Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-11-19 - بوقت: 15:47

500 اور 1000 روپے کے کرنسی نوٹ منسوخی - وزیر اعظم کی صدر جمہوریہ سے ملاقات

Comments : 0
18/نومبر
500اور1000روپے کے کرنسی نوٹوں کو گشت سے باہر کردینے کے بعد سے ملک کے بدلتے ہوئے حالات پر تبادلہ خیال
نئی دہلی
یو این آئی
پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹس پر ملک گیر سطح پر غصہ اور تشویش کا سلسلہ جاری رہنے اور اس مسئلہ پر پارلیمنٹ میں کارروائی کو بھی اپوزیشن کی جانب سے چلنے نہ دینے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے آج صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے راشٹر پتی بھون دہلی میں ملاقات کی ۔ یہ ملاقات ایک ایسے دن بھی ہوئی ہے جب سینئر کونسل کپل سبل نے جو ممتاز کانگریس لیڈڑ بھی ہیں سپریم کورٹ سے یہ کہا ہے کہ اگر موجودہ افرا تفری اور بینکوں و اے ٹی ایمس کے سامنے لمبی قطاروں کا سلسلہ جاری رہا، ملک میں سڑکوں پر فرقہ وارانہ ہنگامے ہوسکتے ہیں۔ باخبر ذرائع نے بتایا کہ یہ ملاقات زائد از نصف گھنٹہ تک جاری رہی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وزیر اعظم نے بیان کیاجاتا ہے کہ صدر جمہوریہ کو8نومبر کی نصف شب سے اعلیٰ قدر کے حامل کرنسی نوٹس پر امتناع عائد کردئے جانے کے بعد سے ملک میں بدلتے ہوئے حالات سے واقف کرایا۔ سپریم کورٹ نے آج پانچ سو اور ہزار روپے کے کرنسی نوٹس کو گشت سے باہر کردینے سے متعلق امور کے سلسلہ میں مختلف ہائیکورٹس اور زیریں عدالتوں میں سماعتوں کے خلاف حکم التو جاری کرنے سے بھی انکار کردیا۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس اے آرڈاوے پر مشتمل بنچ نے کہا’’لوگ متاثر ہیں اور انہیں عدالتوں سے رجوع ہونے کا حق حاصل ہے ۔‘‘ اعلی قدر کے حامل کرنسی نوٹس پر امتناع عائد کردینے کے مسئلہ پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں ہنگامہ آرائی اور شوروغل کے مناظر جاری رہے۔ حتی کہ بی جے پی نے یہ مطالبہ کیا کہ کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد پوری دہشت گردانہ حملہ کا نقد رقم کی قلت کی وجہ سے عوام کی مصیبتوں کا تقابل کرنے سے متعلق اپنے ریمارکس کے سلسلہ میں اظہار معذرت کریں۔ کانگریس نے آزاد کے موقف کو صحیح بتایا اور کہا کہ انہیں معافی مانگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ قبل ازیں موصولہ ایک اطلاع میں بتایا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے مختلف ہائیکورٹس اور زیریں عدالتوں میں جاری کرنسی نوٹس پر امتناع سے متعلق حکومت کے احکام کو چیلنج کیا گیا ہے ۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی کے استدلال کے بعد چیف جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر کی زیر قیادت بنچ نے مختلف ہائی کورٹس اور زیریں عدالتوں میں جاری سماعتوں کے خلاف حکم التوا جاری کرنے سے انکار کردیا۔عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ وہ کیس میں درخواست منتقلی کا ادخا ل عمل میں لائیں اور بتایا کہ آئندہ تاریخ سماعت25نومبر مقرر کی جاتی ہے ۔

