Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-12-16 - بوقت: 01:22

حقوق نسواں اور ہندوستان کا نظام عدلیہ

Comments : 0
indian-judicial-system
الہ آباد ہائیکورٹ اور کیرالہ ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کا تقابلی جائزہ

گلابی جاڑوں سے پریشان یوپی کے ماحول کو جہاں سیاست گرمارہی ہے وہیں الہ آباد ہائیکورٹ کے جج سنیت کمار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ’’طلاق ثلاثہ غیر آئینی ہے۔ اس سے مسلم خواتین کے حقوق کی پامالی ہوتی ہے۔ کسی پرسنل لاء بورڈ کا مقام آئین ہند سے بالاتر نہیں ہوسکتا۔ ‘‘ الہ آباد ہائیکورٹ کے جج نے مزید کہا کہ کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ کے زیر سماعت ہے ، لہذا ہمیں اس کے فیصلہ کا انتظار کرنا چاہئے۔ مرکزی حکومت اور اس کی حلیف پارٹیوں نے اس اظہار خیال کو مثبت قرار دیتے ہوئے اسے عورتوں کے حق میں ایک بہترین اقدام قرار دیا ہے۔ وہیں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نمائندہ نے کہا کہ ’’ ہماری قانونی کمیٹی اس کا بغور مطالعہ کرے گی اور اس کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع ہوگی۔ وہیں کمال فاروقی صاحب (مسلم پرسنل لاء بورڈ ) نے کہا کہ جج صاحب کی یہ رائے ہے فیصلہ نہیں ہے۔
حالیہ پس منظر : گذشتہ چند مہینوں سے طلاق ثلاثہ، نکاح حلالہ اور تعدد ازدواج کا معاملہ نہایت گرما گیا ہے۔ گویا ہندوستان کی ترقی میں یہی ایک رکاوٹ ہے۔ سابقہ کانگریس حکومت نے اپنی روش کے مطابق اس شوشہ کو کھڑا کیا تھا وہیں موجودہ بے جے پی حکومت نے اپنے انتخابی اعلامیہ کے مطابق طرز عمل اختیار کر رکھا ہے۔ بی جے پی نے انتخابی اعلامیہ میں واضح کہا تھا کہ وہ کامن سول کوڈ کا نفاذ کرے گی اور اسی راہ پر چلتے ہوئے سال کے آغاز میں مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کے خلاف اظہار خیال کیا تھا۔ انتخابی ماحول میں یوپی ہمیشہ مرکزی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ لہذا وزیر اعظم نے بھی یوپی کے ایک جلسہ میں عورتوں اور بالخصوص مسلم خواتین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ مسلم خواتین کی زندگیوں کو طلاق ثلاثہ سے برباد نہیں ہونے دیا جائیگا‘‘۔ امید کہ وہ مسلم خواتین کو درپیش حقیقی مسائل کی طرف توجہ کرتے ہوئے عملی اقدام بھی کریں گے۔
کیرالہ ہائیکورٹ: الہ آباد ہائیکورٹ کے جج نے جہاں اظہار خیال کرتے ہوئے عورتوں پر کسی طرح کے مظالم نہ ہونے کی بات کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دن کیرالہ ہائیکورٹ نے تریونت پورم میں واقع دینا کے سب سے مالدار مندر کے متعلق فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مندر کے معاملات میں ’’چیف پنڈت کا حکم ہی آخری حکم ہوگا۔ حتیٰ کہ مندر انتظامیہ بھی اس میں مداخلت نہیں کرسکتا۔‘‘ در اصل تریونت پورم میں واقع شری پدمنابھوسوامی مندر کی یہ روایت ہے کہ کوئی بھی خاتون شلوار یا چری دار پہن کر مندر میں داخل نہیں ہوسکتی۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اس کے اوپر (منڈو) دھوتی پہن کر داخل ہو۔ ایک صاحب نے اس کی مخالفت کی ، معاملہ کورٹ پہنچا اور کورٹ نے مذکورہ بالا فیصلہ صادر کیا اور کہا کہ ڈریس کوڈ حسب سابق ہی باقی رہے گا ۔ لہذا عورتوں پر لازم رہے گا کہ وہ دھوتی پہن کر ہی داخل ہوں۔ متعدد نیوز ویب سائٹس پر تلاش بسیار کے باوجود بھی کیرالہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کو کسی سیاسی جماعت نے عورتوں پر ظلم ، مندر کا تغلقی حکم یا پھر خود ساختہ تحفظ نسواں جماعتوں نے عورتوں کی آزادی پر حملہ نہیں قرار دیا۔ شاید ہندو عورتوں کے مسائل قابل توجہ نہیں یا ہندو عورتیں اس لائق نہیں کہ میڈیا ان کے متعلق کو ئی تبصرہ بھی کرے۔در اصل حقیقت یہ نہیں ہے ۔ کسی بھی ملک بالخصوص جمہوری کی بنیاد عدلیہ اور میڈیا پر ہوا کرتی ہے۔ لہذا آزادی ہند بلکہ اس سے ماقبل ہی سے اسلام مخالف طاقتوں نے ان دونوں شعبوں میں کافی اثر و رسوخ حاصل کرلیا ہے۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے میڈیا ہاؤس ان طاقتوں کی ہاں میں ہاں ملاتے تھکتے نہیں۔ میڈیا کا یہ بنیادی وصف ہوتا ہے کہ وہ عوام کے مسائل و مصائب کا ترجمان ہو، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہی میڈیا معمولی اور غیر اہم نیوز کا مثلہ بناکر اسے Breaking News بنادیتی ہے اور اہم نیوز کو کہیں حاشیہ میں بھی جگہ نہیں دیتے۔میڈیا کا یہ جانبدارانہ رویہ اسے کس قعر مذلت میں ڈھکیل دے گا اسے اس کا احساس نہیں اور جب احساس ہوگا تو کافی دیر ہوچکی ہوگی۔
جرأت رندانہ کی وجہ : شریعت اسلامیہ ہو یا مسلمانان ہند کے دیگر مسائل آخر کیا وجہ ہے کہ وقتاًفوقتاً سیاسی جماعتیں ، ملک کی دیگر عدالتیں اور میڈیا بے جا مداخلت کی جرأت کرتی ہیں؟ اس مسئلہ کا گہرائی اور گیرائی ہر دو اعتبار سے جائزہ لینا ضرووری ہے اگر ہم خود کا محاسبہ کریں تو یہ وجہ سامنے آتی ہے کہ ہماری مساجد کو وہ بنیادی اہمیت و عظمت حاصل نہیں رہی جو کہ عہد نبویﷺ میں اسکا امتیاز تھا۔عہد نبوی ﷺ میں تمام نزاعات و مسائل مسجد نبوی ﷺ ہی میں حل ہوتے تھے ۔جب مکاتب و مدارس یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں کہ مسجد سے باہر مکتب کا نظام بہتر جاری رہ سکتا ہے تو عام مسلمان کا کیا حال ہوگا؟ اس مسئلہ کی ایک خارجی وجہ یہ بھی ہے کہ اسلام مخالف طاقتیں جنکا پورا وجود معصوم انسانیت کے خون سے آلودہ ہے ۔وہ نہایت چالاکی اور عیاری سے مسلمان عورتوں کی طرف ’’دست شفقت ‘‘بڑھارہے ہیں ۔وہ سمجھ رہے ہیں کہ مسلم عورتیں ان کے جال میں آجائیگی۔ در حقیقت انہیں مسلمان عورتوں کے شاندار و تابناک ماضی کا علم نہیں ۔صنف نازک کی غیرت و حمیت ایمانی کا اندازہ نہیں ۔ انہیں معلوم نہیں کہ آقا ﷺ کی سب سے پہلے جس ذات نے ڈھارس باندھی تھی وہ ایک مسلم خاتون تھی۔ انہیں علم نہیں کہ جام شہادت سب سے پہلے ایک مسلم خاتون ہی نے نوش کیا تھا۔ انہیں مسلم خواتین کی دینی حمیت اور جانبازی کا اندازہ نہیں کہ حضرت صفیہ بنت عبد المطلب کے ایک وار سے یہودی کا سر تن سے جدا ہوگیا تھا۔ اور پورا یہودی خیمہ لرزگیا تھا۔ آج بھی چمنستان اسلام میں جو کچھ بہار آئی ہے وہ انہی نیک خواتین کی حمیت اسلامی کا نتیجہ ہے۔ اگر یہ سلسہ یونہی شد و مد کے ساتھ جار ی رہا تو وہ وقت دور نہیں جب ہندوستان سیادت و قیادت کے بہترین دور سے روشناس ہوگا اور عوام کو بہترین عدلیہ نظام میسر آئیگا۔

***
ڈاکٹر خلیل احمد ندوی
اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبہ عربی
کوہ نور کالج ،خلدآباد
Email: chishtikhalil[@]gmail.com
Mob: 9975133662
ڈاکٹر خلیل احمد ندوی

Women's rights and Indian judicial system. Article: Dr. Khalil Ahmed Nadvi

0 comments:

Post a Comment