Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-26 - بوقت: 09:40

معصوم انسان اور منفرد اسلوب کا افسانہ نگار - م ناگ

Comments : 0

۲۱ ،اکتوبر ۲۰۱۶ ؁ء کو ہندوستانی پرچار سبھامیں ’’ افسانے میں حقیقت ،حقیقت میں افسانہ ‘‘ پروگرام کے تحت افسانہ پڑھنا تھا اور اس پر اظہارخیال بھی کرنا تھا۔ساتھ میں م ناگ بھی افسانہ پڑھنے والے تھے۔
پروگرام شروع ہونے سے قبل ہی پروگرام کے منتظم سنجیو نگم صاحب نے مجھے بتا دیا تھاکہ ناگ صاحب کی طبیعت خراب ہے۔ وہ نہیں آنے والے ہیں یہ سن کر مجھے تھوڑی مایوسی بھی ہوئی تھی، کیونکہ مجھ ناگ کو اپنا نیا افسانوی مجموعہ ’’ دکھ کا گاوں ‘‘ بھی دینا تھا۔دو دن پہلے ہی خبر آئی تھی ناگ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ لیکن میں نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی تھی۔ اپنی بے اعتدالیوں کی وجہ سے ناگ چھوٹی موٹی بیماریوں کا شکار ہوتے رہتے تھے۔وہ خود اس بات کو سنجیدگی سے نہیں لیتے تھے تو میں کیوں لیتا۔
پروگرام میں ناگ کی کمی اس وجہ سے نہیں محسوس ہوئی کہ ناگ کا افسانہ ’’ ٹرین میں لٹکی عورت‘‘ اطہر عزیز صاحب نے پڑھا، مکمل ناگ کے انداز میں تو نہیں مگر ناگ صاحب کی نقل کرنے کی کوشش ضرور کی،افسانہ مکمل طور پر م ناگ کے منفرد اسلوب میں لکھا ہوا تھا، چھوٹے چھوٹے منفرد جملے، اور ناگ سٹائل کے پیچس اس لیے سامعین کو اس نے اتنا متاثر کیا کی واپسی میں وی ٹی ٹیکسی میں آتے ہوے، میں، خلیق الزماں نصرت صاحب، ڈاکٹر ریحان انصاری، ثاقب اقبال اسی افسانے کے بارے میں گفتگو کرتے رہے۔ اچانک میر ا موبائل بجا اور گلبرگہ سے حمید سہروردی کے فرزند غضنفر اقبال نے خبر دی ناگ صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔
یہ سن کر ہر کسی کو شاک لگا۔ یقین نہیں آ رہا تھا، ابھی ہم جس شخص کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، اب وہ ہمارے درمیاں نہیں ہے، ہر کوئی تصدیق کے لیے موبائل فون کا استعمال کر رہا تھا اور ہر جگہ سے تصدیق کی خبر ہی موصول ہو رہی تھی۔
پروگرام اتنا اچھا ہوا تھا اس کی کامیابی کا جو نشہ دل و دماغ پر طاری تھا ایک لمحہ میں اتر گیا تھا۔اب ایک عجیب طرح کی اداسی اور غم نے ہر کسی کو اپنے لپیٹ میں لے لیاتھا۔ہر کوئی خاموش تھا اور یہ خاموشی ناگ صاحب کے آخری دیدار کے بعد بھی نہیں ٹوٹ سکی۔
ممبی میں اردو افسانہ کی عمارت کی تعمیر کے لیے ۸۰ کے بعد جن اہم ستونوں کا استعمال ہوا تھا اس میں سے ایک اور اہم ستون ڈھ گیا۔ناگ کا شمار ممبی کے سنیر افسانہ نگاروں میں ہوتا تھا، اس وجہ سے افسانہ کی ہر محفل میں ان کی شرکت محفل کی شان اور وقار بڑھاتی تھی۔اور ناگ کے بنا ہر اہم افسانہ کی محفل ادھوری محسوس ہوتی تھی۔اب شاید وہ محفلوں میں وہ رونق نہ رہے۔
