Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-22 - بوقت: 23:25

کاویری تنازعہ - ٹامل اپوزیشن کی صدر جمہوریہ سے ملاقات

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ٹاملناڈدو کی ا پوزیشن جماعتوں کے ایک وفد نے آج صدر جمہوری پرنب مکرجی سے ملاقات کی اور کاویری مینجمنٹ بورڈکے قیام کے لئے ان سے مداخلت کی اپیل کی ۔ ریاست کرناٹک بورڈ کے قیام کے قیام کی مخالفت کررہی ہے ۔ ٹامل اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے بعد ازاں حکومت کرناٹک کے اڑیل رویہ پر تنقید کی اور کہا کہ وہ کاویری کا پانی چھوڑنے سپریم کورٹ کے احکام کی تعمیل نہیں کررہی ہے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست کرناٹک، ٹاملناڈو کو چاول کے کٹورے سے بھکاری کے کشکول میں بدلنے کی کوشش کررہی ہے۔ پیپلز ویلفیر فرنٹ کے قائدین نے قومی سکریٹری سی پی آئی ورکن راجیہ سبھا ڈی راجہ کی قیادت میں صدر جمہوریہ کو یادداشت پیش کی۔ راشٹر پتی بھون کے احاطہ میں ڈی راجہ نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ دریائے کاویری کسی ایک ریاست کی ملکیت نہیں ہے ۔ کرناٹک اور ٹاملناڈو اس سے سیراب ہونے والی ریاستیں ہیں اور دوں کا دریا پر مساوی حق ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صدر جمہوریہ سے گزارش کی کہ وہ ٹاملناڈو کے مفادات کا تحفظ کریں اور کاویری مینجمنٹ بورڈ کے قیام میں تیزی لائیں۔ ایم ڈی ایم کے قائد وائیکو نے جو وفد میں شامل تھے ، کہا کہ پانی چھوڑنے سے مبینہ انکار کے نتیجہ میں ٹاملناڈو کو جاریہ سال 8ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کرناٹک ہمیں وہ پانی نہیں دے رہی ہے جو ہمارا جائزحق ہے ۔ اس کے نتیجہ میں ریاست کو جاریہ سال8ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ ہمیں اندیشہ ہے کہ ہمارا چاول کا کٹورا بھکاری کا کشکول نہ بن جائے ۔ وائیکو نے مزید کہا کہ کاویری آبی تنازعہ ٹریبونل کا قطعی فیصلہ2007ء میں آیا تھا اور ریاست کرناٹک، سپریم کورٹ کے احکام کے باوجود اڑیل رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ پی ڈبلیو ایف قائدین نے کرناٹک کے دو ڈیمس کی تعمیر کے منصوبہ پر بھی تنقید کی ۔ انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ اس کے نتیجہ میں ٹاملناڈو کے سولہ اضلاع بشمول دارالحکومت چینائی میں خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگی۔ وائیکو نے کہا کہ ہم نے صدر جمہوریہ سے کہا کہ وہ ہماری تشویش کومد نظر رکھیں جس پر صدر جمہوریہ نے ضروری اقدامات کا تیقن دیا ۔راجہ اور وائیکو کے علاوہ وفد میں دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین جیسے ریاستی سکریٹری پی آئی ایم جی رام کرشنن، سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری آرمتراسن، صدر وی سی کے ٹی ترومالن اور سی پی آئی قائد ٹی کے رنگا راجن شامل تھے۔

--

0 comments:

Post a Comment