نوٹوں کی قلت سے ہنگامے بھی ہوسکتے ہیں: سپریم کورٹ
نئی دہلی
پی ٹی آئی
سپریم کورٹ نے بینکوں اور ڈاک گھروں کے باہر طویل قطاروں کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے ریمارک کیا کہ عوا م شدید متاثر ہیں اور ایسی صورتحال میں جب کہ سڑکوں پر ہنگامے ہوسکتے ہیں عوام پر عدالتوں کے دروازے بند نہیں کئے جاسکتے۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس کو کرنسی نوٹوں پر امتناع کے معاملہ کی سماعت سے روکنے کی ہدایت دینے مرکز کی اپیل کو مسترد کردیا اور ساتھ ہی سخت ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال اتنی سنگین ہے کہ ہنگامے ہوسکتے ہیں۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر اور جسٹس اے آر داوے پر مشتمل بنچ نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے حکومت سے کہا کہ ہم نے آپ کو پرانے نوٹوں کی تبدیلی میں سہولت دینے کی ہدایت دی تھی لیکن آپ نے4500روپے کی بجائے تبدیلی کی حد گھٹا کر دو ہزار کردی ہے۔ عدالتوں سے عوام کے رجو ع ہونے پر ان کو درپیش مسئلہ کی سنگینی سے ہم واقف ہورہے ہیں۔ اگر ان پر دروازے بند کردئیے گئے تو ہمیں مسائل کی سنگینی کا اندازہ کیسے ہوگا۔ عوام کو جس نوعیت کے مسائل در پیش ہیں ان کو دیکھا جائے ۔ بنچ نے یہ ریمارک اٹارنی جنرل مکل روہتگی کے اس استدلا ل پر کیا کہ بڑے نوٹوں کو غیر قانونی قرار دینے سے متعلق کے8نومبر کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی جانے والی کسی بھی درخواست کی سماعت صرف سپریم کورٹ میں ہونی چاہئے۔ تاہم بنچ نے کہا کہ لوگ متاثر ہیں، وہ پریشان ہیں، انہیں عدالتوں سے رجوع ہونے کا حق حاصل ہے ۔ بنچ نے یہ بھی سوال کیا کہ دشوراریاں پائی جاتی ہیں کیا اس سے مرکز انکار کرسکتا ہے ۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اب قطاریں چھوٹی ہورہی ہیں اور تجویز رکھی کہ چیف جسٹس آف انڈیا لنچ کے دوران بذات خود باہر جاکر قطاروں کو دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ایک خانگی فریق کی پیروی کرنے والے سینئر وکیل کپل سبل کے دلائل پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عدالت میں سیاست کی کوشش کی جارہی ہے ۔ روہتگی نے کہا میں نے آپ کی پریس کانفرنس بھی دیکھی ہے ، آپ کسی سیاسی جماعت کی پیروی نہیں کررہے ہیں لیکن ایک وکیل ہیں، آپ عدالت عظمیٰ کو سیاسی پلیٹ فارم میں تبدیل کررہے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے سوا ل کیا کہ آیا نوٹوں کی طباعت کا کوئی مسئلہ ہے ۔ اٹارنی جنرل نے وضاحت کی کہ طباعت کے بعد کرنسی نوٹوں کو ملک بھر کے ہزاروں مراکز اور اے ٹی ایمس پر پہنچانا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ رقم کی کوئی قلت نہیں ہے ۔ عدالت نے معاملہ کی سماعت25نومبر تک ملتوی کردی۔ یاد رہے کہ مرکز نے نقدی کی قلت پر قابو پانے کے اقدام کے طور پر پرانے نوٹ تبدیل کرنے کی حد میں کمی کرتے ہوئے دو ہزار کردیا۔ اس کے علاوہ بینکوں سے رقم نکالنے کی بھی محدود اجازت ہے ۔ بیشتر عوام کی شکایت ہے کہ بینکوں سے انہیں دو ہزار روپے کے نوٹ دئیے جارہے ہیں جو کم مالیتی نوٹوں کی قلت کی وجہ سے بے فیض ہوگئے ہیں۔

