Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-19 - بوقت: 22:38

کیرانہ سے نقل مکانی - قومی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ حقائق پر مبنی نہیں

Comments : 0
مظفر نگر
پی ٹی آئی
قومی اقلیتی کمیشن کے ارکان نے ضلع شاملی کے کیرانہ سے کئی خاندانوں کی مبینہ مقل مکانی پر قومی انسانی حقوق کمیشن (این ایچ آر سی) کی رپورٹ پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ لوگوں نے اپنے کاروبار و تجارت کی غرض سے یہ ٹاؤن چھوڑا ہے ۔ کمیشن کے دو ارکان نے کل شام یہاں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قومی انسانی حقوق کمیشن کی رپورٹ حقائق پر نہیں بلکہ فرقہ ورانہ بنیادوں پر مبنی ہے ۔ پروین داور فریدہ عبداللہ جنہوں نے کیرانہ اور مظفر نگر کا دورہ کیا تھا ، کہا کہ کیرانہ سے نقل مکانی فرقہ وارانہ نوعیت کی نہیں ہے ۔، انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلم دونوں مذاہب کے ارکان دیگر مقامات پر بہتر تجارتی مواقع کی تلاش میں کیرانہ سے روانہ ہوئے ۔ عوام کسی مخصوص فرقہ کے ڈر سے یہاں سے نہیں گئے ۔ این ایچ آر سی کی تحقیقات ٹیم نے پتہ چلایا تھا کہ کیرانہ میں جرائم میں اضافہ اور نظم و ضبط کی ابتر صورتحال سے لاحق خطرہ کی وجہ سے کئی خاندانوں نے یہ علاقہ چھوڑ دیا ۔ 2013ء میں مظفر نگر کے پچیس تا تیس ہزار مسلمانوں کے کیرانہ میں بس جانے کے بعد یہاں آبادیاتی توازن مسلمانوں کے حق میں ہوگیا اور یہ زیادہ غلبہ والی اور اکثریتی برادری بن گئی۔ بیشتر گواہوں اور متاثرین نے اس احساس کا اظہار کیا کہ 2013ء میں باز آبادکاری کی وجہ سے کیرانہ تاؤن کی سماجی صورتحال مکمل طور پر تبدیل ہوگئی، جس کی وجہ سے نظم و ضبط کی صورتحال مزید ابتر ہوئی۔ کم از کم چوبیس گواہوں نے کہا کہ کیرانہ میں مخصوص اکثریتی طبقہ کے نوجوان ایک مخصوص اقلیتی برادری کی خواتین کے خلاف فحش اور طنزیہ تبصرے کرتے ہیں ۔ این ایچ آر سی کے مطابق اس کی وجہ کیرانہ میں اقلیتی طبقہ کی خواتین گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرتی ہیں۔ بعض بے گھر افراد نے بھی اس بات کی توثیق کی کہ کیرانہ ٹاؤن سے ان کی مہاجرت کی یہ بھی ایک وجہ تھی۔

Minority Panel Criticises Rights Panel Report On Kairana Migration

0 comments:

Post a Comment