Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-30 - بوقت: 13:04

ذہانت اور تخلیقی اسرار کا افسانہ نگار - جاوید نہال حشمی

Comments : 0
Deewaar a collection of stories by Jawed Nehal Hashami
جاوید نہال حشمی ایک سنجیدہ، باشعور، ذہین اور ذمہ دار قلم کار ہیں۔ 80ء کے بعد کے قلم کاروں کے حوالے سے ان کے حصّے میں زیادہ تابناکی و تازگی آئی ہے۔ اسی لیے ہم عصر منظر نامے میں ان کا نام نمایاں ہے۔ وہ ایک علم دوست، ادب نواز اور تخلیقی سلسلوں کے پاسدار خانوادے کے فرد ہیں۔ پڑھنا پڑھانا، شعرو ادب سے رشتہ ہم آمیز رکھنا اور نئے ادبی منظر نامے سے باخبر رہنا جاوید نہال حشمی کے گھرانے کا وصفِ خاص رہا ہے۔ اس لیے بچوں کی کہانیوں سے لے کر افسانے تک ، اور رسالہ کھلونا ، پیامِ تعلیم سے لے کر بانو ، شب خون تک سے ان کی واقفیت ان کے "لڑکپن" سے ہی ہو گئی تھی۔

جاوید نہال حشمی کے والد حشم الرّمضان خود ایک شاعر و ادیب تھے۔ اس لیے گھر میں خالص علمی و ادبی ماحول کا منظر نامہ تھا۔ اسی علمی و ادبی ماحول کا نتیجہ یہ نکلا کہ حشم الرّمضان کے توسط سے شعرو ادب کے جراثیم ان کے پانچ ذہین وذمہ دار صاحب زادوں، احمد کمال حشمی (شاعر، مترجم)، ارشد جمال حشمی (شاعر)، جاوید نہال حشمی (افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، انشائیہ نگار)، خالد اقبال حشمی (ادیب) اور شاہد جلال حشمی (افسانہ و مضمون نگار) کے شریانوں میں از خود سرایت کر گئے۔ ایسا بالعموم کم ہوتا ہے کہ والد کی ادبی، علمی اور ثقافتی روایات و اقدار، شرافت و نجابت اور فہم و علم پوری شد و مد ، اور جلال و جمال کے ساتھ بیٹوں میں منتقل ہو جائے اور بیٹے اپنے فرائضِ منصبی سے عہدہ برآ ہونے کے ساتھ کل وقتی طور پر ادب سے بھی جڑے ہوئے ہوں۔ مزید برآں، حشم الرّمضان کی صاحب زادیاں فرحت نشاط حشمی اور عشرت صراط حشمی بھی درس و تدریس سے جڑی ہوئی ہیں اور ایک نے قلم و قرطاس سے رشتہ بھی قائم رکھا ہوا ہے۔ اتفاق دیکھیے کہ ان کی شادیاں بھی جہاں ہوئیں، وہاں بھی علم و لسان اور شعر و ادب کا بھر پور اور خوش گوار ماحول ملا۔ اسی صاف ستھرے علمی، ادبی اور دینی پس منظر میں جاوید نہال حشمی نے 1967ء؁ میں اپنی آنکھیں کھولیں۔ جاوید نہال حشمی کی اپنی خاندانی روایتوں نے ان کی ادبی شخصیت کو معتبر بنانے میں بنیادی کر دار ادا کیا ہے۔
اس قدرے طویل تمہید کا مقصدبس اتنا ہے کہ جاوید نہال حشمی کی پوری روایات و ادبیات، تہذیب و ثقافت، اور ذہانت و متانت کا ایک پس منظر مرتب ہو اور پھر ان کی علمی و ادبی اذہان کی روشنی میں ان کے فن اورمدرکات کے مختلف ابعاد و جہات کو ضوبار کیا جائے تاکہ حشمی کی تخلیقی روش اور فکری جوت کے بعض نکات کو نشان زد کرنےکا باعث بھی ہو۔

