Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-08-18 - بوقت: 20:40

بیف تحویل میں رکھنے کے قانون پر حکومت مہاراشٹرا کو سپریم کورٹ کی نوٹس

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کرنے سے آج اتفاق کرلیا کہ آیا بیف کا محض تحویل میں رکھنا غیر دستوری ہے اور آیا یہ شہریوں کے حق غذا اور حق نجی زندگی کی خلاف ورزی کی تعریف میں آتا ہے ۔ سپریم کورٹ نے مہاراشٹرا میں دیگر ریاستوں سے لایا گیا بیف تحویل میں رکھنے پر امتناع سے متعلق مہاراشٹرا حکومت کے فیصلے پر اسے نوٹس جاری کی ہے ۔ جسٹس اے کے سیکری اور جسٹس بی وائی چندر اچوڑ پر مشتمل بنچ نے مہاراشٹرا میں بیف رکھنے کو جرم قرار نہ دینے سے متعلق بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیالنج کرتے ہوئے اکھل بھارت کرشی گا وسیوا سنگھ کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مہاراشٹرا کو نوٹس جاری کی۔ بامبے ہائی کورٹ کے جسٹس اے اسی اوکا ار ایس سی گپتا پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے6مئی کو اپنے ایک فیصلہ کے ذریعہ قانون تحفظ مویشیان مہاراشٹرا کی دفعات5Dاور9Bکو کالعدم کردیا اور اسے ایک فرد کے نجی حق میں مداخلت سے تعبیر کیا ۔ اس قانون کے ذریعہ بیف تحویل میں رکھنے کو جرم قرار دیا گیا تھا ۔ اس فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکومت شہریوں کے گھروں میں کیا خوراک ہونی چاہئے اس پر کنٹرول نہیں کرسکتی ۔ وہ اس کے گھر میں در اندازی نہیں کرسکتی تاکہ ایک شہری کو اپنی پسند کی خوراک رکھنے اور کھانے سے روکا جاسکے ۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی ۔ شیو سینا حکومت نے مارچ2015میں ذبیحہ گاؤ پر امتناع عائد کرتے ہوئے اس قانون میں بیف رکھنے کو بھی جرم قرار دینے کی دفعہ شامل کردی تھی۔

SC issues notice to Maharashtra govt on consumption of beef slaughtered in other states

0 comments:

Post a Comment