Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-05 - بوقت: 22:34

تلنگانہ میں 4 اضلاع کی تشکیل کا مطالبہ - جائزہ لینے کمیٹی قائم

Comments : 0
حیدرآباد
منصف نیوز بیورو، آئی اے این ایس
چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے نمگل کو ریاست میں مزید چار اضلاع کی تشکیل کے مطالبہ کا جائزہ لینے کے لئے ایک سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے ۔ اس کمیٹی کے سربراہ تلنگانہ راشٹراسمیتی(ٹی آر ایس) کے جنرل سکریٹری و رکن راجیہ سبھا ڈاکٹر کے کیشورراؤ ہوں گے۔ کمیٹی کو7اکتوبر تک اپنی رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ چیف منسٹر ٖس سے جاری ایک صحافتی اعلامیہ میں یہ بات بتائی گئی ۔ اس اعلیٰ سطحی کمیٹی میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ، وزراء جگدیش ریڈی ، پی سرینواس ریڈی اور جوگورامناشامل رہیں گے ۔ یہ وزراء کمیٹی کے ارکان رہیں گے ۔ یہ کمیٹی ریاست میں چار نئے اضلاع کے قیام کے مطالبہ سے متعلق عوامی نمائندوں اور شہریوں کے موقف کی سماعت کرے گی ۔حکوم تلنگانہ نے گزشتہ ماہ17اضلاع کی تشکیل سے متعلق مسودہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے عوام سے تجاویز طلب کی تھیں۔ جنگاؤں(ورنگل) سرسلہ(کریم نگر) گدوال(محبوب نگر) اور آصف آباد( ضلع عادل آباد) کو ضلع بنانے کا شد ت سے مطالبہ کیاجارہا ہے ۔ ان ٹاؤنس کو ضلع بنانے کا مطابہ کرتے ہوئے عوامی قائدین اور شہری گزشتہ چند ہفتوں سے احتجاج منظم کرتے آرہے ہیں۔ حکومت تلنگانہ اگر مزیدچار اضلاع کے قیام پر فیصلہ کرتی ہے تو ملک کی اس نئی ریاست تلنگانہ میں اضلاع کی تعداد31ہوجائے گی ۔ نئے اضلاع کی تشکیل سے متعلق رواں ہفتہ قطعی اعلامیہ جاری کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے ۔ نئے اضلاع دسہرہ سے کارکرد ہوجائیں گے ۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا کہنا ہے کہ عوام کی سہولت اور شفاف حکمرانی کے لئے نئے اضلاع قائم کئے جارہے ہیں ۔ ان کا ماننا ہے کہ چھوٹے اضلاع کی تشکیل سے حکومت کو سرکاری اسکیمات پر عمل آوری میں آسانی رہے گی ۔ اس سلسلہ میں چیف منسٹر نے مختلف اضلاع کے قائدین سے بھی مشاورت کی ہے۔ کے چندر شیکھر راؤ نے واضح کردیا کہ نئے اضلاع کی تشکیل کے مسئلہ پر عوام کے کسی گوشہ کو ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ عوام کی ناراضگی کو دور کرنے کے لئے مزید اضلاع کے قیام میں کوئی دشواری نہیں ہے ۔ پی ٹی آئی کے بموجب حکومت تلنگانہ نے آج17نئے اضلاع کی تشکیل کی فہرست میں مزید چار کااضافہ کرنے کے مطالبات کا جائزہ لی نے کے لئے ٹی آر ایس جنرل سکریٹری و ایم پی ڈاکٹر کیشورراؤ کی زیر قیادت ایک اعلیٰ سطحی پیانل تشکیل دیا ہے۔ پیانل کے سربراہ ڈاکٹر کے کیشورراؤ ، جنگاؤں ، سرسلہ، گدوال اور آصف آباد کو نئے اضلاع بنانے کے مطالبات کا جائزہ لیں گے ۔ سی ایم او سے جاری کردہ بیان مین بتایا گیا ہے کہ پیانل کے سربراہ ڈاکٹر کیشورراؤ ک7اکتوبر تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی ہے ۔ نمائندہ منصف کے بموجب چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں مزید چار اضلاع کی تشکیل کے مطالبہ کا جائزہ لینے کے لئے ہائیر کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے کہ حکومت کی جانب سے اضلاع کی تنظیم جدید کرتے ہوئے17نئے اضلاع تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے بعد ریاست کے چند گوشوں سے مزید اضلاع کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیاجانے لگا۔ گزشتہ دو دنوں سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کابینی رفقاء، پارٹی ارکان پارلیمنٹ ، اسمبلی کونسل اور عوامی نمائندوں کے ساتھ نئے اضلاع کی تشکیل کے موضوع پر تفصیلی جائزہ لیا ۔ اجلاس کے دوران پارٹی قائدین نے چیف منسٹر کر سرسلہ، جنگاؤں، گدوال اور آصف آباد کو ضلع بنانے کے لئے عوام کے جذبات سے واقف کرایا تھا جس کے بعد چیف منسٹر نے تیقن دیا تھا کہ سرسلہ، جنگاؤں، گدوال اور آصف آباد کو ضلع کا موقف فراہم کرنے کے متعلق جائزہ لیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف عوام نئے اضلاع کے قیام پر خوشی منارہے ہیں تو دوسری طرف چند لوگ اپنے مطالبہ کو قبول نہ کیے جانے پرمایوس ہیں ۔ ہم عوام کے چہروں پر خوشی دیکھنا چاہتے ہیں اور سرسلہ، جنگاؤں، گدوال اور آصف آباد کو ضلع میں تبدیل کرنے کے مطالبہ کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ۔ اس سلسلہ میں آج رکن پارلیمنٹ کے کیشوراؤ کی قیادت میں ہائیر کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ۔ اس کمیٹٰ مین ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی ، وزیر زراعت پی سرینواس ریڈی، وزیر توانائی جی جگدیشور ریڈی کو شامل کیا گیا ہے ۔ قوی امکان ہے کہ یہ کمیٹی سرسلہ، جنگاؤؤں، گدوال اور آصف آباد کو ضلع بنانے کی سفارش کرے گی جس کے بعد تلنگانہ میں اضلاع کی تعداد 10سے بڑھ کر31ہوجائے گی ۔ سابق میں حکومت نے17نئے اضلاع تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا، تاہم اب21نئے اضلاع تشکیل دئیے جائیں گے ۔ ان میں عادل آباد، آصف آباد، نرمل، جے شنکر ، کمرم بھیم، ورنگل ، نمکنڈہ، محبوب آباد، جنگاؤؤں، نظام آباد ، کاماریڈی ، میدک، سدی پیٹ، سنگا ریڈی ، کھمم، کوتہ گوڑم ، محبوبنگر، ناگر کرنول، ونپرتی، گدوال، حیدرآباد ، کریم نگر ، جگتیال، نلگنڈہ، سوریا پیٹ، یادادری، پداپلی۔ ملکا جگری، رنگا ریڈی ، اور وقارآباد شامل ہیں ۔ دوسری طرف چیف منسٹر نے کلواکرتی منڈل کو ریونیو ڈیویژن بنانے کے متعلق ہورہے مطالبہ کا جائزہ لینے کے لئے ضلع محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے وزراء سی لکشما ریڈی ، جوپلی، کرشنا راؤؤ ، نائب صدر نشین منصوبہ بندی بورڈ، نرنجن ریڈی اور ضلع کلکٹر محبوب نگر سری دیوی کے ساتھ مشاورتی اجلاس منعقد کیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حلقہ اسمبلی کلو اکرتی کے تحت آنے والے آمنگل، مدگل ، تلکلی کنڈہ پ لی، کڑتال مندل کو شمس آباد (رنگا ریڈی) ضلع میں شامل کرنے کے بعد کلوا کرتی مین صرف کلوا کرتی اور ویلڈنڈہ، منڈل ہی باقی رہ جاتے ہیں۔ ان حالات میں کلوا کرتی کو کس طرح ریونیو ڈیویژن بنایاجاسکتا ہے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اس حقیقت کے باوجود عوام کے شدید مطالبہ کے پیش نظر کلوا کرتی کو ڈیویژن میں تبدیل کرنے کے متعلق جائزہ لیاجائے گا۔

--

0 comments:

Post a Comment