نوٹ بندی پارلیمنٹ میں دوسرے دن بھی ہنگامہ
نئی دہلی
یو این آئی
نوٹ بندی کے مسئلہ پر اپوزیشن جماعتوں اور بر سر اقتدار بی جے پی کے مابین رسہ کشی آج بھی جاری رہی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسلسل دوسرے دن بھی کوئی کارروائی نہ ہوسکی۔ لوک سبھا اجلاس اس لئے ملتوی ہوگیا کہ اپوزیشن اپنے اس مطالبہ پر اٹل تھی کہ دیگر معاملات کو پرے رکھ کر نوٹ بندی پر بحث کی جائے ۔ اس پر اجلاس دو مرتبہ ملتوی ہوا ۔ ایوان بالا راجیہ سبھا میں ماحول مزید گرم تھا جہاں بر سر اقتدار جماعت کے ارکان تک اپنی نشستوں سے اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ وہ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد سے اپنے متنازعہ ریمارک کے لئے معافی مانگنے کا مطالبہ کررہے تھے ۔ غلام نبی آزاد نے نوٹ بندی سے متعلق اموات کا تقابل اری دہشت گرد حملہ کی ہلاکتوں سے کیاتھا۔ اجلاس بار بار ملتوی ہوتارہا۔ اپوزیشن ارکان، ایوان کے وسط پہنچتے رہے اور جواب میں بر اقتدار پارٹی کے ارکان نعرہ بازی کرتے رہے۔ آج کا دن چونکہ خانگی ارکان کے امور سے متعلق تھا، نائب صدر نشین پی جے کورین نے ان بلس کی پیشکشی پر زور دیا۔ پی ٹی آئی کے بموجب کانگریس زیر قیادت اپوزیشن جماعتوں کی ہنگامہ آرائی کے باعث پارلیمنٹ کی کارروائی آج دوسرے دن بھی درہم برہم رہی۔ اپوزیشن جماعتیں، لوک سبھا میں ایسے قاعدہ کے تحت بحث کا مطالبہ کررہی تھیں جس کی رو سے ووٹنگ ہوتی ہے ۔ وہ راجیہ سبھا میں وزیر اعظم کی موجودگی کا مطالبہ کررہی تھیں۔ ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان بالا یا ایوان زیریں کسی بھی ایوان میں کوئی کام نہیں ہوسکا۔ لوک سبھا میں کانگریس اور دیگر ا پوزیشن جماعتوں نے زور دیا کہ نوٹ بندی پر ایسے قاعدہ کے تحت بحث ہو جو جس میں ووٹنگ لازمی ہوتی ہے ۔ مختلف اپوزیشن قائدین نے تحریک التواکے تحت بحث کے لئے نوٹسیں دی تھیں لیکن اسپیکر سمہترا مہاجن نے ان سبھی کو مسترد کردیا۔ اجلاس کی کارروائی جیسے ہی شروع ہوئی ہنگامہ برپا ہوگیا۔ کانگریس قائد ملکار جن کھرگے نے مطالبہ کیا کہ ہزار اور پانچ سو کے نوٹ ہٹانے کے مسئلہ پر تحریک التوا کے تحت بحث ہو اور اس قاعدہ کے تحت بحث نہ ہو جو حکومت تجویز کررہی ہے ۔ وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے کہا کہ حکومت مسئلہ پر بحث کے لئے تیار ہے اور تحریک التوا پر زور دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ ہنگامہ جاری رہنے پر اجلاس دوپہر تک ملتوی ہوگیا ۔ وقفہ صفر کے لئے جب اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو اپوزیشن نے پھر تحریک التوا پیش کرنے پر زور دیا لیکن اسپیکر نے تمام نوٹسیں مسترد کردیں۔ کھڑگے اور ٹی ایم سی قائد سدیپ اپادھیائے دونوںنے زور دیا کہ بحث تحریک التوا کے ذڑیعہ ہی ہو ۔ وزیر پارلیمانی امور نے پھر ایک بار اپوزیشن سے گزارش کی کہ وہ بحث قاعدہ193کے تحٹ ہو جس میں ووٹنگ نہیں ہوتی۔ اننت کمار نے کہا کہ ا پوزیشن کو بحث سے راہ فرار نہیں اختیار کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کس قاعدہ کے تحت بحث ہو یہ طے کرنا کرسی صدارت کا کام ہے۔ بی جے پی کی میناکشی لیکھی اور گجیندر سنگھ چوہان نے قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد کے کل کے ریمارکس کا مسئلہ اٹھایا جس میں انہوں نے نوٹ بندی بحرا ن کے دوران اموات کا تقابل اری دہشت گرد حملہ ہلاکتوں سے کیاتھا۔ یہ ریمارکس کل رات ہی خارج کردئیے گئے تھے۔ دونوں بی جے پی ارکان نے غلام نبی آزاد کے بیان پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف قرار داد منظور ہو اور ان سے تحریری معذرت کے لئے کہاجائے ۔ اپوزیشن پردھان منتری سدن میں آؤ، اور وجئے مالیا کہاں گیا کے نعرے لگاتی رہی ۔ ایوان دن بھر کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ راجیہ سبھا میں جہاں چہار شنبہ کو چھ گھنٹے بحث ہوئی تھی، آج بحث شروع نہیں ہوسکی کیونکہ کانگریس اور بعض دیگر اپوزیشن پارٹیاں، وزیر اعظم کی موجودگی کا مطالبہ کررہی تھیں۔ ایوان میں کانگریس اور بی جے پی ارکان میں جھڑپ ہوئی کیونکہ بر سر اقتدار جماعت نے غلام نبی آزاد کے متنازعہ تبصرہ کا مسئلہ اٹھایا تھا۔ نعرے اور جوابی نعروں کا تبادلہ جاری رہنے پر اجلاس کئی بار ملتوی ہوا اور آخر کار دن بھر کے لئے ملتوی ہوگیا۔ اے آئی اے ڈی ایم کے ارکان بھی ایوان کے وسط میں پہنچ گئے تھے۔ وہ کاویری آبی مسئلہ پر نعرہ بازی کررہے تھے ۔ کانگریس قائد آنند شرما نے الزام عائد کیا کہ حکومت، سدن نہیں چلانا چاہتی۔ وہ ا پنی پالیسیوں کے ذڑیعہ غریبوں کو برباد کررہی ہے ۔

