Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-02-06 - بوقت: 16:09

آئندہ مالی سال 11.75 فیصد شرح ترقی کی پیس قیاسی - وزارت فینانس

Comments : 0
آئندہ مالی سال 11.75 فیصد شرح ترقی کی پیس قیاسی - وزارت فینانس
نئی دہلی
یو این آئی
اہم سیاسی تبدیلیوں ، عالمی سطح پر شرح سود کا رجحان اور سرمایہ کا بہاؤ سے پیدا شدہ غیر یقینی صورتحال آئندہ مالی سال میں ہندوستانی معیشت کے لئے امکانی پستی کا باعث بن سکتاہے ۔ مائکرو اکنامک فریم ورک کے عنوان سے جاری کردہ قرطاس میں وزارت فینانس نے پیش قیاسی کرتے ہوئے تخمینہ لگایاہے کہ سال2017-18ء میں عالمی ودیسی ترقی کے تناظر میں ہندوستانی معیشت کو پیش کیا ہے ۔ اس پیپر میں بتایا گیا ہے کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ عالمی معیشت کی ترقی بتدریج رفتار پکڑ رہی ہے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ہندوستانی برآمدات کے لئے راہمواری کے باعث عالمی معاشی سر گرمیوں میں سرعت کا باعث بنا ہے ۔ دوسری طرف عالمی سطح پر تیل کی قیمت میں اضافہ دیگر اہم اشیاء اہم اشیاء کی قیمت میں اضافہ سے در آمدات کی قدر اور دیسی طلب پر افقی دباؤ بڑھا ہے۔ درکار سطح پر مالیاتی چلن کے دوبارہ شروع ہونے کے باعث موافق مالیاتی پالیسی اور دیسی تجارت اور طلب کے چلن میں تیزی کی توقع کی جارہی ہے۔ وزارت فینانس نے بتایاکہ اس تعدل میں ہمہ جہتی اداروں میں مستحکم ہندوستانی معیشت کے فروغ کے خطوط کے طور پر برائے نام معاشی ترقی سال2015-16ء میں حاصل کردہ7.6فیصد کے مقابلہ میں توقعہے کہ مالی سال2017-18ء میں11.75فیصد رہے گی۔ زرعی صنعتی اور خدمات کے شعبوں میں ترقی تخمیناً بالتریب4.1فیسد،5.2فیصد اور8.8فیصد رہے گی ۔ اس کے مقابل سال2016-17میں بالترتیب1.2فیصد،7.4فیصد اور8.9فیصد رہے گی۔ سال2017-18ء میں صنعتی شعبہ کی شرح ترقی میں کمی کی اصل وجہ کانکنی میں کمی اور پیداواری شعبہ کی ترقی میں جدت طرازی رہی ہے۔ خدمات کا شعبہ جو عوامی انتظامیہ دفاع اور دیگر خدمات سے متعلق ہے ۔ کے نتیجہ میں سال2016-17ء میں مجموعی شرح ترقی7فیصد رہی ۔ طلب کے زاویہ سے دیکھا جائے تو اس شعبہ میں حکومت کے حتمی کھپت کے اخراجات میں وسعت بھی اس شعبہ کی ترقی کا اہم عنصر رہا ۔ مستقبل قیمت پف فکسڈ سرمایہ کاری میں اضافہ سال2015-16ء میں 3.9فیصد سے سال2016-17ء میں منفی0.2فیصد تک کمی آئی۔ اشیاء اور خدمات کی بر آمدات میں2.2فیصد اضافہ کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ جہاں در آمدات میں کمی آئی ہے ۔ اور یہ سال2016-17ء میں3.8فیصد رہا۔
Budget 2017: Government projects 11.75% nominal GDP growth

