Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-01-09 - بوقت: 16:31

ابن صفی کے ناولوں میں سائنس فکشن

Comments : 0

جاوید نہال حشمی
قارئین کو اردو جاسوسی ادب کے بےتاج بادشاہ ابن صفی کا مشہور ناول "ٹسڈل کی بیداری" تو یاد ہی ہوگا۔
surgeon plans first human head transplant andrew griffin
The all-time great Urdu detective novelist Ibn-e-Safi had predicted this decades ago in his famous novel "Tisdil ki Bedaari"...

اظہرالحق نسیم قریشی
شکرال کی کہانیاں اور زیرو لینڈ کی تلاش بھی تو ثابت ہو چکے ہیں، کیا فے گذار آج کے دور میں موجود نہیں ؟ وہ پاکستان کا بہت بڑا دماغ تھا ، جسے بھلا دیا گیا

امین بھایانی
یہ تو ایک قومی المیہ ہے کہ ہم اپنے ہر ہیرو کو محض اُس کی وفات کے بعد چند دنوں اور پھر اُس کی سالگرہ اور برسی کے روز ہی یاد کرتے ہیں۔ :(

احمد صفی
بہت شکریہ بھائی جاوید۔۔۔
یہ اور ایسی بہت سی باتیں جو عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے ناولوں میں لکھ دی گئی ہیں ہمیں اپنے اطراف میں نظر آ جاتی ہیں چاہے سائنس فکشن ہو ، نفسیاتی گرہیں ہوں یا سیاسی مسائل۔۔۔
انہیں دعاؤں میں یاد رکھئیے۔۔۔

اقبال حسن
بھئی وہ ایک دنیا تخلیق کر دیتے تھے ۔ ایک ایسی دنیا جس کے حقیقت بننے کا یقین ہونے کے ساتھ ان کی تحریریں پڑھی جاتی تھیں ۔ کیا ابن صفی صاحب کی تمام کتابوں کا کوئی سیٹ لیا جا سکتا ہے؟ کچھ ایسا انتظام ہے؟ میں ان کی سب کتابیں اپنے پاس ایک جگہ جمع کرنا چاہتا ہوں۔ اپنے لئے نہیں بلکہ نئی نسل کے لئے تاکہ انہیں علم ہو سکے کہ ہمارے پاس بھی ایک نابغہ روزگار شخصیت تھی۔

احمد صفی

عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے نئے ایڈیشنز اوریجنل پہلے ایڈیشنز کے سرورق کے عکس کے ساتھ
Asrar Publications
Al-Karim Market
Main Kabir Street,
Urdu Bazar, Lahore
Pakistan.
Phone: +924237321970, +924237357022
-----------------------
https://mobile.facebook.com/pg/ibnesafi/photos/?tab=album&album_id=10151740030319707

Atlantis Publications:
https://m.facebook.com/ibnesafi/posts/10154058700494707

محمود یاسین
There must have been some indications in this regard and I will have to go through it.For as per a Turkish author there are more or less 750 aayaat or places in which science and technology have been refered.
I regard Ibne Safi mohtaram as my foster university.My mother had died when I was still a child and when I was ten my father died too.
I am glad Jawed Nehal Hashami sahab is on his right track or tract!
ابن صفی جینیس تھے انہوں نے اپنے ناولوں میں سائنس فکشن کے حوالے سے جو باتیں کہی ہیں وہ بہت حد تک سچ ثابت ہورہی ہیں سرجری کا یہ تجربہ امید ہے کامیاب ہوجائے اسی سے ملتی جلتی ایک خبر باڈی ٹرانسپلانٹ کی بھی آئ تھی جس میں اگر کسی کا ذہن مردہ ہوجائے تو اس کے جسم کو آپریشن کے ذریعے معذور افراد کو لگانے کی بات کہی گئی تھی اس میں بھی سر جوڑنے کا ہی آپریشن ہوتا ہے

اسحٰق مرزا بیگ
ظھر الفساد فی البر و البحر بماکسبت ا یدی الناس ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ زمین میں اور سمندر میں انسانوں کے ہاتھوں فساد پھیل گیا۔ یہ انسانی ذہن ہمیشہ کچھ نہ کچھ کرنے میں لگا رہتا ہے۔ پہلے کلوننگ اور اب ہیڈ ٹرانسپلانٹ۔ خلا نوردی ،اور انسانی اعضاء کی تبدیلی پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ڈھونڈھنے والا ستاروں کی گذرگاہوں کا،اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا۔۔۔سورج کی شعاؤں کو جس نے کیا قید، اپنی شب تار سحر کر نہ سکا۔
انسانی ذہن کی اختراعی بلندی اپنی انتہاؤں پر ہے اور شائد یہ قرب قیامت کی نشانی ہے اور اللہ تعالی کے قادر مطلق ہونے کی نشانی بھی۔ انسان جس کو نہ اپنے بول و براز پر اختیار ہے اور نہ خود اپنے اندرونی اعضاء پر جب وہ اتنی قدرت رکھتا ہے تو پھر اللہ تعالی کیا کچھ نہیں کرسکتے۔ واللہ علی کل شئی قدیر۔

