Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-11-21 - بوقت: 13:37

نقد رقم کے مشتبہ ڈیپازٹس - انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی سخت ترین وارننگ

Comments : 0
20/نومبر
نقد رقم کے مشتبہ ڈیپازٹس - انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی سخت ترین وارننگ
نئی دہلی
ایجنسیز
عوام کو خبردار کیا گیا ہے کہ جو لوگ ان کی غیر محسوب پرانی کرنسی کسی اور فرد کے بینک اکائونٹ میں جمع کرائیںگے ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ ایسے افرادکے خلاف ابھی ابھی نافذ کردہ بے نامی معاملتوں کے قانون کے تحت الزامات وضع کئے جائیں اور انہیں نہ صرف جرمانہ کیاجائے بلکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور ان کو زیادہ سے زیادہ سات سال کے لئے سزائے قید بامشقت سنائی جائے ۔ اس سے متعلق ایک واقعہ میں سرکاری ذرائع نے بتایا کہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ نے زائد از80سروے کرنے کے بعد غیر انکشاف کردہ آمدنی کے طور پر زائد از200کروڑ روپے کا پتہ چلایا ہے اور منسوخ کردہ کرنسی کے مشتبہ استعما کے کیسس میں تیس تلاشیاں لی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ریاستوں میں8نومبر سے ان کاررائیوں میں50کروڑ روپے ضبط بھی کئے گئے ہیں۔ ذرائع نے کہا کہ انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے آفیسرس نے ملک گیر سطح پر آپریشن شروع کیا ہے تاکہ مشتبہ بینکس اکائونٹس کی نشاندہی کی جاسکے جس میں8نومبر کے بعد بھاری نقد رقومات جمع کرائی گئی ہیں۔ ایسے کیسس میں جہاں شبہ صحیح پایاجائے گا بے نامی جائیدادوں کی معاملتوں کے قانون بابت1988کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی اور اس کی منقولہ اور غیر منقولہ دونوں املا پر اطلاق ہوگا ۔ یہ قانون جاریہ سال یکم نومبر سے نافذ العمل ہوچکا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کے عہدیداروں کو ڈیپازیٹر کے علاوہ اس فرد کی املا ک کو قرق کرلینے اور قانونی کارروائی کرنے کا اختیار حاصل ہے جس نے اپنے اکائونٹ میں رقم کو محسوب کیا ہے ۔ سی بی ڈی ٹی نے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ ایسی تمام معاملتوں پر گہری نظر رکھے جس میں لوگ پانچ سو اور ہزار روپے کے پرانے کرنسی نوٹس کا استعمال کرتے ہوئے اپنے کالے دھن کو چھپانے اور جائز دولت میں بدلنے کے لئے دیگر افراد کے بینک اکائونٹس کا استعما ل کررہے ہیں ۔ ذرائع نے بتایا پہلے ہی اس خصوص میں بعض مثالیں سامنے آئی ہیں اور ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے بے نامی قانو ن کے تحت نوٹسیں جاری کرنے کے لئے تیاریاں کرلی گئی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتداء میں ڈھائی لاکھ کے رقمی ڈیپازٹس کے کیسس میں نوٹسوں کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی لیکن ان کیسس میں جہاں اس سے بھی کم ڈیپازٹس پر بینک یا فینانشیل انٹلی جنس یونٹ کی جانب سے شبہ ہونے کی رپورٹ موصول ہوگی اس کے سلسلہ میں بھی تحقیقات کی جائیں گی ۔ ایسے انتظام پر جہاں کوئی شخص پانچ سو اور ہزار روپے کی پرانی کرنسی کسی اور فرد کے بینک اکائونٹ میں اس مفاہمت کے ساتھ جمع کرواتا ہے کہ اکائونٹ ہولڈراس پیسہ کو نئی کرنسی میں واپس کرے گا اس معاملت کو مذکورہ قانون کے تحت بے نامی معاملت متصور کیاجائے گا۔ ایک اعلیٰ عہدیدار نے وضاحت کی اس فرد کو جو پرانی کرنسی کو بینک اکائونٹ میں ڈیپازٹ کرائے گا فائدہ حاصل کرنے والا مالک سمجھاجائے گا اور اس فرد کو جس کے بینک اکائونٹ میں پرانی کرنسی جمع کرایاجائے گا اس قانون کے تحت بے نامی دار متصور کیاجائے گا۔
demonetisation: Suspect cash deposits: I-T department warns violators

