Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-09-24 - بوقت: 21:00

جی ایس ٹی کی استثنائی حد 20 لاکھ روپے مقرر

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
اشیا و خدمات ٹیکس[جی ایس ٹی] کی عمل آوری کی سمت ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے مرکز اور ریاستیں نئے قومی سیلز ٹیکس نظام کے تحت تاجرین کے سالانہ آمدنی بیس لاکھ روپے مقرر کرنے سے اتفاق کرلیا ہے ۔ اس میں تمام قسم کے ٹیکسس شامل ہوں گے ۔ حال ہی میں تشکیل کردہ جی ایس ٹی کونسل نے فیصلہ کیا کہ تمام ریاستوں کے لئے تاجرین کی آمدنی کی استثنائی حد بیس لاکھ روپے رکھی جائے گی، تاہم ہم شمال مشرقی اور پہاڑی ریاستوں کے لئے استثنائی حد دس لاکھ روپے ہوگی ۔ دوہرے کنٹرول کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے یہ طے کیا گیا کہ ریاستیں سالانہ1.5کروڑ روپے کی حد آمدنی تک کے تمام ڈیلرس پر خصوصی کنٹرول رکھیں گی ار1.5کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی والے تاجرین کے لئے ایک مکانزم تیار کیاجائے گا ۔ کونسل کے پہلے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر فینانس اور کونسل کے صدر نشین ارون جیٹلی نے کہا کہ انتظامی اختیارات کی تقسیم اور تمام جی ایس ٹی شرحوں کا فیصلہ 17تا19اکتوبر منعقد شدنی اجلاس میں کیاجائے گا۔ جیٹلی نے بتایا کہ نقصان کا ازالہ ادائیگی مستقل کرنے پر تمام اراکین متفق ہیں ۔ نقصان کے تعین کے لئے سال2015-16ء کو بنیاد سال ماننے کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن کا کاروبار بیس لاکھ روپے سے کم ہوگا انہیں جی ایس ٹی سے چھوٹ ملے گی۔ جب کہ شمال مشرق ا ور پہاڑی ریاستوں کے لئے یہ حد دس لاکھ روپے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ کروڑ روپے تک کے کاروبار کا اندازہ لگانا ریاستوں کے دائرہ اختیار میں ہوگا ۔ مسٹر جیٹلی نے کہا کہ30ستمبر کو کونسل کی میٹنگ ہوگی جس میں جی ایس ٹی سے رعایت کے ضابطوں کا خاکہ کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس کے بعد17سے19اکتوبر کے درمیان تین روزہ میٹنگ ہوگی ۔ جس میں جی ایس ٹی پر تبادلہ خیال کیاجائے گا۔ جی ایس ٹی ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جس میں مرکزی اور ریاستی سیلس ٹیکس کو ملادیا گیا ہے ۔ آزادی کے بعد ملک میں بالواسطہ ٹیکس کی سمیت میں سب سے بڑے سدھار جی ایس ٹی کو پارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے منظور کیا تھا اور اب تک اسے اٹھارہ ریاستیں توثیق کرچکی ہیں ۔

GST council sets exemption threshold for tax at Rs.20 lakh

0 comments:

Post a Comment