جاوید نہال حشمی ایک کثیر الجہت قلم کار ہیں۔ افسانوں کے ساتھ انہوں نے ڈرامے، انشائیے، طنزو مزاح اور غزلوں پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔ اکثر و بیش تر ان تمام اصناف پر ان کی تخلیقات شائع بھی ہوتی رہی ہیں۔ لیکن جاوید نہال حشمی بنیادی طور پر افسانہ نگار ہیں اور افسانہ ہی ان کی تخلیقی شناخت کا موجب ہے۔ اس وقت میرے پیشِ نظر جاوید نہال حشمی کا اوّلین افسانوی مجموعہ دیوار ہے جس میں تیرہ افسانے شامل ہیں۔ یہ افسانے ایک جیسے نہیں بلکہ زندگی کے تقریباً13 رُخ ان سے ظاہر ہوتے ہیں۔
مغربی بنگال میں اردو افسانے کی ایک مکمل اور روشن تاریخ رہی ہے۔ یہاں کے افسانہ نگاروں نے بھی اپنی تخلیق کے ذریعہ اردو افسانے کے دامن کو نہ صرف وسیع کیا بلکہ ہر سطح کے ذہن و دماغ رکھنے والے افراد کو متاثر بھی کیا۔ مغربی بنگال میں نشاط الایمان، جاوید نہال ہاشمی، ظفر اوگانوی، عابد ضمیر اور پھر انیس رفیع، اظہار الاسلام، شہیرہ مسرور، محمود یٰسین، عشرت بیتاب وغیرہ کے بعد ایسے نئے ، ذہین اور تخلیقی طور پر سیال افسانہ نگار جن کا شمار انگلیوں پر ہو سکتا ہے، ان میں بہت نمایاں جاوید نہال حشمی ہیں جو اپنے انفرادو امتیازات کے باعث خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔

جاوید نہال حشمی اپنے طرز اور منہاج کے ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جو زندگی کی تب و تاب اور حرکت و حرارت کو سمیٹتے رہتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کی تلخیوں، ترشیوں اور تنگیوں کو بھی۔ ان کا حسّاس ذہن ا نہیں بےحد مضطرب و متحیررکھتا ہے، اور یہ اضطراب و تحیر ہی کہانی کے تار و پود بنتے ہیں۔ جاوید نہال حشمی مثبت و صحت مند اقدار اور تہذیبی و اخلاقی روایات کے افسانہ نگار ہیں۔ ان کا علمی پس منظر دینی بھی ہے۔ لیکن وہ ادب کو محض کسی سطحی مولویانہ نگاہ میں دیکھنے کی بجائےاقدار و معیار کی عقبی زمین کے حوالے سے اپنی تخلیقی جو ت جگانے کی مہم میں لگے ہوئے ہیں۔ کہہ سکتے ہیں کہ جاوید نہال حشمی کا ذہن بےحد سیال ہےاور ان کی سماجی و سیاسی بصیرت کافی تیز ہے۔ انہوں نے انسانیت سوز مناظر دیکھے ہیں اور اپنے افسانوں میں بےباک و بےلاگ جذبات و احساسات کے ساتھ انہیں پیش کیا ہے۔ بالخصوص ٹرٹمنٹ کی سطح پر جاوید نہال حشمی کے افسانے ہمیں نہ صرف چونکاتے ہیں بلکہ ذہنوں کو جھنجھوڑتے بھی ہیں اور سوچنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔ جاوید کے پاس افسانہ کہنے کی صلاحیت اور تخلیقی حسّیت بدرجہ ٔ اتم موجود ہے۔ چوں کہ ان کا خاندانی پس منظر علمی و تہذیبی رہا ہے، اس لیے ان کا مطالعہ و مشاہدہ اور تجربہ و تجزیہ افسانے کے لیے سازگار ہے۔
جاوید نہال حشمی کا افسانوی مجموعہ دیوار ایک ایسی کتا ب ہے جو روشنی کی بھی علامت ہے اور توانائی کی بھی،نیز اثبات و معیار کی بھی جس کی وجہ سے ان کے یہاں انفعالی صورت نہیں۔ یوں بھی زندگی ترتیب و توازن سے عبارت ہے، اور یہی ترتیب و توازن ہمیں زندگی کو اصولوں اور ضابطوں کے ساتھ گزارنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ اگر اقدار سامنے ہوں تو پھر نہ کوئی منفی واقعہ سرزد ہو سکتا ہے اور نہ ہی خوف کا عمل پریشان کر سکتا ہے۔ اعلیٰ قدروں کا حامل ہر حال میں شگفتہ اور توانا رہتا ہے۔ جاوید نہال حشمی کی اپنی افتاد طبع ، علمی و ادبی گھرانے میں ذہنی تربیت،ذاتی تجربات و مشاہدات، اور فنی ریاض و محنت نے ان کے افسانوں میں موضوعات کی دھنک، بیان کی چمک، شعور کی جھلک اور احساس کی لہک پیدا کر دی ہے۔ انہوں نے کتابیں پڑھ کر افسانے نہیں لکھے ہیں بلکہ انسانی چہرے سے لے کر اس کے بطون تک پڑھا ہے۔ یعنی انسانی نفسیات و کیفیات کا عرفان و آگہی انہیں دور تک لے جاتی ہے اور نئے ان دیکھے جہانوں کی سیر کراتی ہے۔

