Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-02-10 - بوقت: 22:28

بجٹ مایوس کن - نوٹ بندی کا فیصلہ سیاسی بصیرت سے عاری - چدمبرم

Comments : 0
9/فروری
بجٹ مایوس کن، نوٹ بندی کافیصلہ سیاسی بصیرت سے عاری: پی چدمبرم
نئی دہلی
پی ٹی آئی
راجیہ سبھا میں آج اپوزیشن نے حکومت کو شدید تنقیدکا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ پیش کردہ بجٹ انتہائی مایوس کن ہے اور نوٹ بندی کا جو فیصلہ کیا گیا تھا وہ بھی سیاسی بصیرت سے عاری رہا ، کیونکہ اس فیصلہ کی وجہ سے عوام کو ناقابل بیان مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ سابق وزیر فینانس نے وزیرا عظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ کہ کالے دھن کو بے نقاب کرنے اور بد عنوانیوںکو دور کرنے کے لئے بڑے نوٹوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن اس سلسلہ میں موثر طریقہ کار اختیار نہ کرنے کی وجہ سے اس کے نتائج با مقصد برآمد نہیں ہوئے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سابق وزیر فینانس اور کانگریس کے سینئر قائد پی چدمبرم نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اپنے پیشرومنموہن سنگھ کے تعلق سے استعمال کردہ الفاظ پر بھی شدید ناپسندیدگی کا اظہار کیاا ور کہا ہے کہ نریندر مودی کو چاہئے تھا کہ وہ جس کرسی پر بیٹھے ہیں اس کو پنڈت جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپائی نے بھی استعمال کی ہے اس لئے نریندر مودی کے لئے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ سابق وزیر اعظم کے تعلق سے اس طرح کے ریمارکس کریں ۔ ایک ایسا شخص جو کہ وزیر اعظم کے عہدہ پر فائز ہو اس کو پارلیمانی اصولوں کو پیش نظررکھتے ہوئے الفاظ کا استعمال کرنا چاہئے ، لیکن انہوں نے جو الفاظ استعمال کیے ہیں وہ وزیر اعظم کے عہدہ کے شایانِ شان نہیں ہیں۔2017-18ء بجٹ پر مباحثہ کا آغاز کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر الزام عائد کیا ہیکہ پیش کردہ بجٹ انتہائی مایوس کن ہے جس سے ثمر آورنتائج برآمدہونے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ نوٹ بندی کے فیصلہ کے تعلق سے انہوں نے کہا ہے کہ یہ2016کا ایک بڑا اسکام ہے ، کیونکہ نوٹ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی بد عنوانیاں بھی منظر عام پر آتی گئیں اور اس سلسلہ میں عوام کو کہیں زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے تقریب15کروڑ افرادجو کہ روزانہ اجرت پر زندگی بسر کرتے ہیں ، ان کے لئے بھی مسائل اور مشکلات پیدا ہوتی گئیں۔ پی چدمبرم نے نوٹوں کی تنسیخ کے تعلق سے کہا ہے کہ اس طرح کے فیصلہ سے قبل مختلف امورکا جائزہ لیاجانا چاہئے تھا، تاکہ عوام کو مشکلات پیش نہ آئیں، جب کہ اچانک اس طرح کے فیصلہ سے نہ صرف مشکلات پیش آئیں،بلکہ ملک کی معیشت بھی متاثر ہوتی جارہی ہیں۔ بجٹ کو انتہائی مایوس کن قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے شرح نمو میں کمی آنے کے امکانات کو مسترد نہیں کیاجاسکتا۔ اجلاس میں جلی کٹو اسپورٹ کا بھی تذکرہ کیا گیا اور ارکان نے کہ اس سلسلہ میں فیصلہ کرنے سے قبل مختلف امور کا جائزہ لیا جانا چاہئے تھا۔ کیوں کہ موثر اقدامات نہ کئے جانے کی وجہ سے عوام شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے۔ بر سراقتداربی جے پی کے ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بجٹ کے تعلق سے اختیار کردہ حکمت عملی سے واقف کروائیں ۔ انہوں نے بے روزگاری میں اضافہ کے علاوہ معاشی صورتحال کابھی تذکرہ کیا اور کہا ہے کہ حکومت کی نامناسب پالیسیوں کی وجہ سے صنعتوں کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ اس کے علاوہ زرعی شعبہ پر بھی اثرات پڑ رہے ہیں ۔ اگر حکومت کسانوں کے تعلق سے موثر اقدامات کرتی تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوتے ۔ انہوں نے افراطِ زر اوردوسرے امور کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے حکومت کی توجہ مبذول کروائی۔

ہندوستان’خفیہ نیو کلیر شہر‘ تعمیر کر رہا ہے : پاکستان
اسلام آباد
پی ٹی آئی
پاکستان کے دعوے کے کچھ ہی گھنٹے بعدجس میں کہا گیا کہ ہندوستان ایک خفیہ نیو کلیر شہر تعمیر کررہا ہے ، وزارت برائے خارجی امورنے پڑوسی ملک کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ۔ میڈیا کو ایک بیان دیتے ہوئے ایم ای اے کے ترجمان وکاس سوروپ نے کہا کہ پاکستان کا دعویٰ جس میں کہا گیا کہ ہندوستان ایک نیو کلیر شہر تعمیر کررہا ہے کلی طور پر بے بنیاد ہے ، اس کا مقصد دہشت گردی کے اصل موضوع سے توجہ ہٹانا ہے، یہ وقت ایسا ہے کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے مسئلہ کا حل نکالے ۔ وہ اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ سر حد پار سے دہشت گردی ہورہی جس کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر پڑ رہا ہے ۔ دونوں ہی مسائل کا حل پاکستان کی پہنچ کے اندر ہے۔ قبل ازیں پاکستان نے ہندوستان کی طرف سے مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں کے پروگرام میں اضافہ اور بین البر اعظمی بیلسٹک میزائل کے تجربات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے خطے کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کیترجمان نے دعویٰ کیا کہ ہندوستان اپنے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کرنے کے لئے مبینہ طور پر ایک خفیہ جوہری شہر بھی تعمیر کررہا ہے ۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریانے جمعرات کے معمول کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ہندوستان کی طرف سے روایتی اور جوہری ہتھیاروں میں اضافہ کو پاکستان اور خطے کی سلامتی کے لئے خطرہ قراردیتے ہوئے عالمی برادری سے اس معاملے کانوٹس لینے پر زور دیا ہے ۔ نفیس ذکریا نے دعویٰ کیاکہ ہندوستان نے حال ہی میں جوہری ہتھیاروں کی حامل آبدوز کو بھی اپنے بحری بیڑے میں شامل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کے لئے جوہری مواد کا ایک ایسا ذخیرہ موجود ہے جو ان کے بقول جوہری توانائی کے عالمی ادارے، آئی اے ای اے، کے تحفظات کے نظام کے تابع نہیں ہے ۔ ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ اس کا سول جوہری پروگرام، آئی اے ای اے کے وضع کردہ ضابطہ کار کے عین مطابق ہے۔ اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے وابستہ سینئر تجربہ کار ڈاکٹر ظفر جسپال نے نامہ نگار سے گفتگو میں جنوبی ایشیا میں جوہری ہتھیاروں کی دوڑ باعث تشویش ہے اور انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ وہ اس کو محدود کرنے کے لئے بات چیت کریں ۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ جتنا بھی جوہری مواد خطے میں بڑھتا جائے گا اس کی وجہ سے جوہری دہشت گردی یا حادثے کے خدمات بھی بڑھتے جائیں گے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان خدشات کے بڑھنے سے بھی خطے کی سلامتی کے لئے خطرات بھی بڑھتے جائیں گے ۔ ظفر جسپال نے کہا کہ اگر ان دونوں ملکوں کو بین الاقوامی جوہری اداروں میں برابری کی سطح پر شامل کیاجائے توجوہری حادثات کو محدود کرنے میں مدد ملے گی ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے کشیدہ باہمی تعلقات خطے کی سلامتی اور استحکام کے لئے بھی خطرے کا باعث بن رہے ہیں اس لئے پاکستان اور ہندوستان کو اپنے باہمی تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لئے پیشرفت کرنی ہوگی۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ہندوستان نے چین کے تبصرے پر جمعرات کے دن تنقید کی جس میں کہا گیا کہ امریکہ کے ساتھ کبھی اتفاق رائے نہیں ہے جو پٹھان کوٹ حملہ کے ماسٹر مائنڈ اور بے ای ایم کے چیف مسعود اظہر پر اقدام متحدہ میں امتناع عائد کرنے کی پیشکش پر کہا گیا ، جس کے جواب میں ہندوستان نے کہا کہ اتفاق رائے ہوسکتی ہے اگر بیجنگ اپنے موقف میں تبدیلی لائے ۔ وزارت خارجی امور کے ترجمان وکاس سوروپ نے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر چینی سفیر برائے ہند سے نئی دہلی میں ملاقات کرتے ہوئے بیجنگ کے موقف میں تبدیلی لانے کی بات کہیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیشکش ہندوستان ہی کی جانب سے نہیں بلکہ اقوام متحدہ سیکوریٹی کونسل کے تین مستقل اراکین کی جانب سے کی گئی جو کہ امریکہ برطانیہ اور فرانس ہیں، وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے اسے کلاسیکل کاؤنٹر ٹیرریزم پروپوزل کا نام دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ چین بھی اس تناظر میں اس پیشکش کو قبول کرے گا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کلاسیکل کاؤنٹر ٹیرریزم پیشکش ہے جس کا مقصد بد ترین دہشت گرد قائد مسعود اظہر جس کی آرگنائزیشن جیش محمد پر امتناع عائد کرنا ہے ۔ ہمیہ نہیں سمجھتے کہ یہ ہندوستان اور پاکستان کا باہمی مسئلہ ہے بلکہ اسے عالمی مخالف دہشت گردی کا مسئلہ سمجھتے ہیں ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بالآخر چین بھی اسے تسلیم کرلے گا ۔ یقینا اگر چین بھی اپنے موقف میں تبدیلی لاتا ہے تب اس پر اتفاق رائے ہوجائے گا ۔ ہندوستان کا سخت رد عمل اس وقت سامنے آیا جب چین امریکہ کی جانب سے اقوام متحدہ میں مسعود اظہر پر امتناع عائد کرنے اور انہیں عالمی دہشت گرد قرار دینے کی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حالات اب بھی بیجنگ کے موقف میں تبدیلی لانے کے لائق نہیں ہیں۔

اتر پردیش کی چار حصوں میں تقسیم کی قرار داد
لکھنو
پی ٹی آئی
اتر پردیش میں جہاں اسمبلی کے انتخابات ہورہے ہیں اور انتخابی مہم بھی نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے ، اس دوران بعض قائدین کی جانب سے اگرچہ کہ اتر پردیش کی تقسیم کا مسئلہ اٹھایا گیا ، لیکن اس پر کوئی شدید رد عمل کا اظہار نہیں کیاجارہا ہے ۔ بعض قائدین کی جانب سے اگرچہ کہ رائے دہندوں کو راغب کرنے کے لئے اتر پردیش کی تقسیم کا مسئلہ اٹھایا گیا، لیکن عوام نے اسپر کوئی خاطر خواہ رد عمل کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی کسی سیاسی پارٹی نے اس تعلق سے دلچسپی کا اظہار کیا۔ بتایاجاتا ہے کہ اتر پردیش کو تقسیم کرکے ہریت پردیش اور پراوانچل کی تشکیل کا وعدہ کیا گیا تھا ، لیکن فی الحال کسی سیاسی پارٹی کو اس تعلق سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ مایاوتی کی زیر قیادت بہو جن سماج پارٹی نے کسی وقت اس تعلق سے دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔، لیکن اب بہوجن سماج پارٹی کے قائدین کو بھی اس سلسلہ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بتایاجاتا ہیکہ چیف منسٹر کی حیثیت سے مایاوتی نے2007ء میں یہ مسئلہ اٹھایا تھا، اس کے بعد ان کی حکومت نے اس سلسلہ میں قرار داد بھی منظور کرلی تھی، لیکن ریاست کی تقسیم کے تعلق سے کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ قرار داد منظور کرتے ہوئے ریاست کو چار حصوں میں تقسیم کرنے پر زور دیاگیا تھا ۔ اب جب کہ ریاست میں انتخابی سر گرمیاں عروج پر ہیں، کسی پارٹی کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی دلچسپی کا اظہار نہیں ہورہا ہے ۔ صرف بی ایسپی نے اس مطالبہ کو پہلی مرتبہ نظر انداز کردیا، حتی کہ بر سر اقتدار سماج وادی پارٹی بھی اس مسئلہ پر لب کشائی نہیں کررہی ہے، کیونکہ پارٹی کو خدشہ ہے کہ اگر ریاست کی تقسیم کا تذکرہ کردیاجائے تو پھر اس کے نتائج پارٹی کے لئے بہتر برآمد نہیں ہوسکتے ۔ اس کا اثر نہ صرف انتخابی مہم پر پڑے گا، بلکہ نتائج بھی پارٹی کے حق میں نہیں ہوسکتے ، اس لئے سماج وادی پارٹی بھی خاموش ہوگئی ہے ، جب کہ راشٹریہ لوک دل( آر ایل ڈی) کے صدر اجیت سنگھ ، بی جے پی اور کانگریس کے قائدین بھی اس سلسلہ میں کوئی خاطر خواہ دلچسپی کا اظاہر نہیںکررہے ہیں ، جب کہ بی جے پی کے علاوہ کانگریس نے مایاوتی کی جانب سے ایوان میں پیش کردہ قرار داد کی تائید کی گئی تھی۔2012ء میں مایاوتی اقتدار سے محروم ہوگئی ، جب کہ2007ء میں ہوئے انتخابات میں206نشستوں میں سے صرف80نشستیں حاصل ہوئی تھیں، اس طرح مایاوتی کا قرار داد سے متعلق خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا، اب انتخابات کے بعد ہی توقع ہے کہ صورت حال سامنے آئے گی ۔ بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی جانب سے اتر کھنڈ، جھار کھنڈ اور چھتیس گڑھ کا قیام عمل میں لایاجاچکا ہے ، جس کے بعد توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر بی جے پی بر سر اقتدار آجائے تو اتر پردیش کو تقسیم کرکے دو ریاستیں وجود میں لاسکتی ہیں ۔ اب ہونے والے انتخابات مین پارٹیوں کی جانب سے جو انتخابی منشور پیش کیا گیاہے ، اس میں مذکورہ مسئلہ کے تعلق سے خاموشی اختیار کرلی گئی ہے ۔ بندیل کھنڈ اور پروانچل ڈیولپمنٹ بورڈس کے تعلق سے بھی کوئی وعدے نہیں کیے گئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کی جانب سے اس طرح کے مطالبہ کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ توقع ہے کہ اب جب کہ ریاست میں انتخابات ہونے والے ہیں ، نتائج کے بعد سیاسی پارٹیوں کا موقف اس طرح کا رہے گا۔ ریاست اتر پردیش میں جہاں کئی پارٹیوں کی جانب سے انتخابی مہم تیزی کے ساتھ جاری ہے اور رائے دہندوں کو راغب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، لیکن جہاں تک ریاست کی مزید تقسیم کا سوال ہے اس سلسلہ میں کوئی پارٹی لب کشائی کرنے سے گریز کررہی ہے ۔ سیاسی پارٹیون کے قائدین اپنی تقاریر کے دوران محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں، کیونکہ انہیں نتائج کا فکر ہے ۔ اگر وہ ریاست کی مزید تقسیم کا تذکرہ کردیں تو اس کے نتائج برعکس ہوسکتے ہیں ، اس لئے قائدین یہ مناسب اور بہتر سمجھ رہے ہیں کہ فی الحال ریاست کی تقسیم کا تذکرہ ہی نہ کیاجائے ۔ جو کچھ فیصلہ کیاجائے گا وہ انتخابات کے نتائج کے بعد ہی ہوگا۔

0 comments:

Post a Comment