Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-11-09 - بوقت: 11:32

500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ منسوخ

Comments : 0
8/نومبر
500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ منسوخ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کاے دھن اور کر پشن کے خلا ف فیصلہ کن جنگ کا اعلان کرتے ہوئے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں کو منگل اور چہار شنبہ کی درمیانی رات سے منسوخ قرار دیا اور عام لوگوں کو یہ احساس دلانے کے لئے کئی اقدامات کا انکشاف کیا اور کہ ان کا پیسہ محفوظ ہے ۔ عہدہ سنبھانے کے ڈھائی سال بعد ٹیلی ویژن پر اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے ان کرنسی نوٹوں کو بینکوں اور ڈاک خانوں کسی حد کے بغیر جمع کرانے کے لئے10نومبرتا30دسمبر50دن کی سہولت کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بالکل نئے ڈیزائن کے ساتھ2000روپے اور500روپے کے نئے نوٹ متعارف کئے جائیں گے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ یہ نوٹ بینکوں کو پہونچادئیے گئے ہیں تاکہ وہ10نومبر سے ان کا چلن شروع کرسکیں۔ مودی نے کہا کہ سابقہ تجربہ کی بنیاد پر آر بی آئی اس مرتبہ ایسے انتظامات کررہا ہے کہ اتعما میں رہنے والی مجموعی کرنسی میں اونچے نوٹوں کا حصہ محدود کیاجائے ۔ بینکس چہار شنبہ کو بند رہیں گے اور اے ٹی ایم بھی چہار شنبہ کو اور بعض مقامات پر10نومبر کو بھی بند رہیں گے۔ پہلے کچھ دنوں مین ہر اے ٹی ایم کارڈ سے ایک دن میں دو ہزار روپے نکالنے کی حد ہوگی۔ بعد میں اسے بڑھاکر4000روپے کردیاجائے گا۔ اس طرح نئے نوٹوں کی سپلائی کے پیش نظر یومیہ حد 10ہزار روپے اور ہفتہ واری حد20ہزار روپے مقرر کی جائے گی۔ آنے والے دنوں میں اس حد میں اضافہ کیاجائے گا۔500روپے اور ایک ہزار روپے کے نوٹ بینک کاؤنٹرس پر اور منتخب ڈاک خانوں میں 24نومبر تک چھوٹی نوٹوں سے تبدیل کئے جاسکتے ہیں اور اس کے لئے چار ہزار روپے فی یوم کی حد ہوگی۔ 25نومبر سے اس حد میں اضافہ کیاجائے گا۔ بینکس نوٹ جمع کرنے اور تبدیل کرنے کے خواہشمند افراد کے ہجوم سے نمٹنے اضافی کاؤنٹرس کھولیں گے اور اضافی گھنٹے کام کریں گے ۔ بعض ایسے افراد ہوسکتے ہیں جو کسی وجہ سے30دسمبر تک500روپے اور ایک ہزار روپے کے نوٹ جمع نہیں کراسکیں گے ایسے لوگ31مارچ2017ء تک آر بی آئی کے مخصوص دفاتر سے رجوع ہوسکتے ہیں، اور ڈکلیریشن فارم پیش کرنے کے بعد نوٹ جمع کراسکتے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ایک ہزارروپے کے6.7بلین نوٹ اور پانچ سو روپے کے16.5بلین نوٹ چلن میں ہیں۔ وزیر اعظم نے پہلے ہندی اور پھر انگریزی میں خطاب کیا۔ مودی حکومت نے ملک اور بیرون ملک میں کالے دھن کو بے نقاب کرنے کے لئے دو اسکیمات پر عمل کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ بد عنوان افراد کے ایک عشاریہ دو پانچ لاکھ کروڑ روپے کو پہلے ہی بے نقاب کیا گیا ہے ، انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کی تاریخ میں ایسا وقت آتا ہے جب ایک مضبوط اور فیصلہ کن اقدام کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے ۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں ، تمام حکومتوں سماجی تنظیموں اور میڈیا سے کہا کہ وہ کالے دھن کے خلاف جنگ میں جوش وخروش سے حصہ لیں تاکہ اسے کامیاب بنایاجاسکے ۔