ہیں۔ اسی لئے میں نے یہ وقت چنا کہ پچاس دن میں سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا اور اب مجھے لگ رہا ہے کہ میرے حساب کتاب کے مطابق ہورہا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نوٹ بندی ان کے کلین انڈیا مشن کا حصہ ہے کیونکہ اس سے معیشت صاف ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کے دوران باربار قواعد و ضوابط بدلنے کے لئے ان کی حکومت پر تنقید ہوئی لیکن یہ اس حقیقت کے مد نظر کیا گیا کہ کالا دھن رکھنے والے قواعد و ضوابط سے بچ نکلنے ہوشیاری کے ساتھ نئی راہیں تلاش کررہے تھے ۔ انہوںنے کھرگے کو بتایا کہ منریگا کے قواعد وضوابط بھی1035مرتبہ بدلے گئے ۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ نوٹ بندی کی سفارش اندرا گاندھی کے دور میں ہوئی تھی لیکن سیاسی ترجیحات کے مد نظر اسے رو بہ عمل نہیں لایا گیا تھا ۔ اسی طرح راجیو گاندھی کے دور میں بے نامی جائیداد قانون منظور ہوا لیکن پارلیمنٹ میں حکومت کو زبردست اکثریت حاصل ہونے کے باوجود اس کا اعلامیہ جاری نہیں ہوا ۔26سال بعد بھی اعلامیہ کیوں جاری نہیں ہوا؟ آپ بچ نہیں سکتے ۔ آپ کو ملک کو جواب دینا ہوگا۔
Modi attacks Nehru-Gandhi family, Cong work culture as root of all problems

ڈیجیٹل لین دین پر ٹیکس کم کیاجائے گا: ارون جیٹلی
نئی دہلی
یو این آئی
حکومت نے آج کہا کہ وہ ملک میں ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کی کوشش کررہی ہے اور اس پر لگنے والے ٹیکس کو رفتہ فتہ کم کیاجائے گا ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے راجیہ سبھا میں ایک ضمنی سوال کے جواب میں کہا کہ پٹرول پمپ پر اور ریل ٹکٹوں کی ڈیجیٹل خرید پر کوئی ٹیکس نہیں لیاجاتا ہے جب کہ ڈیبٹ کارڈ سے ایک ہزار روپے تک کی ادائیگی پر0.25فیصد اورایک ہزار سے دو ہزار روپے تک کی ادائیگی پر0.5فیصد ٹیکس( مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ) لیاجاتا ہے ۔ دو ہزار سے زیادہ کے لین دین پر ٹیکس کے تعین کا فیصلہ ریزرو بینک آف انڈیا کو کرنا ہے ۔ جیٹلی نے کہا کہ ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینے کے لئے متبادل قدم بھی اٹھائے جارہے ہیں تاکہ ٹیکس کم ہو اور معیشت کو آسان بنایاجاسکے ۔ انہوںنے کہا کہ ملک میں75کروڑ ڈیبٹ کارڈ ہیں جن میں72فیص ڈیبٹ کارڈ ہیں۔ کریڈٹ کارڈکا استعمال مالی طور پر خوشحال لوگ کرتے ہیں اور اس پر ٹیکس کا تعین کارڈ جاری کرنے والی کمپنی کرتی ہے ۔ جیٹلی نے کہا کہ ملک میں ادائیگی بینک کھولنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ۔اور زیادہ تر ٹیلی فون کمپنیوں اور انڈین پوسٹ کو اس کے لئے لائسنس دیا گیا ہے ۔ اس سے ڈیجیٹل لین دین کی سہولت دیہی سطح پر فراہم ہوگی ۔ ایک دیگر سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بینکوں سے جن دھن کھاتے کھولنے والے27کروڑ لوگوں کو روپے کارڈ دیا گیا ہے یہ کارڈ لینا لوگوں کا حق تھا۔ انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کا اعلان ریزر بینک کے سینٹرل بوڈ کی8نومبر کو ہوئی میٹنگ میں لیا گیا تھا ۔ اس میٹنگ میں سنٹرل بورڈ کے دس ڈائریکٹروں میں سے اٹھ موجود تھے ، دو عہدے خالی ہیں جنہیں جلد ہی بھرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ وزیر فینانس نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی پر با ت چیت کے وقت سے چل رہی تھی۔ لیکن اسے خفیہ رکھاجارہا تھا ۔ نوٹوں کی منسوخی سے پہلے اس سے مختلف علاقوں میں درمیانی اور طویل مدت تک ہونے والے اثرات کا مطالعہ کیا گیا تھا ۔ اس کے اعلان سے پہلے مناسب نوٹ چھاپے گئے تھے ، لیکن نوٹ کے ڈیزائن اور موٹائی وغیرہ کے سلسلے میں اے ٹی ایم کو10نومبر کے بعد تکنیکی طورپر پھر سے تیار کیا گیا ۔