مکرم نیاز
انسانی کلوننگ کیوں حرام ہے ؟
کلوننگ کیا ہے ؟
کلوننگ کی تاریخ
کلوننگ کے ابتدائی اقدامات

بالا موضوعات پر کتاب "اسلام اور جدید میڈیکل سائنس" ملاحظہ فرمائیں

اِسْتِنْسَاخ (کلوننگ)کا سائنسی عمل؛تعارف وتجزیہ
مضمون: ڈاکٹر نثار احمد

محمود یاسین
مکرم نیاز، قرآن مقدس میں درج ہے: عیسیٰ کی پیدائش آدم کی سی ہے جسے میں نے مٹی سے بنایا/پیدا کیا۔
تو کیا یہ پیدا کرنا یا بنانا کلوننگ نہیں؟ ٹسٹ ٹیوب بےبی اور کلوننگ دونوں یکساں ہیں۔
اس طرح حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت آدم علیہ السلام دونوں کی پیدائش ایک جیسی ہے۔ زیادہ تشریح کرنے کی کوشش کروں گا تو پھر بدتہذیبی کا الزام عائد ہونے لگے گا۔ انسانی کلوننگ حرام ہے، یہ مغربی قوتوں نے کہہ دیا اور آپ نے مان لیا۔ آپ کبھی ان کا مقصد جان پائے؟

اسحٰق مرزا بیگ
عجب اتفاق ہے اس پوسٹ پر جب میں نے اپنے کمنٹ درج کئے تبھی میرے موبائل کی بیٹری زیرو ہوگئ تھی اور میں اپنا ما فی الضمیر واضح نہ کرسکا پھر کچھ اایسی مصروفیات لاحق ہوگئیں کہ کنکٹ نہ کرسکا۔۔ مجھے اس بات کا افسوس رہیگاکہ میں ترسیل کی کمزوری کی وجہ سے اہل علم پر اپنا نکتہ نظر واضح نہ کرسکا۔ ایک بات کا خلاصہ کرنا یہاں میں ضروری سمجھتا ہوں کہ میں نے کبھی بھی سائنسی ترقی کو اسلام کے خلاف چیلنج نہیں سمجھابلکہ انسان کی ہر ترقی خالق مطلق کی قدرت کاملہ کا بین ثبوت بنتی جارہی ہے۔

معظم راز
جاوید بھائی! شئیرنگ کے لئے شکر گذار ہوں، احمد صفی صاحب نے بجا فرمایا کہ:
"یہ اور ایسی بہت سی باتیں جو عمران سیریز اور جاسوسی دنیا کے ناولوں میں لکھ دی گئی ہیں ہمیں اپنے اطراف میں نظر آ جاتی ہیں چاہے سائنس فکشن ہو ، نفسیاتی گرہیں ہوں یا سیاسی مسائل۔۔۔"
ابن صفی مرحوم ہمیشہ ہی دعاؤں میں شامل رہا کرتے ہیں کہ راقم کے بشمول عصر حاضر کے تقریباً قلمکاروں کو ہر شعبہ ہائے زندگی میں زبان و ادب کے تئیں تخلیقی اظہار کی راہیں ہموار کر گئے ہیں

اسحٰق مرزا بیگ
ابن صفی نے اپنے کسی ناول میں برین ٹرانسپلانٹ کو بھی پیش کیا تھا۔میرا چہرہ چرالیا گیا کا انوکھا واقعہ پیش کیا تھا۔اب ناول کا نام حافظے میں کہیں ہو تو ہو۔

احمد صفی / شمس الرحمن علوی
دیو پیکر درندہ

جاوید نہال حشمی
جی، میرا اشارہ اسی طرف تھا. "ٹسڈل کی بیداری" کا موضوع برین ٹرانسپلانٹ ہی ھے.
"ٹسڈل کی بیداری" سیریز کا دوسرا حصہ ھے جس کے پہلے حصے میں ایک "اجنبی" جس کی کھوپڑی میں فریدی کے آئی جی کا دماغ ٹرانسپلانٹ کر دیا گیا ہوتا ھے فریدی کی تجربہ گاہ میں خفیہ دروازے سے داخل ہوتا ھے (جس کا علم فریدی اور آئی جی کے علاوہ اور کسی کو نہیں ہوتا) اور اسے اپنے آئی جی ہونے کا یقین دلاتا ھے. مجھے بھی اس پہلے حصے کا نام یاد نہیں آ رہا ہے.