انہوں نے یہ بات مانی کہ ان اقدامات پر عمل آوری میں عوام کو کچھ تکلیف ہوسکتی ہے۔ انہوں نے عوام سے خواہش کی کہ وہ اس تکلیف کو برداشت کریں ۔مودی نے کہا کہ آج آدھی رات سے پانچ سو روپے اور ہزار روپے کے نوٹوں کی قانونی حیثیت ختم ہوجائے گی اور وہ محض کاغذ کے ٹکڑے بن کر رہ جائیں گے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سو اور پچاس روپے ، بیس روپے اور دو رپے اور ایک روپے کے نوٹ کارکرد رہیں گے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ کرپشن اور کالے دھن کی پکڑ کو کمزور کرنے کے لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آج آدھی رات یعنی8نومبر2016ء کی رات سے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ جو فی الحال زیر استعما ل ہیں قانونی حیثیت نہیں رکھیں گے ۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ آج آدھی رات سے یہ نوٹ قابل قبول نہیں ہوں گے ۔ انہوںنے کہا کہ قوم دشمن اور قوم دشمن عناصر نے جو پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ جمع کئے ہیں۔ وہ محض کاغذ کے ٹکڑے بن جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ایمانداراورمحنتی لوگوں کے حقوقاور مفادات کامکمل تحفظ کیاجائے گا۔ مودی نے کہاکہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کا پیسہ آپ کا رہے گا ۔ آپ کو اس مرحلہ پر فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ کے کھاتہ میں آپ کا پیسہ جمع کرانے کے بعد آپ اسے ضرورت پڑ نے پر نکال سکتے ہیں۔ ان اقدامات کی ضرورت کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ گزشتہ دہوں میں کالے دھن اور کرپشن میں کافی اضافہ ہوا جس سے غریبی کو ہٹانے کی کوششیں کمزور ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ سماج کے بعض طبقات نے اپنے خو د غرضانہ مفاد کے لئے کرپشن پھیلایا ہے ۔ انہوں نے غریبوں کو نظر انداز کیا ہے ۔ بعض لوگوں نے شخصی فائدے کے لئے اپنے عہدہ کا غلط استعما ل کیا ہے ۔ مودی نے کالے دھن کو دہشت گردی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ سرحد پار سے دشمنوں نے جعلی کرنسی کا استعما ل کرتے ہوئے سر گرمیاں انجام دی ہیں۔ کئی برسوں سے یہ کام ہورہا ہے ۔ کئی مرتبہ پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے جعلی نوٹوں کو پکڑا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایماندار شہری، کرپشن، کالے دھن اور بے نامی جائیداد، دہشت گردی اور جعلی کرنسی کے خلا ف لڑائی کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ اس اقدام سے کرپشن، کالے دھن اور جعلی کرنسی کے خلاف لڑائی میں عام آدمی کے ہاتھ مضبوط ہوں گے۔ ایک ہزار روپے کے نوٹ سولہ سل چلن میں رہنے کے بعد ہٹائے جارہے ہیں۔ جب کہ پانچ سو روپے کے نوٹ1987ئمیں دوبارہ متعارف کرائے گئے ۔ اونچی قدر کے نوٹ پہلے1946میں دوبارہ ہٹائے گئے تھے لیکن 1954ء میں دوبارہ شروع کئے گئے تھے اور پھر1978ء میں ان سے دستبرداری اختیار کی گئی تھی۔ انسانی بنیادوں پر شہریوں کی تکلیفوں کو کم کرنے کے لیے پہلے72گھنٹوں یعنی 11نومبر کی آدھی رات تک کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس مدت کے دوران سرکاری ہاسپٹلس میں پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ ادائیگی کے لئے قبول کئے جائیں گے ۔ سرکاری ہاسپٹلس میں فارمیسیز ڈاکٹر کی پرچی کے ساتھ دوائیں خریدنے کے لیے یہ نوٹ قبول کریں گے۔11نومبر کی آدھی رات تک ریلوے ٹکٹ بکنگ کاوئنٹرس، سرکاری برسوں کے ٹکٹ کاؤنٹرس اور ایر پورٹس پر ایر لائن ٹکٹ کاؤنٹرس ٹکٹوں کی خریدی کے لئے پرانے نوٹ قبول کریں گے۔ پہلے بہتّر گھنٹوں کے لئے سرکاری آئیل کمپنیوں کے پٹرول ڈیزل اور سی این جی اسٹیشنس، ریاستی اور مرکزی حکومت کی جانب سے مسلمہ کنزیومر کوآپریٹیو اسٹورس، ریاستی حکومتوں کے مسلمہ ملک بوتھس، شمشانگھاٹوں اور قبرستان میں پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹ قبول کئے جائیں گے ۔ ان اداروں کو اس لین دین کا مناسب ریکارڈ رکھناہوگا ۔ انٹر نیشنل ایر وپرٹس پر نوٹوں کی تبدیلی کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ مودی نے کہا کہ میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ چیکس، ڈیمانڈ ڈرافتس، ڈیبٹ یا کریڈ ٹ کارڈس اور الیکٹرانک فنڈس ٹرانسفر جیسے کسی بھی طرح کے نان کیش پے مینٹ پر کوئی تحدید نہیں ہوگی۔ بینکرس اور انڈسٹری لیڈرس نے بالعموم اس فیصلے کا خیر مقدم کیا اور اسے جراتمندانہ اور انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے اس تبدیلی پر پرسکون طور پر عمل آوری کا عہد کیا۔
Rs 500, Rs 1000 notes scrapped

ہند۔ برطانیہ قریبی تعاون ضروری۔ تھریسامے اور پرنب مکرجی کی بات چیت
نئی دہلی
آئی اے این ایس
صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان تعاون کی وکالت کی۔ راشٹرپتی بھون کے بیان میں منگل کے دن یہ بات بتائی گئی ۔ بیان میں صدر جمہوریہ کے حوالہ سے کہا گیا کہ دہشت گردی، عامی امن و ہم آہنگی کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ یہ برائی کوئی علاقائی اور نظریاتی سرحدوں کی پرواہ نہیں کرتی۔ ہندوستان اور برطانیہ کو دہشت گردی کے انسداد کے لئے زیادہ تعاون کرنے کی ضرورت ہے ۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے یہ ریمارکس برطانوی وزیر اعظم تھریسامے سے ملاقات کے دوران کئے جو اپنے اولین سہ روزہ سرکاری دورہ پر ہند پر آئی ہوئی ہیں۔مکرجی نے کہا کہ ہندوستان، برطانیہ کو ا پنی ترقی اور معیشت میں کلیدی شراکت دار کے طور پر دیکھتا ہے ۔ وہ اپنے قومی پروگرامس جیسے میک ان انڈیا ، اسکل انڈیا اور ڈیجیٹل انڈیا میں مزید برطانوی کمپنیوں کی شراکت داری کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ بیان مین کہا گیا کہ ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان باہمی تجارت سل2015-16میں14بلین امریکی ڈالر رہی۔ اس میں مزید اضافہ کی گنجائش ہے ۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ان کا دورہ ہند تعلقات کا استحکام ظاہر کرتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ برطانیہ، ہندوستان کے ساتھ کلیدی باہمی شرات داری کا خواہاں ہے اور جو دونوں ممالک کے لئے فائدہ مند ہوگی۔

جے این یو کے گم شدہ طالب علم کا پتہ چلانے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ وزیر داخلہ کا تیقن
نئی دہلی
پی ٹی آئی
