Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-09-05 - بوقت: 20:42

کل جماعتی وفد سے ملاقات سے کشمیری علیحدگی پسندوں کا انکار

Comments : 0
سری نگر
پی ٹی آئی
علیحدگی پسندوں نے آج سخت موقف اختیار کرتے ہوئے ان سے بات چیت کے لئے اپوزیشن کے پانچ ارکان پارلیمنٹ کی کوششوں کو مسترد کردیا جب کہ ایک کل جماعتی پارلیمانی وفد نے چیف منسٹر محبوبہ مفتی اور اصل دھارے کے بعض قائدین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے 58دن سے جاری بد امنی کو ختم کرنے کی راہوں پر بات چیت کی ۔ وفد نے اپنے دورے کے پہلے دن سما ج کے مختلف طبقات کے تقریبا300وفود میں شامل لگ بھگ دو سو ارکان سے ملاقات کی اور جموں و کشمیر کے موجودہ حالات کا حل تلاش کرنے کے لئے ان کے نقات نظر کی سماعت کی ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں یہ بات کہی گئی ۔ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی زیر قیادت وفد نے جہاں اصل دھارے میں شامل طبقات سے ملاقات کی وہیں گروپ کے پانچ ارکان نے علیحدہ ہوئے علیحدگی پسندوں سے ملاقات کی کوشش کی ۔ کل جماعتی وفد میں شامل چار اپ وزیشن قائدین سی پی آئی ایم کے سیتا رام یچوری، سی پی آئی لیڈر ڈی راجہ، جنتادل کے شرد یادو اور آر جے ڈی کے جئے پرکاش نارائن نے گروپ سے علیحدہ ہوکر علیحدگی پسندوں تک پہنچنے کا فیصلہ کیا ۔ وہ سب سے پہلے سخت گیر حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی رہائش گاہ پہنچے جہاں وہ طویل عرصہ سے نظر بند ہیں۔ گیلانی نے ان سے ملاقات سے بھی انکار کردیا۔ مکان کے باہر نعروں سے ان کا استقبال کیا گیا اور ان کے لئے گیٹ تک نہیں کھولی گئی ۔ گیلانی نے انہیں کھڑکی سے دیکھا لیکن ملاقات سے انکا کردیا۔ یادو نے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی ہم سے ملنا اہے یا نہ چاہے ہم اس سے ملاقات کے لئے تیار ہیں ۔ یہ گروپ ہمہما میں بی ایف ایس کیمپ پہنچا جہاں جے کے ایل ایف لیڈر یسین ملک محروس ہیں ۔ انہوں نے یہ کہہ کر وفد سے بات چیت سے انکار کردیا کہ جب وہ نئی دہلی آئیں گے تب ان سے بات کریں گے ۔ گروپ نے حریت کے سابق صدر نشین عبدالغنی بھٹ سے بھی ملاقات کی کوشش کی لیکن انہوں نے بھی انکار کردیا۔ بھٹ نے اگرچہ اپوزیشن قائدین کا استقبال کیا لیکن واضح کردیا کہ یہ طئے کرلیا گیا ہے کہ وفد کیا رکان سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ بھٹ نے کہا کہ یہ بیکار کوششیں ہین ۔ جب تک ہندوستان کشمیر پر پاکستان سے بات چیت کے لئے تیار نہیں ہوتا اس وقت تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا ۔ اگر ہندوستان صرف کشمیر یا پاکستان سے کشمیریوں کے بارے میں بات کرتا ہے تو اس کا کوئی حل برآمد نہیں ہوگا۔ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ حیدرآباد بیرسٹر اسد الدین اویسی نے چشمہ شاہی سب جیل میں اعتدال پسند حریت لیڈر میر واعظ عمر فاروق سے ملاقات کی ۔ میر واعظ نے بیرسٹر اویسی سے مختصر ملاقات کی جس میں صرف خیر سگالی کلمات کا تبادلہ عمل میں آیا۔میر واعظ نے اسد الدین اویسی کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت سے انکار کردیا۔ دورہ پرروانہ ہونے سے قبل بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہا تھا کہ وہ مختلف ہاسپٹلوں میں زیر علاج زخمیوں سے ملاقات کرنا چاہئیں ۔ سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچوری نے بھی علیحدگی پسندو ں اور زخمیوں سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔وادی میں گیلانی، میر واعظ اور ملک نے مشترکہ طور پر ہڑتال کا اعلان کررکھا ہے ۔ بیرسٹر اویسی کی ناکام کوشش کے بعد یچوری، یادو، راجہ اور نارائن پرمشتمل گروپ نے میر واعظ سے ملاقات کی کوشش کی۔ چشم شاہی سب جیل پر انہیں تقریبا پچیس منٹ انتظار کرنا پڑا لیکن میر واعظ نے ان سے ملاقات سے انکار کردیا۔ قبل ازیں علیحدگی پسند قائدین نے کل جماعتی وفد سے ملاقات کے لئے چیف منسٹر محبوبہ مفتی کی دعوت کو مکاری سے تعبیر کرتے ہوئے مسترد کردیا۔ علیحدگی پسند قائدین نے کہا کہ کشمیر کے اہم ترین مسئلہ کو حل کرنے کے لئے شفاد ایجنڈہ پر مبنی مذاکرات کا یہ کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔

جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے آج وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی قیادت میں سری نگر آئے کل جماعتی وفد کے ارکان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران عمر عبداللہ نے وفد سے کہا کہ اس طرح کے کل جماعتی وفد نے اپنا اعتبار کھودیا ہے کیونکہ قبل ازیں بھی وادی کشمیر کو روانہ کردہ کل جماعتی وفد کے سفارشات پر بمشکل ہی اقدامات کئے گئے ۔ ارکان وفد سے اپنی ایک گھنٹہ طویل ملاقات کے دوران عمر عبداللہ نے1990ء سے وادی کشمیر آئے کل جماعتی وفد کی نشاندہی کرواتے ہوئے کہا کہ بد قسمتی سے جب ہر چیز معمول پر آجاتی ہے تو اس مسئلہ پر کوئی پیشرفت نہیں کی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ جو یہاں اس ایقان کے ساتھ آئے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ بھروسہ کو دوبارہ زندہ کرنے کے بڑے ہدف لے کر آئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ نے وعدے کئے تھے لیکن وہ ان وعدوں پر عمل آوری میں ناکام ہوگئے ۔ انہوں نے بایا کہ ایک وقت میرے والد نے جمو ں و کشمیر کو وسیع اندرونی خود مختاری دینے کا مطالبہ کیا تھااور مرکز کو انتباہ دیا تھا کہ اگر وہ کشمیر کو سیع تر خود مختاری دینے سے انکار کرتا رہے گا تو ایک ایسا وقت آئے گا جب جموں و کشمیر کے عوام، اس خود مختاری بھی ان کے ناقابل قبول ہوگا ، میں سمجھتا ہوں کہ ہم ا سوقت کے قریب بڑ ھ رہے ہیں ۔ عمر عبداللہ نے وفد کو بتایا کہ ان کی جماعت کے کارکن ان پر دباؤ ڈال رہے تھے کہ وہ وادی کشمیر کی اس صورتحال میں کل جماعتی وفد سے ملاقات نہ کریں ۔ عمر عبداللہ نے وادی کشمیر میں ریاستی حکومت کی مسلسل ناکامی کابھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت بے مقصد ٹال مٹول کے حربہ استعمال کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی اس بات کا فیصلہ کرلینا چاہئے کہ وہ چیف منسٹر برقرار رہنا چاہتی ہیں یا قائد اپوزیشن ، محبوبہ مفتی صبح میں کچھ کہتی ہیں اور شام میں اس کے مکمل برخلاف کہتی ہیں ۔ انہوں نے باتیا کہ صبح میں وہ کہتی ہیں کہ حریت کانفرنس کے قائدین سے بات کی جائے گی اور شام میں ان قائدین کو گرفتارکرلیتی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ کل جماعتی وفد نے اس لیے اپنا اعتبار کھودیا ہے کیونکہ ماضی میں اس طرح کے وفد کی آمد کے بعد کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ2010ء میں کل جماعتی اجلاس نے کیا کیا، اسے پارلیمنٹ میں کبھی بھی پیش نہیں کیا گیا ۔ یہ لوگ یہاں بڑے ہدف کو لے کر آئے تھے ۔ وفد کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ آیا آپ چیف منسٹر محبوبہ مفتی کے اس خیال سے متفق ہیں کہ وادی میں صرف پانچ فیصد افراد ہی ناخوش ہیں، اس کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ میں اس طرح کے خیال پر حیراں ہوں کہ انہیں یہ پانچ فیصد کا نمبر کہاں سے حاصل ہوا۔ میں اس سے مکمل طور پر اختلاف رکھتا ہوں ۔کانگریس نے آج کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اسے فوجی طریقہ سے نہیں بلکہ سیاسی طور پر حل کرنا چاہئے ۔ کانگریس نے گڑ بڑ زدہ وادی میں امن کی بحالی کے لئے متواتر بات چیت کی ضرورت پر زور دیا۔ کانگریس کی ایک ٹیم نے ریاستی صدر جی اے میر کی قیادت میں پارٹی کے ان جذبات کا اظہار اس وقت کیا جب انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی زیر قیادت کل جماعتی وفد سے ملاقات کی۔ میر نے کہا کہ مرکز کو جموں اور لداخ کی امنگوں کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے تمام فریقوں کے ساتھ متواتر با مقصد بات چیت شروع کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دور میں گول میز کانفرنس اور مصالحت کاروں کی سفارشات بات چیت کے عمل کی بنیاد ہونی چاہئے ۔ کیونکہ یہ مسئلہ کی یکسوئی کے لئے ایک ٹھوس لائحہ عمل ہوگا۔

Kashmiri separatists refuse to meet all-party delegates

0 comments:

Post a Comment