جاوید نہال حشمی افسانہ نگاری کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کے یہاں تخلیقی عمل ایک اعلیٰ درجے کا کام ہے۔ زندگی کے سرد و گرم کا یہ افسانہ نگار اپنی آنکھوں کو کھلا رکھتا ہے اور بنیادی طور پر زندگی اور اس کے مختلف تیور اور نہج اس کی تخلیقی جودت کا باعث بنتے ہیں۔ چوں کہ جاوید نہال حشمی نئے ذہن اور نئی فکر کے مالک ہیں، اس لیے دنیا میں پل پل ہونے والے تغیرات و تحیرات سے وہ باخبر رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں موضوعات کا تنوع، نیاپن اور تازگی ان کے ہم عصروں کے مقابلے میں قدرے زیادہ ہے۔ جاوید نہال حشمی تخلیقی وجدان کے سہارے ایک نئی فضا خلق کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنے افسانے نئے ابعاد میں لکھتے ہیں جس کے باعث ان کے افسانوں میں ہمارے عہد کی دھڑکنیں شامل ہو جاتی ہیں۔

جاوید نہال حشمی کے افسانوی متحویات کا جائزہ لینے پر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جن کا عوام کے دکھ درد سے گہرا رشتہ ہے۔ ان کا ہر افسانہ خواہ وہ پےچیدہ ہو، کھلاہوا ہو، یا دونوں کے درمیان ہو، زندگی کے کسی نہ کسی رُخ پر محیط ہوتا ہے جس میں درد و کسک کی کیفیت، سماجی و معاشی ناہمواری، جنگ و جدال کے مناظر، بدحال و بےحال چہرے،سسکتے بلکتے معصوم افراد، جواہر و زر کی ریل پیل، بے زمینی و بے نشانی کا غم، ہیجان و تشدد کا بکھراؤ، اقدار و روایات کا انہدام، استحصال و فریب کا عَلَم، رشتوں کی پامالی و پژمردگی، ذہنی انتشار و خلفشار، ذات و کائنات کی دیوار اور عالمی مسائل وغیرہ کی کیفیات موجزن رہتی ہیں۔ گویا زمانے کے احوال و آثار ان کے افسانوں میں سمٹے نظر آتے ہیں۔ غور کیجیے تو ان کے ہر افسانے میں ہماری کجلائی ہوئی تہذیب اور دم توڑتی ہوئی قدروں کی تصویریں نظر آئیں گی۔