جے این یو کے لا پتہ طالب علم نجیب احمد کی ماں نے آج وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی، جنہوںنے تیقندیا کہ نوجوان کا پتہ چلانے ، جو15اکتوبر سے لاپتہ ہے، وہ مداخلت کریں گے ۔ فاطمہ نفیس اور دیگر ارکان خاندان نے وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ نجیب کا پتہ چلائیں، جو جواہر لا لنہر ویونیورسٹی کے اسکول آف بایو ٹکنالوجی کا طالب علم تھا ، اور اتر پردیش کے بدایوں کا ساکن تھا۔ وزیر دخلہ نے نجیب کی ماں اور دیگر ارکان خاندان کی بات تحمل سے سنی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق سنگھ نے انہیں بتایا کہ دہلی پولیس نے اس کیس کو حل کرنے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے اور وہ تحقیقات میں پیشرفت کا شخصی طور پر جائزہ لے رہے ہیں ۔ وزیر داخلہ نے اس خاندان کو ہر ممکن مدد کا تیقن دیا، بایوں کے سماج وادی رکن پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے جو نجیب کے خاندان کے ہمراہ تھے کہا کہ وزیر داخلہ نے انہیں تیقن دیا ہے کہ نجیب کا جلد از جلد پتہ چلانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ یادو نے میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ اگر پولیس اس کا پتہ نہیں چلاسکی تو ہم عدالت سے رجوع ہوں گے اور پارلیمنٹ میں یہ مسئلہ اٹھائیں گے ۔ نجیب کی بہن صدف نے تمام الزامات کو مسترد کردیاکہ وہ ذہنی طور پر غیر متوازن تھا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کا پتہ چلانے کے بجائے اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ صدف کا کہنا تھا کہ نجیب نے یونیورسٹی امتحانات میں کامیابی حاصل کی ہے اور وہ تعلیم کی طرف راغب نوجوان تھا۔ انہوں نے سوا ل کیا کہ کیا ایسے باوقار ادارہ میں زیر تعلیم شخص ذہنی طور پر غیر متوازن ہوسکتا ہے۔ صدف نے کہا کہ میں آپ سب سے درخواست کرتی ہوں کہ اسے بدنام نہ کریں۔ اسے نیند کامسئلہ تھا، لیکن ایسا اکثر بچوں کے ساتھ ہوتا ہے ، جو تعلیم کی وجہ سے دباؤ میں رہتے ہیں۔ اسے کوئی اور مسئلہ در پیش نہیں تھا۔ واضح رہے کہ 27سالہ نجیب15اکتوبر کو لاپتہ ہوگیا تھا ۔ اسے ایک روز قبل اس کا کیمپس میں اے بی وی پی کے بعض ارکان کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا ۔ نجیب کی ماں نے دعویٰ کیا ہے کہ جس رات جھگڑا ہوا تھا، انہوں نے نجیب سے بات کی تھی اور انہیں یقین ہے کہ نجیب نے خود کیمپس نہیں چھوڑا ۔ فاطمہ نفیس نے کہا کہ میری اس سے رات گیارہ بجے بات چیت ہوئی تھی ۔ وہ مایوس نہیں تھا اور میرا انتظا ر کررہا تھا ۔ اس نے مجھے فون کیاتھا۔ وہ خود سے کہیں نہیں گیا ، بلکہ اسے اغوا کیا گیا ہے ۔ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے ۔ پولیس نے نجیب کی ماں کو اتوار کو اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب انہوں نے انڈیا گیٹ تک احتجاج مارچ نکالنے کی کوشش کی تھی۔

ہندوستان کی مسعود اظہر معاملہ میں سیکوریٹی کونسل پر تنقید
اقوام متحدہ
پی ٹی آئی
