Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-09-28 - بوقت: 22:40

این ڈی اے دور حکومت میں فرقہ وارانہ واقعات میں کمی - مختار عباس نقوی

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
فلاحی اسکیمات پر موثر عمل آوری کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مرکزی مملکتی وزیر اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ اقلیتوں کے لئے فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی ۔ نقوی نے کہا کہ یہ اسکیمات صرف کاغذ پر نہیں رہنی چاہئیں، بلکہ انہیں نظر آنا چاہئے ۔، سرکاری عہدیداروں کو زمینی سطح پر پہنچ کر مناسب نگرانی کرنی چاہئے ، تاکہ ہر فلاحی اسکیم کا فائدہ سماج کے آخری شخص تک پہنچے ۔ انہوں نے ایک ٹول فری نمبر بھی جاری کیا جس کے ذریعہ نیشنل مائناریٹیز ڈیولپمنٹ اینڈ فینانس کارپوریشن[این ایم ڈی ایف سی] کی اسکیمات اور پروگراموں کے بارے میں معلومات فراہم کی جاسکیں ۔ این ایم ڈی ایف سی کو2016-17کے دوران انہوں نے این ایم ڈی ایف سی کے میگزین پرواز کے پہلے اردو ایڈیشن کی رسم اجرا بھی انجام دی۔ پی ٹی آئی کے بموجب دادری واقعہ کے تقریبا ایک سال بعد مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے آج دعویٰ کیا کہ این ڈی اے حکومت کے دور میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات میں قابل لحاظ کمی آئی ہے ۔ انہوں نے مسلمانوں کی خوشامد کے بجائے انہیں بااختیار بنانے وزیر اعظم کے پیام کو دہرایا ۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے وقعات میں قابل لحاظ کمی آئی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ایسے واقعات صفر ہوجائیں ۔ ہم اس ضمن مین کام کررہے ہیں ۔ انہوں نے ایک ایسے وقت یہ تبصرہ کیا ہے جب اتر پردیش کے دادری علاقہ میں بیف کھانے کے شبہ میں محمد اخلاق کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کیے جانے کے واقعہ کا ایک سال مکمل ہونے والا ہے ۔ مرکزی مملکتی وزیر اقلیتی امور نے کہا کہ یہ انتہائی بدبختانہ واقعہ تھا اور ان لوگوں کی حرکت تھی جو مختلف فرقوں میں پھوٹ ڈالنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ بہر حال گزشتہ ایک سال کے دوران ایسے کسی واقعہ کا اعادہ نہیں ہوا ہے ۔ وہ نیشنل مائنا ریٹیز ڈیولپمنٹ ، اینڈ فینانس کارپوریشن کی ریاستی چینالائزنگ ایجنسیو ں کی سالانہ کانفرنس کے موقع پر آئی وی آر ایس کے افتتاح کے بعد نامہ نگاروں سے بات چیت کررہے تھے۔

Communal incidents have declined under NDA govt: Mukhtar Abbas

0 comments:

Post a Comment