Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-22 - بوقت: 23:15

یکساں سیول کوڈ کے خلاف سبھی فرقے متحد ہوں - مولانا نورالرحمن برکاتی

Comments : 0
کولکتہ
پی ٹی آئی
ترنمول کانگریس کے دو ارکارن پارلیمنٹ کے ساتھ شاہی امام ٹیپو سلطان مسجد سید محمد نورالرحمن برکاتی نے آج یہاں الزام عائد کیا کہ نریندر مودی حکومت، یکساں سیول کوڈ مسلط کرتے ہوئے قوم کو فرقہ وارانہ خطوط پر بانٹنے کی کوشش کررہی ہے۔ امام نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت مسلمانوں پر یکساں سیول کوڈ تھوپنے کی کوشش کررہی ہے ۔ انہوں نے تمام مسلمانوں اور ہندوؤں، عیسائیوں ، دلتوں اور دیگر فرقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کی مخالفت کے لئے متحد ہوجائیں ، مولانا برکاتی مصروف دھرم تلہ علاقہ میں ٹیپو سلطان مسجد کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کررہے تھے جس میں ٹی ایم سی کے دو ارکان پارلیمنٹ سلطان احمد اور ادریس علی موجود تھے۔ سلطان احمد نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ میں یکساں سیول کوڈ کی مخالفت کرنے اس پروگرام میں شرکت کے لئے آیا ہوں۔ ملک میں یکسان سیول کوڈ نہیں ہوسکتا۔اس سے ملک کا اتحاد درہم برہم ہوگا۔ ملک کے مسلمانوں کو نشانہ بنایاجارہا ہے اور مرکز ، مسلمانوں پر یکساں سیول کوڈ مسلط کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء ہمیں ورثہ میں ملا ہے اور ہم اس میں مداخلت کی اجازت نہیں دیں گے ۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا ان کی پارٹی کی رائے ہے، سلطان احمد نے کہا کہ یہ ترنمول کانگریس کا دفتر نہیں ہے ۔ آپ اس بابت قومی ترجمان سے پوچھیں ۔ ایک اور ٹی ایم سی رکن پارلیمنٹ ادریس علی نے کہا کہ کسی کو بھی قرآن میں ترمیم کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ہم مرکز کی کسی بھی ایسی کوشش کی مخالفت کریں گے ۔ شاہی امام نے مرکز کے اقدام کے خلاف ملک گیر راستہ روکو احتجاج کابھی مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پارک سرکس میدان میں ایک ریالی بھی منعقد ہوگی ۔ ہندوستان کی دستوری تاریخ میں مرکز نے پہلی مرتبہ 7اکتوبر کو سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ، نکاح حلالہ اور مسلمانوں میں چار شادیوں کے رواج کی مخالفت کی تھی۔ اس نے مساوات جنس اور سیکولر ازم کی بنیاد پر نظر ثانی کی تائید کی تھی ۔ وزارت قانون و انصاف نے اپنے حلف نامہ میں مساوات، جنس، سیکولرازم ، بین الاقوامی کنونشن ، مذہبی رسوم و رواج اور مختلف اسلامی ممالک میں رائج قانون کا حوالہ دیا تھا۔

--

0 comments:

Post a Comment