فاضل حسین پرویز
طوفان کا اغواء جب پڑھا تھا تب میٹرک میں تھا ۔38 برس پہلے ۔اب مصنوعی سونامی ۔مصنوعی زلزلے ہارپ ٹکنالوجی کی مدد سے کئے جارہے ہیں جنہوں نے ابن صفی کو پڑھا ان کے لئے ایسے واقعات حیران کن نہیں ۔ جاپان کے نیوکلئیر ری ایکٹر کو مصنوعی زلزلہ سے تباہ کردیا گیا

آسیہ تنویر
ابن صفی اردو ادب کا ایک ایسا شاہکار جو اگر فرانس یا انگلستان میں پیدا ہوتا تو اس کو سر آنکھوں پر بیٹھایا جاتا ....ہر زبان میں اس کے ترجمہ ہوتے ...افسوس ابن صفی کو وہ مقام نہ مل سکا جس کے وہ حقدار تھے

سجاد الحسنین
ابن صفی کو یہاں بھی سر آنکھوں پر بٹھایا گیا ہے لیکن ۔۔۔ قارئین نے!
اور جاسوسی ادب کو ادب کا درجہ نہ دینے کا ابن صفی کو نہ تو غم تھا اور نہ ہی انہوں نے پرواہ کی، جہاں تک میرا خیال ہے ستر اور اسی کی دہائی میں اردو والوں نے سب سے زیادہ اگر کسی کو پڑھا ہے تو وہ ابن صفی ہیں اور اگر جس کے ناولوں کا بےتابی سے انتظار کیا گیا ہے تو وہ جاسوسی دنیا اور نکہت پبلی کیشنز کے وہ ناول تھے جو ابن صفی نے لکھے
ابن صفی نے از خود کہا تھا کہ مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میرے ناولوں کو ادب میں کیوں جگہ نہیں دی جارہی ہے مجھے تو اس بات کا اطمینان ہے کہ لوگ میرے ناول پرھنے کے لئے اردو سیکھنے لگے ہیں اور میرے ناول تکیوں کے نیچے چھپا کر پرھے جاتے ہیں ۔

معظم راز
سجاد الحسنین صاحب! خوب لکھا آپ نے، محض اتنا اضافہ کرنا پسند کرونگا کہ ستر و اسّی کی دہائی کا دور کئ حوالوں سے اردو زبان و ادب میں بیسویں صدی کا انتہائی روشن و پہلو دار دہے کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے
آپ نے "جاسوسی دنیا" اور نکہت بک ڈپو سے شائع ہونے والے "ابن صفی کے ناولوں" کا ذکر کیا ہے تو یادشِ بخیر کہ ہمدرد لیبارٹریز، دہلی کے ادارے سے "شمع" و "سشما(ہندی)" سے اسی دور میں "مجرم" و "دوشی(ہندی) بھی بپابندی شائع ہوا کرتے تھے اور قارئین ان کے بھی منتظر رہا کرتے تھے
لیکن قانون والا (قلمی نام) کے لکھے گئے" مجرم" و "ابن صفی کے ناولوں" میں فرق و امتیاز یہ رہا کرتا تھا کہ
قارئین کے نزدیک ازخود "مجرم" "اے" سرٹیفکیٹ یعنی صرف بالغوں کے لئے جبکہ "ابن صفی کے ناول" ہر عمر کے قاری کے لئے "یو" سرٹیفکیٹ کے حامل قرار پاتے تھے، اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ابن صفی کے ناولوں کی پذیرائی و پہنچ اس دور کے قارئین کی عمر کے لحاظ سے کہاں سے کہاں تک رہی ہوگی

سجاد الحسنین
جی ہاں بجا فرمایا آپ نے ابن صفی اور پھر حسینی صاحب نے مقدمات میں کئی بار اعتراف کیا ہے کہ ادب جب فحاشی کی طرف گامزن تھا اور فحش نگاری اپنے عروج پر پہنچ گئی تھی اس زمانے میں اپنے صاف ستھرے اور پوری فیملی کے لئے لکھے گئے ناولوں کے دریعہ ابن صفی نے فحش نگاری کے حلاف گویا ایک محاذ کھولا تھا اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے تھے ۔

معظم راز
درست و تسلیم! علی عباس حسینی صاحب اور ابنِ صفی صاحب کے مقدمات بجائے خود اپنے میں جہاںِ معنی رکھا کرتے تھے

سجاد الحسنین
شکریہ معظم صاحب علی عباس حسینی کا پورا نام بھول رہا تھا میں ۔ابن صفی کے ناول شروع کرنے سے پہلے ناول کے حوالے سے علی عباس حسینی کے مقدمے تبصرے اور تمہیدیں لاجواب ہوا کرتی تھیں وہ کون ہوگا جس نے ناول شروع کرنے سے پہلے علی عباس حسینی کا مقدمہ نہ پڑھا ہو ۔

