Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-06 - بوقت: 19:56

کشمیر میں کھیتوں اور جانوروں پر بھی مظالم - عمر عبداللہ

Comments : 0
سری نگر
یو این آئی
جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے وادی کشمیر میں عوام کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے جاری مبینہ کارروائی اور مظالم پر ریاست کی پی ڈی پی اور بی جے پی مخلوط حکومت کو سخت پھٹکار لگاتے ہوئے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ زمینی حقائق تسلیم کر کے تمام فریقین کے ساتھ بات چیت کا عمل شروع کرے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دلی نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کشمیر میں حالات بات چیت کے ذریعے ٹھیک ہوسکتے ہیں لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں کیاجارہا ہے۔ عمر عبداللہ نے یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ نئی دہلی کی طرف سے لوگوں کو تھکا کر رواں ایجی ٹیشن کو ختم کرنے کی پالیسی انتہائی خطرناک ہے جب لوگوں کی تھکاوٹ دوبارہ دور ہوگی تو حالات پھر سے وہی رخ کرنے کا قوی امکان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نئی دہلی وادی میں جاری ایجی ٹیشن کو طاقت کے بل بوتے پر ٹھیک کرنے کی غلطیاں دہراتی رہے گی تب تک یہاں دیر پا امن کی کوئی ضمانت نہیں ۔ این سی کارگزار صدر نے کہا کہ نئی دہلی کو چاہئے کہ وہ مسئلہ کشمیر کی حقیقت کو تسلیم کرکے تمام فریقین کے ساتھ مذاکراتی عمل شروع کر کے دیر پا امن کی بنیاد ڈالے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وادی میں جاری بے چینی کو ختم کرنے کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے وہ قابل تشویش اور قابل افسوس ہے ۔ عمر عبداللہ نے کہا رات کی تاریکی میں چھاپہ مار کارروائیاں اور آبادیوں میں گھس کر مکانوں کی توڑ پھوڑ اور مکینوں کی مار پیٹ اب روز کا معمول بن کر رہ گیا ہے ۔ برقی ٹرانسفارمروں پر گولیاں چلا کر انہیں ناکارہ بنایاجارہا ہے ، لوگ اب برقی ٹرانسفارمروں کے ارد گر ریت کے تھیلے نصب کرکے ان ٹرانسفارمروں کی حفاظت کرتے ہیں۔ دھان کی فصل کو آگ لگانے کی کارروائی کو ظلم و جبر کی حد قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ کاشت کاروں کی سال بھر کی محنت ان کے آنکھوں کے سامنے نذر آتش کی جارہی ہے، اس بد ترین ظلم کی مثال تاریخ میں کہیں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں تک کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے ، جانوروں کے لئے مخصوص گھاس کو بھی آگ لگا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کیاجارہا ہے ۔ میوہ باغات میں موجود پیڑوں کو نقصان پہنچانے کے علاوہ پکے ہوئے میوہ کو بھی ضائع کیاجارہا ہے ۔ یہ میوہ درخت مالکان باغات نے اپنا خون پسینہ ایک کر کے تیار کئے ہوتے ہیں ان کا سال بھر کا اوزکاانہی میوہ درختوں سے آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہک جس طریقے سے میوہ باغات اور میوہ کو نقصان پہنچایاجارہا ہے وہ براہ راست ان کی روزی روٹی پر شب خون مارنے کے مترادف ہے ۔ کارگزار صدر نے کہا کہ ہزاروں کو گرفتار کرنا اور سینکڑوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ کا اطلاق عمل کراگر ایسا سمجھاجارہا ہے کہ اس سے حالات ٹھیک ہوں گے تو یہ امید وقتی ہوسکتی ہے ۔

--

0 comments:

Post a Comment