Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-09-17 - بوقت: 22:03

میرے ہوتے ہوئے پارٹی میں پھوٹ نہیں ہو سکتی - ملائم سنگھ

Comments : 0
لکھنو
پی ٹی آئی
یادو خاندان میں پھوٹ کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش میں پارٹی سربراہ ملائم سنگھ یادو کو کامیابی ملی ہے جب کہ چیف منسٹر اکھلیش یادو نے اپنے چچا شیو پال یادو کے تمام قلمدان واپس کردئیے ہیں ۔ گائتری پرجا پتی کو کابینی وزیر کی حیثیت سے دوبارہ شامل کرلیا گیا ۔ ملائم سنگھ یادو کی جانب سے سمجھوتہ کا جو فارمولہ دیا گیا ہے اس کے مطابق یہ اعلانات کئے گئے۔ یادونے زور دے کر کہا کہ پارٹی میں کوئی پھوٹ نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ موجود ہیں ۔ پارٹی میں دراڑ بند ہونے کے آثار اس وقت ظاہر ہونے لگے جب ملائم نے اپنے بھائی شیو پال اور بیٹے اکھلیش سے تبادلہ خیال کیا جن کے درمیان پچھلے کچھ عرصہ سے جاری لفظی جنگ نے پارٹی کو بحران سے دوچار کردیا تھا ۔ اکھلیش نے تویٹ کے ذریعہ اطلاع دی کہ شیوپال سنگھ کے قلمدان واپس کردئیے جائیں گے ۔ دو دن قبل چیف منسٹر نے جب اپنے چچا سے وزارتیں چھین لی تھیں تب یو پی کے حکمراں خاندان میں جاری جنگ کھل کر سامنے آگئی۔ اکھلیش کو ملائم سنگھ کی جانب سے پارٹی کے ریاستی صدر کی حیثیت سے ہٹائے جانے کے جواب میں انہوں نے چچا سے وزارت چھین لی تھی ۔ چیف منسٹر نے ایک اور ٹویٹ میں کہا کہ گائتری پرجاپتی کو کابینہ میں شامل کرلیاجائے گا۔ قبل ازیں ملائم سنگھ نے کہا کہ میں11مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکا ہوں ، چھ مرتبہ اتر پردیش اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا عہدہ سنبھالا اور ہندوستان کے وزیر دفاع کے عہدہ پر بھی فائز رہا ہوں۔ وزیر اعظم بننے کا موقع مجھے بھی ملا تھا ۔ انہوں نے کارکنوں کو یقین دلایا کہ جلد ہی حالات معمول پر آجائیں گے ۔ ہمارے رہتے ہوئے پارٹی ٹوٹ نہیں سکتی ۔ 2017ء کے اسمبلی انتخابات کی تیاری کرنے کا انہوں نے کارکنوں کو مشورہ دیا۔ کسی پارٹی لیڈر کا نام لئے بغیر انہوں نے کہا کہ کچھ طاقتیں سماج وادی پارٹی کو2017ء میں اقتدار پر واپس آنے سے روکنے کے لئے سرگرم ہیں۔ کچھ لوگ جو ہمارے درمیان ہیں میڈیا میں خبر پھیلا رہے ہیں ۔ انہوں نے کارکنوں اور قائدین کو میڈیا کی جانب سے قائدین میں اختلافات پیدا کرنے کی سازش سے خبردار رہنے کا مشورہ دیا ۔ انہوں نے کارکنوں سے فکر مند نہ ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ پارٹی اور خاندان میں اختلاف نہیں ہے ۔ ایس پی صدر نے کارکنوں سے کہا کہ 7اکتوبر کو ان کا جلسہ اعظم گڑھ میں ہے اور سب مل کر اسے کامیا ب بنائیں ۔ چار نکاتی مفاہمتی فارمولہ کے مطابق شیو پال یادو کے قلمدان جیسے پی ڈبلیو ڈی ، آبپاشی ، ریونیو اور امداد باہمی کو بحال کردیا جائے گا۔ کانکنی کے برطرف وزیر کو دوبارہ کابینہ میں شامل کرلیاجائے گا تاہم انہیں دوسر ا قلمدان دیاجائے گا۔ شیو پال یادو ریاستی صدر کے عہدہ سے اپنا استعفیٰ واپس لے لیں گے ۔ رکن راجیہ سبھا امر سنگھ کو حاشیہ پر کردیا گیا ہے اور حکومت اور پارٹی کے معاملات میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں رہے گا ۔ ملائم سنگھ یادو کے ساتھ برطرف وزیر گائتری پرجا پتی بھی موجود تھے ۔ قبل ازین سماج وادی پارٹی میں کشیدگی کل رات شیو پال یادو سنگھ کے تمام عہدہ سے استعفیٰ دینے کے بعد شدید تر ہوچکی تھی جس کے بعد آج پارٹی صدر ملائم سنگھ یادو نے اپنے بیٹے چیف منستر اکھلیش یادو اور بھائی شیو پال کے درمیان جھگڑے کو حل کرنے کے لئے خاندانی پنچایت بلائی تھی ۔ کل شیو پال یادو نے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کے بعد خود کو پارٹی کا عام ورکر قرار دیا تھا لیکن اکھلیش یادو اور ملائم نے ان کا استعفیٰ نامنظورکردیا۔ کل رات جب شیو پال نے ریاستی وزارت اور پارٹی ریاستی صدر کے عہدہ چھوڑا تبھی سے ان کے سینکڑوں حامی ان کی رہائش گاہ کے سامنے دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ شیو پال نے صبح حامیوں سے کہا آپ سب کو پارٹی آفس جانا چاہئے جہاں نیتا جی آئیں گے اور آپ کی شکایات سنیں گے ۔ انہوں نے یہ بات دہرائی کہ ان کی پارٹی صدر پر مکمل اعتبار ہے اور وہ ان کے کہنے پر چلتے ہیں۔
لکھنو
یو این آئی
سماج وادی پارٹی میں رکن راجیہ سبھا امر سنگھ کے خلاف کارروائی کے لئے دباؤ بڑھتا جارہا ہے جن کو موجودہ بحران کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جارہا ہے ۔ پارٹی میں سب سے پہلے تناؤ اس وقت پید ا ہوا جب اکھلیش یادو کو ریاستی پارٹی کے صدر کے عہدہ سے ہٹا دیا گیا اور شیو پال سنگھ کو اس کے نتیجہ میں اہم قلمدانوں سے محروم ہونا پڑا ۔ پارٹی کے ذرائع نے یہ اطلاع دی ۔

Mulayam Singh Yadav : I Won't Let SP Split Till I Am Alive

0 comments:

Post a Comment