Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-09 - بوقت: 21:10

ہند و پاک کشیدگی کم کرنے میں امریکہ کا رول مثبت

Comments : 0
واشنگٹن
پی ٹی آئی
پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے سفیروں نے احساس ظاہر کیا کہ ہند۔ پاک کشیدگی کم کرنے اور ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی ترغیب دینے اور اس پر اکسانے میں امریکہ مثبت رول ادا کرہا ہے ۔ رکن سنیٹ اور کشمیر پر خصوصی سفیر مشاہد حسین سید نے پانچ روزہ دورہ امریکہ کے اختتام پر کہا کہ ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ کشیدگی کم کرنے اور ہندوستان کو مائل بہ مذاکرات کرنے میں امریکہ کا رول مثبت ہے۔ ایک اور سفیر برائے کشمیر شزرا منصب کے ہمراہ انہوں نے کہا کہ اس کا اظہار وزیر اعظم نریندر مودی کے مشیر قومی سلامتی اجیت دولول کے فون کال اور جوابی فون کال سے ہوتا ہے ۔ ان فون کالس کا نصب العین دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ نریندر مودی ، ہندوستانی دہلی انتظامیہ کے عام ارکان سے مختلف ہیں جہاں عمر رسیدہ، سخت مزاج اور سرد جنگ ، ذہنیت کے حامل افراد سے واسطہ پڑتا ہے جو مسکرانے کے عادی نہیں۔ میرے خیال سے سارک چوٹی اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوگا اور نریندر مودی اس میں شرکت بھی کریں گے ۔ لائق دیدنی منظر وہ ہوگا جب نریندر مودی اور نواز شریف بغلگیر ہوں گے ۔ مشاہد حسین نے مزید کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ پیشرفت کا یہی بہترین طریقہ ہے ۔ مودی، دنیا کو حیرت زدہ کرنے کے فن سے آگاہ ہیں اور وہ اس کے اہل بھی ہیں۔ ان کی شخصیت میں لوچ اور لچک اتنی ہے کہ وہ کسی بھی وقت یوٹرن لے سکتے ہیں ۔ لہذا ہم بھی اپنے تعلقات میں، آئندہ چند ماہ کے دوران ان سے یوٹرن کی توقع رکھتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء کے تعلق سے ان کی جانب سے خوشگوار اور حیران کن اقدامات یقینی ہیں کیونکہ مودی اور شریف کے درمیان شریف اور مودی کے درمیان تعلقات خوشگوار ہیں۔ میرے اندازہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی ا پنے عوام کی ذہن سازی بھی اسی جہت سے کررہے ہیں تاکہ آسانی سے یوٹرن( حکمت عملی میں پوری تبدیلی) لیاجاسکے ۔ مودی اس بات سے بھی آگاہ ہیں کہ اس کے ساتھ ہندوستان کے2بنیادی مفادات وابستہ ہیں جن میں پاکستان کے ساتھ تعلقات اور مسئلہ کشمیر ہندوستان کے ارتقائی سفر کی راہ میں زبردست رکاوٹیں ہیں۔ ہندوستان مسلسل ارتقا اور نیو کلیر سپلائرس گروپ کے علاوہ اقوام متحدہ کی سیکوریٹی کونسل کی رکنیت کا خواہاں ہے ۔ پاکستان کے ساتھ اچھے اور خوشگوار تعلقات کے بغیر دونوں میں اداروں میں بلند مرتبہ حاصل کرنا اس کے بس کی بات نہیں۔ مشاہد حسین نے یہ وارننگ بھی دیا کہ پاکستان کے ساتھ جنگ کے نتیجہ میں ہندوستان دس سال پیچھے ہوجائے گا اور مودی اسے ہرگزپسند نہیں کرسکتے ۔ وہ اس کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ کشیدگی میں اضافہ تباہ کن ثابت ہوگا ۔ ہندوستان کو اس سے نہ صرف نقصان پہنچے گا بلکہ کشیدگی میں اضافہ اسے کمزور بھی کردے گا ۔ ہم ہندوستان کی جنگ سے متعلق بیان بازی کا جواب اسی انداز میں دینا نہیں چاہتے ۔ ہم اس لمحہ میں ہندوستان کے ساتھ بات چیت کے حق میں نہیں، میرے خیال سے ہم نے امریکہ کو جھنجھوڑ دیا ہے ۔ میرے خیال سے کشمیر میں وسیع تر تحریک ، مقبول عام اور داخلی تحریک کا نصب العین بھی یہی تھا ۔ ہندوستان دباؤ بنانے اور ماحول گرم کرنے کا خواہشمند ہے ۔ جو جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی اور استحکام میں مانع ہے کیونکہ یہ ایک نیو کلیر فلیش پوائنٹ ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جس کے سبب نیو کلیر جنگ چھڑنے کا اندیشہ ہے ۔ ہم ایسا نہیں چاہتے ۔ خط سرخ پار ک رنے سے گریم ضروری ہے ۔ تیسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ امن خانوں میں بانٹا نہیں جاسکتا ۔ اس کی تقسیم ناممکن ہے ۔ کشمیر ہو یا کابل، امن ایک اکائی ہے ۔ میرے خیال سے ہمارا پیام صاف اور واضح ہے اور دو ر دور تک سنائی دے گا۔ انہیں اس بات کا اعتراف ہے کہ اندس آبی معاہدہ کے علاوہ کئی دیگر مسائل سے متعلق ہمارے مطالبات جائز ہیں یا پھر بعض غیر ذمہ دارانہ بیانات جو بلوچستان کے حوالہ سے منظر عام پر آئے ۔ کشمیر پر پاکستان کے دو خصوصی سفیروں نے کل ہی صدر بارک اوباما کے خصوصی معاون پیٹر لیوائے سے ملاقات کی تھی ، تاہم وائٹ ہاؤز نے ملاقات کے دوران ہونے والی بات چیت کے افشاء سے انکار کردیا۔

'US playing key role in reducing tension between India, Pakistan'

0 comments:

Post a Comment