ناگ ۸۰ کے بعد کے افسانہ نگاروں میں اس لیے ممتا ز تھے کہ انھوں نے اپنے افسانوں کے منفرد اسلوب کی وجہ سے اپنا الگ مقام بنا لیا تھا۔یہ نسل اردو افسانہ کی اہم نسل اس لیے کہلاتی ہے کیونکہ افسانہ میں بیانیہ کی مراجعت میں اس نسل نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔اس نسل نے اپنے افسانوں کے ذریعہ اردو افسانہ کو تجریدیت کی سولی سے آزاد کرانے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے، ورنہ اردو افسانہ کی گردن مارنے کا پورا انتظام کیا جا چکا تھا۔
ناگ اس نسل میں منفرد اس لیے تھے کی انھوں نے کبھی بھی خود کو جدیدیت کااسیر نہیں بنایا،اور اس فیشن کے زیر اثر افسانے نہیں لکھے، بلکہ اس تحریک کے کار آمد لوازمات علامتوں ،اساطیر کا اپنے افسانوں میں بڑی خوبی سے استعمال کیااور اس خوبی سے کہ کہیں بھی قارئین کو ترسیل کا مسلہ درپیش نہیں آیا۔
بلکہ انھوں نے اپنا ایک منفرد اسلوب بنایا جس کی وجہ سے وہ اس نسل میں ممتاز افسانہ نگار کی طور پر ابھرے اور بہت جلد ان کا اردو افسانہ اردو ادب میں مقام بن گیا۔
جب ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ ڈاکو طے کریں گے‘‘ منظر عام پر آیا تو اس کے افسانوں نے ہر کسی سے ناگ نے لوہا منوا لیا۔
لیکن یہ ناگ اور اردو افسانے کی بدقسمتی رہی کہ ناگ دوسرے افسانہ نگاروں کی طرح باقاعدگی سے افسانہ نگاری پر توجہ نہیں دے سکے،ان کی دیگر مصروفیات کی وجہ سے ان کو افسانہ نگاری سے دور کردیا۔اور انہوں نے منی افسانہ کے دامن میں پناہ لی اور قارئین ایک عرصہ تک ناگ کے منفرد اسلوب والے افسانوں سے محروم رہے۔
دراصل اس کی وجہ ناگ کا معاشی عدم استحکام تھا۔اس کے بنا ممبی جیسے مہا نگر میں اپنے خاندان کے ساتھ رہنا سچ مچ ایک بہت بڑا ذہنی عذاب تھا۔اس کی وجہ سے ناگ کی زندگی انتشار کا شکار ہو گئی۔اور وہ ادب سے دور ہوتے چلے گئے۔
ناگ نے صحافت کے شعبہ میں اپنا ذریعہ معاش تلاش کیا۔ انہیں اس شعبہ میں معاش ملا بھی لیکن اس شعبہ میں جس طرح سے ان کا استحصال ہوا اس نے ناگ کے اندر کے ایک قلمکار کو توڑ کر رکھ دیا۔
کہتے میں صحافت ایک اچھے قلمکار کی ساری صلاحیتوں کو چوس لیتی ہے۔ روزانہ دس بیس صٖفحات لکھنے کے بعد کسی بھی شخص میں کوئی اور تخلیقی چیز لکھنے کی سکت ہی نہیں رہتی ہے۔یہی ناگ کے ساتھ بھی ہوا اور اس کی وجہ سے بھی ان کی افسانہ نگاری مثاثر ہوئی۔اور ان کو اپنی ذات کے کرب کے اظہار کے لیے افسانچوں کا سہارا لینا پڑا۔
ناگ کی اپنی فطرت کا بھی ان کی زندگی میں بہت بڑا دخل رہا ہے۔انہوں نے شروعات سے ہی شاید اپنی روزی روٹی کو اہم ضرورت سمجھ کر مستقل طور پر اس کا انتظام کرنے اور اس کے لیے کوشش کرنے میں لا پرواہی برتی اور اس کا خمیازہ انہیں پوری زندگی بنجاروں کی سی زندگی گذارنے پر مجبور ہونے کی طور پر بھگتنا پڑا۔ناگپور سے ممبی، ممبی سے گوا ، گوا سے پھر ممبی، ممبی سے بیڑ اورنگ آباد اور پھر واپسی ممبی کی ہجرتوں نے انہیں زندگی کی بے یقینیوں سے کبھی نجات نہیں دلائی۔