احمد صفی
علی عباس حسینی صاحب ایک الگ افسانہ نگار تھے نکہت پبلیکیشنز کے روحِ رواں عباس حسینی صاحب تھے۔ اکثر لوگ دونوں شخصیات میں گڑبڑا جاتے ہیں، اللہ ان کو اپنی رحمت کے سائے میں رکھے، آمین

جاوید نہال حشمی
جی احمد صفی صاحب، "باسی پھول" شاید علی عباس حسینی صاحب کی ہی تخلیق ھے جو ہمارے زمانے کے ہائر سیکنڈری کے نصاب میں شامل تھی، اگر میں غلطی نہیں کر رھا تو۔۔۔

معظم راز
احمد صفی صاحب! ہمارے دیرینہ کرم فرما جاوید نہال حشمی کی اس پوسٹ کے حوالے سے زہے نصیب آج آپ سے بھی نصف ملاقات ہوگئی ، مجھے یاد پڑتا ہے کہ ہمارے لڑکپن میں کسی صاحب نے غالباً پروفیسر مجاور حسین رضوی (ٹھیک سے یاد نہیں) ہر دو اصحاب یعنی علی عباس حسینی صاحب اور ابنِ صفی صاحب کا الگ الگ تفصیلی تعارف فن و شخصیت کے حوالے سے کسی جریدے میں شائع کروایا تھا

احمد صفی
معظم صاحب ، آداب، اس پوسٹ نے واقعی بہت سے معززین سے متعارف کرایا اور کچھ پرانے احباب کو بھی مجتمع کر دیا ہے۔ مجاور چچا نے حسینی انکل اور ابو پر مضامین لکھے ہیں میں تلاش کر کے لنک بھیجتا ہوں۔ ویسے یہ سب مضامین یہاں میسر ہیں:
www.ibnesafi.info

عباس حسینی
تحریر ڈاکٹر مجاور حسین رضوی
http://www.compast.com/ibnesafi/essays/ahusaini.pdf

علی نثار
میرے خیال میں ڈاکٹر مجاور حسین رضوی ہونا چاہیے۔۔۔ احمد صفی

احمد صفی
علی نثار صاحب، جہاں جہاں مجاور لکھا خودکار تصحیحی سافٹ وئیر نے اسے مجبور بنا دیا۔۔۔ دلی معذرت مگر مجھے یقین ہے کہ مجن چچا میرا مطلب ہے مجاور چچا دیکھ پاتے تو بہت محظوظ ہوتے اور کوئی تڑپتا ہؤا کمنٹ ضرور پاس کرتے۔ ان سے اب بھی گفتگو کر کے طبیعت شگفتہ ہو جاتی ہے۔ اللہ صحتمند و سلامت رکھے آمین

سبین علی
اوبسیشن کا شکار ایک ڈاکٹر

شبیر حسین بلوچ
جاوید صاحب کیا ہی سنہرا دور یاد کروایا ہے آپ نے اسرار احمد المعروف ابن صفی کا تذکرہ کرکے ، انکی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کی اس پوسٹ پر کتنے تبصرے اور لائیک آئے ہیں ، مغربی دنیا میں جیمز بانڈ کو سب بهول جاتے اگر ابن صفی وہاں کے ہوتے لیکن افسوس ہم نے انکو انکا جائز مقام کبھی نہیں دیا.

سبین علی
ابن صفی کی کیا بات ہے. در اصل ادیب کا تخیل ان آئیڈیاز کو پینٹ کرتا ہے جو عام انسان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے مگر عشروں یا صدیوں بعد حقیقت کا روپ دھار لیتے ہیں

اکرام ناصر
سائنس فکشن میں جناب ابن صفی صاحب کا نظریہ حقیقت سے بہت قریب تھا یہ وجہ ہے کہ انکے ناولز میں ذکر کئے گئے بیشتر نظریات ابھی حقیقت میں ممکن ہوتے نظر آرہے ہیں۔ جن میں قابل ذکر زیرو لینڈ کی ایجادات ہیں۔

مکرم نیاز
جیمز بانڈ کی کچھ فلموں میں "زیرولینڈ" سے مماثل مملکت کی عکاسی کی گئی ہے، مثلاً
Moonraker
ویسے حقیقی دنیا میں ابھی ایسی کسی دنیا کا وجود نہیں

ابرار مجیب
جبرالڈ شاستری جو ابن صفی کا لافانی کردار ہے, انسان اور جانوروں کی آمیزش سے نئی مخلوق بناتا ہے. انسان نما جانور یا جانور نما انسان.

جاوید نہال حشمی
جی ابرار مجیب صاحب، کچھ عرصے قبل آل انڈیا ریڈیو کلکتہ سے نشر ہونے والے پروگرام کے تحت "اردو میں سائنس فکشن" کے موضوع پر مقالہ پڑھتے وقت میں نے جیرالڈ شاستری کی اس گوریلا نما "تخلیق" کا بطور خاص ذکر کیا تھا.