بینکوں میں’’اسلامی ونڈو‘‘ کھولنے آر بی آئی کی تجویز
ہندوستان میں شرعیہ بینکنگ کے آغاز کے امکانات روشن
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ریزروبینک آف انڈیا( آر بی آئی) نے ملک میں غیر سودی بینک کاری نظام یا شرعیہ بینکنگ کو بتدریج متعارف کرانے کے ضمن میں عام بینکوں میں ایک ’’اسلامی ونڈو‘‘ کھولنے کی تجویز رکھی ہے ۔ ذرائع کے مطابق مرکز اور آر بی آئی دونوں ہی طویل عرصہ سے اسلامی بینکنگ کے آغاز کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں، تاکہ سماج کے ان طبقات کی مالیاتی شمولیت کو یقینی بنایاجائے جو مذہبی وجوہات کی بنا پر اس سے دور ہیں۔ آر بی آئی نے وزارت فینانس کو روانہ کردہ ایک مکتوب میں جس کی ایک نقل آر ٹی آئی کے ایک سوا کے جواب میں پی ٹی آئی کو موصول ہوئی ، کہا گیا کہ ہماری سوچی سمجھی رائے یہ ہے کہ ہندوستان میں اسلامک بینکنگ کو بتدریج روشناس کروایاجاسکتا ہے کیونکہ اسلامی مالیاتی نظام اور اس سلسلہ میں متعدد قواعد و نگرانی کے چینلجس پائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسلامی بینکنگ کے شعبہ میں ہندوستانی بینکوں کو کوئی تجربہ نہیں ہے ۔ تجویز میں کہا گیا کہ ابتداء میں عام بینکوں میں چند خدمات شروع کی جاسکتی ہیں جن کی حیثیت تعارفی نوعیت کی ہوگی۔ اس کے لئے حکومت کی جانب سے ضروری اعلامیہ کے ذریعہ عام بینکوں میں اسلامک ونڈو کھولاجاسکتا ہے ۔ نفع و نقصان میں ساجھیداری کی پیچیدگی کو حل کرتے ہوئے ایک مکمل اسلامی بینکنگ نظام عارضی ونڈو کے ذریعہ کچھ عرصہ کے دوران حاصل ہونے والے تجربہ کی بنیاد پر بعد کے مرحلہ میں شروع کرنے پر غور کیاجاسکتا ہے ۔ اسلامی یا شرعیہ بینکنگ ایک ایسا مالیاتی نظام ہے جس میں سود کا عمل دخل نہیں ہوتا کیوںکہ اسلام میں سود کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ آر بی آئی نے وزارت فینانس کا ہمارا یہ ماننا ہے کہ سماج کے ایک طبقہ کی مالیاتی شمولیت کی غرض سے بلا سودی بینکنگ اثاثہ جات اور واجب الادا رقومات دونوں کے تئیں شرعی اصولوں کا مناسب انداز میں نفاذ کیا جانا چاہئے اور بلا سودی بینکنگ کے ذریعہ جو فنڈس حاصل ہوں گے انہیں دیگر عام فنڈس کے ساتھ ملایا نہیں جاسکتا۔ چنانچہ اس طرح کی بینکنگ کے لئے بینکوں میں ایک علیحدہ ونڈو کا ہونا ضروری ہے ۔

