Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-12 - بوقت: 22:51

جموں و کشمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کی درخشاں مثال

Comments : 0
جموں
پی ٹی آئی
ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست میں ہندوؤں کے غلبہ والے صوبہ جموں میں کسی ایک مسلم خاندان کے بغیر وجئے دشمی کی تقاریب ادھوری رہتی ہیں۔ دسہرہ کی شام راون، کمبھ کرن اور میگھ ناتھ جیسے شیطانوں کے پتلے نذر آتش کیے جاتے ہیں اور اتر پردیش کا ایک مسلم خاندان انہیں نذر آتش کرنے کا فائدہ اٹھاتا ہے ۔ گزشتہ 35سالوں سے اتر پردیش کے ضلع میرٹھ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلم خاندان وجئے دشمی کے موقع پر شیطانوں کے پتلے تیار کرتا آرہا ہے ۔40 فنکاروں کی ٹیم کے سربراہ محمد غیاث الدین نے بتایا کہ ہمارے تیار کردہ پتلے جب جلائے جاتے ہیں ، تو ہمیں اپنی محنت کے کارآمد ہونے کا احساس ہوتا ہے ، کیوں کہ ہم وجئے دشمی کے موقع پر جلانے کے لئے ہی یہ پتلے بناتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم شاید ایسے واحد لوگ ہیں جنہیں وجئے دشمی کے موقع پر اپنی تیا ر کردہ اشیاء کو جلتے ہوئے دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وجئے دشمی کا تہوار جو برائی پر نیکی کی فتح کی علامت ہے، ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارہ کی مثال بھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تیار کردہ پتلے جموں کے مختلف دسہرہ میدانوں میں استعمال کئے جاتے ہیں ۔ راجوری، پونچ اور ڈوڈا اور کشٹوار جیسے دور دراز علاقوں کے لوگ بھی ان پتلوں کی تیاری کا حکم دیتے ہیں ۔ غیاث الدین نے جو اپ نے سارے خاندان اور چالیس دستکاروں کے ساتھ ایک مہینہ پہلے جموں پہنچ جاتے ہیں ، تاکہ یہ پتلے تیار کرسکیں ، بتایا کہ جموں کے عوام کی جانب سے ان پر نچھاور کی جانے والی محبت سے وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے ہیں۔ جموں ریجن کی مختلف دسہرہ کمیٹیاں غیاث الدین اور ان کی ٹیم کی آمد کی منظر رہتی ہیں ، تاکہ وہ پتلوں کی تیاری کا آرڈر دے سکیں۔ ڈگیانہ دسہرہ کمیٹی کے صدر نشین وکرم مہرا نے بتایا کہ ہم گزشتہ پندرہ سال سے اپنے محلہ مین دسہرہ مناتے آرہے ہیں اور اس مقصد کے لئے غیاث الدین اور ان کی ٹیم بھی پتلے تیار کرتی ہے ۔ ہمیں ان کا کام بے حد پسند ہے۔ غیاث الدین کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ جموں آتے ہیں تو تمام خام مال اپنے آبائی مقام سے ساتھ لاتے ہیں ، کیوں کہ یہ وہاں بہ آسانی دستیاب ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈھانچوں کے لئے بمبو کی لکڑیوں سے لے کر کپڑا ، کاغذ اور رنگ ہم اپنے آبائی تاؤن سے لاتے ہیں ، کیوں کہ یہ وہاں بہ آسانی دستیاب ہوتا ہے اور ہمیں یہاں اس کی تلاش میں وقت ضائع کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے آبائی تاؤن میں کئی مسلم خاندانوں نے دسہرہ کے لئے شیطان کے پتلے تیار کرنے کا پیشہ اختیار کرلیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے لڑکے کو بھی یہ فن سکھایا ہے اور میرے بعد وہ اس کام میں لگ جائے گا ۔ روپے پیسے سے ہٹ کر یہ ملک کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں ہمارا حصہ ہے ۔
سری نگر
یو این آئی
سیکوریٹی فورسس نے پرانے شہر میں شیعہ ماتمی جلوس کو منتشر کرنے اشک آور گیس شل پھینکا اور لاٹھی چارج بھی کیا۔ تعزیہ جلوسوں کا تدارک کرنے90کے دہے سے سیکوریٹی وجوہات پر سری نگر میں امتناع عائد ہے ۔، تحدیدات کے باوجود سینکڑوں شیعہ شمس واڑہ تاحبہ کدل امام باڑہ جانے والے جلوس میں شرکت کے لئے جمع ہوئے تھے ، تاہم جب ماتمی جلوس شروع ہوا۔ سیکوریٹی فورسس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔

--

0 comments:

Post a Comment