سجاد الحسنین
پتھر کا آدمی بھی تو کمال ہے ۔

ابرار مجیب
جبرالڈ شاستری ناول "جنگل کی آگ" اور "موت کی چٹان" میں موجود ہے

سبین علی
آج اپنے بیٹے کو آملا اور کاملا کے واقعے سے کشید کہانی " دا وولف چلڈرن" پڑھا رہی تھی. بھیڑیے جیسا خوفناک دردندہ بھی کئی انسانوں سے بہتر ہے. سب سے بڑا مانسٹر یا عفریت خود انسان ہی ہے

ابرار مجیب
ابن صفی کے ناولوں کا مکمل سیٹ میں نے خریدا ہے جسے ہندوستان میں فرید بک ڈپو نے شائع کیا ہے

امین بھایانی
محترم ابرار مجیب بھائی،
گزارش ہے کہ فرید بک ڈپو والوں نے ابنِ صفی کی کتب ابنِ صفی کے وارثان جن کے پاس ابنِ صفی مرحوم کی تمام تر کتب کے قانونی حقوق ہیں کی اجازت کے بناء نہ صرف شائع کی ہیں بلکہ اُس میں اپنی جانب سے ترامیم بھی کی گئی ہیں۔
اس حوالے سے اُن کی جانب سے فرید بک ڈپو کے سربراہ سے بھی متعدد بار تحریری طور پر اس غیر قانونی سلسلے کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے مگر یہ سلسلہ ہنوز یونہی جاری ہے۔

ابرار مجیب
ہندوستان میں اگر نکہت پبلیکیشنز کے وارث قانونی چارہ جوئی کریں تو اس مسئلے کا حل نکل سکتا ہے

احمد صفی
میں سائنس کی تھوڑی شُد بُد رکھنے کی وجہ سے ہمیشہ سوچا کرتا تھا کہ تبدیلئ دماغ کیسے ممکن ہو سکتی ہے جیسے دیو پیکر درندہ میں اس کا بیان ملتا ہے۔
میں نے پڑھا کہ ہمار ذہن نیورل نیٹ ورک ہے جس میں یادداشت نیٹ ورک کے تانے بانے میں محفوظ ہوتی ہے۔ جیسے ہی ہم کسی تجربے سے دو چآر ہوتے ہیں ، نئے کنکشنز وجود میں آتے ہیں۔ ان سب سے ایک کومپلیکس سرکٹ وجود میں آتا ہے جو ہماری شخصیت کے ہر پہلو کو اپنے اندر سمیٹے ہوتا ہے، یادیں ، باتیں، تجربات، تصورات، عکس وغیرہ وغیرہ۔
اب اگر ہم اس نیٹ ورک کی برقی نقل تیار کر لیں اور اسے کسی اور دماغ پر کاپی کر دیں تو شخصیت کی کاپی تیار ہو جائے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ پچھلے دماغ سے یہ نیٹ ورک مٹا دیں۔ آور نئے مٹے ہؤے دماغ پر کاپی کر دیں۔ یہ کام ہم کمپیوٹر میموریز میں کر ہی رہے ہیں۔ اور مصنوعی فہم آرٹیفیشئیل انٹیلیجنس میں یہ نیورل نیٹورک ہی ہیں جن کی مدد سے آپ کے سمارٹ فون آپ کی چیزوں کو یاد رکھتے ہیں اور جیسے ہی آپ فون تبدیل کرتے ہیں یہ ساری فہم نئے ڈیوائس میں منتقل ہوجاتی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابن صفی صاحب نے دکھایا کہ یہ عمل پلٹ سکتا ہے یعنی ریورسیبل ہے؟ پتہ یہ چلا کہ ہم اپنی پوری زندگی میں اپنے دماغ کا چند فیصد حصہ استعمال کرتے ہیں۔ تو گویا باقی جگہ مزید نیورل نیٹورکس کے لئے بہت ہے۔ دماغ کے کسی نئے حصے پر نیورل نیٹ ورک کو کاپی کیا جا سکے تو "یادداشت واپس آ سکتی ہے-"
اب اس تناظر میں دیکھئیے تو ابن صفی کا تبدیلئ دماغ کا تصور دور از کار نظر نہیں آتا۔ یاد رہے کہ ناول میں آپریشن سے پورا دماغ ٹرانسپلانٹ نہیں کیا جا رہا تھا بلکہ سر پر ہیڈ فون ٹائپ کا آلہ استعمال کر کے یادوں کو محصور یا کاپی کیا جا رہا تھا۔۔۔
کیا کہتے ہیں قارئینِ ابن صفی؟

