Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-08-05 - بوقت: 21:47

جی ایس ٹی پر اگلے سال یکم اپریل سے عمل آوری کی کوشش ۔ جیٹلی

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ پورے ملک مین ٹیکس کا یکساں نظام بنانے اور ملک کو ایک منڈی بنانے کے مقصد سے اشیا اور خدمات ٹیکس ( جی ایس ٹی) کے نافذ ہونے سے مہنگائی نہیں بڑھے گی اور رفتہ رفتہ ٹیکس کی شرح بھی کم ہوگی۔ جیٹلی نے جی ایس ٹی کو نافذ کرنے کے لئے ضروری122ویں آئینی اور ترمیمی بل کو کل رات راجیہ سبھا میں متفقہ طور پر منظور کئے جانے پر آج یہاں صحافیوں سے کہا کہ یکم اپریل2017سے اس ٹیکس پر عمل درآمد شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے اس پر عمل آوری کے لئے ایک تفصیلی روڈ میاپ پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بالواسطہ ٹیکس اصلاحات کی سمت میں کل کا دن تاریخی تھا ۔ صرف ایک پارٹی انا دی ایم کے کو چھوڑ کر تمام جماعتوں نے متفقہ طور پر اس بل کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں کچھ ترمیم کئے جانے کے پیش نظر اسے پھر سے لوک سبھا میں پیش کیاجانا باقی ہے اور اس کے لئے لوک سبھا کو نوٹس دیا گیا ہے ۔ مرکزی جی ایس ٹی اور بین ریاستی جی ایس ٹی بلوں کو مالی بل کے طور پر پیش کئے جانے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ان بلوں کو جی ایس ٹی کونسل تیار کرے گی اور بلوں کو دستور کے تحت پیش کیا جائے گا۔ جیٹلی نے جی ایس ٹی نافذ ہونے سے مہنگائی بڑھنے کے خدشات کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ کنزیومرریٹ انڈیکس میں شامل زیادہ تر کھانے کی اشیا ابھی ٹیکس کے دائرے سے باہر ہیں ۔ جی ایس ٹی میں بھی استثنائی کی فہرست ہوگی اور جو مرکز اور ریاست مل کر تیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کی شرحیں، جی ایس ٹی کونسل کو طے کرنی ہیں اور جب تک یہ طے نہیں ہوجاتی یہ نہیں کہاجاسکتا کہ مہنگائی بڑھے گی یا اشیا کی قیمتیں کم ہوں گی ۔ انا ڈی ایم کے کی مخالفت کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو میں ایک ذمہ دار حکومت ہے اور وہ دستور ی ترمیم اور دوسرے قوانین پر عمل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹاملناڈو کے وزیر خزانہ جی ایس ٹی پر تشکیل دی گئی ریاستوں کے وزرائے خزانہ کی اعلیٰ اختیارات کی حامل کمیٹی کے اجلاس میں مسلسل شرکت کرتے رہے ہیں اور اپنے اعتراضات بھی درج کرواتے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی نافذ ہونے پر بھی مرکز اور ریاست دونوں کے آمدنی پر توجہ رکھنا پڑے گا۔ جی ایس ٹی کی شرح کے ناقابل عمل ہونے پر مالی خسارہ بڑھ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی کے نافذ ہونے سے معیشت کو رفتار ملے گی ، لیکن اس سے مجموعی گھریلو مصنوعات میں کتنے فیصد کا اضافہ ہوگا یہ ابھی نہیں کہاجاسکتا لیکن ماہرین اقتصادیات اور ماہرین نے اس سلسلے میں اندازہ ظاہر کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس بل کو نافذ کرانے کے لئے سبھی سیاسی پارٹیوں سے بات کی گئی اور ان کے خدشات کو دور کیا گیا۔ بل میں الگ الگ خیالات کو شامل کیا گیا ہے، لیکن اس سے اس کی اصل روح میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ اس پریس کانفرنس میں ریونیو سکریریٹری ہنس مکھ آدیا بھی موجود تھے انہوں نے کہا کہ آئندہ تیس دنوں میں ہمیں توقع ہے کہ پچاس فیصد ریاستیں یعنی تقریبا16ریاستیں قانونی ترمیمی بل کو منظوری دیں گی۔

--

0 comments:

Post a Comment