ہندوستان نے سکوریٹی کونسل کی جانب سے مختلف گروپس کے لیڈرس جسے اس نے دہشت گرد قرار دیا ہے ، پر پابندی عائد کرنے میں تاخیر کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہندوستان واضح طور پر جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی اس کی اپیل پر کونسل کی جانب سے کوئی فیصلہ نہ کئے جانے پر یہ حوالہ دیا ہے ۔ ہندوستان، اقوام متحدہ کی جانب سے مسعود اظہر پر پابندی لگانے کا خواہاں ہے ۔ ہندوستان کے مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ سید اکبر ادین نے کہا کہ سیکوریٹی کونسل اپنے طور پر وقت اور سیاست کے تحت موقف ہوگئی ہے۔ انہوںنے کونسل کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے قائدین پر پابندی لگانے میں معذوری پر کونسل کو ہدف ملامت بنایا۔ اکبر الدین نے کہا کہ سیکوریٹی کونسل خود نو ماہ سے اس بات پر غور کررہی ہے کہ آیا تنظیموں کے قائدین یا اس کی جانب سے نامزد کئے گئے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے۔ رواں برس کے اوائل میں چین نے ہندوستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں مسعود اظہر کو دہشت گرد قرار دینے کی اپیل پر تکنیکی طور پر رکاوٹیں حاصل کی تھیں۔ تکنیکی طور پر روکنے کی چھ ماہ کی مدت ستمبر کے اواخر میں ختم ہوچکی ہیں۔ اور چین نے مزید تین ماہ کی توسیع حاصل کی ہے۔ اکبر الدین نے کونسل کی جانب سے کارروائی میں سست روی پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ تعطل کو ختم کیاجائے اور اس عالمی باڈی میں فوری طور پر اصلاحات عمل میں لائے جائیں۔

حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ، کام تیزی سے جاری۔ اواخر2017ء تک تکمیل کی توقع
حیدرآباد
یو این آئی
حیدرآباد میٹرو ریل(ایچ ایم آر) کے منیجنگ ڈائرکٹر کٹہ این وی ایس ریڈی نے آج الزام عائد کیاکہ مفادات حاصلہ دانستہ طور پر پراجکٹ کی پیشرفت کے بارے میں افواہیں پھیلا رہے ہیں۔ انہوںنے کہ کہ کام تیزی سے کیاجارہا ہے اور یہ شیڈول کے مطابق ہے۔ یہاںاخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان اطلاعات میں کوئی سچائی نہیں ہے کہ پراجکٹ میں تاخیر ہورہی ہے اور ایل اینڈ ٹی جو پراجکٹ انجام دے رہی ہے وہ پیچھے ہٹ رہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ چند مفادات حاصلہ دانستہ طور پر پراجکٹ کے کام کے بارے میں افواہیں پھیلارہے ہیں۔ پراجکٹ کی تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایچ ایم آر نے72کلو میٹرس کا احاطہ کیاہے۔ انمیں سے سوائے چھ کلو میٹر پرانے شہر کی پٹی کے 80کلومیٹر کے فاؤنڈیشن کام مکمل ہوچکے ہیں۔ ستونوں کی تنصیب 57کلو میٹر پر کی گئی ہے اور48کلو میٹر وائیا ڈکٹ کو بھی مکمل کرلیا گیا ہے ۔ فاؤنڈیشن کے چھ کلوم یٹرس اور ستون نصب کرنے کے لئے نو کلو میٹر پر کام باقی ہ ۔ انہوں نے بتایا ہے کہ70فیصد پراجکٹ کام مکمل کرلیاگیا ہے ۔ جملہ پراجکٹ کی لاگت چودہ ہزار روپے ہے اور اس کے منجملہ ایل اینڈ ٹی 11.500کروڑ روپے خرچ کررہی ہے ۔ ریڈی نے بتایا کہ بیس کلو میٹر پٹی کے ناگول تامیشوگوڑہ آٹھ کلو میٹراورمیاں پور تاایس آر نگر بارہ کلو میٹر کا کام مکمل ہوچکا ہے ۔ کمشنر میٹرو ریل سفیٹی نے سیفٹی سرٹیکفیٹ بھی جاری کیے ہیں۔ اب وہ میٹرو ریل چلانے تیار ہیں لیکن وہ دو پٹیاں علحدہ سیکشن ہیں۔ چینائی اور بنگلور میٹروریل کے تجربہ سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی پٹیوں سے ٹریفک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس طرح ان دو پٹیوں کو چند مزید پٹیوں کے ساتھ شروع کرنے ایل اینڈ ٹی کا منصوبہ ہے ۔ ایس آر نگر تا بیگم پیٹ اور ایس آر نگر تا خیریت آباد کا کاممارچ2017ء میں اگادمی کے دن یا 2جون کو تلنگانہ کے یوم تاسیس پر ہوگا۔

0 comments:

Post a Comment