اتر پردیش اسمبلی انتخابات کا پہلا مرحلہ
تمام سیاسی جماعتوں نے اپنی ساری طاقت جھونک دی
لکھنو
یو این آئی
اتر دیش اسمبلی انتخابات کے پہلے اور دوسرے مرحلہ میں مغربی اتر پردیش کے73اسمبلی حلقوں میں رائے دہی کے لئے اب بہت کم وقت بچا ہے، تمام سیاسی جماعتوں کے رائے دہندوں تک پہنچنے کے لئے زور شور سے انتخابی مہم چلاتے ہوئے اپنی ساری قوت جھونک دی ہے ۔ یہاں11فروری کو رائے دہی ہوگی ۔ تمام سیاسی جماعتوں کے سینئر قائدین ہر نکڑ اور مقام پر رائے دہندوں سے ربط پیدا کرنے ان سے خطاب کے لئے کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھنا چاہتے ۔ فرقہ وارانہ حساس مغربی اتر پردیش کے میں بی ایس پی، بی جے پی اور آر ایل ڈی کے ساتھ ساتھ سماج وادی پارٹی ۔ کانگریس اتحاد بھی پہلے دو مرحلوں میں رائے دہندوں سے ربط پیدا کرنے مصروف ہے۔ ان علاقوں میں قائدین اپنی تمام تر کوششیں کرتے ہوئے قانون توڑے بغیر فرقہ وارنہ ایجنڈہ کو چھیڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان قائدین کے پیش نظر جو موضعات ہیں ان میں زیادہ تر ریاست میں لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ،2013کے مظفرنگرفسادات، کیرانہ سے نقل مقامی، عیشکر کسانوں کو ادائیگیوں کا مسئلہ، نوٹ بندی کے بعد کے مسائل کے علاوہ مقامی مسائل، کرپشن اور حکومت کی ناکامیوں پر بھی امید وار تقاریر کررہے ہیں۔ اتر پردیش میں پہلے مرحلہ کا انتخاب 11فروری کو ہوں گے ۔جب کہ دوسرے مرحلہ کی رائے دہی15فروری کو ہوگی ۔ سوائے کانگریس اور بی جے پی کے دیگر سیاسی جماعتیں جیسے سماجو ادی پارٹی اپنے واحد قائد کی قیادت میں انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ سماج وادی پارٹی کی قیادت اس کے صدر و چیف منسٹر اکھلیش یادو کررہے ہیں ۔ جب کہ بہوجن سماج پارٹی کی انتخابی مہم کی پارٹی صدر مایاوتی چلا رہی ہیں۔ لیکن دوسرے طرف کئی قائدین بشمول بالی ووڈ کے کئی اداکار بی جے پی کے لئے مہم چلارہے ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے ہی میرٹھ اور علی گڑھ میں دو انتخابی ریالیوں سے خطاب کرچکے ہیں ۔ جب کہ صدر بی جے پی امیت شاہ میرٹھ، غازی آباد ، متھرا اور بلند شہر میں کئی ایک جلسوں سے خطاب کرچکے ہیں ۔ اس کے علاوہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے بشمول کلراج مشرا اور امیت شاہ کے ساتھ پہلے مرحلہ کے تقریبا تمام73حلقوں میں عوام سے ربط پیدا کررہے ہیں ۔ اسی طرح کانگریس نے بھی بڑے قائدین کو میدان میں اتارا ہے ۔ کانگریس کی انتخابی مہم کا اس کے نائب صدر راہول گاندھی پہلے ہی صدر ایس پی و چیف منسٹر اکھلیش یادو مشترکہ روڈ شو میں حصہ لے چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور کانگریس کے دیگر اعلیٰ قائدین ریاست بھر میں مختلف علاقوں میں پھرتے ہوئے مہم چلارہے ہیں ، اور نکڑ میٹنگ اور عوامی جلسوں سے خطاب کررہے ہیں۔ راہول گاندھی اور اکھلیش یادو نے منگل کو میرٹھ میں مشترکہ ریالی سے خطاب کیا۔ اس کے علاوہ دونوں قائدین علیحدہ علیحدہ پور پر عوامی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی امید واروں کے حق میں عوامی رائے ہموارکرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ راشٹریہ لوک دل( آر ایل ڈی) نے بھی مغربی اتر پردیش میں اپنی کئی امید وار میدان میں اتارا ہے ۔ صدرآر ایل ڈی اجیت سنگھ اور ان کے فرزند جینت ہی آر ایل ڈی کے اہم انتخابی مہم جو ہیں ۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آر ایل ڈی کسی جماعت سے اتحاد کئے بغیر تنہا مقابلہ کررہی ہے ۔ اسی طرح اتر پردیش میں پہلی مرتبہ اسد الدین اویسی کی کل ہند مجلس اتحاد المسلمین( اے آئی ایم آئی ایم) بھی بڑے پیمانہ پر انتخابی میدان میں اور کئی مسلم زیر اثر والے حلقوں میں اپنے امید وار کھڑے کئے ہیں۔ خود بیرسٹر اسد الدین اویسی اتر پردیشمیں بڑے پیمانہ پر اپنی جماعت کے امید واروں کے حق میں مہم چلارہے ہیں اور جن حلقوں میں ان کے امید وار میدان میں ہیں وہاں کی عوام تک پہنچتے رہے ہیں ۔ پہلے مرحلہ کے انتخاب میں کل836امیدوار اپنی قسمت آزمارہے ہیں ۔ جب کہ دوسرے مرحلہ میں720امید وار میدان میں ہیں۔

0 comments:

Post a Comment