سری نگر کی تاریخی جامع مسجد میں19ویں جمعہ کو بھی نماز نہ ہوسکی۔
وادی کی صورتحا میں کوئی بہتری نہیں
سری نگر
یو این آئی
سری نگر کے پرانے شہر میں سیکوریٹی فورسس نے نماز جمعہ کے بعد احتجاجیوں کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کے شل داغے ۔ یہاں9جولائی کے بعد سے منجمد عام زندگی میں ہنوز کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ نماز جمعہ کے بعد صفا کدل اور دیگر علاقوں سے لوگ احتجاجی نعرے لگاتے ہوئے باہر نکل آئے جس کی وجہ سے وہاں تعینات سیکوریٹٰ فورسس کے جوانوں نے انہیں آگے بڑھنے سے روکا جب احتجاجیوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کیا تو انہوں نے آنسو گیس شل داغ کر منتشر ہونے پر مجبور کردیا۔ دریں اثناء اگرچہ سری نگر کے پائین شہر میں جمعہ کو کرفیو یا پابندیاں نافذ نہیں رہیں، لیکن باوجود اس کے تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں مسلسل19ویں جمعہ کو بھی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اس تاریخی جامع مسجد کے باب الداخلے 9جولائی سے مقفل رکھے گئے ہیں۔ اس تاریخی مسجد کے ارد گر رہائش پذیر لوگوں نے بتایا کہ مسجد کے باہر جمعہ کو سیکوریٹی فورسس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کی گئی جنہوں نے مصلیوں کو مسجد کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ خیال رہے کہ انتظامیہ نے کشمیری عوام کی اس سب سے بڑی عباد ت گاہ میں8جولائی کو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے مصلیوں کے داخلے پر قد غن عائد کررکھی ہے ۔ میر واعظ عمر فاروق جو اس تاریخی جامع مسجد میں جمعہ کا خطبہ پڑھتے ہیں کہ خانی نظر بندی میں مزید سختی برتتے ہوئے انہیں آج ایک بار پر جامع مسجد جانے سے روکا گیا۔ پائین شہر کے نوہٹہ میں واقع اس تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں ہر جمعہ کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ وادی کے مختلف علاقوں سے آکر نمازجمعہ ادا کرتے ہیں۔ مورخین کے مطابق1842ء کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ جب کسی حکومت نے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کو مسلسل چار ماہ تک مقفل رکھا۔19ویں صدی میں اس تاریخی مسجد کو سکھ حکمرانوں نے1819ء سے1842ء تک مسلسل23برسوں تک بند رکھا تھا ۔ تاہم انتظامیہ نے جنوبی کشمیر کی جامع مسجد شوپیان میں آج18ہفتوں کے بعد نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی۔ دریں اثناء وادی میں ہڑتا ل کے باعث معمولات زندگی جمعہ کو مسلسل 133ویں دن بھی متاثر رہیں۔ جمعہ کو احتجاجی مظاہروں کے اندیشے کے پیش نظر وادی کی سڑکوں پر بہت ہی کم تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔ اس کے علاوہ امن و امان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے سیکوریٹی فورسس کی اضافی نفری تعینات رہی ۔ پولیس نے بتایا کہ وادی کے کسی بھی علاقہ میں کرفیو یا پابندیاں نافذ نہیں رکھی گئی ہیں ، تاہم امن و امان کی صورتحا کو برقرار رکھنے کے لیے سیکوریٹی فورسس اور ریاستی پولیس کے اہلکاروں کی تعیناتی جاری رکھی جائے گی۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان اور جے کے ایل ایف کے چیئر مین نے اپنے تازہ احتجاجی کلینڈر میں وادی میں جاری ہڑتا ل میں24نومبر تک توسیع کا اعلان کیا ہے ۔ تاہم گزشتہ132دنوں میں پہلی مرتبہ انہوں نے ہڑتال میں ہفتہ سے دو روزہ مکمل ڈھیل کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ سری نگر کے پائین شہر میں انتظامیہ کی طرف سے اعلانیہ طور پر کوئی پابندیاں نافذ نہیں کی گئی تھیں، تاہم سیکوریٹی فورسس کی بھاری نفری کی تعیناتی کے علاوہ پائین شہر کی کئی ایک سڑکوں کے ایک حصہ کو خار دار تاروں سے سیل کردیاگیا تھا۔ پائین شہر میں جمعہ کو مسلسل133ویں دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جب کہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ معطل رہا ۔ تاہم اکا دکا نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آئیں۔

0 comments:

Post a Comment