اور وہ اس کے لیے جدوجہد کرتے رہے اور اس میں استحصال کا شمار ہوتے رہے۔
اردو کے کسی ادیب نے زندگی گذارنے کے لیے اگر سعادت حسن منٹو کے بعد سب سے زیادہ جدوجہد کی ہو گی تو وہ م ناگ ہیں۔
دونوں میں کئی باتیں مشترک ہیں ان کا ذکر کسی الگ مضمون کا موضوع ہے۔لیکن یہ بات مشترک ہیں کے دونوں بے پناہ قلمی صلاحیتوں کے مالک تھے اور دونوں نے خانہ بدوشی کی زندگی بسر کی اور استحصال کا شکار ہوئے۔
ناگ کی فطرت میں شرافت، بے لوثی ، سادگی کوٹ کوٹ کر بھری تھی،تیس چالیس سال ممبی جیسے بڑے شہر میں رہنے کے بعد بھی انہوں نے اپنی اس وراثت کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اس کی حفاظت کے لیے استحصال کا شکار ہوتے رہے۔اگر وہ اس سے دامن چھڑا لیتے تو کسی پوش علاقہ میں آباد ہوکر خوشحالی کی زندگی بسر کرتے۔
ناگ سے میری پہلی روبرو ملاقات تیس سال قبل جلگاوں میں ایک افسانوی پروگرام میں ہوئی تھی، جس میں سلام بن رزاق اور مرحوم مشتاق مومن بھی شریک تھے۔واپسی میں ہم ساتھ ہی تھے بلکہ ناگ اور میں ایک ہی سیٹ پر بیٹھے تھے اور راستہ بھر باتیں کرتے رہے تھے۔ اور اس طرح ہم پوری طرح کھل گئے تھے۔اور کچھ ایسے مراسم بنے جو آخر تک قائم رہے۔
اپنی پہلی کتاب ’’ مال مفت‘‘ میں شریک ہونے ناگ خاص طور پر بھیونڈی آے اور رات بھر میں مرحوم مظہر سلیم میرے کھاڑی پار والے مکان میں ادب ، ادیب اور زندگی کے موضوعات پرگفتگو کرتے رہے۔ میں نے اپنے پہلے افسانوی مجموعہ کا پیش لفظ بھی ناگ سے ہی لکھوایا جبکہ اگر میں چاہتا تو اور بھی بڑے بڑے لوگوں سے لکھوا سکتا تھا مگر مجھے اس بات کا یقین تھا ناگ مجھ پر جتنی اچھی طرح لکھیں گے کوئی اور نہیں لکھ سکتا۔
ناگ سے اس کے بعد کچھ اتنے قریبی تعلقات ہو گئے تھے، کہ مظہر سلیم سے ملنے جب بھی میں بوریولی جاتا ناگ سے ضرور ملتا۔کبھی کبھی میں اور مظہر سلیم ان کے گھر پہونچ جاتے تھے اور ان کو لیکرادبی آوارہ گردی پر نکل جاتے تھے۔افسانوں ، افسانہ نگاروں پر بحث ہوتی ناگ صاحب اپنی زندگی کے واقعات سناتے تو مجھے بہت دکھ ہوتا۔
ناگ کی باتیں اتنی معصوم اور ان کی زندگی کے تجربات سے لبریز ہوتی تھی کہ اکثر میں ناگ سے ملاقات کرنیکے لیے کھبی اردو ٹائمز کے آفس، کبھی سہارا کے آفس تو کبھی ان کے گھر پہونچتا رہتا تھا۔
