Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-08-18 - بوقت: 20:45

سپریم کورٹ ججوں کی حیثیت سے وکلاء کے تقرر کی حد ختم

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
حکومت نے کالجیم کے چند مطالبات کو قبول کرلیا ہے جن میں سپریم کورٹ کے ججوں کی حیثیت سے قانون دانوں اور وکلاء کی تعداد پر حد کا خاتمہ شامل ہے ۔ حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت عظمیٰ اور چوبیس عدالت عالیہ میں ججوں کے تقررات کی رہنمائی کرنے والی دستاویز میمورنڈم آف پروسیجر[ایم او پی] کی نظر ثانی شدہ دستاویز میں حکومت نے اس مطالبہ کو تسلیم کرلیا ہے کہ ججوں کی حیثیت سے تقررات میں وکلاء اور قانون دانوں کی تعداد پر کوئی حد مقرر نہیں ہونا چاہئے ۔ گزشتہ ماہ مارچ میں چیف جسٹس آف انڈیا کو پیش کردہ ایم او پی میں حکومت نے وکلاء اور جیورسٹس کو سپریم کورٹ کے ججس کے طور پر تقرر کرنا لازمی تھا ۔ اس مسودہ میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ میں بار کونسل آف انڈیا کے اہم اور معروف تین وکلاء اور اپنے پیشہ میں ماہر جیورسٹ کو بطور جج تقرر کیاجائے ۔ کالجیم کا احساس تھا کہ یہ لازمی حد کو ہٹایا جائے حکومت نے تجویز کو قبول کرلیا۔ اب جب کہ حکومت اور عدلیہ ایم او پی کو حتمی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں ، سپریم کورٹ نے جمعہ کو کہا تھا کہ انصاف رسانی کا نظام تباہ ہورہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹس کے جج کے تبادلہ اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کے تقررات کے لئے کالجیم کے فیصلہ پر عمل آوری نہ کرنے پر مرکز کو سخت پیام روانہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس تعطل کو برداشت نہیں کیاجائے گا اور اس کی جوابدہی کے لئے مداخلت کی جائے گی ۔ جسٹس ٹھاکر کی زیر قیادت سپریم کورٹ کی بنچ کا کہنا تھا کہ ہم ججوں کے تقررات پر تعطل کو برداشت نہیں کریں گے جس سے عدلیہ کا کام کاج متاثر ہوتا ہو ، ہم تیز رفتاری احتساب کریں گے ۔ بعد ازاں3اگست کو چیف جسٹس آف انڈیا نے اعلیٰ سطحی طور پر وضاحت کی کہ حکومت نے سینیاریٹی کی بنیاد پر ججس کا تقرر کو قبول کرلیا ہے ۔ ایم او پی کے پہلے مسودہ میں حکومت نے جج کے تقررات کے لئے قابلیت سنیاریٹی کے ساتھ ساتھ میرٹ کو بھی رکھا تھا۔

Government removes cap on appointment of lawyers as Supreme Court judges

0 comments:

Post a Comment