Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-01-04 - بوقت: 16:21

سماجی ضرورتوں کے لئے سائنس و ٹکنالوجی کو بامعنی بنائیں - وزیر اعظم

Comments : 0
تروپتی میں انڈین سائنس کانگریس سے وزیر اعظم کا خطاب
تروپتی( آندھرا پردیش)
یو این آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں مربوط اقتصادی ترقی اور ملازمتوں کو پیدا کرنے کی سمت کام کرنے کی ضرورت ہے َ انہوں نے دعویٰ کیا کہ2030ء تک ہندوستان سائنس و ٹکنالوجی کے شعبے میں دنیا کے تین سرکردہ ممالک میں سے ایک ہوگا اور ہندوستان کا ٹیلنٹ بھی کافی مشہور ہوگا۔ انہوں نے آندھرا پردیش کے تروپتی میں104ویں انڈین سائنس کانگریس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سائنٹفک پبلی کیشن میں ہندوستان کو چھٹ امقام حاصل ہوا ہے ۔ہمارے سائنسدانوں نے بنیادی ریسرچ کے معیار میں اضافہ کرتے ہوئے اسے سے جوڑا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں سائنٹفک ذمہ داری کے نظریہ کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ تمام شراکت داروں کے سرکردہ اداروں تک رسائی حاصل کی جاسکے ۔ انہوں نے تحقیق کو بین الاقوامی معیار کے خطوط پر مستحکم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے خطوط پر سائنٹفک سماجی ذمہ داری کے نظریہ کی توثیق کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسکولس، کالجس سمیت دیگر تمام حصہ داروں تک رسائی حاصل کی جاسکے ۔ ہمارے سائنس و ٹکنالوجی کے بہترین اداروں کو چاہئے کہ بنیادی تحقیق کو سرکردہ عالمی معیارات کے خطوط پر مستحکم کریں۔ بنیادی معلومات کی اختراعات میں تبدیلی، اسٹارٹ اپس اور انڈسٹری سے ہمیں جامع اور دیر پا ترقی حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ سائنس کو عوام کی بڑھتی خواہشات کی تکمیل کرنی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی جزیرہ نما میں1300جزائر ہیں جو ہمیں طویل ساحلی پٹی فراہم کرتے ہیں۔ یہ2.4بلین مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے جو ہمیں ایک بڑی اقتصادی زون فراہم کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مینو فیکچرنگ کے شعبہ میں ٹکنالوجیز کے استعمال کی ضرورت ہے ۔زراعت، پانی، توانائی، ٹریفک مینجمنٹ ، ماحولیات ، انفراسٹرکچر ، جیو انفارمیشن سسٹم اور سیکوریٹی کے شعبہ میں ہمیں توجہ دینی کی ضرورت ہے ۔ اور ساتھ ہی مینو فیکچرنگ کے شعبہ میں ٹکنالوجیز کا استعمال بھی بہتر ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں آج سرمایہ کاری کے فائدے کل حاصل ہوں گے ۔ حکومت سائنٹفک معلومات میں تعاون کررہی ہے چاہے وہ بنیادی سائنس ہو یا پھر اپلائیڈ سائنس۔ یہ تعاون اختراعات کے ساتھ کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صاف پینے کے پانی، توانائی ، غذا، ماحولیات ، صحت کے شعبوں میں کئی چیلنجس ہیں۔ ہمیں مسابقت کے لئے ٹکنالوجی کے مواقع سے استفادہ کرنے کی ضرور ت ہے ۔ نیتی آیوگ نے ملک میں ہولسٹک سائنس ٹکنالوجی ریجن کی تیاری کی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم تحقیق اور تربیت کے ذریعہ ڈیجیٹل مینو فیکچرنگ، ڈاٹا انالائسس اور معلومات حاصل کرسکتے ہیں ۔ اس کے لئے مواصلات بھی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کانگریس میں امریکہ، جاپان ، اسرائیل ، فرانس ، اور بنگلہ دیش سے چھ نوبل انعام یافتگان شریک ہوئے۔ ان کے علاوہ ملک بھر سے چودہ ہزار سائنسداں اور اسکالرس بھی اس کانگریس میں حصہ لے رہے ہیں جو پانچ دنوں تک جاری رہے گی۔ قومی ترقی کے لئے سائنس و ٹکنالوجی ، اس کانگریس کا موضوع دیا گیا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے نوبل انعام یافتگان کو گولڈ میڈلس کے ذریعہ تہنیت بھی پیش کی۔ انڈین سائنس کانگریس کے پلیٹری سیشن کے علاوہ خواتین کی سائنس کانگریس ، بچوں کی سائنس کانگریس کا بھی اہتمام کیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم کے دورہ اور سائنس کانگریس کے پیش نظر تروپتی اور تروملا میں سخت ترین سیکوریٹی انتظامات کئے گئے تھے ۔ تروپتی دوسری مرتبہ اس کانگریس کی میزبانی کررہاہے۔ پہلی کانگریس1983ء میں منعقد کی گئی تھی ۔ انڈین سائنس کانگریس کا یہ 70واں سیشن تھا۔ انڈین سائنس کانگریس ہر سال منعقد کی جاتی ہے تاکہ ملک میں سائنس کے کاز کو فروغ دیاجاسکے ۔ تقریب میں گورنر ایس ایل نرسمہن ، چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو اور دوسرے موجود تھے۔

PM Modi seeks science to play more meaningful in societal needs

0 comments:

Post a Comment