Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-01-29 - بوقت: 12:38

نوجوان صفائی مہم اور کیش لیس معیشت کو فروغ دیں - وزیراعظم مودی

Comments : 0
28 جنوری
نوجوان صفائی مہم اور کیش لیس معیشت کو فروغ دیں
بھیم ڈیجیٹل ایپ کی تشہیر کرنے کی اپیل۔ این سی سی کیڈٹس سے وزیراعظم نریندر مودی کاخطاب
نئی دہلی
یواین آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہاکہ این سی سی کیڈٹس کی زندگی میں یونیفار، پریڈ اور کیمپس کے علاوہ بہت کچھ رہتاہے ۔ یوم جمہوریہ کیت قریب کے تحت دہلی چھاؤنی کے پریڈ گراؤنڈ میں ملک کی دوسری دفاعی لائن کہے جانے والے این سی سی کیڈٹوں کی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندرمودی نے کہاکہ جب بھی ان کیڈٹوں کو دیکھتے ہیں تو انہیں یقین ہوتا ہے کہ ہندوستان کا مستقبل محفوظ ہے اور انہیں ملک کی نوجوان طاقت پر فخر ہے ۔ انہوں نے این سی سی کیڈٹوں سے صفائی ستھرائی کے مشن اور نقد سے مبرامعیشت کو ایک تحریک کے طور پر ملک بھرمیں پھیلانے کا اعلان کرتے ہوئے آج کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑنے میں ایک رابطہ کا کام کریں۔ حکومت کے سوچھ بھارت مشن اور نقدی سے مبرا معیشت جیسی اسکیموں میں این سی سی کیڈٹوں کی شراکت کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کو ایک تحریک کے طور پر ملک بھر میں پھیلانے میں این سی سی کیڈٹوں کو ایک نقیب کارول ادا کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستانی عوام خاص طور پر نوجوان ٹیکنالوجی کو تیزی سے اپناتے ہیں۔ این سی سی کیڈٹوں کو اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے بھیم جیسے ڈیجیٹل ایپ کے ذریعہ عوام میں شعور بیدار کرنا ہوگا۔ مودی نے این سی سی کیڈٹوں سے کہا کہ وہ اپنے موبائل میں بھیم ایپ ڈاؤن لوڈ کریں اور اپنے گھر والوں اور آس پاس کے لوگوںکو بھی اسے ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے قائل کریں۔ انہیں اس کا فائدہ بتاتے ہوئے ایپ استعمال کرنا سکھائیں۔ انہوں نے کہاکہ نوجوانوں میں صلاحیت ہے اور انہیں ملک میں لین دین کے طور طریقہ تبدیل کرنے کی سمت میں کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اے ٹی ایم کی حفاظت کے لئے چار سیکوریٹی ملازمین کی ضرورت پڑتی ہے اور اگربڑی تعداد میں لوگ نقدی سے مبرا رقومات کی لین دین کرتے ہین تو ان کا خرچ بچایاجاسکتا ہے اور اسے غریبوں کی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیاجاسکتا ہے ۔ اس طرح نوجوان ملک کے وزیر اعظم اور وزیر فینانس سے بھی زیادہ کام کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ این سی سی کیڈٹوں نے سوچھ بھارت مشن میں قابل ستائش کام کیا اور ملک کے مختلف حصوںمیں جاکر لوگوں کو صفائی ستھرائی کے تعلق سے بیدار کیا اور اس مہم کو آگے بڑھایا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ تیرہ لاکھ این سی سی کیڈٹ اگر ٹھان لیں تو وہ معاشرے کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے شعور بیدار یپیدا کرتے ہوئے2019ء میں گاندھی جی کی150ویں سالگرہ پر تک اس اس خواب کو پورا کرسکتے ہیں۔ وزیر اعظم مودی نے کہاکہ ملک میں18سال کی عمر سے اوپر کے کئی نوجوانوں کو آدھار نمبر دے دئے گئے ہیں اور مستقبل میں یہ تمام سرکاری اسکیموںکا فائدہ اٹھانے اور ان سے جڑنے کی بنیادبن سکتا ہے ۔ این سی سی ریالی میں8ممالک کے 111کیڈٹس سمیت ملک بھر سے تقریبا دو ہزار کیڈٹس نے حصہلیا۔ اس موقع پر مختلف ریاستوں سے آئے این سی سی دستوں نے مارچ پاسٹ کیا اور وزیراعظم کو سلامی دی ۔ این سی سی کی جھانکی بھی نکالی گئی۔ غیر ملکی کیڈٹس میں روس، بھوٹان، سری لنکا، مالدیپ، نیپال،اور ترکمانستان کے کیڈٹس شامل تھے۔ وزیر اعظم نے کیڈٹس کو انعام اور ٹرافی بھی پیش کی۔ پہلی ٹرافی اور بینر این سی سی کے پنجاب، ہریانہ اور چنڈی گڑھ ہیڈکوارٹرکو دیا گیا۔