ششی کلا، ٹاملناڈو کی اگلی چیف منسٹر متوقع
انا ڈی ایم کے مقننہ پارٹی کی لیڈر کی حیثیت سے متفقہ انتخاب
چینائی
پی ٹی آئی
انا ڈی ایم کے جنرل سکریٹری کا عہدہ سنبھالنے کے ایک ماہ بعد دی کے ششی کلا کو آج مقننہ پارتی کا لیڈر منتخب کرلیا گیا ۔ اس طرح چیف منسٹر ٹاملناڈو بننے کی ان کی راہ ہموار ہوگئی۔پارٹی کے ارکان اسمبلی کے ایک اجلاس میں چیف منسٹر اوپنیر سیلوم نے ششی کلا کو مقننہ پارٹی لیڈر کی حیثیت سے منتخب کرنے کی تجویز پیش کی۔ سیلوم نے ششی کلا کا نام تجویز کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے چیف منسٹر کی حیثیت سے استعفیٰ گورنر کے حواے کردیا ہے۔ اس کی تجویز کا تمام ارکان اسمبلی نے تالیوں کی گونج میں گرمجوشانہ خیر مقدم کیا اور انہیں اتفاق رائے سے قائد مقننہ کرلیا گیا ۔ 62سالہ ششیکلا کوچنمابھی کہاجاتا ہے اور وہ تقریباً تین دہائیوں سے عوام میں جیہ للیتا کے سایہ کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ سیلوم نے کہا کہ ششی کلا کو قائد مقننہ پارٹی متفقہ طور پر منتخب کرنے کی قرار داد گورنر سی ایم ودیا ساگر راؤ کے حوالے کی جائے گی جو ریاست کے اگلے چیف منسٹر کی حیثیت سے ششی کلا کو حلف دلائیں گے ۔ ارکان اسمبلی کے اجلاس سے قبل پنیر سیلوم نے اپنے سینئر کابینی رفقاء کے ساتھ مس ششی کلا سے پوئس گارڈن رہائش گاہ پر زائد از ایک گھنٹہ ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد وہ پارٹی ہیڈ کوارٹر پہنچے اور ششی کلاکو قائد مقننہ کی حیثیت سے منتخب کرنے کے لئے قرار داد پیش کی جس کی تمام ارکان مقننہ نے تائید کی ۔ ششی کلا جب پارٹی آفس پہنچیں تو چنماں کے نعروں کے ساتھ سینکڑوں کارکنوں نے ان کا گرمجوشاہ خیرمقدم کیا۔ پوئس گارڈن کے راستہ پر دونوں جانب انا ڈی ایم کے کارکنوں کی بڑی تعداد قطار باندھے ان کا استقبال کرنے ٹھہری تھی ۔ ششی کلا گزشتہ سال مئی میں اسمبلی انتخابات کے بعد انا ڈی ایم کے کے بر سر اقتدار آنے کے بعد تیسری چیف منسٹر ہوں گی۔ انتخابات کے بعد چیف منسٹر کی حیثیت سے جیہ للیتا نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔ گزشتہ سال دسمبر میں75دن کی طویل علالاتک ے بعد ان کے دیہانت کے نتیجہ میں پنیر سیلوم نے یہ عہدہ سنبھالا۔ وہ جیہ للیتا کے انتہائی بااعتماد رفیق رہے ہیں۔ پنیر سیولم نے عہدہ سنبھالنے کے ٹھیک دو ماہ بعد آج عہدہ سے استعفیٰ دے دیا ۔ اس طرح انہوں نے ریاستی نظم و نسق سنبھالنے کے لئے ششی کلا کی راہ ہموار کردی۔ جیہ للیتا کی موت کے بعد سے ہی پارٹی کا ایک بڑا طبقہ جس کی قیادت لوک سبھا کے ڈپٹی اسپیکر ایم تھبیدرائے کررہے تھے، پنیر سیلوم سے اقتدار کی ششی کلا کو منتقلی کی مہم چلا رہے تھے۔ ششی کلا نے تاہم ابھی تک محتاط اقدامات کئے۔ ششی کلا، آنجہانی چیف منسٹر کی نہایت قریبی ساتھی تھیں حتی کہ غیر محسوب دولت کے مقدمہ میں وہ ان کے ساتھ جیل بھی گئیں ۔ زندگی کے آخری ایام میں جب جیہ للیتا موت و زیست کی کشمکش میں مبتلا تھیں، تو ششی کلا ہی ان کی نگہبانی کررہی تھیں۔ جیہ للیتا کی آخری رسومات بھی ششی کلا نے انجام دیں۔ ششی کلا ہمیشہ جیہ للیتا کی کار میں پچھلی نشست پر براجمان ہوتیں، پارٹی کارکن انہیں اکا کہتے حتی کہ خود جیہ نے بھی ایک مرتبہ انہیں منہ بولی بہن قرار دیا تھا۔ ایسا بھی وقت آیا جب دونوں کے درمیا تلخی کی دیوار کھڑی ہوگئی حتی کہ ششی کلا کا پارٹی سے اخراج عمل میں آیا۔ یہ واقعہ دسمبر 2011ء کا ہے۔ بعد میں انہیں پھر سے سابق چیف منسٹر کی قربت حاصل ہوگئی۔چیف منسٹر اوپنیر سیلوم نے شخصی وجوہات کی بنا پر اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دیا جس کے ساتھ ہی وی کے ششی کلا کے چیف منسٹر بننے کی راہ ہموار ہوگئی ۔ گورنر سی ایم ودا ساگر راؤ کو ایک خط لکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری شخصی وجوہات کی بنا پر میں تاملناڈو کے چیف منسٹر کے عہدہ سے استعفیٰ دے رہا ہوں براہ کرم میر ااستعفیٰ قبول کریں اور6دسمبر2016ء کو میری جانب سے تشکیل شدہ تاملناڈو کی مجلس وزرا کو سبکدوش کردیں۔ پنیروسیلوم نے وزیر اعظم نریندر مودی اور گورنر سی ایچ ودیا ساگر راؤ کا ان کی معیاد کے دوران تائید و تعاون پر شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے مودی اور ودیا ساگر راؤ کو ایک جیسے خطوط بھی روانہ کئے ۔