میرے دوست مرحوم ایس خان نے ایک بڑے پبلیشنگ گروپ فلم سٹی کے ساتھ بچوں کا اردو ہفت روزہ اسکول ٹائم جاری کیا تو انہیں ایک اخبارات کا تجربہ رکھنے والے شخص کی ضرورت پیش آئی اور جب انہوں نے اس سلسلے میں مجھ سے کہا تو میں نے ناگ کی سفارش کی۔میرا س کے پیچھے مقصد یہ تھا کی اس طرح ناگ کو کسی حد تک معاشی استحکام حاصل ہو جاے گا ،اور ناگ کو اس کام پر رکھ لیا گیا۔اخبار کی ڈی ٹی پی کے فرائض انور مرزا انجام دیتے تھے۔دونوں کی دوستی ہو گئی جو آخری دم تک قائم رہی۔
لیکن ناگ کی بدقسمتی اس اخبار کے ساتھ بھی لپٹ گئی۔ اخبار بند ہو گیا۔ میرا منصوبہ تھا کہ مستقبل میں اگر اخبار بند بھی ہو گیا تو فلم سٹی اتنا بڑا گروپ تھا کہ ناگ کی ملازمت قایم رہے گی۔ کیونکہ ناگ اردو کے ساتھ ساتھ مراٹھی اور ہندی بھی اچھی طرح جانتے تھے۔
لیکن ناگ صاحب کی کچھ عادتیں ایسی تھی ان کی وجہ سے وہ گروپ کے مالک گپتا جی کو متاثر نہیں کر سکے اور ایک بار پھر بیکاری ناگ کے حصے میں آگئی۔اور ناگ کی قسمت میں بیڑ اور اورنگ آباد کا سفر اور استحصال لکھا تھا، اس کو کوئی کیسے مٹا سکتا تھا۔
ناگ کے اندر کا قلمکار ہر صورت حال میں زندہ رہا۔ہر مصیبت اور پریشانی میں اس کے اندر کا قلمکاراسے لکھنے کے لیے مجبور کرتا اور شاید لکھنا ہی اس کے لیے گوشہ عافیت تھا۔
اس لیے افسانے، افسانچوں کے ساتھ ساتھ اس نے اپنی آپ بیتی لکھنی شروع کی۔ ’’ کوئی لوٹا دے میرے‘‘ ا ور ’’ دن جو پکھیروں ہوتے‘‘ کے نام سے۔
اس میں سے ایک تو مکمل ہو گئی ہے۔ دوسری قسط وار ’’ نیا ورق‘‘ میں شایع ہو رہی ہے۔
ناگ اس معاملے میں خوش نصیب تھے کہ ان کو زندگی میں صرف استحصال کرنے والے ہی نہیں بہت اچھے مخلص دوست بھی ملے۔در اصل ان کی شخصیت اور باتیں ہی اتنی معصوم ہوتی تھیں کہ ہر کوئی ان کا گرویدہ بن جاتا تھا۔
اشتیاق سعید کی اور ان کی دوستی آخر تک قایم رہی، اشتیاق کے ساتھ ملکر انہوں نے اپنی طرح منفرد رسالہ ’’ کاغذ‘‘ شروع کیا جو باقاعدگی اختیار نہیں کرسکا۔ اشتیاق کی ہی کوششوں سے عرصے بعد ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ’’ غلط پتہ ‘‘ شایع ہو سکا۔ اور افسانچوں کا مجموعہ ’’ چوتھی سیٹ کا مسافر ‘‘ بھی۔
ناگ نے صحافت میں جو ادیبوں شاعروں کے انٹرویو کا سلسلہ شروع کیا تھا وہ ایک یادگار سلسلہ تھا۔ اگر وہ تمام انٹرویو کتابی شکل میں شایع ہو جاتے تو ناگ صاحب کا ایک اور بڑا کام دنیا تک پہونچ سکتا ہے۔
ناگ کا افسانوی سر مایہ صرف دو مجموعوں پر مشتمل ہے، لیکن ان دونوں مجموعوں کے بیشتر افسانوں کا ذکر ادب میں آتا ہے، یہ ناگ کے فن کی بہت بڑی کامیابی ہے۔

***
ایم مبین
۳۰۳، کلاسک پلازہ، تین بتی، کھڑک روڑ
بھیونڈی ۳۰۲ ۴۲۱
ضلع تھانہ ( مہاراشٹر )
موبائل :۔۔9322338918
Email :- m.mubin2009@gmail.com
M.Mubin, 303 Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI 421 302 Dist. Thane ( Maharashtra)
Mobile:- 9322338918


Meem Naag, an Urdu story writer of unique style. Article by: Rashid Shaz

0 comments:

Post a Comment