جاوید نہال حشمی دراصل ایک کھلے ہوئے ذہن کے افسانہ نگار ہیں اور ان کے افسانوں کا کینوس محدود نہیں ہے۔ ان کے افسانوں میں سماجی سچ غالب ہے۔ چوں کہ جاوید نہال حشمی اپنے اطراف و اکناف کے حالات سے باخبر ہوتے ہوئے بھی زندگی اور عالمی مسائل کو انسانی نظر سے دیکھتے ہیں اس لیے سماج، معاشرہ، ملک اور بیرون ملک میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی برائیاں بھی ان کے افسانوں میں نظر آتی ہیں۔ یوں بھی افسانے اور زندگی میں کوئی دوئی نہیں ہے۔ بلکہ تخلیق کار اپنے آس پاس جو دیکھتا ہے یا بھوگتا ہےاسی کو نوع بہ نوع تجربات و مشاہدات کے ذریعہ سیال بنا دیتا ہے اور پھر اپنے فن پاروں میں ہنر مندی و فن کاری کے ساتھ پیش کرتا ہے۔ جاوید نہال حشمی کلکتہ جیسے مہانگر میں رہتے ہیں۔ اس لیے یہاں کی سماجی و تہذیبی اور سیاسی و معاشرتی زندگی سےاچھی طرح واقف ہیں۔ یہاں پل پل جس طرح زندگی بدلتی ہے اور مشینی شہر میں رہ کر جس کرب آمیز عمل سے انسان گزرتا ہے، اس کی مرقع کشی جاوید نہال حشمی اس انداز میں پیش کرتے ہیں کہ ایک گہری معنویت سامنے آ جاتی ہے۔ وہ اپنے جذبات و محسوسات اور تصورات و تفکرات کو قارئین تک بڑی کامیابی سے پہنچا دیتے ہیں۔ افسانہ"روبوٹ" کا یہ اقتباس دیکھیں جس میں جاوید نہال حشمی نے تخلیقی حسیت کا بہترین مظاہرہ کیا ہے:
"تمہارے جسم کی ہڈّیاں تیزی سے اسٹیل میں بدلتی جارہی ہیں۔ "
"یار، تم ڈاکٹر لوگ محاوروں کی زبان کب سے بولنے لگے۔ "
"میں جانتا تھا تم یقین نہیں کروگے، کیوں کہ یہ حالت ابھی بھی عام آدمی کے لئے سنسی خیز حد تک عجیب ہے۔ لیکن میڈیکل فریٹر نیٹی کے لئے اب یہ حیرت کی بات نہیں رہی۔ تمہارا کیس پہلا نہیں۔ ہاں، ریئر (rare) ضرور ہے۔ لیکن آنے والے وقتوں میں یہ شہروں میں عام ہونے والا ہے۔ "
"کیا مطلب؟"زیدیؔ کے چہرے کی سنجیدگی نے مجھے بےیقینی کے عالم سے نکال کر حیرت و استعجاب کےسمندر میں غرق کر دیا۔
"جدید مشینی دَور نے انسان کو بھی مشین بنا دیا ہے۔ بے پناہ مصروف زندگی اور فطرت کی بجائےخود ساختہ معمولاتِ زندگی کی جبری تابع داری نے اس کے جسم کے انگ انگ کو مشین میں تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ جب انسانی جسم ایک خاص مدّت تک مسلسل کسی غیر فطری روٹین کے تابع رہتا ہےاور زبردست ورک پریشر کے تحت کام کرتا ہے تو بتدریج اس عمل کی شروعات ہو نے لگتی ہے۔ لیکن گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے کیوں کہ یہ مرحلہ عبوری ہے۔ ہڈّیوں کے اسٹیل میں تبدیل ہونے کا یہ سلسلہ ایڑیوں سے شروع ہوکر جسم کے اوپری حصّوں کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جب تک پورے جسم کی ہڈّیاں اسٹیل کی نہیں ہوجاتیں، یہ تکلیف برقرار رہے گی۔ "

جاوید نہال حشمی کے افسانوں کے تین شقیں ہیں۔ ایک جذباتی، دوسری نفسیاتی اور تیسری جنسیاتی۔ لیکن قابلِ تحسین یہ ہے کہ ان تینوں شقوں میں ان کے افسانوں کا رابطہ یا محور سماج اور سماجیت سے قائم رہتا ہے۔ حشمی چوں کہ زمانے اور دنیا کے شاہد ہیں لیکن حسّاس مشاہدہ کے باوجود وہ اپنی بات کسی غصّے، رنج یا نفرت کے بغیر ٹھنڈے اور پُر وقار لہجے میں کہتے ہیں۔ جارحانہ انداز اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ ان کے فکری سوتے انہیں آپے سے باہر نہیں ہونے دیتے۔ یہ جذبات کو لازماً contain کرتے رہتے ہیں۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ سوچتے بہت ہیں، تجربات و محسوسات کو اپنے اندر جذب ہونے دیتے ہیں، اپنے فکر و فلسفہ میں اسے رولتے ہیں، پھر کسی اور بات کے حوالے سے معاصر دنیا کےبارے میں اپنے محسوسات پیش کرتے ہیں۔ چوں کہ جاوید نہال حشمی نئے افسانہ نگار ہیں اور نئے ذہن کے مالک ہیں۔ اس لیے ان کے افسانوں میں بدلتے ہوئے سماج اور نئی تہذیب کی کہانی ہے۔ تشدد اور جنسی تشدد کی بھیانک شکلیں، ریپ کے انسانیت سوز واقعات، جنسی ہیجان انگیزی، ٹی وی اور کیبل کلچر کی افزونی، موبائل اور انٹر نیٹ کا غلط استعمال، ملکی و غیر ملکی سیاست کی خود غرضی اور زمانے کی تیز رفتاری وغیرہ کو اپنے افسانے میں سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔

جاوید نہال حشمی کے افسانے نفسیاتی اور جنسی حقائق کی طرف بلیغ اشارہ کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں جنس کے عناصر ہم عصر فن کاروں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہیں۔ ان کے بیش تر افسانے کسی نہ کسی سطح پر جنس سے عبارت ہوتے ہیں، مگر اس جنس کے اندر جنسی استحصال، جنسی بےراہ روی اور جنسی درندگی ظاہر ہوتی ہے۔ دراصل جنسی زندگی میں استحصال کی کہانی بہت پرانی ہے۔ لیکن پرانی باتوں کو بھی نئے طور طریقے او ر نیا انداز دے کر کیسے فن میں مزید ترفع پیدا کیا جاسکتا ہے اور افسانوی رنگ ڈھنگ دے کر کیسے خاص تاثر اُجاگر کیا جاسکتا ہے، جاوید نہال حشمی اس کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں "کرچیاں" اور "Besieged" کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے جس میں جاوید نہال حشمی نے عہدِ نو کی زندگی، اس کے پُر پیچ خد و خال، رشتوں کا کرب، اور زوال پذیر معاشرے کی بھر پور عکاسی کی ہے۔ "Besieged" کا یہ اقتباس دیکھیے:

"کیا ہوا؟ آر یو اوکے؟"دوسری طرف سے اس کی بیوی کی آواز آئی۔
"آئی ایم … آر یو؟"جواب ملتے ہی اس نے اپنے لہجے کی کپکپاہٹ پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔ اور پھر آگے کچھ سنے بغیر ریسور کریڈل پر رکھ دیا اور آنکھیں بند کر لیں۔
بیوی کی آواز نے اسے یک گونہ سکون بخشاتھا۔
غدّار، فریبی، ذلیل، کمینے___وہ دانت پیستا ہوا بڑبڑا رہا تھا۔ کافی دیر تک اپنی کرسی میں دھنسا اپنی بدحواس کیفیت پر قابو پانے کی کوشش کرتا رہا۔ اعصاب پوری طرح قابو میں آنے کے بعد اس نے گلاس میں بچی آدھی شراب کو ایک ہی بار میں اپنے حلق سے نیچے اتار لی۔ کمپیوٹر شٹ ڈاؤن کرنے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ ایک بےساختہ سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر عود کر آئی۔ اس نے لزرتے دائرے میں اپنی بیوی کے دماغ کے عکس کو قید کیا اوراینٹر کی دبادی اور …۔اور پھر اس کی آنکھوں میں خون اُتر آیا۔
اسکرین پر اس کے بیڈروم کا منظر تھا۔ اس کی بیوی اور شنڈےایک دم برہنہ حالت میں ایک دوسرے میں ضم ہونےکی کوشش کر رہے تھے۔
'اوہ ڈارلنگ، کب تک یہ سب چھپ چھپ کر چلتا رہے گا۔ اس بڈّھے کا کام تمام کرنے کیوں نہیں دیتیں؟ میں نے کہا نا مجھے تمہارے سوا اور کچھ نہیں چاہئے…'
'لیکن مجھے چاہئے۔ مجھے دولت اور عیش و عشرت کی عادت ہے۔ میں اسے اس پروگرامنگ کوڈ کی حصولی تک زندہ رکھنا چاہتی تھی۔ وہ کوڈ حاصل ہوجانے کے بعد اس کے جیسا اونچا مقام حاصل کرنا تمہارے لئے کوئی مشکل نہیں ہے، مجھے یقین ہے۔ '
' توکیا کوڈ مل گیا؟'
'ہاں، وہ اس کی جیب کے پین ڈرائیو میں ہے۔ اس نے چند روز قبل مجھے سرپرائز دیتے وقت بتایا تھا۔ '
'تو پھر ابھی جا کر ختم کر آؤں اس کی کہانی؟'
وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی:'میں نے خود کہانی کا دی اینڈ کر دیا ہے۔ '
'ہائیں؟ وہ کیسے؟'
وہ اس کے آگے نہیں سن سکا کیوں کہ آنکھوں میں اُترا ہوا خون منھ کے راستے باہر نکل کر کی بورڈ میں پیوست ہو نے لگا تھا!