جی ایس ٹی پر وزرائے فینانس کا اجلاس غیر مختتم
مرکز اور ریاستوں کے درمیان ٹیکس دہندگان پر دائرہ اختیار کے بارے میں اتفاق رائے نہ ہوسکا۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی کی جانب سے مرکز اور ریاستوں کے درمیان مجوزہ اشیاء اور خدمات محاصل، جی ایس ٹی کے دائرہ کار اور انتظامات سے متعلق طلب کردہ خلاف معمول اجلاس میں تعطل ہنوز ختم نہیں ہوسکا۔ ارون جیٹلی آج بھی مرکز اور ریاستوں کے درمیان تعطل کو توڑنے میں ناکام رہے ۔ جیٹلی کی جانب سے ریاستی وزراء فینانس کا طلب کردہ یہ اجلاس میں نئے ٹیکس قواعد جی ایس ٹی میں اکسائز ڈیوٹی ، سرویس ٹیکس اور ویاٹ جیسے دیگر امور پر مرکز اور ریاستوں کے درمیان دائرہ کار کے تعین پر کسی عمومی موقف کو اپنانے میں ناکام رہا ۔ اس اجلاس میں شریک کئی وزراء نے کہا کہ ریاستیں اپنی پوزیشن کا لحاظ کئے بغیر اپنے اثاثہ جات کو سالانہ 1.5کروڑ کے کاروبار پر کنٹرول کرنے کے استحقاق حوالہ کرنا ہوگا۔ یہ اجلاس ہنوز ناتمام رہا۔ اس اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ تمام حکام اعلیٰ اختیارات کا حامل جی ایس ٹی کونسل کے25نومبر کو منعقد شدنی اجلاس سے قبل پیر کو ملاقات کریں گے ۔ اس کے لئے مباحث پچیس نومبر تک جاری رہیں گی۔ وزیر فینانس نے میڈیا کو بتایا کہ تین گھنٹوں طویل اجلاس کے بعد یہ مسئلہ ہنوز جاری ہے جیسا کہ پچھلے جی ایس ٹی کونسل کے اجلاس میں جاری تھا اگر اسی طرح آئندہ اجلس تک کوئی اختلاف رائے برقرار رہا تو جای ایس ٹی کو یکم اپریل2017سے لاگو کرنے کا منصوبہ لیت و لعل کا شکار ہوجائے گا۔ ارون جیٹلی نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ مجوزہ جی ایس ٹی کو16ستمبر2017ء سے قبل دستوری ترمیمی بل کو مرکز کی ج انب سے اور ریاستوں کی جانب سے توثیق کے بعد اس کا وقت ختم ہونے پہلے مکمل کرلینے کی ضرورت ہے ۔ مغربی بنگال، کیرالا، اتر کھنڈ، اتر پردیش اور ٹاملناڈو جیسی ریاستیں اشیاء اور خدمات پر ایسے چھوٹے ٹیکس دہندگان، جن کا سالانہ کاروبار1.5کروڑسے کم ہو ان کا کنٹرول ریاستوں کو دینے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ اترا کھنڈ کے وزیر فینانس اندرا ہریش نے بتایاکہ ریاستوں نے مطالبہ کیا ہے کہ 1.5کروڑ سالانہ کاروبار کرنے والے ٹیکس، دیندگان پر جامع کنٹرول دیاجائے۔ اس معاملہ میں مرکز اشیاء پر راضی ہونے تیار ہے لیکن سرویس ٹیکس پر رضا مند نہیں ہے ۔ ریاستیں اپنے مالیہ کی حفاظت مفادات کو پیش نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مرکزی حکومت کو ریاستوں کے سی جی ایس ٹی اور آئی جی ایس ٹی بل کو منظو ر کرنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کا درمیانی راستہ سیاسی طور پر کام کرتے ہوئے نکالا جاسکتا ہے ۔ کیرالا کے وزیر فینانس تھامس ایزاک نے بتایاکہ اسے تعطل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ریاست محاصل کے اپنے اصلی حق کا سودا کرنا نہیں چاہتی۔ آج اس مسئلہ کا سیاسی نکالنے کے لئے سرکاری عہدیداروں کے بغیر غیر معمولی اجلاس منعقد کیا گیاتھا۔ ذرائع کے بموجب کئی ریاستیں بشمول مغربی بنگال ، اتر پدیش، کیرالا ، راجستھان، اڈیشہ اور اترا کھنڈ نے کہا کہ دوہرے کنٹرول کے ذریعہ چھوٹے ٹیکس دہندگان کو ہراساں نہیں کیا جانا چاہئے ۔ راجستھان کے وزیر دیہی ترقیات آرشیخاوت نے کہا کہ مرکز اور ریاستیں مختلف معاوضوں اور اتفاقات پر کام کررہی ہیں۔ ایزک نے کہا کہ مرکز جی ایس ٹی کے تحت تمام متعلقہ تخمینوں کو عموداری طور پر تقسیم کرنا چاہتا ہے ۔

