Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-06 - بوقت: 20:09

فوج نے سرجیکل اسٹرائیک کے ثبوت حکومت کو پیش کر دئیے

Comments : 0
نئی دہلی، جموں
یو این آئی
پاک مقبوضہ کشمیر میں خط قبضہ کے پاس چھ دن قبل اندین آرمی کے تیز رفتار اور نپے تلے حملوں کے بارے میں قیاس آرائیوں کے سلسلہ کو ختم کرتے ہوئے آرمی نے آج اس آپریشن کے بارے میں فوٹیج حکومت کو پیش کردیا جس کے دوران دہشت گردوں کے سات لانچ پیاڈس کو تباہ کردیا گیا تھا ۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ ہنس راج آہیر نے یو این آئی کو بتایا کہ وزیر اعظم کے دفتر نے اس فوٹیج کو حاصل کیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس بارے میں کوئی فیصلہ کریں گے کہ آیا س فوٹیج کو منظر عام پر لایاجانا چاہئے یا نہیں ۔ مودی نے کابینہ کی سلامتی امور کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ باخبر ذرائع کے بموجب اجلاس میں سرحد پر حالات اور اس سے متعلق واقعات کے بارے میں غوروخوض کیا گیا۔ قومی سلامتی کے بارے میں یہ جائزہ28اور29ستمبر کی درمیانی شب آرمی کی جانب سے دہشت گردوں کے خلاف سرجیکل آپریشن کے پیش نظر خط قبضہ پر کشیدگی کے دوران لیا گیا ۔ جموں و کشمیر کے یور سیکٹر میں واقع آرمی کیمپ پر دہشت گردانہ حملہ کردیا گیا تھا جس میں19ہندوستانی سپاہی شہید ہوگئے تھے ۔ اس دہشت گردانہ حملہ کے پیش نظر سرحد کے پاس دہشت گردوں کے جمع ہوکر کارروائی کے لئے نکلنے والے مقامات کے خلاف یہ کارروائی کی گئی تھی۔ ڈائرکٹر جنرل ملٹری آپریشنس لیفٹنینٹ جنرل رنبیر سنگھ کے بموجب آرمی کی اسپیشل فورسس نے دہشت گردوں کو بھاری نقصان پہنچایا ۔ آہیر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس حساس فوٹیج کو منظر عام پر لانے یا نہ لانے کا فیصلہ کانگریس لیڈر سنجے نروپم یا چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال جیسے افراد کے مطالبہ پر نہیں کررہی ہے۔ وزیر موصوف نے ممبئی سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے کہا ہمارا موقف ملک کی پالیسیوں کی بنیاد پر رہے گا۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ 7اور8اکتوبر کو جیسلمر میں پاکستان کی سرحد کے پاس واقع چاروں ریاستوں کے چیف منسٹرس اور بی ایس ایف کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اجلاس کا انعقاد عمل میں لائیں گے اور ہند۔ پاک سرحد پر سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیں گے ۔ چیف منسٹر جموں و کشمیر محبوبہ مفتی، چیف منسٹر گجرات وجئے روپانی، چیف منسٹر راجستھان وسندھرا راجے اور ڈپٹی چیف منسٹر پنجاب سکھنورسنگھ بادل اس بارے میں خیالات ظاہر کریں گے کہ ہند۔ پاک سرحد کو بالکل بند کردینے کے لئے کون سے طریقے اختیار کئے جاسکتے ہیں ۔
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ملک میں اس سوال پر بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا حکومت کو خط قبضہ کے اس پار فوج کے سرجیکل اسٹرائکس کے شواہد جاری کرنے چاہئے۔ بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے اس کارروائی کے ویڈیو کو ایڈٹنگ کے بعد جاری کرنے کی تائید کی جب کہ بیشتر ماہرین نے اس کی مخالفت کی ۔ بی جے پی نے اس مطالبہ کو مسترد کرتے ہوئے کانگریس کے بعض قائدین اور عام آدمی پارٹی سربراہ اروند کجریوال پر تنقید کی جنہوں نے ان حملوں پر سوالات اٹھائے ۔ بی جے پی نے ان پر الزام لگایا کہ وہ پاکستان کو جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلانے کے لئے تقویت پہونچا رہے ہیں ۔ کانگریس نے کہا کہ اس نے کبھی بھی حملوں کی صداقت پر سوال نہیں کیا۔ سابق آرمی چیف جنرل وی پی ملک نے حملوں کے بارے میں سوال اٹھانے والوں پر تنقید کی اور کہا کہ ویڈیو محض اس لئے وہ سے جاری نہیں کیاجانا چاہئے کہ بعض بے وقوفوں نے یہ مطالہ کیا ہے ۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ احمقانہ بات ہے کہ یہ لوگ فوج سے آپریشن کو ثابت کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر سیاسی طبقہ کو ہوکیا گیا ہے ۔ ایک اور سابق فوجی سربراہ جے جے سنگھ نے بھی ایسے مطالبات پر تنقید کی اور کہا کہ جب مسلح افواج دعویٰ خرتی ہیں تو اس پر کوئی شبہ نہیں کرنا چاہئے ۔ ایک اور سابق آرمی چیف جنرل شنکر رائے چودھری نے ویڈیو جاری کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے رازوں کو سامنے نہیں لانا چاہئے۔ بی ایس ایف کے سابق انسپکر جنرل نے ایسے ہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے ویڈیو کو جاری کرنے سے ہندوستان کے مستقبل کی حکمت عملی کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ سابق ڈائرکٹر جنرل ملٹری آپریشنس ونود بھاٹیہ نے بھی ویڈیو فوٹیج جاری کرنے کی مخالفت کی اورکہا ہے کہ اس سے پاکستان کو مدد ملے گی انہوں نے کہا کہ دنیا کی ہر فوج کا آپریشن کا ایک طریقہ ہوتا ہے کوئی بھی ملک اس کا انکشاف نہیں کرتا۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ بعض افراد فوج کے بیان پر شبہ کررہے ہیں ۔

Army gives videos of surgical strikes to government

0 comments:

Post a Comment