اکھلیش ، محدود تائید بٹور رہے ہیں: مودی
علی گڑھ
پی ٹی آئی
ریاست کی ترقی کے لئے کچھ نہ کئے جانے پر اکھلیش یادو حکومت پر رکیک حملہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ وہ اقتدار کے حصول کے لئے جو کچھ بھی تائید ان کی راہ میں آرہی ہے اسے بٹور رہے ہیں۔ ایس پی، کانگریس انتخابی اتحاد کو نشانہ بناتے ہوئے وزیرا عظم مودی نے یہاں ایک انتخابی ریالی میں کہا بی جے پی کی لہر اتنی طاقتور ہے کہ اتر پردیش کے چیف منسٹر بیتابی سے انہیں جو بھی تائید مل رہے ہی اسے صفایہ کے خوف سے حاصل کررہے ہیں۔ اپنی تقریر میں بی جے پی منتخب ہونے پر وکاس لانے کے لئے برقی، لا اینڈ آرڈر اور سڑکوں کی تعمیر پر توجہ دے گی۔انہوں نے لا اینڈ آرڈر کی برقراری میں ریاستی حکومت کی ناکامی پر اپنی بندوق تاک لی۔ انہوںنے کہا کہ سورج غروب ہونے کے بعد خواتین اپنے گھروں سے باہر نہیں جاسکتیں ۔انہوں نے کہا سیاسی پارٹیاں ان کی مخالفت اس لئے کر رہی ہیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ اگر مودی کو راجیہ سبھا میں اکثریت حاصل ہوجائے تو حکومت اس طرح کے قوانین بنائے گی کہ بد عنوعان پکڑا جائے گا۔ اس طرح انہیں خوف ہے ۔ میں ان کالے دھن کی تائید کرنے والوں کو سبق سکھانے کے لئے سختی کررہا ہوں ۔ ایس پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے مودی نے کہا اگر برقی سپلائی کی جائے تو عوام اس سے مستفید ہوسکتے ہیں ۔ یہی بات انہوں نے پچھلے سال بہار میں اپنی انتخابی مہم کے دوران کہی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ترقی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔ اس نے کرپشن کا سد باب نہیں کیا۔ ذات پات کے بھیدبھاؤ اور اقربانوازی کے سلسلہ کو دور نہیں کیا وینیز نیشکر کے کسانوں کے بقایہ جات ادا نہیں کئے ۔ نوجوانوں سے رشوت دینے کے لئے اور انٹر ویوز کے لئے ارکان اسمبلی یا وزراء کی سفارتیں لانے کے لئے کہا جارہا ہے غریبوں کو ادائیگی کے لئے اراضی و اثاثے رہن رکھوانے پڑ رہے ہیں ۔ اسے روکنا ہوگا ۔ ہماری مرکزی حکومت نے کلاس تھری اور فور جائیداد وں کے لئے انٹر ویوز کو روک دیا ہے ۔ کسی امید وار کی جانب سے حاصل کردہ نشانات کی بنیاد پر سلیکشن کو کمپیوٹرائزڈ کیاجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا عوام کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ مودی نے ایسا کیا جادو کیا کہ جس کے نتیجہ میں 10,000کروڑ سالانہ کی بچت ہوئی ہے ۔ سستے ایل ای ڈی بلبس متعارف کرتے ہوئے ہم نے برقی بلزمیں کمی لائی ہے ۔ نوٹ بندی کے فیصلہ کے لئے حکومت کی جانب سے منصوبہ بندی کے فقدان کی بات کہے جانے پر اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے اس اقدام کی مدافعتکی اور کہا کہ بینکوں میں جمع کی جارہی تمام رقم کی تفصیلات جاننے کے لئے نوٹ بندی کے خاطر خواہ منصوبہ بندی کی گئی ۔

0 comments:

Post a Comment