بابری مسجد کو مرکز کے کنٹرول میں نہ لینا فاش سیاسی غلطی: چدمبرم
ممبئی
پی ٹی آئی
کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے آج کہا کہ بابری مسجد کو خطرہ لاحق ہونے کے بڑھتے ہوئے ثبوت کے باوجود مرکز کا اس کو اپنے کنٹرول میں نہ لینا نرسمہا رائو حکومت کی ایک فاش سیاسی غلطی تھی۔ سابق وزیر فینانس نے کہا کہ وہ اس واقعہ کو محض فیصلہ کی غلطی یا حادثہ کا نتیجہ قراردیتے ہوئے نظر انداز نہیں کرے گی۔ وزیر اعظم رائو پارٹی میں اعتبار کھوچکے تھے۔ چدمبرم کا کہنا ہے کہ کئی افراد نے نرسمہا رائو کو انتباہ دیا تھا کہ مسجد خطرہ میں ہے ۔ انہوں نے کہا ہماری حکومت نے ایک بیان جاری کیا کہ کسی بھی حالات میں ہم مسجد کو ڈھانے نہیں دیں گے ۔ اگر ضرورت پڑی تو فوج اور نیم فوجی فورسس کو تعینات کیا جائے گا۔ چدمبرم نے ٹاٹا لٹریچر لائیو فیسٹیول میں نرسمہا رائو ، پھلا دیا گیا ہیرو ۔ کے عنوان پر ایک پیانل مباحثہ کے دوران یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ مسجد کوخطرہ اچانک لاحق نہیں ہوتا اور نہ ہی کارسیوکوں کی جانب سے یہ اچانک کیا گیا کوئی اقدام تھا۔ انہوںنے کہا کہ اس کے لئے پتھر رامیشورم سے لائے گئے تھے اور کارسیوکوں نے ٹرینوں کے ذریعہ سفر کیا تھا ۔ مکمل ٹرینیں بک کی گئی تھیں۔ ہر کوئی جانتا تھا کہ لاکھوں افراد جمع ہونے والے ہیں۔ بابری مسجد کو خطرہ ایک حقیقی خطرہ تھا ۔ جو کم از کم1987-88سے برابر رہا ہے ۔ چدمبرم نے کہا کہ رائو کو چاہئے تھا کہ فوج اور نیم فوجی فورسس کو حرکت میں لاتے اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ بابری مسجد کا علاقہ مرکز ی حکومت کے کنٹرول میں تھا لیکن نیم فوجی فورسس کی تعیناتی میں ناکامی اور یہ کہنے میں ناکامی کہ متنازعہ علاقہ مرکزی کنٹرول میں تھا، فاش سیاسی غلطی ہے اور اس کے بعد سے ہی نتائج کے طور پر ملک تباہی سے دوچار ہوتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا ثبوت ہرگزرتے ہوئے دن میں بڑھتا جارہا تھا کہ بابری مسجد کو منہدم کیا جاسکتا ہے۔ ہم سبھی جانتے تھے کہ کارسیوکوں کے خیر مقدم کے لیے پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں۔ کوئی بھی سیاسی فیصلہ کرنے کا حامل شخص یہ کہہ سکتا تھا کہ مسجد کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کو گرانے کے لئے کلہاڑیاں، ہتھوڑیاں کہاں سے لائی گئی تھیں۔

0 comments:

Post a Comment