اتر پردیش میں پہلے مرحلہ کے انتخابات کی تیاریاں مکمل
لکھنو
یو این آئی
اتر پردیش اسمبلی کے7مرحلوں میں مشتمل اہم ترین انتخابات کے پہلے مرحلہ کے انتخابات کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ انتخابات کے پہلے مرحلہ میں مغربی اتر پردیش کے15اضلاع پر مشتمل73حلقہ جات اسمبلی کا احاطہ کیاجارہا ہے ۔ یہاں11فروری کو رائے دہی ہوگی۔ پہلے مرحلہ کے لئے کل840امید وار میدان میں ہیں۔ جس میں حلقہ اسمبلی جنوبی آگرہ کی نشست پر سب سے زیادہ26امید واراور حلقہ اسمبلی ہستنا پور، لونی اور اگلاس میں ہر نشست پر چھ امید وارمیدان میں ہیں۔ اس طرح یہ تین نشستوں پر سب سے کم امید وار مقابلہ کررہے ہیں۔ پہلے مرحلہ کی جن نشستوں پر کڑا مقابلہ حلقہ اسمبلی نوئیڈا اور حلقہ اسمبلی متھرا میں دیکھاجارہاہے ۔ حلقہ اسمبلی نوئیڈاسے مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے فرزند پنکج مقابلہ کررہے ہیں۔ جب کہ حلقہ اسمبلی متھرا سے کانگریس قائدو موجودہ رکن اسمبلی پریب ماتھر کامقابلہ بی جے پی کے قومی ترجمان سری کانت شرما سے ہے ۔ اس کے علاوہ پہلے مرحلہ میں ضلع مظفر نگر کے فرقہ وارانہ فسادات کے ملزم سنگیت سنگھ سوم ضلع میرٹھ کے حلقہ اسمبلی سردھانہ سے اپنی قسمت آزمائی کررہے ہیں۔ مغربی اتر پردیش کے جاٹ اور مسلم اکثریتی علاقہ کے کئی حلقوں میں بی جے پی اور بہوجن سماج پارٹی کے درمیان راست مقابلہ دیکھاجارہا ہے ۔ اس کے علاوہ سماج وادی پارٹی۔ کانگریس اور راشٹریہ لوک دل( آرایل ڈی) بھی شدت سے مقابلہ کرنے والے امید واروں کو حیران کرسکتے ہیں لیکن امید واروں کے انتخاب کے معاملہ میں ہوئی اتھل پتھل2014ء کے انتخابات کے برعکس بی جے پی کو تباہ کرسکتی ہے جب کہ2014ء کے لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی نے اکثریتی طبقہ ووٹوں کو مکمل طور پر ایک رخی کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی تھی ۔ تاہم کیرانہ میں نقل مکانی اور مظفر نگر کے فرقہ وارانہ فسادات کے مسئلہ کو دوبارہ اجاگر کرنے سے ایس پی۔ کانگریس اتحاد کے لئے منفی ثابت ہوسکتے ہیں لیکن اس علاقہ میں جاٹوں کو تحفظات کا مطالبہ ان انتخابات میں چھایا رہے گا جو بی جے پی کے لئے سخت پریشانی کا باعث ہے ۔ ریاست اتر پردیش میں بہوجن سماج پارٹی نے اس مرتبہ97مسلمانوں کو ٹکٹ دیا ہے نے ریاست میں دلت۔ مسلم اتحاد کے نام کامیابی کی توقع لائے ہوئے ہے۔ پہلے مرحلے کے لئے سیاسی جماعتیں ہنوز اپنی انتخابی مہم میں شدت پیدا نہیں کی ہے توقع ہے کہ انتخابی مہم میں فروری کے پہلے ہفتہ میں تیزی آئے گی۔ وزیر اعظم نریندر مودی جو بی جے پی کی انتخابی مہم کے اہم شخصیت ہیں،4فروری کو میرٹھ سے انتخابی مہم شروع کریں گے ۔ا س کے بعدوہ7فروری کو علی گڑھ ، بجنور میں10فروری کو پیلی بھیت میں22فروری کو انتخابی جلسہ سے خطاب کریں گے ۔ بہوجن سماج پارٹی کی صدرمایاوتی یکم فروری کومیرٹھ ، باغپت اور علی گڑھ میں ایک ہی دن میں ریالیوں سے خطاب کرتے ہوئے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کریں گی ۔ اس مرحلہ میں ایس پی اور کانگریس دو مشترکہ انتخابی ریالیوں کا انعقاد عمل میں لائیں گی ۔ کانگریس پارٹی کے اعلیٰ ذرائع نے بتایا کہ دونوں قائدین چودہ ریالیوں سے مشترکہ طورپر خطاب کرنے کامنصوبہ ہے۔7مرحلوں میں اسمبلی انتخابات میںہر مرحلے میں دو دو عوامی جلسوں سے مشترکہ طور پر خطاب کرنے کا منصوبہ ہے ۔اتر پردیش میں بیرسٹر اسد الدین اویسی کی زیر قیادت کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے ۔ صدر مجلس اسد الدین اویسی مغربی اتر پردیش کے مسلم اکثریتی علاقوںمیں اپنی مہم کئی ہفتہ قبل ہی شروع کرچکے ہیں۔ مجلس اتحاد المسلمین سات مرحلوں پر مشتمل اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلہ میں چار نشستوں پر امید وار کھڑے کئے گئے ہیں اور ان میں حلقہ اسمبلی آگرہ جنوبی سے محمد ادریس علی، حلقہ اسمبلی فیروزآباد (شہر)سے احتشام علی بابر، ضلع شیاملی کے حلقہ اسمبلی کیرانہ سے مولانا مسیح اللہ، ضلع علی گڑھ کے حلقہ اسمبلی کوئل سے پرویز احمد شامل ہیں۔ چودھری چرن سنگھ کے فرزند اجیت سنگھ کی زیرقیادت آر ایل ڈی بھی اس انتخابات میں جاٹ اکثریتی علاقوں میں اپنا اثر دکھاسکتی ہے ۔ آرایل ڈی ریاست کے پہلے مرحلہ میں59حلقوں سے مقابلہ کررہی ہے ۔ پہلے مرحلہ کے73اسمبلی حلقوں میں سال2012ء کے اسمبلی انتخابات میں سماجو ادی اپرٹی کو24، بی ایس پی کو23، بی جے پی کو12، آر ایل ڈی کو9اور کانگریس کو5نشستیں ملی تھیں۔

خواتین کو شریعت اسلامی میں ہر پہلو رہنمائی
مسلم پرسنللاء بورڈ شعبہ خواتین کا تحفظ شریعت اوراصلاح معاشرہ کانفرنس، خاتون ارکان کا خطاب
نئی دہلی
یو این آئی
مسلم پرسنل لا ء بورڈ کے شعبہ خواتین کی جانب سے نئی دہلی کے غالب انسٹی ٹیوٹ میں’’تحفظ شریعت اور اصلاح معاشرہ کانفرنس‘‘2017ء کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔محترمہ زینب مجاہدہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈنے درس قرآن پیش کیا۔ محترمہ زینب مہتاب رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے شریعت اسلامی کا تعارف اور اس کی اہمیت اور ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شریعت اسلامی اللہ کا نازل کردہ دستور حیات ہے۔ اس میں انسان کی پیدائش سے موت تک کے تمام امور میں رہنمائی و رہبری ملتی ہے۔ شریعت اسلامی آسان، سہل، قابل عمل ضابطہ حیاتہے ۔ جسکے ہر پہلو میں خواتین کے لئے ہدایت، رحمت اور تحفظ ہے ۔ محترمہ عطیہ صدیقی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کے احکام مردوعورت دونوں کے لئے باعث رحمت ہیں۔ ہمارے خالق نے ہمارے فائدے کے لئے اسے نازل کیا۔ شریعت اسلامی ہمارے لئے اللہ کا احسان ہے ۔ اس سے انحراف اللہ کے غضب کو دعوت دینے کا باعث بنتاہے ۔ خواتین مستقل مزاج، عزم و حوصلے کے پکی ہوتی ہے ۔ اگر وہ اپنی صلاحیتوں کو مصیبت و مشکل وقت میں استعمال کریں اور اسلامی تعلیمات کو سمجھ کر اپنے گھر کی اصلاح کریں تو پورے سماج میں ایک بہتر انقلاب رونما ہوسکتاہے شعبہ خواتین کی ڈاکٹر اسماء زہرہ نے تحفظ شریعت کے عنوان پر اپنے خطاب میں شریعت کے تحفظ اور بقاء کے لئے دو سمتوں میں کوشش کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک ملک کے دستورمیں مسلم پرسنل لا کو دی گئی ضمانتوں کا تحفظ ، دوسری کوشش یہ کہ ہماری اپنی نجی، عائلی، خاندانی، سماجی ، اجتماعی زندگی میں شریعت کانفاذ ۔ انہوں نے کہا کہ شریعت اسلامی میں عورت ومرد دونوں کومساوی حقوق دئیے گئے ہیں اور نکاح میں لڑکی کی مرضی کو لازم قرار دیا گیا ہے، حق وراثت میں مردوعورت کے درمیان کسی طرح کا امتیاز نہیں ہے ، بیٹیوں کی پرورش ، تعلیم و تربیت، پر جنت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ شریعت اسلامی میں مسلم خواتنی ہر طرح محفوظ ، مطمئن اور خوش و خرم ہیں۔ شریعت اسلامی میں مردو عورت دونوں کے دائرے مقرر ہیں۔ شریعت اسلامی میں کسی قسم کا صنفی امتیاز نہیں ہے ۔ انہوںنے کہا کہ جس سماج میںجنسی امتیاز ہے وہاں رحم مادر میں بیٹیوں کو قتل کیاجاتا ہے ۔ ان کی پرورش کوبوجھ سمجھاجاتاہے ۔ جہیز کے نام پر عورتوں کو جلایاجاتا ہے ۔ جنسنی تشدد، عصمت ریزی، قتل اور خواتین کے خلاف جرائم جیسے سماجوں میں بہت زیادہ ہیں۔ اس کے مقابلے میں مسلم سماج میں عورتیں محفوظ ہیں۔ خواتین کے ساتھ حسن سلوک اور معروف طریقہ سے پیش آنے کا شریعت میں حکم ہے ۔ مسلم معاشرہ عورتوں کو گھر کی نعمت سے نوازتا ہے اور عورتوں کو ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے باعزت مقام عطاکرتاہے ۔اس کے علاوہ اسلامی معاشرہ میں عورتوں کو نیکی، خیر، فلاح کے کاموں میں برابر کا حق دیاگیاہے ۔ ضرورت اسبات کی ہے کہ ہماری مائیں و بہنیں شریعت اسلامی کے روشن پہلوؤں کو بغور مطالعہ کریں اور اپنی زندگی کا ایک مضبوط لائحہ عمل ترتیب دے کر شریعت اسلامی کے علمبرداربن جائیں۔ شریعت اسلامی کا تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب ہماری مائیں اپنی زندگی کے عظیم مقصد کو سمجھ کر اپنی صلاحیت، وقت اور قابلیت کو اس کام میں لگائیں۔ محترمہ ممدوحہ ماجد رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے نکاح نامہ کے گائیڈ لائنز پر روشنی ڈالی اور کہا کہ نکاح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور انبیاء کی سنت ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ اسے مسنون طریقہ پر انجام دیاجائے اور تمام خلاف شرع امور سے بچا جائے ۔ نکاح میں لڑکے یا اس کے سرپرستوں کی طرف سے نقد رقم، جہیز یا اس کے مہمانوں کے لئے دعوت کامطالبہ کرنا خلاف شرع اور سخت گناہ ہے، نکاح کو آسان بنایاجائے اور فضول خرچی سے اجتناب کیاجائے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے نکاح کو بابرکت قرار دیا ہے جسمیں کم اخراجات ہوں۔ ڈاکٹر عالیہ خلجی رکن آل اندیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس دور میں مسلمانوں کو ہر روز نئے نئے چیالنجس کا سامنا ہے ایسے میں اصلاح معاشرہ ہماری، آپ کی اور ملت اسلامیہ کی تمام خواتین کی ذمہ داری ہے۔ ہم معاشرہ میں سدھار چاہتے ہیں تو ہم کو شروعاتاپنے گھر اور خود اپنے آپ سے کرنی ہوگی۔ معاشرے کی صلاح افراد کی اصلاح سے ہی ممکن ہے ۔ اوریہ اصلاح ہم اپنی زندگیوں میں اسلامی شریعت کے نفاذ سے لا سکتے ہیں ۔ا س کے علاوہ اہم عنوانات پر خواتین اراکین مسلم پرسنل لا بورڈ دیگر مقررات نے اس کانفرنس کو مخاطب کیا۔ اس کانفرنس میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین و طالبات نے شرکت کی ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ویمنس ہیلپ لائن ٹول فری نمبر1800 102 8426کی خدمات سے خواتین کو واقف کروایا گیا، کنوینر تحفظ شریعت کانفرنس محترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ اپنے عائلی تنازعات کو شریعت کی روشنی میں حل کرنے کی کوشش کریں اور مقامی دارالقضاء سے رجوع ہوں۔ دعا پر کانفرنس کا اختتام عمل میں آیا۔

0 comments:

Post a Comment