امین بھایانی
جی محترم احمد صفی بھائی،
میری رائے میں آپ کا فرمانا بالکل بجا ہے۔ اس ناچیز نے اپنے دو افسانوں "کوما" اور حالیہ دنوں میں لکھے گئے افسانے "سانس کی ڈور" جس میں بھی ایک کردار کوما کا شکار ہوجاتا ہے کے لیے کئی بار مفضل طور پر دماغ، دماغ خلیات، یاداشت، نیورانز اور دیگر افعال کا مطالعہ کیا۔
علاوہ ازیں جیسا کہ آپ نے فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان نے کمپیوٹر اور بطورِ خاص ان تمام آلات میں یاداشت کے حوالے سے استعمال ہونے والے چپ / ممیوری ڈرائیوز / ہارڈ ڈسک / ممیوری کارڈز و اسٹکس سب کے سب انسانی دماغ ہی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائے گئے اور عین اسی طور پر کام کرتے ہیں۔
اس لحاظ سے ابنِ صفی مرحوم نے اُس دور میں یہ تمام باتیں اپنے ناولوں میں من و عن اُسی طور پر شامل کر کے بلاشبہ اپنے آپ کو اُس دور کے ساتھ دورِ حاضر کا ایک عظیم دانشور ثابت کیا جب یہ باتیں ابھی نہ تو رائج ہی تھیں اور نہ ہی اُس طور پر سامنے آئی تھیں جیسا کہ آج کے دور میں ہے۔

محمد حنیف
احمد بھائی بہت اچھا تجزیہ پیش کیا ہے

جاوید نہال حشمی
برقی سرکٹ اور اعصابی سرکٹ بنیادی طور پر ایک ہی طرز اور اصول پر کام کرتے ہیں. فرق صرف یہ ہے کہ اول الذکر میں ڈیٹا کی منتقلی الیکٹرون کے دوڑنے سے ہوتی ھے جب کہ موخر الذکر میں سوڈیم آیون (+Na)کے دوڑنے سے. لہذا انسانی دماغ سے یادداشت کی منتقلی مستقبل میں ناممکن نظر نہیں آتی.

دلجیت قاضی
طالب علمی کے زمانے میں جہاں ہمیں ناولز پڑھنے پر پابندی تھی۔۔۔ جناب ابن صفی کی ناولز ہم اجازت کے ساتھ پڑھتے تھے۔۔۔ میرے ابا بھی " پنکھا" تھے ابن صفی کے۔۔۔

احمد صفی
بالکل بھائی جاوید میں نے اصول کی وضاحت کی ہے، سوڈیئم آئن کے دوڑنے کی وجہ بھی منفی چارج کی موجودگی ہی ہو شائد۔ دل دھڑکنے کی وجہ بی ان ہی آئنز کی حرکت پر ہے جبکہ پیس میکر مصنوعی طور پر برقیاتی طور پر دھڑکن کو قائم رکھتے ہیں۔۔۔

معظم راز
احمد صفی صاحب! شکراً! علی عباس حسینی صاحب کا یہ تفصیلی تعارف بعنوان "ایک ادارہ ایک انجمن" جو ابن سعید کے قلمی نام سے لکھا گیا ہے، میرے ہاں ذخیرے میں کہیں ہے ضرور ، بجائے تلاش بسیار کے ابھی ابھی آپ کی دی گئی لنک سے مکمل پڑھا ، آخری شعر واقعی جذبات کو جھنجھوڑ گیا ہے:
زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
ہائے کیا لوگ تھے جو دامِ اجل میں آئے

احمد صفی
عباس حسینی! علی عباس حسینی نہیں

معظم راز
حقیقت یہ بھی ہے کہ حسینی صاحب نے جس عہد میں آخری ایام بسر کیں اس وقت کے قلمکاروں کا اک تذکرہ ہمارے مڈل اسکول کے ایک استاد نے اپنے مضمون میں کیا تھا جس کا اختتام بھی اک المیہ شعر پر تھا
یادش بخیر
اک عمر کی پت جھڑ سے بچا کچھ بھی نہیں ہے
اب روح کے آنگن میں ہرا کچھ بھی نہیں ہے

علی نثار
دھاری دار انسان بھی ابن صفی صاحب کی ہی کسی ناول میں پڑھا تھا میں نے اب نام یاد نہیں لیکن جس کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ آدمی ہونے کے باوجود ہاتھی جیسے جانور کی طاقت کا ما لک ہوتا ہے۔

احمد صفی
زیبرا مین

علی نثار
عباس حسینی، علی عباس حیسنی، اسرار احمد، ان تمام معززیین کے بارے میں استاد محترم سید مجاور حسین رضوی صاحب کی زبانی بارہا سن چکا ہوں آج عباس حسینی صاحب پر " ایک ادارہ ایک انجمن" مضمون پڑھ کر یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ایسی بھی سحر انگیز اور کرشماتی شخصیت ہوتی ہے جو اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ محفوظ رہ جاتی ہے۔