جاوید نہال حشمی گویا فنی رموز سے آگاہ ہیں۔ ان کے افسانے کا اختصار و ارتکاز اور اس کی جامعیت خصوصی طور پر محسوس کی جاسکتی ہے۔ اس افسانے میں احساس کی گرمی، اور شدتِ جذبات کا انعکاس بھرپور انداز میں ملتا ہے، اور بڑے شہروں میں ہو رہے ہر قسم کے جرائم کی تصویریں خوبصورتی سے واشگاف ہوئی ہیں۔ افسانے کا اسلوب تخلیقی اور معانی سے معمور ہے۔ جاوید نہال حشمی ایک تخلیقی افسانہ نگار ہیں۔ ان کے افسانے ذہانت اور تخلیقی اسرار کے امتزاج سے فن پارے کی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں کا بہ غائر مطالعہ کرنے پر اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے افسانوں میں کہانی کی دو سطحیں ہوتی ہیں۔ پہلی سطح تو وہ ہوتی ہے جو ذہن کو فوراً متاثر کرتی ہے، اور دوسری سطح وہ ہے جو ذہن و قلب میں شور و ہیجان برپا کردیتی ہے۔
جاوید نہال حشمی کا ایکانفرادیہ بھی ہے کہ وہ اپنے کردار کو اُبھارنے کے لیے الگ سے کوئی حربہ یا کسی ٹول کا استعمال نہیں کرتے ہیں بلکہ ایسے ضمنی کردار کی تخلیق کرتے ہیں جن سے مرکزی شخصیت کی تصویر نہ صرف واضح ہو جاتی ہے بلکہ چمک بھی جاتی ہے۔ دیوار، امیج، لہو کا درد، کرچیاں، پرورش وغیرہ جاوید نہال حشمی جیسے ذہن فن کار کے ملتہبِ دل کی تخلیقات ہیں جن میں زندگی کی بیشتر شقیں منعکس ہو گئی ہیں۔

فنی نقطۂ نظر سے جاوید نہال حشمی کے افسانے اس لیے کامیاب ہیں کہ ان میں کساؤ (Compaction) بہت ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس نکتے سے آگاہ ہیں کہ افسانے کا حسن اختصار اور جامعیت میں ہے۔ ساتھ ہی ان کے افسانوں کا بیانیہ راست ہے۔ وہ اپنے افسانے راست انداز میں تخلیق کرتے ہیں جس سے ہر ذہن کے قاری کو بات آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہے۔
جاوید نہال حشمی کے افسانوں کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جنس اور عورت کا تذکرہ کثرت کے ساتھ کیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جاوید نہال حشمی عورت کے ذکر کے بغیر اپنا خیال مکمل نہیں کرپاتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ انگریزی الفاظ کا استعمال بھی زیادہ ہوا ہے۔ کہیں کہیں پڑھتے وقت بوجھ سا محسوس ہوتا ہے، جب کہ بڑی آسانی اور خوبصورتی کے ساتھ اردو الفاظ جڑ سکتے تھے۔ اس کی طرف انہیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دیوار جاوید نہال حشمی کی افسانوی صلاحیت پر دال ہے۔ نفسیات، جنسیات اور حسیات و معاشرت کا یہ افسانہ نگار اپنی فکر و نظر کے اعتبار سے توجہ طلب ہے۔ میں پورے تیقن کے ساتھ دعویٰ کرتا ہوں کہ اگر ان کا تخلیقی عمل اسی طرح صیقل ہوتا رہا اور ضبط و احتیاط اور فکر و نظر کی وسعت کے سلسلے سے مزید توجہ اور محنت کی گئی تو دیوار کے افسانہ نگار کے امتیازات و اختصاصات کی شناخت ہو سکے گی اور زعمائے ادب میں ان کی گونج بھی سنائی دے گی۔

Jawed Nehal Hashami, an intelligent creative writer. Article by: Dr. Asim Shahnawaz Shibli

0 comments:

Post a Comment