احسن علی عباسی
آپ حضرات یہ نہ بھولیں کہ ہر اچھے مصنف کی زہنی پرواز بہت اونچی ہوتی ہے اور وہ اپنی نئ خیالی تخلیق کے لیئے دوسرے شعبوں کے ماہران کو اکساتا ہے کہ وہ ان خیالی تخلیقات کو حقیقی شکل میں تبدیل کریں۔ یہ جو ہم آج بہت سی نت نئ سائ فائ کہانیاں پردے پر دیکھتے ہیں ان میں سے آہستہ آہستہ کتنی ایجادات دیکھنے کو ملی ہیں اور ملتی رہینگی۔ اِبنِ صفی ایسے ہی اعلیٰ مصنفین کی صف میں ہیں جنہوں نے اپنے پڑھنے والوں حیرتناک وادیوں کی سیر کرائ ہے،مرحوم کی تحریر، اور ان کی یاد ہمیشہ ہمارے اور آنے والی نسلوں ( اگر انہوں نے اردو کو ہمیشہ کے لیئے دفن نہ کیا تو ) کے دلوں میں تازہ رہے گی ۔ ہماری سب کی دعا ہے کہ اللہ انہیں جنتالفردوس میں اعلیٰ مُقام سے نوازے، آمین۔

احمد صفی
جزاک اللہ خیر احسن بھائی

محمد علی صدیقی
جاوید نہال صاحب نے اچھا موضوع چھیڑا جس کے نتیجے میں بہترین تبصرے پڑھنے کو ملے۔ معظم راز صاحب نے " شمع " اور " مجرم " کی یاد بھی تازہ کرادی۔ میں انھیں بھی پابندی سے پڑھا کرتا تھا۔ انکے علاوہ ہما ھدی شبستاں اور بیسویں صدی بھی قابل ذکر ہیں۔ یہ بھی اپنے دور کے بہترین رسائل ہوا کرتے تھے۔ قارئین کو انکا بھی بے صبری سے انتظار رہتا تھا۔
کچھ دنوں قبل جاوید نہال صاحب کی پہل پر ہی وھاٹس ایپ کے قرطاس و قلم گروپ میں عمران اور فریدی پر ایک دلچسپ بحث ہو چکی ہے جسے مکرم نیاز صاحب نے ایڈٹ کر کے اخبار میں شائع بھی کروایا تھا۔
ابن صفی کے لکھے ہوئے ناولوں کا جادو ہی ایسا ہے کہ بات چھڑ جائے تو کچھ کہے بغیر رہا نہیں جاتا۔

دلجیت قاضی
بھائی جاوید نہال حشمی!
ایک مضمون انگریزی اخبارات میں بھی اس موضوع پر لکھ کر شائع کریں تاکہ انگریزی میڈیا اور قارئین کو بھی پتہ چلے کہ اردو ادب میں بھی ایسے لازوال مصنفین موجود ہیں۔۔۔۔۔۔ اللہ جناب ابن صفی کو غریقِ رحمت کرے آمین ثم آمین یا رب العالمین

مکرم نیاز
برصغیری انگریزی میڈیا اور قارئین بخوبی ابن صفی کے نام و کام سے واقف ہیں
ابن صفی پر حال میں نہ صرف سینکڑوں انگریزی مضامین لکھے جا چکے ہیں بلکہ ابن صفی کے کچھ عمران/فریدی ناولوں کا انگریزی ترجمہ بھی حال ہی میں منظر عام پر آ چکا ہے، یہ ناول فلپ کارٹ یا امیزن سے خریدے جا سکتے ہیں ، تمام انگریزی ناولوں کے مترجم مشہور ناقد شمس الرحمن فاروقی ہیں

احمد صفی
جولائی سن بہتر میں جناب ایچ اقبال صاحب نے الف لیلہ ڈائجسٹ کا ابن صفی نمبر ان کی زندگی ہی میں نکال کر مردہ پرستی کی روایت کو بھرپور انداز میں توڑ دیا۔ اس میں مشاہیرِ ادب نے ابن صفی پر مضامین لکھے تعریفی بھی تنقیدی بھی۔
شاعر اور ابو کے دوست سہیل اقبال صاحب مرحوم (انبالہ سوئیٹس والے) نے اگاتھا کرسٹی سے منسوب واقعہ درج کیا۔
ایک زمانے تک ہم اس کےُمستند ہونے پر شبہ کرتے رہے اور یہ سمجھتے رہے کہ شائد ڈیم اگاتھا کبھی پاکستان نہیں آئیں۔ مگر پھر راشد اشرف اور عقیل عباس جعفری صاحبان کی تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی کہ وہ پاکستان تشریف لائی تھیں۔ مقبول جہانگیر صاحب مرحوم کا ایک مضمون بھی دریافت ہو گیا جس میں انہوں نے اپنی ملاقات کا ذکر کیا۔ بی بی سی کے عارف وقار صاحب نے بھی اپنے بچپن کی یادداشتوں کو تحریر میں لاتے ہؤے اپنی والدہ کے ساتھ ان سے ملاقات کا بیان کیا۔ یوں یہ بات قرینِ قیاس ثابت ہوئی کہ رضی اختر شوق کا بیان کردہ واقعہ درحقیقت درست ہو سکتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب

عبدالحق
نمبر سے شناخت کا تصور بھی ابن صفی کی دین ہے. پیاسا سمندر 1956

اظہرالحق نسیم قریشی
ابن صفی نے اپنے روبوٹ (فولادی) کے بارے میں اپنے ناول میں کہا تھا کہ بھئی اب کوئی یہ نہ کہے کہ فولادی کو مغرب کی ایجاد ہے ۔۔۔۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ موجود ہے ۔ ۔۔ (مجھے لفظ بہ لفظ یاد نہیں اس لیے مفہوم لکھا ہے )
کاش ہمارے فلم ساز انکو ایک بار پڑھ لیں ۔ ۔ ۔ مگر ایسا ممکن نہیں ، کیونکہ میں نے بہت عرصہ پہلے سید نور اور شہزاد رفیق کے ساتھ بہت لمبی بحث کی تھی اور اپنی سائنس فکش کہانی کو انہیں دیا تھا ، مگر وہیں پر بیٹھے جاوید شیخ (جو فلم دھماکہ کے ہیرو بھی تھے ) کہنے لگے کہ ابن صفی کو لوگ فلما نہیں سکتے ۔ ۔۔ وہ کتابوں کے شاعر ہیں ۔۔۔ ورنہ دھماکہ کامیاب فلم ہوتی اگر وہ فلم کے لکھاری ہوتے ، مگر جب میں نے انہیں انکے ٹی وی کے خاکے یاد کروائے تو ۔ ۔ چُپ ہو گئے ۔ ۔ سید نور نے اسکرپٹ لیا مگر پھر کئی بار فون کرنے کے باوجود رپلائی نہیں کیا ۔ ۔ ہم اپنے ٹیلنٹ کو آگے لانا ہی نہیں چاہتے ۔ ۔ ۔

رحمت امین
Ibne Safi is all -time great novelist amongst detective novel writers. His thoughts was beyond his own era and such visionary writer is rare even in most advanced languages of the world. You have done an excellent job to draw our attention tawards his famous novel Tisdil ki Bedaari via-a-vis a resembling current news. Jb. S R Faruqui, a great writer, linguistic and critic, has translated his some novels into english but such work is continuously required to take his to non-Urdu speaking world and no doubt the whole world salute his visions.

محمد علی صدیقی
درست فرمایا آپ نے۔ آج کل دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے دیکھ کر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا پے جیسے یہ بات میں ابن صفی کے کسی ناول میں بہت پہلے پڑھ چکا ہوں۔ یونی پولر ورلڈ کی بات ہو، دہشت گردوں کی حرکتیں ہوں یا مختلف ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کی کار روائیاں۔ ابن صفی کے ناولوں کی جھلکیاں آ ہی جاتی ہیں۔

سجاد الحسنین
انڈیا میں واردات نام کی ایک فلم آئی تھی بہت پہلے متھن چکرورتی اس فلم کے مرکزی کردار تھے کہا جاتا ہے کہ اس فلم کا مرکزی خیال ابن صفی کے ناول سے لیا گیا تھا چونکہ میں نے یہ فلم دیکھی نہیں ہے اس لئے شائید وثوق سے کچھ نہ کہہ سکوں البتہ مکرم نیاز صاحب بحیثیت فلم ناقد اس پر روشنی ڈال سکتے ہیں

مکرم نیاز
Gunmaster-G9...
"Surakshaa" was based as a spy thriller (with hero's code of Gunmaster-G9), it was the first of two of such films with Mithun in the lead, the other being "Wardat".

تیمور احمد
کل اخبار جنگ میں ابن صفی کے بارے میں بہت دلچسپ میگزین رپورٹ شائع ہوئی ہے

جاوید نہال حشمی
اگر ممکن ہو تو صفحے کا عکس یہاں شیئر کریں.

احمد صفی
اس مضمون میں کچھ اعداد و شمار اور حقائق درستی طلب ہیں مگر مجموعی طور پر ایک جامع تحریر ہے

مکرم نیاز
جنگ میں شائع شدہ مضمون 'تعمیر نیوز' پر یہاں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
ابن صفی - ہم ہی سو گئے داستاں کہتے کہتے

جاوید نہال حشمی
شیئرنگ کا شکریہ احمد صفی صاحب


Science fiction in novels of Ibn-e-Safi, a dialogue on FaceBook.

0 comments:

Post a Comment